کفایۃ الاصول (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کِفایۃُ الاُصول
کفایه الاصول.jpg
مؤلف: محمد کاظم خراسانی
مصحح: مؤسسہ آل البیت
زبان: عربی
موضوع: اصول فقہ
اشاعت: 1409ھ
ناشر: موسسہ آل البیت
محل نشر: قم
ترجمہ
ترجمہ: فارسی، اردو، انگلش اور جاپانی
متفرقات: کتاب کا مشاہدہ

کِفایۃُ الاُصول، آخوند خراسانی (متوفی 1329 ھ) کی کتاب ہے جو عربی زبان میں اصول فقہ کا ایک مکمل دورہ ہے۔ آخوند خراسانی ملا ہادی سبزواری، شیخ انصاری اور میرزائے شیرازی کے شاگرد اور شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے۔

کفایہ الاصول تصنیف سے لے کر اب تک حوزہ علمیہ کے درسی نصاب میں شامل اور اصول فقہ کے درس خارج کا محور ہے۔ اسی بنا پر اس کی 200 سے زائد شرحیں، حاشیے اور تعلقات لکھی گئی ہیں۔ کتاب کے مضامین بہت دقیق اور منظم توصیف کئے گئے ہیں۔ مختصر عبارت میں مفاہیم کی ادائیگی کو اس کتاب کی سب سے اہم ادبی خصوصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

کفایۃ الاصول خود مصنف کی حیات اور ان کی وفات کے بعد متعدد بار شایع ہو چکی ہے۔ اسی طرح اس کتاب کا ایک نسخہ خود آخوند خراسانی کے قلم سے کتب خانہ مجلس شورای اسلامی ایران میں محفوظ ہے۔ یہ کتاب سنہ 1409 ھ میں مؤسسہ آل‌ البیت کے ذریعہ تصحیح ہو کر 554 صفحات میں نشر ہوئی ہے۔

مصنف

تفصیلی مضمون: محمد کاظم خراسانی

محمد کاظم خراسانی (1255-1329ھ) آخوند خراسانی کے نام سے معروف نجف کے شیعہ مراجع تقلید میں سے ہیں۔ آپ ایران میں مشروطہ تحریک کے حامیوں میں سے تھے۔[1] ملا ہادی سبزواری، شیخ انصاری اور میرزائے شیرازی آپ کے استادوں میں سے تھے۔[2] اصول فقہ، فقہ اور فلسفہ میں آپ صاحب تصانیف تھے۔[3] جن میں سب سے زیادہ مشہور کتاب کفایۃ الاصول ہے جو زمان تصنیف سے اب تک حوزہ علمیہ قم و نجف کے درسی نصاب میں شامل رہی ہے اور اسی کتاب کی تصنیف کی وجہ سے آپ صاحب‌ کفایہ کے نام سے ملقب ہوئے ہیں۔[حوالہ درکار]


اہمیت

کفایۃ الاصول اصول فقہ میں حوزہ‌ علمیہ کے درسی نصاب میں شامل ہے اسی بنا پر اب تک اس کتاب کی متعدد شروحات، حاشیے اور تعلیقات لکھی گئیں ہیں۔[4] "کتاب شناسی کتب درسی حوزہ- کفایۃ الاصول" نامی مقالے میں اس کتاب کی تقریبا 200 شروحات، حاشیے اور تعلیقات کا نام لیا گیا ہے۔[5]

حوزہ علمیہ قم کے درس خارج کے استاد احمد عابدی کے مطابق دقیق، منظم اور رسا بیان میں کفایۃ الاصول کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اسی بنا پر یہ کتاب اصول فقہ میں حوزہ علمیہ قم و نجف کے خارج کے دروس کا محور قرار پائی ہے اور اس کے بعد لکھی گئی تمام کتابیں روش، ترتیب اور مباحث کے نظم وضبط میں کفایۃ سے متأثر ہیں۔[6]

حوزہ علمیہ کا درسی نظام

مقدمات
ادبیات عرب صرف سادہ
الہدایۃ فی النحو
الصمدیہ
البہجۃ المرضیہ فی شرح الالفیہ
مغنی الادیب
مختصر المعانی

فقہ1 الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ
اصول فقہ1: الموجز فی اصول الفقہ
اصول الفقہ

منطق: المنطق
عقاید: شیعہ در اسلام
تاریخ اسلام: فروغ ابدیت
سیرہ پیشوایان

دوسرے دروس:
سطحیات
فقہ2 المکاسب
اصول فقہ2 : فرائد الاصول
کفایۃ الاصول

تفسیر: جوامع الجامع
المیزان

رجال: کلیات فی علم الرجال
درایہ:
درس خارج
فقہ3 متن العروۃ الوثقی کے مطابق
جواہر الکلام

اصول فقہ3 : متن کفایۃ الاصول کے مطابق
دوسرے کتب :

کہا جاتا ہے کہ آخوند خراسانی نے کفایہ کو سنہ 1321 ھ کے بعد تحریر کی ہیں۔[7] کفایہ آخوند خراسانی کی سب سے زیادہ مشہور کتاب ہے کیونکہ اس میں اصول فقہ کے سلسلے میں آپ کے آخری نظریات اور مبانی نیز علم اصول کے بنیادی مباحث پر مشتمل ہے۔ اس بنا پر یہ کتاب آپ کی دوسری تصنیفات کی بنسبت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔[8] اسی سرح کفایہ لکھنے کا مقصد علم اصول فقہ کو زائد مطالب سے پاک کرنا قرار دیا گیا ہے؛[9] ان تمام خصوصیات کے ساتھ ساتھ کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب علم اصول کا مکمل ایک دورہ ہے۔[10]

علمی روش اور تصنیف کا طریقہ کار

آقا بزرگ تہرانی کے مطابق صاحب کفایہ نے شیخ انصاری، صاحب‌ْ فصول اور صاحب‌ قوانین سے زیادہ فلسفی مسائل کو اصولی بحثوں میں وارد کی ہیں۔[11] کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کفایہ میں 70 فلسفی قواعد کا استعمال کیا ہے۔[12]

کفایہ کی خصوصیات میں سے ایک مختصر عبارت کا استعمال ہے۔ کفایی خراسانی کے مطابق صاحب کفایہ نے کفایہ میں مختصر عبارتوں کے ساتھ گذشتہ اصولیوں کے نظریات ذکر کر کے ان کے نقاط قوت و ضعف کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دلائل کے ساتھ اپنے نظریات بیان کئے ہیں۔[13]

مضامین

کفایۃ الاصول اصول فقہ کے مباحث کا مکمل ایک دورہ ہے جو مصنف کے زمانے تک کے علمائے اصول کے جدید نظریات اور ان کی نقد و بررسی پر مشتمل ہے۔[14]

یہ کتاب ایک مقدمہ، آٹھ مقاصد اور ایک خاتمہ پر مشتمل درج ذیل ترتیب کے ساتھ لکھی گئی ہے:

  • مقدمہ: مقدمہ میں علم، علم اصول فقہ کا موضوع، لغات کے وضع ہونے کی کیفیت اور اس کے اقسام، حقیقت و مجاز کا استعمال، اشتراک و تَرادُف، حقیقت شرعیہ، صحیح و اعم اور مشتق اصولی جیسے مباحث پر مشتمل ہے۔
  • مقصد اول: اوامر
  • مقصد دوم: نواہی
  • مقصد سوم: مفاہیم (جیسے مفہوم شرط، مفہوم وصف، مفہوم غایت، مفہوم استثنا و مفہوم عدد وغیرہ)۔
  • مقصد چہارم: عام و خاص۔
  • مقصد پنجم: مطلق و مقید، مجمل و مبین۔
  • مقصد ششم: امارات معتبر شرعی و عقلی (مانند احکام قطع و ظن، اجماع، خبر واحد، قیاس
  • مقصد ہفتم: اصول عملیہ (برائت، تخییر، احتیاط و استصحاب
  • مقصد ہشتم: تعارض ادلہ شرعیہ (تعادل و تراجیح)۔
  • خاتمہ: اجتہاد و تقلید۔[15]

اشاعت

کفایۃ‌ الاصول کا اصلی نسخہ خود آخوند خراسانی کے قلم سے کتب خانہ مجلس شورای اسلامی ایران میں محفوظ ہے۔[16] اس کتاب کا ایک نسخہ‌ خود مصنف کی زندگی میں شایع ہوئی ہے۔ اس نسخے کو آخوند کے بیٹے نے اس نسخے کے مطابق لکھا ہے جسے آخوند خود تدریس کرتے تھے۔[17]

کفایۃ الاصول متعدد بار جداگانہ طور پر اور اس کے شروحات اور حاشیوں کے ساتھ بھی شایع ہو چکی ہے۔[18] اس کتاب کا فارسی، اردو، انگلش اور جاپانی زبانوں میں بھی ترجمہ ہوا ہے۔[حوالہ درکار]


مؤسسہ آل‌ البیت نے سنہ 1409ھ میں 554 صفحات کے ساتھ تصحیح کر کے شایع کی ہے۔ اس تصحیح میں آیات، روایات اور اصولیوں کے آراء کی مستند سازی کی گئی ہے۔ اسی طرح سید جواد شہرستانی نے 33 صفحات پر مشتمل ایک مقدمہ‌ بھی تحریر کیا ہے جس میں حوزہ علمیہ میں علم اصول کی تاریخ اور کتاب اور مؤلف کا تعارف بیان کیا ہے۔[19]

شرح‌، حاشیہ و تعلیقات

آقا بزرگ تہرانی کے مطبق کفایہ حوزہ علمیہ نجف کی درسی کتاب تھی اس بنا پر اس کی مختلف شروحات، حاشیے اور تعلیقات لکھی گئی ہیں۔ جن میں سے بعض شایع نہیں ہوئی ہیں اور بعض کی شناسائی بھی ممکن نہیں ہے۔[20] کتاب المصلح المجاہد جو آخوند خراسانی کے بارے میں لکھی گئی ہے، میں کفایہ کے 60 حاشیوں کا ذکر ملتا ہے۔[21] اسی طرح ناصر باقری ہندی نے "کتاب شناسی کتب درسی حوزہ- کفایۃ الاصول" نامی مقالے میں کفایہ کے تقریبا 200 شروحات، حاشیے اور تعلیقات کا نام لیا ہے۔[22] جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • تعلیقۃ القوچانی علی کفایۃ الاصول، تحریر علی قوچانی، شاگرد آخوند خراسانی
  • الحاشیہ علی الکفایۃ، تحریر میرزا ابو الحسن مشکینی (متوفی 1358 ھ)، آخوند خراسانی و علی قوچانی کے شاگرد
  • شرح کفایۃ الاصول، تحریر علی محمدی خراسانی، فارسی زبان میں 5 جلدوں میں
  • حاشیۃالکفایۃ، تحریر علامہ طباطبایی
  • عنایۃ الاصول فی شرح کفایۃ الاصول، تحریر سید مرتضی حسینی یزدی فیروز آبادی (متوفی 1409 ھ)، میرزا ابو الحسن مشکینی کے شاگرد

ان کے علاوہ آقا بزرگ تہرانی سید ابراہیم حسینی نجفی (متولد ولادت 1308 ھ)، محمد ابراہیم کلباسی (متولد 1322 ھ)، میرزا احمد فرزند آخوند خراسانی اور سید احمد بن سید علی ‌اصغر شہرستانی کو ان شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے کفایہ پر حاشیے لکھے ہیں۔[23]

حوالہ جات

  1. باقری بیدہندی، «کتاب شناسی کتب درسی حوزہ(۲)-کفایۃ الاصول»، ص۳۹۔
  2. باقری بیدہندی، «کتاب شناسی کتب درسی حوزہ(۲)-کفایۃ الاصول»، ص۳۸۔
  3. ملاحظہ کریں: آخوند خراسانی، کفایۃ الاصول، ۱۴۰۹ق، مقدمہ شہرستانی، ص۲۲۔
  4. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۱۸۶-۱۸۸۔
  5. باقری، «کتاب شناسی کتب درسی حوزہ(۲) کفایۃ الاصول»، ش۳۲، ص۴۰-۴۷۔
  6. عابدی، «حاشیہ‌ای دیکر بر کفایۃ الاصول»، ص۴۸۔
  7. کفایی خراسانی، «بیان و شرحی مختصر از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی (1255-1329 ھ)»، ص۴۰۔
  8. کفایی خراسانی، «بیان و شرحی مختصر از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی (۱۲۵۵-۱۳۲۹ق)»، ص۴۰۔
  9. مہدوی‌ راد، «تصحیح تازہ کفایۃ الاصول»، ص۳۵۔
  10. محمدى، شرح كفایۃ الاصول‏، ۱۳۸۵ش، ج۱، مقدمہ، ص۴۔
  11. آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۱۸۶۔
  12. انتظام، پیش فرض‌ ہای فلسفی در علوم اصول، ص۲، بہ‌نقل از موسوی، «گسترہ‌ی نفوذ فلسفہ در اصول فقہ شیعہ (با تکیہ بر کفایۃ الاصول آخوند خراسانی)»، ص۱۴۹۔
  13. کفایی خراسانی، «بیان و شرحی مختصر از حیات و شخصیت آخوند ملا محمد کاظم خراسانی (۱۲۵۵-۱۳۲۹ق)»، ص۴۰۔
  14. محمدى، شرح كفایۃ الاصول‏، ۱۳۸۵ش، ج۱، مقدمہ، ص۴۔
  15. ملاحظہ کریں: آخوند خراسانی، کفایۃ الاصول، ۱۴۰۹ق، فہرست کتاب، ص۵۲۱-۵۵۰۔
  16. مہدوی‌ راد، «تصحیح تازہ کفایۃ الاصول»، ص۳۵۔
  17. مہدوی‌ راد، «تصحیح تازہ کفایۃ الاصول»، ص۳۵۔
  18. مہدوی‌راد، «تصحیح تازہ کفایۃ الاصول»، ص۳۵۔
  19. مہدوی ‌راد، «تصحیح تازہ کفایۃ الاصول»، ص۳۵۔
  20. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۱۸۶-۱۸۸۔
  21. مشکینی، حواشی المشکینی علی الکفایہ، ج۱، ص۲۶۔
  22. باقری، «کتاب شناسی کتب درسی حوزہ(۲) کفایۃ الاصول»، ش۳۲، ص۴۰-۴۷۔
  23. آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۱۸۶-۱۸۸۔


مآخذ