عمرہ تمتع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عمرہ تَمَتُّع عمرہ کے اقسام میں سے ایک ہے جو حج تمتع کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔ عمرہ تمتع عمرہ مفردہ کے مقابلے میں ہے اور عمرہ مفرد حج سے الگ انجام دیا جاتا ہے۔ عمرہ تمتع پانچ اعمال سے تشکیل پاتا ہے؛ احرام، طواف، نماز طواف، سعی اور تقصیر۔

عمرہ

تفصیلی مضمون: عمرہ
عُمرہ بعض شرعی اعمال جیسے: اِحرام، طواف اور سعی [1] وغیرہ کا نام ہے جنہیں کعبہ کی زیارت کے دوران انجام دیا جاتا ہے۔[2]عمرہ کی دو اقسام ہیں عمرہ تَمَتُّع اور عمرہ مُفرَدہ۔[3] عمرہ تمتع حج تمتع کا ایک حصہ ہے اور حج کے ہمراہ انجام دیا جاتا ہے[4] جبکہ عمرہ مفرد حج تمتع سے مستقل ایک عمل ہے۔[5]

فقہا کے فتوے کے مطابق حج کی طرف عمرہ بھی شرائط پائی جائیں تو عمر بھر میں ایک مرتبہ انجام دینا واجب ہے[6]اور ایک سے زیادہ مرتبہ مستحب ہے۔[7]

عمرہ تمتع کے اعمال

عمرہ تمتع پانج واجب اعمال پر مشتمل ہے جو ذیل میں ترتیب وار ذکر کرتے ہیں:

  1. احرام
  2. طواف
  3. دو رکعت نماز طواف
  4. صفا و مروہ کے درمیان سعی
  5. تقصیر (ناخن یا سر کے بال کا چھوٹا کرنا)۔[8]

عمرہ مفردہ کے ساتھ فرق

عمرہ تمتع اور عمرہ مفردہ کے مناسک میں کچھ فرق پایا جاتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:

  • عمرہ مفردہ کے برخلاف عمرہ تمتع میں طواف نساء اور نماز طواف نساء نہیں ہے۔
  • عمرہ تمتع کا احرامِ حج کے مخصوص مہینوں (شوال، ذی القعدہ، ذی‌الحجہ) میں انجام پاتا ہے؛ لیکن عمرہ مفردہ کے احرام میں یہ شرط نہیں ہے۔
  • عمرہ تمتع میں سعی صفا و مروہ کے بعد تقصیر (ناخن یا سر کے بال کا چھوٹا کرنا) انجام دیا جاتا ہے؛ لیکن عمرہ مفردہ میں تقصیر اور حلق (سر مونڈھنا) میں سے ایک کو انجام دیا جاتا ہے۔[9]
  • عمرہ تمتع میں احرام پانچوں میقات میں سے کسی ایک سے باندھنا ضروری ہے لیکن عمرہ مفردہ میں یہ ضروری نہیں ہے بلکہ «اَدنَى‌الحِلّ» (حرم سے باہر کا نزدیک ترین مقام) سے احرام باندھ سکتے ہیں۔[10]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۵.
  2. شیخ طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۲۹۶؛‌ نجفی، جواہرالکلام، بیروت، ج۲۰، ص۴۴۱.
  3. مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۷۹.
  4. مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۱.
  5. مؤسسہ دایرةالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۵.
  6. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۴؛ نجفی، جواہرالکلام، بیروت، ج۲۰، ص۴۴۱.
  7. شیخ طوسی، المبسوط، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۲۹۷؛ گروہ پژوہش بعثہ مقام معظم رہبری، منتخب مناسک حج، ۱۴۲۶ق، ص۵۹.
  8. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۵.
  9. محقق حلی، شرایع‌الاسلام، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۲۷۵و۲۷۶.
  10. مؤسسہ دایرةالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۹۲، ج۵، ص۴۸۸.


مآخذ

  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی الفقہ الامامیہ، تحقیق و تصحیح سیدمحمدتقی کشفی، تہران، المکتبۃ المرتضویہ لاحیاء الآثار الجعفریہ، چاپ سوم، ۱۳۸۷ھ۔
  • گروہ پژوہش بعثہ مقام معظم رہبری، منتخب مناسک حج، تہران، نشر مشعر، چاپ دوم، ۱۴۲۶ھ۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، تحقیق و تصحیح عبدالحسین محمدعلی بقال، قم، اسماعیلیان، چاپ دوم، ۱۴۰۸ھ۔
  • مؤسسہ دایرة‌المعارف فقہ اسلامى، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بيت عليہم‌السّلام، قم، مؤسّسہ دائرة المعارف فقہ اسلامى، چاپ اول، ۱۳۹۲شمسی ہجری۔
  • نجفى، محمدحسن، جواہر الكلام فی شرح شرائع الاسلام، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ ہفتم، ۱۴۰۴ھ۔