خبر واحد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خبر واحد علوم حدیث کی اصطلاح ہے جس کے معنی اس حدیث کے ہیں جو متواتر نہ ہو؛ یعنی اس کے سلسۂ سند کے تمام طبقات میں راویوں کی تعداد اس قدر نہیں ہے کہ ہمارے لئے حدیث کی صداقت کے حوالے سے اطمینان وجود میں آسکے۔

خبر واحد، راویوں کی تعداد کے لحاظ سے تین زمروں میں تقسیم ہوتی ہے: مستفیض، عزیز اور غریب۔

سنی علماء کے نزدیک خبر کی متواتر اور واحد میں تقسیم، مرسوم نہ تھی اور اس کو مستفیض، غریب اور عزیز میں تقسیم کرتے تھے۔

لغوی اور اصطلاحی معنی

خبر واحد وہ حدیث ہے جس کے سلسلۂ سند کے تمام طبقات میں راویوں کی تعداد متواتر تک نہ پہنچتی ہو۔ چنانچہ اگر ایک حدیث اپنے سلسلۂ سند کے کئی طبقات میں تواتر کی حد تک پہنچی ہو لیکن ایک طبقے میں تواتر کی حد تک نہ پہنچی ہو، وہ تواتر کی شرطوں پر نہیں اترے گی اور خبر واحد کہلائے گی۔[1]۔[2]

خبر واحد کا اعتبار

خبر واحد کا اعتبار اور اس کی حجیت اصول فقہ کے مباحث و موضوعات میں سے ہے۔

چونکہ ہمیں یہ یقین حاصل نہیں ہے کہ خبر واحد معصوم(ع) سے صادر ہوئی ہے؛ لہذا اعتقادی مسائل میں خبر واحد کو [بغیر قرائن و شواہد کے] مفید قرار نہیں دیا جاتا؛ تاہم فروع دین (اور فقہی مسائل اور احکام) میں علمائے دین کی اکثریت خبر واحد کو بعض قرآنی آیات اور متواتر احادیث کی خاطر ـ خاص شرائط پر پورا اترنے کی صورت میں ـ قبول کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر فتوی دیتے ہیں۔

اگر خبر واحد میں ایک قرینہ (یا شاہد) یا قرائن و شواہد کا ایک مجموعہ موجود ہو جن سے تائید حاصل ہو کہ وہ معصوم(ع) سے صادر ہوئی ہے، تو یہ حالت علما اور محدثین کے نزدیک اس کی حجیت کے اثبات میں ممد و معاون ہوگی۔ ان میں سے بعض قرائن درج ذیل ہیں:

  1. حدیث اصول اربعمائہ میں سے کئی اصولوں میں منقول ہو؛
  2. حدیث اصول اربعمائہ میں سے ایک اصل میں موجود ہو لیکن متعدد طریقوں اور کئی راستوں سے نقل ہوئی ہو؛
  3. حدیث اصول اربعمائہ میں سے اس اصل میں منقول ہو جس کا مؤلف اصحاب اجماع میں سے ہو؛ جیسے زرارہ، محمد بن مسلم وغیرہ؛
  4. حدیث ایسی کتاب میں منقول ہو جو معصوم(ع) کو پیش کی گئی ہو اور امام نے اس کتاب کی تائید کی ہو؛
  5. حدیث شیعیان اہل بیت(ع) کے نزدیک قابل اعتماد کتاب میں نقل ہوئی ہو؛
  6. حدیث عقلی دلیل، نصّ قرآن، سنت قطعی اور علمائے شیعہ کے اجماع کے مطابقت رکھتی ہو؛

کتب حدیث میں منقولہ اکثر اخبار و احادیث خبر واحد کے زمرے میں آتی ہیں۔

خبر واحد کی قسمیں

خبر واحد راویوں کی تعداد کے لحاظ سے تین قسموں میں تقسیم ہوتی ہے:

  1. مستفیض،
  2. عزیز،
  3. غریب۔

خبر مُستَفیض

اگر خبر واحد کے سلسلۂ سند کے ہر طبقے میں راویوں کی تعداد کم از کم تین افراد ہوں تو وہ مستفیض کہلائے گی۔ [مستفیض اسم فاعل ہے باب استفعال کے مصدر استفاضہ سے، اور] استفاضہ کے معنی وفور و کثرت کے ہیں اور خبر واحد کے راوی تین سے زائد ہوں تو استفاضہ سے بہرہ ور اور تواتر کی حد سے قریب تر ہوجاتی ہے۔ کبھی حدیث مستفیض کو مشہور کہا جاتا ہے؛ لیکن مشہور مستفیض کی نسبت عام ہے کیونکہ حدیث مستفیض میں راویوں کا استفاضہ سلسلۂ سند کے تمام طبقات میں ہونا چاہئے جبکہ اس کے برعکس، حدیث مشہور میں ـ ممکن ہے کہ ـ صرف بعض طبقات میں استفاضہ صادق آتا ہو؛ جیسے: حدیث "إنّما الاعمال بالنیّات" (اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)، جو مشہور قرار دی گئی ہے لیکن مستفیض نہیں ہے۔


خبر عَزیز

اگر خبر واحد کے سلسلۂ سند کے ہر طبقے میں راویوں کی تعداد کم از کم دو ہو تو وہ "عزیز" کہلاتی ہے۔[3] لفظ "عزیز" کے معنی یا تو عددی قلت کے ہیں، کیونکہ اس قسم کی احادیث بہت ہیں؛ یا پھر اس کے معنی "قویّ" کے ہیں کیونکہ اس قسم کی روایات دو سندوں اور دو طُرُق سے وارد ہوئی ہیں اور ایک سند و طریق دوسری سند و طریق کے لئے تقویت کا سبب ہے۔[4]

خبر غَریب

اگر خبر واحد کی سند کے ہر طبقے میں راوی صرف ایک ہو یا اس کے پہلے طبقے کا راوی ایک ہی ہو تو وہ "غریب" کہلاتی ہے۔ حدیث غریب کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے بعض حسب ذیل ہیں:

الف) غریب بلحاظ سند: وہ حدیث جس کے تمام طبقات میں صرف ایک راوی ہو۔[5]

ب) غریب بلحاظ متن: وہ حدیث ہے جس کا متن پہلے طبقے میں ایک راوی نے نقل کیا ہو اور پھر بعد کے طبقات میں اس کا متن متعدد راویوں کے ہاں مشہور ہوئی ہو ـ جس کو "غریب مشہور" بھی کہا جاتا ہے ـ جیسے: "انّما الاعمال بالنیّات"، جس کو صحابہ کے طبقے میں صرف ایک راوی نے نقل کیا ہے۔[6]

متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. شهید ثانی: "وهو ما لم ينته الی المتواتر منه، ‌اي من الخبر، سواء كان الراوي واحداً أم اكثر" (خبر واحد وہ ہے جو متواتر تک نہ پہنچی ہو، خواہ راوی صرف ایک ہو یا ایک سے زیادہ ہوں)؛ الرعاية في علم الدراية، ص69۔
  2. سیّد حسن صدر: "خبر الواحد: والاّ واذا لم ينته الحديث إلی التواتر او التضافر و... فخبر آحاد سواء كان الراوي واحداً او اكثر ولا يفيد بنفسه مع قطع النظر عن القرائن، إلاّ ظنّاً" (اگر حدیث حد تواتر اور تطابق کی حد تک نہ پہنچے اور۔۔۔ تو وہ خبر واحد ہے خواہ راوی ایک ہو یا زیادہ ہوں، اور تنہائی میں ـ قرائن اور شواہد کی عدم موجودگی میں ـ صرف ظن و گمان کا سبب بن سکتی ہے" نهایة الدرایة، ص102۔
  3. مامقانی، مقباس الهدایة في علم الدراية، ج1 ص134۔
  4. شہید ثانی کہتے ہیں: "فمنه العزيز وهو الذي لا يرويه أقلّ من إثنين عن إثنين، سُمّي عزيزاً لقلّة وجوده أو لكونه عزّ ‌اي قوي بمجيئه من طرق أخری" (اور اس کی قسموں میں ایک حدیث عزيز ہے جس کے راویوں کی تعداد دو سے کم نہیں ہوتی، جس کو عزیز کہا گیا ہے کیونکہ اس نوعیت کی حدیثیں قلیل ہیں یا اس لئے کہ یہ عزیز یعنی قوی ہے اس لئے کہ دوسرے طریقوں سے بھی وارد ہوئی ہے)؛الرعاية في علم الدراية، ص70۔
  5. مامقانی، مقباس الهدایة فی علم الدرایة، ج1 ص227۔
  6. وہی ماخذ، ج1 ص299۔


مآخذ

  • شهید ثانی، زین العابدین بن علی، 911-ق966، الرعایه فی علم الدرایة.
  • شیخ بهایی، نهایه الدرایة.
  • عبدالله مامقانی، مقباس الهدایه فی علم الدرایة، مؤسسة آل‌البيت لإحياء‌التراث.
حدیثیات
حدیث متواتر متفق علیہ مشہور عزیز غریب حدیث حسن
حدیث متصل حدیث صحیح حدیث منکر
حدیث مسند بلحاظ سند علم الحدیث بلحاظ متن حدیث متروک
خبر آحاد حدیث ضعیف حدیث مدرج
حدیث منقطع حدیث مضطرب حدیث مدلس حدیث موقوف حدیث منقطع حدیث موضوع