کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد
کشف المراد.jpg
مؤلف: علامہ حلی
زبان: عربی
موضوع: علم کلام
تعداد مجلد: 1
اشاعت: 1407ھ ق
ناشر: موسسہ النشر الاسلامی


کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، علامہ حلی کی تالیفات میں سے جو عربی زبان میں علم کلام کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کو خواجہ نصیرالدین طوسی کی کتاب تجریدالاعتقاد کی پہلی اور بہترین شرح قرار دی جاتی ہے۔ کشف‌المراد کا آغاز وجود اور ماہیت جیسے فلسفی مباحث سے ہوتا ہے جس کے بعد توحید سے معاد تک مذہب امامیہ کے اصول اعقائد کا ایک مکمل دورہ ہے۔

یہ کتاب دینی مدارس کے تعلیمی نصاب میں شامل ہے اور اس پر مختلف حاشیے اور شرحیں لکھی گئی ہیں۔

مؤلف

تفصیلی مضمون: علامہ حلی

ابومنصور جمال‌الدین، حسن بن یوسف بن مطہّر حلّی(۶۴۸-۷۲۶ قمری)، علامہ حلّی کے نام سے معروف آٹھویں صدی ہجری کے شیعہ علماء میں سے ہیں۔[1]

آپ فقہ، اصول، عقاید، فلسفہ اور منطق جیسے مختلف علوم میں بہت ساری کتابوں کے مالک ہیں۔[2] من جملہ ان کتابوں میں مَناہِج الیقین فی اصول الدین، کشف‌المراد، نہج الحق و کشف الصدق، باب حادی عشر، خلاصۃ الاقوال فی معرفۃ الرجال اور الجوہر النضید قابل ذکر ہیں۔ آپ پہلے شخص ہیں جن کو ان کے علم و فضل کی بنا پر آیت اللہ کہا جاتا تھا۔[3] آپ کے مناظرات اور کتابیں سلطان محمد خدابندہ کے شیعہ مذہب قبول کرنے اور ایران میں شیعیت کی ترویج کا باعث بنی۔[4]

سبب تألیف

علامہ حلی کشف‌المراد کے مقدمہ میں اس کے سبب تألیف کو خواجہ نصیرالدین طوسی کی کتاب تجرید الاعتقاد کے مبہم مطالب کی توضیح قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ علامہ کے بقول کتاب تجریدالاعتقاد اگرچہ علم کلام کے تمام مسائل اور بہت عمیق علمی مفاہیم پر مشتمل ہے لیکن اسے نہایت اختصار کے ساتھ تالیف کی گئی ہے جس کی بنا پر اس کے مفاہیم کو سمجھنے میں نہایت دقت پیش آتی ہے اور چہ بسا ناممکن ہو جاتا ہے۔[5]

کتاب کی اہمیت

کشف‌المراد حوزہ علمیہ کے درسی نصاب میں شامل ہے اور علماء اس کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔[6] کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب دو وجوہات کی بنا پر تجریدالاعتقاد کی دوسری شروحات پر فوقیت رکھتی ہے: ایک یہ کہ یہ کتاب تجرید الاعتقاد کی پہلی شرح ہے اور دوسرا یہ کہ اس کا مصنف تجریدالاعتقاد کے مصنف کا شاگرد ہے۔[7]

علامہ حسن‌زادہ آملی جو اس کتاب کے مصحح بھی ہیں کہتے ہیں کہ تجریدالاعتقاد علم کلام کی بنیادی کتابوں میں سے ہے اور کشف‌المراد اس کی پہلی اور بہترین شرح ہے۔[8] آپ فاضل قوشچی سے بھی نقل کرتے ہیں کہ اگر کشف‌المراد نہ ہوتی تو تجریدالاعتقاد کو صحیح طور پر سمجھنا ناممکن تھا۔[9] کتاب الذریعہ کے مصنف آقا بزرگ تہرانی شمس‌‌ الدین اصفہانی شارح تجریدالاعتقاد سے نقل کرتے ہیں کہ اگر کشف المراد نہ ہوتی تجریدالاعتقاد کوئی اور شرح نہیں لکھی جا سکتی تھی۔[10]

کشف‌المراد ایک طرف وجود، عدم اور ماہیت جیسے فلسفی مسائل پر مشتمل ہے وہاں توحید سے معاد تک علم کلام کے عمدہ مباحث کا ایک مکمل دورہ ہے۔ یہ کتاب چھ حصوں پر مشتمل ہے جنہیں "مقصد" کا نام دیا گیا ہے۔ بعض حصے کئی فصول پر مشتمل ہے جن کے ذیل میں مختلف مسائل پر بحث کی گئی ہے:

  1. امور عامہ: اس میں تین فصل ہیں: وجود و عدم، ماہیت اور اس کے ملحقات، علت و معلول۔
  2. جواہر و اعراض: اس میں 5 صل ہیں: جواہر، اجسام، اجسام کے دوسرے احکام، جواہر مجرد، اَعراض.
  3. اثبات آفریدگار: اس میں 3 فصل ہیں: وجود خدا، صفات خدا، افعال خدا۔
  4. نبوت: اس حصے میں نبوت سے متعلق 7 مسائل پر بحث کی گئی ہے؛ من جملہ ان میں: بعثت کی ضرورت، عصمت کی ضرورت، پیغمبر کی سچائی کو ثابت کرنے کا طریقہ اور حضرت محمدؐ کی نبوت۔
  5. امامت: اس حصے میں 9 مسائل بیان ہوئے ہیں؛ ان میں امام کا انتخاب خدا پر واجب ہونا، عصمت امام کی ضرورت، امام کا دوسروں سے افضل ہونا، امام پر نص، پیغمبر اکرمؐ کے بعد حضرت علیؑ کا بلافصل امام ہونا، دوسرے صحابہ پر امام علی کا افضل ہونا اور شیعوں کے دوسرے ائمہ کی امامت۔
  6. معاد: اس حصے میں 16 مسائل پر بحث کی گئی ہے جن میں سے بعض یہ ہیں: آخرت کا ممکن ہونا، معاد جسمانی، احباط و تکفیر، شفاعت، توبہ اور عذاب قبر۔[11]

شروحات اور تعلیقہ جات

کشف المراد پر متعدد حاشیے اور شروحات لکھی گئی ہیں ۔ ان میں سے چند ایک کے اسما درج ذیل ہیں:

  1. شرح کشف مراد فی شرح تجرید الاعتقاد (عربی)، اس کا مؤلف معلوم نہیں ہے ۔کتاب کے کچھ حصے پر لکھی گئی ہے کتاب کے اول و آخر ناقص ہے لہذا اسی وجہ سے مؤلف معلوم نہیں ہے ۔
  2. حاشیۂ سید ابوالقاسم بن حسین رضوی قمی حائری لاہوری نقوی (۱۳۲۴ق).
  3. حاشیۂ میرزا عبدالرزاق بن علی رضا محدث ہمدانی (۱۳۸۱ق)
  4. تعلیقات آیت الله حسن حسن زاده آملی:یہ جامعہ مدرسین حوزه‌ علمیہ قم، کی طرف سے ۱۴۰۷ق، زیور طبع سے آراستہ ہوئی ۔
  5. توضیح المراد فی شرح کشف المراد تالیف سید ہاشم حسینی تہرانی (۱۴۱۲ق): یہ کتاب چند مرتبہ چاپ ہوئی ۔
  6. حاشیۂ سید محمّد ہاشم بن جلال الدین روضاتی: یہ حاشیہ اصفہان سے ۱۳۵۲ق، میں سنگی صورت میں چھپا ۔.
  7. تعلیقۃ علی شرح التجرید العلامۃ تالیف بشیر حسین بن صادق پاکستانی نجفی (متولد ۱۳۶۱ق-...)
  8. تعلیقۃ علی کشف المراد فی شرح التجرید، ابراہیم بن ساجد بن باقر موسوی ابہری زنجانی
  9. حاشیۂ کشف المراد، مؤلف مجہول: کشف المراد کے ابتدائی حصہ پر لکھا گیا ۔
  10. ترجمہ اور شرح کشف المراد( فارسی) مؤلف علامہ میرزا ابوالحسن شعرانی (۱۳۹۳ ق): یہ ترجمہ ۴ مرداد ۱۳۵۱ش کو مکمل ہوا اور ابھی تک انتشارات اسلامیہ تہران کی جانب سے سات مرتبہ چھپ چکا ہے ۔
  11. ترجمہ و شرح کشف المراد (فارسی)، شیخ علی محمدی قوچانی (متولد ۱۳۷۷ق): فارسی زبان میں مفصل شرح اور ترجمہ ہے اور ایران کے شہر قم سے ۱۴۱۲ و ۱۴۱۵ و ۱۴۲۰ق میں چھپ چکا ہے .[12]

طباعت اور نسخہ جات

کشف‌المراد کے کئی قلمی نسخے موجود ہیں جن میں سے بعض خود علامہ حلی کی زندگی میں اور بعض آپ کی وفات کے مختصر عرصے بعد لکھی گئی ہیں۔[13] من جملہ ان نسخوں میں سے ایک نسخہ سنہ 713 ہجری یعنی علامہ حلی کی زندگی ہی میں لکھی گئی ہے۔[14] اسی طرح ایک اور نسخہ سنہ 745 ہجری میں لکھی گئی ہے جس کے لکھنے والے علامہ حلی کے صاحبزادے فخرالمحققین ہیں۔[15] یہ نسخہ کتابخانہ آستان قدس رضوی میں محفوظ ہے۔[16]

اسی طرح کشف‌المراد ایرن، لبنان اور ہندوستان میں شایع ہو چکی ہیں۔[17] من جملہ ان میں انتشارات جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کی طباعت ہے جسے سنہ 1407 ہجری میں علامہ حسن‌زادہ آملی کی تصحیح اور تعلیق کے ساتھ 646 صفحات میں شایع کی گئی ہے۔[18]

حوالہ جات

  1. افندی اصفہانی، ریا‌ض‌العلما، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۳۵۸-۳۵۹۔
  2. افندی اصفہانی، ریا‌ض‌العلما، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۳۵۹۔
  3. مولوی، «آیت‌اللہ»، ص۲۶۰۔
  4. خوانساری، روضات‌الجنات، ۱۳۹۰قم، ج۲، ص۲۷۹-۲۸۰۔
  5. علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۱۹-۲۰۔
  6. علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۱، مقدمہ ناشر۔
  7. خالقیان، «از علامہ حلی تا ابوالفضل شعرانی»، ص۲۷۔
  8. علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، مقدمہ مصحح، ص۳۔
  9. علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، مقدمہ مصحح، ص۳۔
  10. ملاحظہ کریں آقابزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م، ج۱۸، ص۶۰۔
  11. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۵۸۱-۵۹۲۔
  12. کتاب شناسي تجريدالاعتقاد (۱)
  13. ملاحظہ کریں: صدرایی و مرعشی، کتاب‌شناسی تجریدالاعتقاد، ۱۳۸۲ش، ص۳۶-۳۷۔
  14. ملاحظہ کریں: آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م، ج۱۸، ص۶۰۔
  15. ملاحظہ کریں: آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ، ج۱۸، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م، ص۶۰۔
  16. صدرایی و مرعشی، کتاب‌شناسی تجریدالاعتقاد، ۱۳۸۲ش، ص۳۷۔
  17. صدرایی و مرعشی، کتاب‌شناسی تجریدالاعتقاد، ۱۳۸۲ش، ص۳۸-۳۷۔
  18. صدرایی و مرعشی، کتاب‌شناسی تجریدالاعتقاد، ۱۳۸۲ش، ص۳۸۔


منابع

  • افندی اصفہانی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، میرزا عبداللہ، تحقیق سیداحمد حسینی، قم، خیام، ۱۴۰۱ق۔
  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، بیروت، دارالاضواء، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م۔
  • خالقیان، «از علامہ حلی تا ابوالفضل شعرانی؛ مقایسہ‌ای بین شروح تجریدالاعتقاد»، رشد آموزش معارف اسلامی، ش۷۶، ۱۳۸۹ش۔
  • خوانساری، محمدباقر، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، قم، اسماعیلیان، ۱۳۹۰ق۔
  • صدرایی و مرعشی، کتاب‌شناسی تجریدالاعتقاد، قم، کتابخانہ آیت‌اللہ مرعشی، چاپ اول، ۱۳۸۲ش/۱۴۲۴ق۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف‌المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، تصحیح حسن حسن‌زادہ آملی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، چاپ ہفتم، ۱۴۱۷ق۔
  • مولوی، محمدعلی، «آیت‌اللہ»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۲، تہران، مرکز دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۷۴ش۔