عثمانیت

ویکی شیعہ سے
عثمانیت
عمومی معلومات
بانیطلحہ- زبیر- عایشہ- معاویہ
مبداء35ھ
اہم واقعاتامام علیؑ کی بیعت کرنے سے انکار کیا یا بیعت شکنی کی، جنگ جمل اور جنگ صفین کے لئے ماحول فراہم کیا گیا
حکومتیںبنی‌ امیہ
علل پیدائشقتل عثمان
دیگر اسامیدین عثمان- شیعہ عثمان
مذہبی معلومات
از فرقاہل سنت
عقائدخلافت عثمان کی حقانیت اور امام علیؑ کی خلافت کی غیر مشروعیت
موجودہ صورت حال
حالتمنقرض ہو گیا ہے
تاریخ انقراضچوتھی صدی ہجری


عثمانیہ یا عثمانیت اس فرقے کو کہا جاتا ہے جس نے عثمان کے قتل کے بعد امام علیؑ کی بیعت سے انکار کیا یا بیعت کرنے کے بعد بیعت شکنی کر کے معاویہ کو اپنا خلیفہ مان لیا۔ فرقہ عثمانیہ کی بنیاد سیاسی، سماجی اور علمی میدان میں امام علیؑ اور اہل‌ بیتؑ کی دشمنی پر رکھی گئی تھی۔ شیعیت کے مقابلے میں عثمانیت کی اصطلاح کا آغاز جنگ جمل سے ہوا ہے۔

محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ سیاسی اور عسکری میدان میں فرقہ عثمانیہ نے امام علیؑ اور آپ کے شیعوں پر جمل اور صفین کی دو جنگیں مسلط کیں۔ اسی طرح عثمان کے دور میں اس فرقے کے سیاسی عروج کے وقت شیعوں کے ساتھ براہ راست جنگ کے علاوہ اہل بیتؑ؛ خاص کر امام علیؑ پر سبّ و لعن اور ان کے چاہنے والوں کو قتل کرنے، قید میں ڈالنے اور انہیں جلاوطن کرنے میں بھی یہ فرقہ پیش پیش رہا۔ فرقہ عثمانیہ کے بارے میں آخری معلومات چوتھی صدی ہجری سے مربوط ہیں۔

اسلامی دور حکومت میں علم و دانش کے مختلف شعبوں من جملہ حدیث، فقہ، کلام اور تاریخ پر فرقہ عثمانیہ نے اپنا اثر چھوڑا ہے۔ ان علوم میں فرقہ عثمانیہ کا غالب رجحان خلفائے ثلاثہ اور معاویہ کے سیاسی رویے پر مبنی اسلام کی نئی تفسیر پیش کرنا تھا۔ امام علی‌ؑ اور اہل‌ بیتؑ سے دشمنی رکھنے والے دانشوروں کی تربیت فرقہ عثمانیہ کے علمی عروج کے زمانے کی اہم خصوصیات میں سے ایک جانا جاتا ہے۔

عثمانیت امام علیؑ کے مقابلے میں ایک فرقہ

عثمانیت اس فرقہ‌ کو کہا جاتا ہے جس نے قتل عثمان کے بعد امام علیؑ کی بیعت سے انکار[1] یا بیعت کرنے کے بعد عہد شکنی کی۔[2] کہا جاتا ہے کہ امام علیؑ اور معاویہ کے مابین اختلافات میں یہ فرقہ معاویہ کی طرف مائل ہوا۔[3] اس فرقے کو طلحہ، زبیر، عایشہ اور معاویہ کے حامیوں پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔[4] مادلونگ اور بعض دوسرے مورخین کے مطابق فرقہ عثمانیہ کی سب سے اہم خصوصیت امام علیؑ کی مخالفت تھی[5] اور ان کی اکثریت آپ کی امامت و خلافت کو غیر مشروع سمجھتے تھے۔[6] یہ فرقہ عثمان کے بعد معاویہ کو اپنا خلیفہ مانتے تھے اور اس کی دلیل عثمان کے ساتھ معاویہ کی قرابت داری اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے میں دوسروں سے زیادہ معاویہ کا سزاوار ہونا قرار دیتے تھے۔[7]

کہا جاتا ہے کہ فرقہ عثمانیہ اپنی پوری کوشش سیاسی، عسکری اور علمی میدان میں امام علیؑ اور اہل‌ بیتؑ کے ساتھ دشمنی اور خصومت پر مرکوز تھی۔[8] رسول جعفریان اس بات کے معتقد ہیں کہ سیاسی میدان میں فرقہ عثمانیہ نے امام علیؑ اور آپ کے شیعوں پر جنگ جمل اور جنگ صفین مسلط کیا۔[9] ان کے مطابق اگرچہ جنگ جمل میں فرقہ عثمانیہ کو شکست ہوئی لیکن بصرہ میں عثمانیت کو حفظ کرنے، جنگ صفین کے بعد پورے عراق پر مسلط ہونے اور خلافت بنی‌ امیہ کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا۔[10]

بعض محققین کے مطابق بنی‌امیہ کے دور میں سیاسی حوالے سے عثمانیت کے غلبے کے دوران اس فرقے نے شیعوں کے ساتھ براہ راست جنگ کے علاوہ اہل بیتؑ اور خاص کر امام علیؑ کو لعن اور سب و شتم کرنے، ان کے پیروکاروں اور اہل بیتؑ کے فضائل نقل کرنے والے اہل سنت راویوں کو قتل، زندانی اور جلاوطن کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا۔[11] اسی بنا پر بعض علماء فرقہ عثمانیہ کو ناصبی سمجھتے ہیں۔[12]

تاریخی منابع میں اس فرقے سے متعلق آخری معلومات[13] چوتھی صدی ہجری سے مربوط ہیں۔[14]

عثمانیت کی اصطلاح

«عثمانیت» کی اصطلاح شیعیت کے مقابلے میں جنگ جمل سے شروع ہوئی۔[15] جنگ جمل میں اصحاب جمل کے بعض سپاہیوں نے امام علیؑ کے سپاہیوں کو «علی والے» کہہ کر رجز پڑھا۔[16] محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ اسی دوران «علی والوں» کی اصطلاح کے مقابلے «عثمان والوں» کی اصطلاح وجود میں آگئی۔[17] جنگ صفین میں شامیوں کے لشکر میں موجود بعض شعراء نے «عثمان والوں» کی اصطلاح کے ساتھ اشعار کہنا شروع کیا۔[18] ان کے مقابلے میں امام علی کے اصحاب میں سے رِفاعَۃِ بنِ شَدّاد نے خود کو «علی والا» کہہ کر رجز پڑھا۔[19]

«عثمان والوں» کی اصطلاح واقعہ عاشورا میں بھی عمر سعد کی فوج نے بھی استعمال کیا۔[20] محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ بعد کے ادوار میں اس اصطلاح کو «عثمانیت» کے نام سے موسوم کیا گیا؛[21] سنہ 145ھ سے پہلے اس اصطلاح کے استعمال کے نمونے تاریخ میں ثبت ہوئے ہیں۔[22] اسی طرح بعض منابع میں عثمانیت کو «شیعۃ العثمانیۃ» کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے۔[23]

تاریخی ادوار

عثمانیت کی تاریخ کو چودہ ادوار میں تقسیم کی گئی ہے:[24]

خلافت عثمان کی حقانیت اور انہیں بے گناہ قتل کئے جانے کا عقیدہ

عثمانیت کے پہلے دور کی خصوصیات میں ان کی خلافت کی حقانیت اور بے گناہ قتل کئے جانے کا عقیدہ[25]، عثمان کے قتل میں ملوث ہونے کی بنا پر امام علی کی خلافت کا مشروع نہ ہونا[26] اور امت کے ساتھ مشورہ کئے بغیر امام علیؑ کا خلافت پر قبضہ کرنا[27] شامل ہیں۔[28] بعض محققین یہ احتمال دیتے ہیں کہ عثمان کے خلاف شروع ہونے والی تحریک میں شرکت نہ کرنے والوں کی اکثریت عثمانی‌ مذہب کے پیروکار تھے۔[29] محققین کے مطابق سنہ 70ھ تک اسلامی معاشرے پر عثمانی نظریے کی حکومت تھی[30] اور عوام بھی اسی نظریے کی پیروی کرتے تھے۔[31] جنگ جمل اور صفین،[32] غصب خلافت اور خلافت بنی‌ امیہ کی بنیاد، [33] سَبّ امام علیؑ، [34] امام حسنؑ کی شہادت، [35] پیغمبر اکرمؐ کے جوار میں امام حسنؑ کو دفن کرنے سے ممانعت، [36] واقعہ عاشورا[37] اور شیعوں کا سخت اور کھٹن مراحل سے گزرنا[38] من جملہ اس دور کے اہم سیاسی واقعات میں شمار کئے جاتے ہیں۔

اس دور میں عثمانیت کے موثر شخصیات میں طلحہ، زبیر، معاویہ اور عایشہ کے علاوہ عبداللَّہ بن سلام اور مغيرہ بن شُعْبَہ کا نام لیا جا سکتا ہے جنہوں نے امام علیؑ کی بیعت سے انکار کرتے ہوئے شام معاویہ کے پاس چلے گئے۔[39]انصار میں سے حَسّان بن ثابت، کعب بن مالک، ابو سعید خُدْری، محمد بن مسلمہ، نعمان بن بشیر اور زید بن ثابت کا نام لیا جاتا ہے جنہوں نے انصار کی اکثریت کے برخلاف امام علیؑ کی بیعت سے انکار کیا۔[40]

خلافت کو خلفائے ثلاثہ میں منحصر سمجھنا

مروانیوں کے دور حکومت کو عثمانیت کا دوسرا دور قرار دیا جاتا ہے۔ اس دور میں اصحاب حدیث کی جانب سے خلفائے راشدین کو صرف خلفائے ثلاثہ (ابوبکر، عمر اور عثمان) میں منحصر کیا گیا۔[41] کہا جاتا ہے کہ اس دور میں اس فرقے نے عثمان کے قتل کے بعد خلافت کے حوالے سے سکوت اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہوئے امام علیؑ کی خلافت کو فتنہ کا دور قرار دیا۔[42] محققین کے مطابق عثمانیت اس دور میں عبداللہ بن عمر اور سعد بن ابی‌وقاص کو جنہوں نے فتنے میں پڑنے سے کنارہ گیری اختیار کئے ہوئے تھے، اپنا ہم‌ مسلک سمجھتے تھے۔[43]

خلافت کو خلفائے راشدین میں منحصر سمجھنا

تیسرے دور میں عثمانی‌ مذہب کا پیروکار اس شخص کو کہا جاتا تھا جو امام علیؑ پر عثمان اور ہر خلیفہ کو اپنے زمانے میں دوسروں سے افضل سمجھتا تھا اور فضیلت کے مراتب کو خلافت میں جانشینی کے ساتھ یکسان سمجھتا تھا۔[44] اس دور میں عثمانیت سیاسی شیعہ[یادداشت 1] اور شیعہ کی طرف مائل اہل سنت جو عثمان کو فضلت میں امام علیؑ کے بعد چوتھے نمبر پر قبول کرتے تھے، کے مقابلے میں قرار پائی۔[45] تیسری صدی ہجری کے اواسط سے نظریۂ تربیع (خلفائے اربعہ) کے رواج پانے کے بعد احمد بن حنبل کو اس نظریے کے لئے ماحول سازگار کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔[46]

بنی امیہ کے پیروکار

بعض کہتے ہیں کہ عثمانی‌ مذہب کے اصحاب حدیث کے ختم ہونے کے بعد تیسری صدی کے اواخر سے ایک گروہ عثمانیت کے نام سے مشہور ہو گیا جو خلافت بنی‌ امیہ کی حقانیت اور اندلس میں بنی امیہ کی خلافت کے استمرار پر یقین رکھتا تھا۔[47] ابوالفرج اصفہانی[48] کے مطابق چوتھی صدی ہجری میں عثمانی مذہب کے پیروکار موجود تھے جن کا کوفہ میں اپنی مسجد تھی جہاں شیعہ نماز پڑھنے سے پرہیز کرتے تھے۔[49]

اسلامی علوم میں عثمانیوں کے آثار

عثمانیت کو اس کی پیدائش سے ہی اسلامی معاشرے کے مختلف علمی شعبوں منجملہ حدیث، فقہ، کلام اور تاریخ میں اثر گزار مانے جاتے ہیں۔[50] رسول جعفریان کے مطابق ان تمام شعبوں میں عثمانی مذہب کے اکثر پیروکاروں کا غالب رجحان سیاسی اور عقیدتی میدان میں خلفائے ثلاثہ اور معاویہ کے سیاسی موقف کے مطابق اسلام کی نئی تفسیر پیش کرنا تھا۔[51] امام علی‌ؑ اور اہل‌ بیتؑ سے دشمنی رکھنے والے محدثین، فقہاء، متکلمین اور مورخین کی تربیت اس دور کی اہم خصوصیت میں شمار کی جاتی ہے۔[52]

حدیث اور فقہ

تاریخی قرائن و شواہد کے مطابق ہجری کے ابتدائی صدیوں میں اسلام کے اہم علمی مراکز میں علم حدیث اور علم فقہ جیسے اہم شعبوں میں عثمانی مفکرین سرگرم تھے۔[53] ان علمی مراکز کو بالترتیب یوں ذکر کیا گیا ہے: مدینہ، بصرہ، کوفہ، مکہ اور شام۔[54]

مدینہ میں اہل‌ سنت کے مورد اعتماد اہم اصحاب عثمانی مذہب کے پیروکار شمار کئے جاتے تھے؛[55] من جملہ ان میں عایشہ،[56] عبداللہ بن عمر[57] اور ابوہریرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔[58] محققین کے مطابق مدینہ کے عثمانی مذہب فقہاء اور محدثین کا غالب رجحان خلفائے ثلاثہ کے مناقب بیان کرنا اور امام علیؑ کے ساتھ دشمنی کرنا تھا۔[59] مدینہ کے ساتھ فقہاء میں سے بعض [60] [یادداشت 2] کم و بیش عثمانی مذہب کے پیروکار تھے۔[62]

بصرہ کی اکثریت کا رجحان عثمانیت کی طرف تھا۔[63] اَنَس بن مالک[64] اور محمد بن سیرین (متوفی: 110ھ)، [65] بصرہ کے مشہور عثمانی مذہب فقہاء اور محدثین میں سے تھے۔[66] بصرہ کے اکثر عثمانی مذہب فقہاء اور محدثین کا غالب رجحان امام علیؑ کے بارے میں خاموشی اور ان سے منحرف ہونا ہے۔[67]

کوفہ میں شیعوں اور شیعوں کی طرف مائل اہل سنت کی اکثریت ہونے کے باوجود عثمانی مذہب فقہاء اور محدثین جیسے شَقیق بن سَلَمہ (متوفی: 82ھ)[68] کا نام لیا جا سکتا ہے۔[69] مکہ کے بعض فقہاء اور محدثین من جملہ مَیمون بن مِہران (متوفی: 116ھ)، [70] عثمانی مذہب تھے۔[71] کہا جاتا ہے کہ شام کے بہت سارے فقہاء بنی امیہ کی حکومت سے متأثر ہو کر عثمانی مذہب کی طرف مائل تھے اور بنی امیہ کی فضیلت میں نقل ہونے والی بہت سے روایات ان سے نقل ہوئی ہیں۔[72]

تاریخ

محققین تاریخ‌ نگاری کے دور میں «عثمانی مکتب تاریخ‌ نگاری» کا تذکرہ کرتے ہیں۔[73] محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ عثمانی‌ مذہب مورخین بنی امیہ کی حکومت کے سایے میں تاریخ میں تحریف اور بنی‌ امیہ کی حکومت کو مشروعیت بخشنے میں کوشاں تھے۔[74] یہ چیز سبب بنی کہ تاریخ میں عثمانی مورخین کی نقل زیادہ مؤثر رہی۔[75]

عثمانی مکتب تاریخ‌ نگاری کی خصوصیت امام علیؑ کے فضائل نقل کرنے سے ممانعت اور ان کی مذمت میں جعلی احادیث نقل کرکے ان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان، عثمان اور بعض دوسرے صحابہ کی فضیلت میں احادیث جعل کرتے ہوئے انہیں انصار کے مقابلے میں لانا اور انصار کے فضائل نقل کرنے سے روکنا۔[76] اَبان بن عثمان اور سیف بن عمر تمیمی کو من جملہ عثمانی مذہب کے مورخین میں شمار کئے جاتے ہیں۔[77] بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ عثمانی مکتب تاریخ‌ نگاری تیسری صدی ہجری میں شیعہ مورخین کے منظر عام پر آنے سے کمزور ہو گئے۔[78]

کلام

فرقہ عثمانیہ اور ان کے مخالفین کے درمیان بحث برانگیز کلامی مسائل میں سے ایک مسئلے کی طرف جاحظ(160-255ھ) نے اپنی کتاب مقالات العثمانیہ میں اشارہ کیا ہے۔[79] کہا جاتا ہے کہ جاحظ نے اس کتاب میں کلام عثمانيہ کو کلام شیعہ کے ساتھ موازنہ کیا ہے۔[80] اس کتاب میں جاحظ نے امامت کے بارے میں شیعوں کے دلائل جیسے امام کے لئے نص کی ضرورت، امام علیؑ کی افضلیت اور جنگ‌ جمل، صفین اور نہروان میں امام علیؑ کا برحق ہونا وغیرہ کے خلاف عثمانیہ کے دلائل کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔[81]

مسعودی عثمانیہ کی "اَلبراہینُ فی الْاِمامۃِ الْاُمَویّین" نامی ایک کتاب کا ذکر کرتے ہیں جس میں بنی‌ امیہ کی امامت کا دفاع کیا گیا ہے۔[82] مسعودی کے مطابق اس کتاب میں اندلس کے امویوں کی خلافت کو خلافت عثمان اور خلافت بنی‌ امیہ کا تسلسل قرار دیا گیا ہے۔[83]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج4، ص429-430۔
  2. ناشئ الاکبر، مسائل الامامۃ، 1971ھ، ص15-16۔
  3. ناشئ الاکبر، مسائل الامامۃ، 1971ھ، ص16۔
  4. ناشئ الاکبر، مسائل الامامۃ، 1971ھ، ص16۔
  5. مادلونگ، فرقہ‌ہای اسلامی، 1381ہجری شمسی، ص37۔
  6. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص51۔
  7. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص40۔
  8. مروجی طبسی، «تأثیر تفکر عثمانیہ بر ابن‌تیمیہ در تقابل با روایان فضایل اہل‌بیتؑ»، ص134۔
  9. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص40۔
  10. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص40۔
  11. مروجی طبسی، «تأثیر تفکر عثمانیہ بر ابن‌تیمیہ در تقابل با روایان فضایل اہل‌بیتؑ»، ص134-135۔
  12. ابن‌حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، دار صادر، ج8، ص458۔
  13. کرون، «عثمانیہ»، ص231۔
  14. ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، 1415ھ، ج11، ص167۔
  15. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص40۔
  16. شیخ مفید، الجمل، 1413ھ، ص346۔
  17. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص40۔
  18. منقری، وقعۃ صفین، 1404ھ، ص556؛ طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص43۔
  19. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج6، ص50۔
  20. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج5، ص435۔
  21. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص53۔
  22. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج4، ص429-430۔
  23. مسعودی، التنبیہ و الاشراف، 1893م، ص337۔
  24. کرون، «عثمانیہ»، ص227۔
  25. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج4، ص449۔
  26. ابن‌قتیبہ دینوری، الاختلاف فی اللفظ، 1412ھ، ص54۔
  27. ابن‌قتیبہ دینوری، الاختلاف فی اللفظ، 1412ھ، ص54۔
  28. کرون، «عثمانیہ»، ص227۔
  29. کرون، «عثمانیہ»، ص227۔
  30. کرون، «عثمانیہ»، ص227۔
  31. جعفریان، درس‌ہایی دربارہ فرق اسلامی، 1401ہجری شمسی، ص215۔
  32. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص40۔
  33. مروجی طبسی، «تأثیر تفکر عثمانیہ بر ابن‌تیمیہ در تقابل با روایان فضایل اہل‌بیتؑ»، ص134-135۔
  34. خیرخواہ علوی، «عثمانیہ و شیعہ در دو قرن نخست ہجری»، ص108۔
  35. خیرخواہ علوی، «عثمانیہ و شیعہ در دو قرن نخست ہجری»، ص109۔
  36. مردانی، «فرقہ عثمانیہ»، تارنمای پژوہہ۔
  37. ہدایت‌پناہ، بازتاب تفکر عثمانی در واقعہ کربلا، 1388ہجری شمسی، ص149؛ جعفریان، درس‌ہایی دربارہ فرق اسلامی، 1401ہجری شمسی، ص216؛ جعفریان، «شکل‌گیری مذہب شیعی و عثمانی و ادامہ آن با روی کار آمدن دولت عباسی»۔
  38. مروجی طبسی، «تأثیر تفکر عثمانیہ بر ابن‌تیمیہ در تقابل با روایان فضایل اہل‌بیتؑ»، ص134-135۔
  39. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج4، ص430۔
  40. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج4، ص429-430۔
  41. کرون، «عثمانیہ»، ص228-229۔
  42. کرون، «عثمانیہ»، ص228-229۔
  43. کرون، «عثمانیہ»، ص230۔
  44. کرون، «عثمانیہ»، ص231۔
  45. کرون، «عثمانیہ»، ص231۔
  46. کرون، «عثمانیہ»، ص231۔
  47. کرون، «عثمانیہ»، ص231۔
  48. ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، 1415ھ، ج11، ص167۔
  49. ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، 1415ھ، ج11، ص167۔
  50. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص52؛ فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص144؛ جعفریان، درس‌ہایی دربارہ فرق اسلامی، 1401ہجری شمسی، ص215۔
  51. جعفریان، درس‌ہایی دربارہ فرق اسلامی، 1401ہجری شمسی، ص216۔
  52. مروجی طبسی، «تأثیر تفکر عثمانیہ بر ابن‌تیمیہ در تقابل با روایان فضایل اہل‌بیتؑ»، ص135۔
  53. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص144۔
  54. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص144۔
  55. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص144-145۔
  56. ابن‌قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، 1410ھ، ج1، ص71-72۔
  57. ثقفی کوفی، الغارات، 1395ھ، ج2، ص569۔
  58. ثقفی کوفی، الغارات، 1395ھ، ج2، ص569۔
  59. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص149-150۔
  60. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج5، ص136۔
  61. خلیل القطان، تاریخ التشریع الاسلامی، 1422ھ، ص294۔
  62. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص145-146۔
  63. ابن‌ عبد ربہ اندلسی، العقد الفرید، بیروت، 1999م، ج6، ص264۔
  64. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، 1404ھ، ج4، ص74۔
  65. ابن‌جوزی، الرد علی المتعصب العنید، 1403ھ، ص75۔
  66. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص150۔
  67. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص156۔
  68. خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، 1417ھ، ج9، ص271؛ ہدایت‌پناہ، بازتاب تفکر عثمانی در واقعہ کربلا، 1388ہجری شمسی، ص225-226۔
  69. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص157-159۔
  70. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج6، 1414ھ، ص76-77۔
  71. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص168-170۔
  72. فرمانیان، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبی»، ص172-177؛ جعفریان، درس‌ہایی دربارہ فرق اسلامی، 1401ہجری شمسی، ص217-220۔
  73. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص53۔
  74. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص52-53۔
  75. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص53۔
  76. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص53۔
  77. خیرخواہ علوی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، ص53۔
  78. جعفریان، درس‌ہایی دربارہ فرق اسلامی، 1401ہجری شمسی، ص217۔
  79. انصاری، «دربارہ کتاب العثمانيہ جاحظ و رديہ ہای آن»، تارنمای بررسی‌ہای تاریخی۔
  80. انصاری، «کتاب العثمانيہ جاحظ و اصالت تفکر شيعی دربارہ امامت»، تارنمای بررسی‌ہای تاریخی۔
  81. انصاری، «کتاب العثمانيہ جاحظ و اصالت تفکر شيعی دربارہ امامت»، تارنمای بررسی‌ہای تاریخی۔
  82. مسعودی، التنبیہ و الاشراف، 1893م، ص336۔
  83. مسعودی، التنبیہ و الاشراف، 1893م، ص336-337۔

نوٹ

  1. سیاسی شیعہ یا عراقی شیعہ پہلی اور دوسری صدی کے اس شیعہ گروہ کو کہا جاتا تھا جو عقیدتی لحاظ سے ہٹ کر صرف سیاسی لحاظ سے امام علیؑ کو عثمان پر فوقیت دیتا تھا۔(جعفریان، تاریخ تشیع در ایران، 1388ہجری شمسی، ص22-27).
  2. مدینہ میں مقیم سات ہم عصر فقہاء تابعین میں سے ہیں: ابوبکر بن عبدالرحمان مخزومی (متوفی: 94ھ)، خارجۃ بن زید انصاری (متوفی: 99ھ)، سعید بن مسیب (متوفی: 91ھ)، سلیمان بن یسار، (متوفی: 107ھ)، عبیداللہ بن عبداللہ مخزومی (متوفی: 98ھ)، عروۃ بن زبیر (متوفی: 94ھ)، قاسم بن محمد بن ابی‌بکر (متوفی: 108ھ)۔ [61]

مآخذ

  • ابن ابی‌الحدید، عبدالحمید بن ہبۃ‌اللہ، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، قم، مکتبۃ آیۃ‌اللہ العظمی المرعشی النجفی، 1404ھ۔
  • ابن‌جوزی، عبدالرحمن بن علی، الرد علی المتعصب العنید، تحقیق محمدکاظم محمودی، بی‌جا، بی‌نا، 1403ھ۔
  • ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، تہذیب التہذیب، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔
  • ابن‌سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الكتب العلميۃ، 1410ھ۔
  • ابن‌ عبد ربہ اندلسی، احمد بن محمد، العقد الفرید، تحقیق علی شیری، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1999ء۔
  • ابن‌قتیبہ دینوری، عبداللہ بن مسلم، الاختلاف فی اللفظ و الرد علی الجہمیۃ و المشبہۃ، تحقیق عمر بن محمود ابوعمر، ریاض، دار الرایۃ للنشر و التوزیع، 1412ھ۔
  • ابن‌قتیبہ دینوری، عبداللہ بن مسلم، الامامۃ و السیاسۃ، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الأضواء، 1410ھ۔
  • ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، بیروت، دار إحياء التراث العربی، 1415ھ۔
  • ثقفی کوفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تحقیق میر جلال‌الدین محدث ارموی، تہران، انجمن آثار ملی، 1395ھ۔
  • انصاری، حسن، «دربارہ کتاب العثمانيہ جاحظ و رديہ‌ہای آن» تارنمای بررسی‌ہای تاریخی (مقالات و نوشتہ‌ہای حسن انصاری در حوزہ تاریخ و فرہنگ ایران و اسلام)، تاریخ درج مطلب: 16 آبان 1398ہجری شمسی، تاریخ مشاہدہ: 29 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • انصاری، حسن، «کتاب العثمانيہ جاحظ و اصالت تفکر شيعی دربارہ امامت»، تارنمای بررسی‌ہای تاریخی (مقالات و نوشتہ‌ہای حسن انصاری در حوزہ تاریخ و فرہنگ ایران و اسلام)، تاریخ درج مطلب: 16 آبان 1398ہجری شمسی، تاریخ مشاہدہ: 29 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ تشیع در ایران، تہران، نشر علم، 1388ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، درس‌ہایی دربارہ فرق اسلامی، تہران، نشر علم، 1401ہجری شمسی۔
  • جعفریان، رسول، «شکل‌گیری مذہب شیعی و عثمانی و ادامہ آن با روی کار آمدن دولت عباسی»، تارنمای کتابخانہ تخصصی اسلام و ایران، تاریخ درج مطلب: 7 اردیبہشت 1399ہجری شمسی، تاریخ بازدید: 15 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد (او مدینۃ السلام)، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلميۃ، 1417ھ۔
  • خیاط، عبدالرحیم بن محمد، الإنتصار و الرد علی ابن الروندی الملحد، تحقیق ہنریک ساموئل نیبرگ، جبیل لبنان، دار و مکتبۃ بيبليون، 2004ھ۔
  • خیرخواہ علوی، سید علی، «عثمانیہ و شیعہ در دو قرن نخست ہجری»، در فرہنگ پژوہش، شمارہ 9، زمستان 1389ہجری شمسی۔
  • خیرخواہ علوی، سید علی و دیگران، «علی و خلافت وی از نگاہ مکتب تاریخ‌نگاری عثمانیہ»، در پژوہشنامہ تاریخ تشیع، شمارہ 87 تابستان 1399ہجری شمسی۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1414ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الجمل (النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ)، تحقیق سید علی میرشریفی، قم، مکتب الإعلام الإسلامی، 1413ھ۔
  • زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بی تا، بی جا، بی نا۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری (تاریخ الامم و الملوک)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، بی‌نا، بی‌تا۔
  • فرمانیان، مہدی، «عثمانیہ و اصحاب حدیث قرون نخستین تا ظہور احمد بن‌ حنبل با تأکید بر سیر اعلام النبلاء ذہبى»، دوفصلنامہ ہفت‌آسمان، شمارہ 39، آذر 1387ہجری شمسی۔
  • کرون، پاتریشیا، «عثمانیہ» (مدخل دایرۃ المعارف اسلام انگلیسی)، ترجمہ مہدی فرمانیان، در پژوہشنامہ حکمت و فلسفہ اسلامی، شمارہ 13 و 14، بہار و تابستان 1384ہجری شمسی۔
  • مادلونگ، ویلفرد فردیناند، فرقہ‌ہای اسلامی، ترجمہ ابوالقاسم سرّی، تہران، انتشارات اساطیر، 1381ہجری شمسی۔
  • مردانی، محمدمحسن، «فرقہ عثمانیہ»، تارنمای پژوہہ، تاریخ درج مطلب: 24 آبان 1393ہجری شمسی، تاریخ بازدید: 15 آبان 1402ہجری شمسی۔
  • مروجی طبسی، محمدمحسن، «تأثیر تفکر عثمانیہ بر ابن‌تیمیہ در تقابل با روایان فضایل اہل‌بیتؑ»، در فرہنگ زیارت، شمارہ 46، بہار 1400ہجری شمسی۔
  • مسعودی، علی بن حسین، التنبیہ و الاشراف، لیدن ہلند، مطبعۃ بريل، 1893ء۔
  • مناع القطان، مناع بن خلیل، تاریخ التشریع الاسلامی، مکتبۃ الوہبہ، چاپ پنجم، 1422ھ۔ بی جا۔
  • منقری، نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، تحقیق عبدالسلام محمد ہارون، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، 1404ھ۔
  • ناشئ الاکبر، عبداللہ بن محمد، مسائل الامامۃ، تحقیق یوزف فان اس، بیروت، بی‌نا، 1971ھ۔
  • ہدایت‌پناہ، محمدرضا، بازتاب تفکر عثمانی در واقعہ کربلا، قم، پژوہشگاہ حوزہ و دانشگاہ، 1388ہجری شمسی۔