مسودہ:نحن معاشر الانبیاء لا نورث
| حدیث کے کوائف | |
|---|---|
| صادر از | حضرت محمدؐ سے منسوب |
| اصلی راوی | ابوبکر |
| دوسرے روات | عمر بن خطاب اور بعض دوسرے صحابہ |
| اعتبارِ سند | شیعوں کے نزدیک غیر معتبر اور جعلی/اہل سنت کے نزدیک معتبر |
| اہل سنت مآخذ | مسند ابنحنبل، صحیح بخاری |
| مشہور احادیث | |
| حدیث سلسلۃ الذہب • حدیث ثقلین • حدیث کساء • مقبولہ عمر بن حنظلۃ • حدیث قرب نوافل • حدیث معراج • حدیث ولایت • حدیث وصایت • حدیث جنود عقل و جہل • حدیث شجرہ | |
نَحنُ مَعاشِرَ الانبیاءِ لا نُوَرِّثُ، (یعنی: ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے) وہ عبارت ہے جسے ابوبکر بن ابی قحافہ نے حضرت محمدؐ سے منسوب کرتے ہوئے اسی کو بنیاد بنا کر فدک کو حضرت فاطمہ زہرا (س) کو واپس کرنے سے انکار کیا۔ حالانکہ پیغمبر اکرمؐ نے اپنی حیات مبارکہ میں فدک انہیں بخش دیا تھا۔ ابوبکر کا یہ اقدام جس پر حضرت فاطمہ (س) نے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا، شیعہ اور اہل سنت کے درمیان ایک اہم تاریخی تنازع کی بنیاد ڈالی۔ ابوبکر کے اس طرز عمل نے شیعہ اور اہل سنت کے درمیان فکری، فقہی اور تفسیری اختلاف کو جنم دیا جو پیغمبر اسلام کی وراثت اور واقعہ فدک سے جا ملتا ہے۔
اہل سنت اس حدیث کو صحیح اور قطعی الصدور مانتے ہیں اور اسے پیغمبر اکرمؐ سے وراثت کے خاتمے کی دلیل قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، شیعہ اس حدیث کو سند اور متن دونوں لحاظ سے مخدوش سمجھتے ہیں اور اسے قرآن کی نص کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ اس روایت کے معاملے میں پیدا ہونے والا اختلاف قرآن کی تفسیر تک سرایت کر گیا؛ یوں شیعہ انبیاء کی وراثت سے متعلق آیات کو مالی وراثت پر حمل کرتے ہیں، جبکہ اہل سنت مفسرین انہیں روحانی اور معنوی وراثت (جیسے علم اور نبوت) سے تعبیر کرتے ہیں۔
حضرت فاطمہ (س) نے اپنے خطبے (خطبہ فدکیہ) میں اس حدیث کو پیغمبر اکرمؐ سے منسوب ہونے کی تردید کی اور قرآن کی ان آیات کا حوالہ دیا جو انبیاء کی وراثت کو ثابت کرتی ہیں، اس طرح ابوبکر کے اس اقدام کو عدل اور اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہرا (س) عمر بھر خلیفہ اول کے اس طرز عمل سے ناراض رہیں۔ شیعہ علماء نے اس حدیث کے حوالے سے پیغمبر اکرمؐ کے قریبی رشتہ داروں کی بے خبری، صرف ابوبکر کی جانب سے اسے نقل کرنا، قرآن سے متصادم ہونا اور خود ابوبکر کے متنازعہ رویے کی بنیاد پر اس روایت کے معتبر ہونے میں خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض اہل سنت علماء نے اس حدیث کا دفاع کرتے ہوئے اسے پیغمبر اسلام کے استثنائی احکام (خصائص النبی) میں سے قرار دیا ہے۔
شیعہ سنی مذہبی اختلافات میں اس حدیث کا کردار
حدیث "نَحنُ مَعاشِرَ الأَنبِیاءِ لاَ نُوَرِّثُ" ان احادیث میں سے ہے جن کے بارے میں صدر اسلام سے شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلاف چلا آرہا ہے۔[1] خلیفہ اول ابوبکر بن ابی قحافہ نے فدک کو — جو حضرت فاطمہ زہرا (س) کے قبضے میں تھا — ضبط کر لیا اور پیغمبر اکرمؐ کی بیٹی کے احتجاج پر یہ روایت پیش کی: "نَحنُ مَعاشِرَ الأَنبیاءِ لا نُوَرِّثُ، مَا تَرَكنَا صَدَقَۃٌ؛ ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے؛ ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے۔" ابوبکر نے مذکورہ حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے فدک حضرت فاطمہ(س) کو واپس دینے سے انکار کیا۔[2]
اہل سنت اسی روایت کی بیناد پر حضرت محمدؐ کے وارثین منجملہ حضرت زہرا (س) کو آپؐ کی وراثت سے محروم سمجھتے ہیں، جبکہ شیعہ اس روایت کو جعلی قرار دیتے ہوئے پیغمبر اکرمؐ کی وراثت کو درست مانتے ہیں۔[3] اس حدیث کے بارے میں پیدا ہونے والے اختلاف کی وجہ سے انبیاء کی وراثت سے متعلق آیات کی تفسیر میں بھی شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اختلاف پیدا ہوا ہے۔[4] اسی بنا پر امامیہ مفسرین سورہ نمل آیت نمبر 16 اور سورہ مریم آیت نمبر 6 کو مالی وراثت پر حمل کرتے ہیں،[5] جبکہ اہل سنت مفسرین ان آیات سے معنوی اور روحانی وراثت میراد لیتے ہیں۔[6]
فدک حجاز میں خیبر کے قریب واقع ایک علاقہ ہے۔[7] اس علاقے میں صدر اسلام میں یہودی آباد تھے۔[8] جنگ خیبر میں یہ علاقہ بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے قبضے میں آیا[9] اور پیغمبر اکرمؐ نے اسے اپنی بیٹی حضرت زہرا (س) کو بخش دیا۔[10]
بعض شیعہ علماء ابوبکر کی اس روایت کا جائزہ لیتے ہوئے اسے جعلی قرار دیا ہے؛ جیسے شیخ مفید نے "رسالۃ حول الحدیث نحن معاشر الانبیاء لا نورث" میں،[11] اور علامہ حلی نے "نہج الحق"[12] اور "كشف المراد" میں۔[13] دوسری طرف سے اہل سنت علماء جیسے فخر رازی نے "التفسیر الکبیر" میں[14] اور ابن تیمیہ نے "منہاج السنۃ النبویۃ" میں[15] اس حدیث کا دفاع کیا ہے۔

حضرت فاطمہ کا موقف
اہل بیتؑ بشمول حضرت فاطمہ (س) نے کبھی بھی حدیث "نَحنُ مَعاشِرَ الأَنبیاءِ لا نُوَرِّثُ" کے صحیح ہونے کی تائید نہیں کی اور اس کی مخالفت کی۔[16] احمد بن حنبل اور بخاری کے مطابق حضرت فاطمہ (س) ابوبکر کے اس رویے سے ناراض ہوئیں اور عمر بھر اس ناراضگی پر باقی رہیں۔[17]
حضرت فاطمہ (س) نے اس سلسلے میں ایک خطبہ دیا جسے خطبہ فدکیہ کہا جاتا ہے، جس میں "نحن معاشر الانبیاء" کے بیان کا جواب دیا۔[18] اس خطبے میں انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت محمدؐ کی وراثت سے محرومی اور فدک کے غصب کئے جانے پر احتجاج کیا اور اس اقدام کو دینی اصولوں اور عدالت کے خلاف قرار دیا۔[19] انہوں نے اپنے خطبے میں قرآن کی ان آیات کا حوالہ دیا جن میں انبیاء کی وراثت،[20] وراثت میں خاندان کی ترجیح،[21] اور اصل وراثت کی گئی تاکید[22] جیسے موضوعات کی طرف اشارہ کیا۔[23]
حضرت زہرا (س) نے استدلال کیا کہ انہیں وراثت سے محروم کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور پیغمبر اکرمؐ سے نسبی اور دینی اشتراک ان کے حق کے لئے کافی ہے۔[24] انہوں نے ابوبکر کے اس اقدام کو جاہلیت کی ناعادلانہ روایات کی طرف بازگشت قرار دیا اور انصار کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے ان سے اس ظلم پر بے تفاوت نہ رہنے کا مطالبہ کیا۔[25]
حدیث کا متن اور اس کی مختلف روایات
حدیث "لا نُوَرِّثُ ما تَرَکنا صَدَقَہ" اہل سنت کے مختلف مصادر میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے۔[26] ان روایات کے مطابق: «لاَ نُورَثُ (لا نُوَرِّثُ) مَا تَرَكْنَا (فَہُوَ) صَدَقَۃٌ.» (ترجمہ: ہم سے وراثت نہیں ملتی [ہم وراثت نہیں چھوڑتے] ہم جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے) بعض روایات میں یہ حدیث "إِنَّا (نَحنُ) مَعاشِرَ الأَنبیاءِ" سے شروع ہوتی ہے۔[27] لیکن نویں صدی ہجری کے اہل سنت کے محدث ابن حجر عسقلانی کے مطابق اگرچہ یہ حدیث "إِنَّا مَعاشِرَ الأَنبیاءِ" کی تعبیر کے ساتھ مشہور ہے، لیکن بعض محدثین نے اس تعبیر کے ساتھ اس حدیث کی روایت کا انکار کیا ہے۔[28]
یہ حدیث مختصر اور طویل عبارتوں کے ساتھ کئی واقعات میں ابوبکر بن ابی قحافہ[29] اور عمر بن خطاب[30] سے نقل ہوئی ہے:
- پہلا واقعہ: پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ (س) نے ابوبکر سے خیبر کے خمس میں سے اپنا حصہ اور فدک کی زمینیں جو پیغمبر اکرمؐ نے انہیں بخشی تھیں، کا مطالبہ کیا۔ لیکن ابوبکر نے پیغمبر اکرمؐ سے مذکورہ حدیث نقل کرتے ہوئے فدک کی زمینیں حضرت فاطمہ (س) کو دینے سے انکار کیا۔[31]
- دوسرا واقعہ: جب پیغمبر اکرمؐ کی بعض ازواج نے اپنے وراثے کا مطالبہ کیا تو ابوبکر نے یہ حدیث نقل کرتے ہوئے ان کا مطالبہ ٹھکرا دیا۔[32]
- تیسرا واقعہ: عمر بن خطاب نے امام علیؑ اور عباس بن عبدالمطلب کے درمیان فدک کے معاملے میں پیدا ہونے والے اختلافات میں فیصلہ کرتے ہوئے یہ حدیث پیغمبر اکرمؐ سے نقل کی۔[33]
اعتبار سنجی(تحقیق)
یہ حدیث اہل سنت کے نزدیک قطعی الصدور حدیث ہے، لیکن امامیہ اسے سند اور متن دونوں لحاظ سے ضعیف قرار دیتے ہیں۔[34] شیعہ محققین کے مطابق یہ حدیث فدک پر قبضہ کرنے کے لئے جعل کی گئی ہے۔[35] شیعہ علماء نے مختلف دلائل کے ذریعے اس حدیث کے صحیح ہونے خدشہ ظاہر کیا ہے:
قرآن سے تعارض
اس حدیث کا مضمون قرآن سے متصادم ہے۔[36] اہل سنت مورخ ابن سعد بغدادی کی کتاب "الطبقات الکبری" میں آیا ہے کہ جب ابوبکر نے "لا نورث ما ترکنا صدقہ" کے ذریعے فدک دینے سے انکار کیا تو علی بن ابی طالبؑ نے سورہ نمل آیت نمبر 16 اور سورہ مریم آیت نمبر 6 کا حوالہ دیتے ہوئے اس دعوے کو قرآن کے خلاف قرار دیا، کیونکہ ان دو آیات میں پچھلے انبیاء کی وراثت کا ذکر آیا ہے۔[37]
چودہویں صدی ہجری کے اہل سنت مفسر ابن عاشور مذکورہ حدیث اور قرآن کے درمیان تعارض کو دور کرنے کے لئے کہتے کہ اگرچہ قرآن کی آیات میں انبیاء کی وراثت کا ذکر ہے اور وہ اپنے وارثوں کے لئے وراثت چھوڑتے تھے، لیکن یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ حضرت محمدؐ سے وراثت نہ ملنا آنحضرت کے مخصوص احکام یعنی خصائص النبی میں سے تھا۔[38] لیکن شیعہ محققین کہتے ہیں کہ کسی حکم کو پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ مختص قرار دینا صرف اسی صورت میں تسلیم کئے جاتے ہیں جب قطعی دلیل ہو جبکہ شک کی صورت میں پیغمبر اکرمؐ کو دوسرے لوگوں کے ساتھ شریک اور برابر سمجھے جاتے ہیں۔[39]
ابوبکر کے متناقص رویے
بعض محققین نے بعض تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں ابوبکر نے اس حدیث کے مضمون کے خلاف عمل کیا:[40]
- امام علیؑ اور عباس ابن عبد المطلب کے درمیان پیغمبر اکرمؐ کی تلوار، زرہ اور خچر کے بارے میں اختلاف پر، ابوبکر نے مذکورہ چیزیں بطور وراثت حضرت علیؑ کے حوالے کر دیں۔[41]
- ابوبکر نے پیغمبر اکرمؐ کی ازواج کو ان کے گھروں میں رہنے دیا اور انہیں ضبط نہیں کیا۔[42]
- ابوبکر نے پیغمبر اکرمؐ کی قبر کے پاس دفن ہونے کے لئے مسلمانوں سے نہیں بلکہ پیغمبر کی زوجہ عائشہ سے اجازت لی،[43] حالانکہ اس حدیث کی رو سے اسے تمام مسلمانوں سے اجازت لینی چاہیے تھی۔[44]
پیغمبر اکرمؐ کے قریبی رشتہ داروں کا اس حدیث سے بے خبر ہونا
بعض محققین نے صرف ابوبکر کے توسط سے اس حدیث کے نقل ہونے کو حیران کن قرار دیا ہے، کیونکہ بعید لگتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی بیٹی اور آپؐ کی ازواج (جو قریبی رشتہ دار اور فطری وارث تھیں) اس بات سے بے خبر ہوں۔[45] علامہ حلی بھی ابوبکر کے ذاتی مفادات (فدک پر قبضے سے فائدہ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس حدیث کی صحت پر خدشہ ظاہر کرتے ہیں۔[46]
بعض اہل سنت مصنفین ان اشکالات کو صحیح نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ روایت صرف ابوبکر تک محدود نہیں بلکہ دوسرے صحابہ نے بھی نقل کیا ہے۔[47] لیکن اہل سنت عالم ابن ابی الحدید کے مطابق ابوبکر کے زمانے میں یہ حدیث صرف انہی سے نقل ہوئی، اگرچہ ان کی وفات کے بعد دوسرے صحابی نے بھی اسے نقل کیا ہے۔[48]
حوالہ جات
- ↑ بستانی، «ارزیابی حدیث نحن معاشر الانبیاء لا نورث»، ص85۔
- ↑ نگاہ کنید بہ: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص543؛ ابنطیفور، بلاغات النساء، 1326ھ، ص16-23۔
- ↑ الغفوری، «معالجۃ منہجیۃ لحدیث لا نورث، القسم الاول»، ص222۔
- ↑ فہیمیتبار، «بررسی تطبیقی روایت»، ص50-51۔
- ↑ نمونہ کے لئے مراجعہ کریں: طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص105؛ ج8، ص82؛ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج6، ص776؛ ج7، ص334؛ طباطبایی، المیزان، 1417ھ، ج15، ص349۔
- ↑ طبری، جامع البیان، 1412ھ، ج16، ص37؛ ج19، ص87؛ بیضاوی، انوار التنزیل، 1418ھ، ج4، ص6 و 156؛ شوکانی، فتح القدیر، 1414ھ، ج3، ص381؛ ج4، ص149۔
- ↑ یاقوت حموی، معجم البلدان، 1995م، ج4، ص238۔
- ↑ بلادی، معجم معالم الحجاز، 1431ھ، ج2، ص206 و 205؛ ج7، ص23۔
- ↑ طبری، تاریخ الامم والملوک، 1387ھ، ج3، ص15۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص543؛ سیوطی، الدر المنثور، 1414ھ، ج5، ص273۔
- ↑ شیخ مفید، رسالۃ حول حدیث نحن معاشر الانبیا، 1413ھ، ص20۔
- ↑ علامہ حلی، نہج الحھ، 1982م، ص265-270۔
- ↑ علامہ حلی، کشف المراد، 1382شمسی، ص197-198۔
- ↑ فخر رازی، تفسیر الکبیر، 1420ھ، ج9، ص514؛ ج21، ص510۔
- ↑ ابنتیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ، 1406ھ، ج4، ص193-225۔
- ↑ بستانی، «ارزیابی حدیث نحن معاشر الانبیاء لا نورث»، ص86۔
- ↑ ابنحنبل، مسند ابنحنبل، 1416ھ، ج1، ص179 و 189؛ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج8، ص149۔
- ↑ ابنطیفور، بلاغات النساء، 1326ھ، ص16-25۔
- ↑ ابنطیفور، بلاغات النساء، 1326ھ، ص21-23۔
- ↑ دیکھیے: سورہ نمل، آیت 16؛ سورہ مریم، آیت 6۔
- ↑ سورہ انفال، آیت 75۔
- ↑ سورہ نساء، آیت 11۔
- ↑ ابنطیفور، بلاغات النساء، 1326ھ، ص21۔
- ↑ ابنطیفور، بلاغات النساء، 1326ھ، ص21۔
- ↑ ابنطیفور، بلاغات النساء، 1326ھ، ص21-23۔
- ↑ مثال کے طور پر دیکھیے: ابنحنبل، مسند ابنحنبل، 1421ھ، ج1، ص188، 222 و 225؛ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج5، ص20؛ ج8، ص149۔
- ↑ ابنحنبل، مسند ابنحنبل، 1421ھ، ج16، ص47؛ نسائی، السنن الکبری، 1421ھ، ج6، ص47۔
- ↑ ابنحجر عسقلانی، فتح الباری، 1420ھ، ج12، ص8۔
- ↑ ابنحنبل، مسند ابنحنبل، 1416ھ، ج1، ص179؛ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج4، ص79۔
- ↑ ابنحنبل، مسند ابنحنبل، 1416ھ، ج1، ص237؛ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج5، ص89۔
- ↑ ابنحنبل، مسند ابنحنبل، 1421ھ، ج1، ص188، 222 و 225؛ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج5، ص20؛ ج8، ص149۔
- ↑ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج5، ص89۔
- ↑ ابنحنبل، مسند ابنحنبل، 1421ھ، ج3، ص301؛ بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج5، ص89۔
- ↑ سایبان و دیگران، «بررسی اندیشہ امامیہ و اہلسنت در مورد ارث پیامبران»، ص276۔
- ↑ سایبان و دیگران، «بررسی اندیشہ امامیہ و اہلسنت در مورد ارث پیامبران»، ص276۔
- ↑ علامہ حلی، نہج الحھ، 1982م، ص268۔
- ↑ ابنسعد، الطبقات الکبری، 1968م، ج2، ص215۔
- ↑ ابنعاشور، التحریر و التنویر، مؤسسۃ التاریخ، ج16، ص12۔
- ↑ الغفوری، «معالجۃ منہجیۃ لحدیث لا نورث، القسم الاول»، ص223۔
- ↑ علامہ حلی، نہج الحھ، 1982م، ص268۔
- ↑ علامہ حلی، نہج الحھ، 1982م، ص268۔
- ↑ صدر، الفدک فی التاریخ، 1410ھ، ص114۔
- ↑ صدر، الفدک فی التاریخ، 1410ھ، ص114۔
- ↑ الغفوری، «معالجۃ منہجیۃ لحدیث لا نورث، القسم الثالث»، ص316۔
- ↑ جلالی حسینی، «مقدمہ»، رسالۃ حول الحدیث نحن معاشر الأنبیاء لا نورث، ص4۔
- ↑ علامہ حلی، نہج الحھ، 1982م، ص268۔
- ↑ برّاج، احکام المیراث فی الشریعۃ الاسلامیہ، 1420ھ، ص271۔
- ↑ ابنابیالحدید، شرح نہجالبلاغہ، 1404ھ، ج16، ص227۔
مآخذ
- قرآن کریم۔
- ابنابیالحدید، عبدالحمید بن ہبۃاللہ، شرح نہج البلاغہ، قم، کتابخانہ آیتاللہ مرعشی نجفی(رہ)، 1404ھ۔
- ابنتیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، مِنہاج السنۃ النبویۃ فی نقض کلام الشیعۃ القَدَریّۃ، ریاض، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، 1406ھ۔
- ابنحجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری شرح صحیح البخاری، صیدا، المکتبۃ العصریہ، 1420ھ۔
- ابنحنبل، احمد بن محمد، المسند، تحقیق شعیب الارنؤوط، عادل مرشد و دیگران، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
- ابنحنبل، احمد بن محمد، المسند، قاہرہ، دار الحدیث، 1416ھ۔
- ابنسعد بغدادی، محمد، الطبقات الکبری، تحقیق احسان عباس، بیروت، دار صادر، 1968ء۔
- ابنطیفور، احمد بن ابیطاہر، بلاغات النساء، القاہرہ، مدرسۃ والدۃ عباس الأول، 1326ھ۔
- ابنعاشور، محمد بن طاہر، التحریر و التنویر، بیروت، مؤسسۃ التاریخ، 1420ھ۔
- الغفوری، خالد، «حدیث 'لا نورث' کا منہجی تجزیہ، پہلا حصہ»، الاجتہاد و التجدید، شمارہ 28 و 29، خزاں اور سرما سن 2013ء۔
- الغفوری، خالد، «حدیث 'لا نورث' کا منہجی تجزیہ، تیسرا حصہ»، الاجتہاد و التجدید، شمارہ 32 و 33، خزاں اور سرما سن 2015ء۔۔
- بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق محمد بن زہیر بن ناصر، دمشھ، دار طوق النجاۃ، 1422ھ۔
- برّاج، جمعہ محمد محمد، احکام المیراث فی الشریعۃ الاسلامیہ، عمان، دار یافا العلمیہ، 1420ھ۔
- بستانی، قاسم، «حدیث نحن معاشر الانبیاء لا نورث پر تحقیق»، مجلہ شیعہشناسی، شمارہ 20، سرما سن 2007ء۔
- بلادی، عاتق بن غیث، معجم معالم الحجاز، بیروت، مؤسسۃ الریان، 1431ھ۔
- بیضاوی، عبداللہ بن عمر، انوار التنزیل و اسرار التأویل، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1418ھ۔
- جلالی حسینی، سید محمدرضا، «مقدمہ»، حدیث نحن معاشر الأنبیاء لا نورث پر ایک تحریر، تألیف محمد بن نعمان، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہج الحقّ و کشف الصدق، بیروت، دار الکتاب اللبنانی، 1982ء۔
- سایبان، سید محمدجواد، و سید علی حسینپور و سید محمدمہدی حسینپور، «ارث انبیاء کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت کا نظریہ»، تحقیق نامہ مطالعات تطبیقی مذاہب فقہی، شمارہ 7، بہار اور گرما سن 2024ء۔۔
- سیوطی، عبدالرحمن بن ابیبکر، الدر المنثور فی التفسیر بالمنثور، بیروت، دار الفکر، 1414ھ۔
- شوکانی، محمد بن علی، فتح القدیر، دمشق-بیروت، دار ابنکثیر-دار الکلم الطیب، 1414ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن نعمان، حدیث نحن معاشر الأنبیاء لا نورث پر ایک تحریر، مقدمہ اور اضافات سید محمدرضا حسینی جلالی، قم، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- صدر، محمدباقر، الفدک فی التاریخ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1410ھ۔
- طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، 1372ہجری شمسی۔
- طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفہ، 1412ھ۔
- طبری، محمد بن جَریر، تاریخ الاُمَم والمُلوک، بیروت، روائع التراث العربی، 1387ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بے تا۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، قم، مؤسسۃ الامام الصادق(ع)، 1382ہجری شمسی۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، تفسیر الکبیر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
- فہیمیتبار، حمیدرضا، «فریقین کی نظر میں روایت «لا نُوَرِّثُ ماترکنا صَدَقَہ» کا تطبیقی مطالعہ»، نشریہ حدیث پژوہی، شمارہ 10، خزاں اور سرما سن 2013ء۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علیاکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، 1407ھ۔
- نسائی، احمد بن شعیب، السنن الکبری، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1421ھ۔
- یاقوت حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، 1995ء۔