حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیتیں

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وصیتیں، آپ (س) کی وہ تحریری اور زبانی وصیتیں ہیں جو آپ (س) نے امام علیؑ اور دیگر افراد کے نام کیں۔ تحریری وصیت میں حضرت فاطمہ (س) نے اپنی وصیتوں کے نفاذ اور اپنے اموال کے انتظام کے لیے بالترتیب حضرت علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو ذمہ داریاں مقرر کیں اور ازواجِ رسولؐ، ابوذر غفاری کی بیٹی اور بعض مستحقین کے لیے مخصوص حصے مقرر کیے۔
بعض روایات کے مطابق حضرت فاطمہ (س) نے اپنی زبانی وصیتوں میں اپنے جنازے میں صرف محدود افراد کی شرکت کی تاکید کی اور خواہش ظاہر کی کہ ان کی قبر کا مقام پوشیدہ رکھا جائے۔ بعض نقلوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ (س) نے کچھ افراد کو جنازے میں شرکت کرنے سےمنع کیا۔ اس طرح کی تفصیلات شیعہ تاریخی مآخذ کے علاوہ بعض اہلِ سنت مصادر میں بھی بیان ہوئی ہیں۔
حضرت فاطمہ (س) کی یہ وصیت کہ ان کی تجہیز و تکفین رات کے وقت اور مخفی طور پر کی جائے، غصبِ خلافت پر ایک قسم کا احتجاج اور ان افراد کے خلاف مبارزاتی عمل سمجھا جاتا ہے جنہوں نے شیعہ عقیدہ کے مطابق آپ (س) پر ظلم کیا ہے۔
حضرت فاطمہ (س) کی وصیتوں کی قسمیں
شیعہ اور اہل سنت کے حدیثی مصادر میں مذکور روایات کے مطابق، حضرت فاطمہ (س) نے متعدد وصیتیں کیں، جن میں کچھ تحریری تھیں اور کچھ زبانی۔ ان میں سے ایک وصیت آپ (س) کے اموال سے متعلق تھی، جبکہ دو وصیتیں آپ (س) نے امام علیؑ اور اسماء بنت عمیس کو اپنی تکفین، تدفین اور تشییع کے بارے میں کیں۔[1]
حضرت فاطمہ (س) کی تحریری وصیتیں زیادہ تر مالی امور سے متعلق تھیں۔ روایات کے مطابق یہ تحریری وصیتیں یا تو خود حضرت فاطمہ (س) نے لکھی تھیں یا آپ (س) کی درخواست پر حضرت علیؑ نے تحریر کی ہیں۔[2]
تکفین و تدفین سے متعلق وصیت
حضرت فاطمہ (س) نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنی تکفین، تدفین اور تشییع کے بارے میں امام علیؑ کو ایک تحریری اور ایک زبانی وصیت فرمائی۔[3] ان وصیتوں میں آپ (س) نے حضرت علیؑ کو خدا کے سب سے دانا اور پرہیزگار بندوں میں شمار کیا اور آپؑ سے کچھ اہم امور کے بارے میں سفارش کی۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ (س) کی وفات کے بعد حضرت علیؑ، امامہ بنتِ ابو العاص سے نکاح کرلیں، کیونکہ وہ فاطمہ (س) کے بچوں کے ساتھ محبت اور حسنِ سلوک سے پیش آتی ہے۔[4]
رات کے وقت تدفین اور جنازہ میں بعض افراد کی شرکت کی ممانعت
حدیثی مآخذ کے مطابق، حضرت فاطمہ (س) نے امام علیؑ کو وصیت کی کہ جن افراد نے اُن پر ظلم کیا ہے، انہیں آپ (س) کے جنازے میں شریک نہ ہونے دیا جائے۔[5] آپ(س) نے حضرت علیؑ کو قسم دے کر تاکید کی کہ ابوبکر، عمر[6] اور ان کے پیروکار آپ (س) پر نمازِ جنازہ نہ پڑھیں۔[7] آپ (س) کی وصیت کے مطابق صرف چند منتخب افراد؛ جیسے ام سلمہ، ام ایمن، فضہ، حسنینؑ، عبد اللہ بن عباس، سلمان فارسی، عمار یاسر، مقداد، ابوذر اور حذیفہ کو جنازے کی اطلاع دی جائے اور وہی تشییع میں شریک ہوں۔[8] حضرت فاطمہ (س) کی دوسری اہم وصیت یہ تھی کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے[9] اور ان کا مقام قبر مخفی رکھا جائے۔[10]
نیز حضرت فاطمہ (س) نے وصیت کی کہ حضرت علیؑ ہی انہیں غسل، کفن، نمازِ جنازہ اور تدفین کے تمام امور سرانجام دیں اور ان کے پاس قرآن کی تلاوت اور دعا کرتے رہیں تاکہ ان کی روح کو سکون ملے۔ آخر میں آپ(س) نے حضرت علیؑ کو خدا کے سپرد کرتے ہوئے سفارش کی کہ آپؑ ان کے بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں۔[11]
حضرت فاطمہ (س) نے رات کی تاریکی میں تدفین کی وصیت کیوں کی؟
حضرت فاطمہ (س) کی ایک وصیت یہ تھی کہ انہیں رات کی تاریکی میں دفن کیا جائے اور ان کی قبر کومخفی رکھا جائے۔ یہ شیعہ نقطہ نظر کے مطابق، اُن افراد کے خلاف احتجاج سمجھا جاتا ہے جنہوں نے خلافت کو غصب کیا اور آنحضرت (س) پر ظلم روا رکھا۔ کہتے ہیں کہ جب حضرت فاطمہ (س) مسلمانوں کی طرف سے اپنے اور حضرت علیؑ کے حق کی حمایت سے ناامید ہوگئیں تو آپ (س) نے وصیت کی کہ ان کی قبر پوشیدہ رکھی جائے اور خلیفۃ المسلمین ان کے جنازے میں شریک نہ ہو، تاکہ یہ تاریخی سوال ہمیشہ باقی رہے کہ آخر فاطمہؑ نے ایسا کیوں کیا۔[12] اہل بیتؑ کی روایات میں بھی تصریح کے ساتھ یہ بات ملتی ہے کہ حضرت فاطمہ (س) شیخین (ابوبکر و عمر) کے طرزِ عمل سے ناراض تھیں۔ چنانچہ حضرت علیؑ نے بھی فرمایا کہ فاطمہؑ کی شبانہ تدفین کی وجہ اُن کی بعض لوگوں پر ناراضگی تھی۔[13] اہل سنت کے عالم دین ابن ابی الحدید نے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت فاطمہ (س) نے بعض صحابہ کے طرزِ عمل پر احتجاج کے طور پر وصیت کی کہ انہیں رات ہی میں دفن کیا جائے اور وہ افراد ان کی تشییع اور نماز جنازہ میں حاضر نہ ہوں۔[14] مسیحی محقق میشل کعدی نے بھی اس وصیت کو حضرت فاطمہ (س) کے شدید ترین احتجاج کی علامت قرار دیا ہے۔[15] یہی وجہ ہے کہ یہ وصیت آج تک حضرت فاطمہ (س) کی مظلومیت کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے[16] اور ایام فاطمیہ کی مجالس، خطابات، مرثیوں اور مصائب میں بارہا اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت فاطمہ (س) کی اسماء بنت عمیس کو وصیت
روایات کے مطابق، حضرت فاطمہ (س) نے اسماء بنتِ عمیس سے تشییع جنازہ کے دوران اپنے جسم کے نمایاں ہونے کے خدشے کے سلسلے میں پریشانی کا اظہار کیا، کیونکہ اس زمانے میں میت کو صرف ایک تختے پر رکھ کر لے جایا جاتا تھا۔ اسماء نے ایک ایسا تابوت تیار کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اور جو پورے جسم کو ڈھانپ لیتا تھا۔[17] جب حضرت فاطمہ (س) نے اسے دیکھا تو اسماء کے حق میں دعا کی۔[18] بعض محققین کے مطابق یہ اسلام میں پہلا تابوت تھا۔[19]
مزید روایات کے مطابق، حضرت فاطمہ (س) نے وصیت کی کہ انہیں صرف اسماء اور حضرت علیؑ غسل دیں اور ان کی وفات کے بعد کسی اور کو گھر میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ جب فاطمہ(س) کا انتقال ہوا اور عائشہ نے بیت فاطمہ (س) کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو اسماء نے انہیں روکا۔ عائشہ نے ابوبکر کے پاس اس بات کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اسماء نے انہیں خانہ فاطمہ (س) میں داخل نہیں ہونے دیا اور فاطمہ (س) کے لیے ایک ہودج (تابوت) بھی بنا رکھا ہے۔ ابوبکر گھر کے دروازے پر آیا اور اسماء کی عائشہ کو روکنے اور تابوت بنانے پر ملامت کی۔ اسماء نے جواب دیا کہ یہ سب کچھ حضرت فاطمہ (س) کی وصیت کے مطابق انجام دیا گیا ہے اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا۔ یہ سن کر ابوبکر خاموش ہوگیا اور کہا کہ جیسے فاطمہؑ نے وصیت کی ہے ویسا ہی کیا جائے۔[20] ایک اور روایت میں آیا ہے کہ رسولِ خداؐ کی کنیز سَلمیٰ بھی غسلِ فاطمہؑ میں موجود تھیں اور انہوں نے اسماء کے ساتھ مل کر حضرت علیؑ کی مدد کی۔[21]
اموال کی تقسیم اور اثاثوں کا وقف
حضرت فاطمہ (س) کی مکتوب وصیت کے مطابق، آپ (س) نے اپنے اموال کے کچھ حصے رسول خداؐ کی ازواج اور بنی ہاشم کے ضرورت مند افراد کے لیے مقرر کیے اور اس وصیت کے نفاذ کا ذمہ بالترتیب حضرت علیؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور پھر ان کی اولاد میں سب سے بڑے بیٹے کو سونپا۔[22] اس وصیت کے مطابق آپ (س) کے باغات میں سے اسی (80) اوقیہ [یادداشت 1] صدقہ کے طور پر وقف کیے گئے تاکہ ہر سال ماہ رجب میں باغبانی کے اخراجات نکال کر باقی منافع متعین افراد میں تقسیم کیا جائے؛ ان میں سے 45 اوقیہ رسول اللہؐ کی ازواج کے لیے اور باقی ضرورت مندوں کے لیے تھے۔[23]
اسی وصیت میں ابوذر غفاری کی بیٹی کے لیے بھی حصہ مقرر کیا گیا اور کچھ اثاثے اسے دے دیے گئے۔ اس کے علاوہ حضرت فاطمہ (س) نے ہدایت فرمائی کہ ان کے لباس ان کی دو بیٹیوں میں سے کسی ایک کو دیے جائیں۔[24] مزروعات کے بارے میں اگر کوئی اختلاف پیش آئے تو اس کی نگرانی اور فیصلہ کرنے کا حق حضرت علیؑ کو سونپا گیا۔ وصیت کے آخر میں اللہ، مقداد بن عمرو، زبیر بن عوام اور حضرت علیؑ کو بطور گواہ ذکر کیا گیا اور تصریح کی گئی کہ یہ وصیت حالتِ صحت میں تحریر کی گئی ہے۔[25]
حیطانِ سَبْعَہ
حیطان سبعہ وہ سات باغات تھے جو ایک یہودی مُخیریق کے پاس تھے۔ اس نے انہیں رسول خداؐ کے نام وقف کیا تھا[26] اور نبی اکرمؐ نے انہیں حضرت فاطمہ (س) کو عطا کیا۔[27] امام محمد باقرؑ کی ایک روایت کے مطابق ان باغات کی آمدنی کارِ خیر اور اسلام کی مدد کے لیے خرچ کی جاتی تھی۔ ان کا انتظام بالترتیب حضرت علیؑ، پھر امام حسنؑ، امام حسینؑ اور اس کے بعد حضرت فاطمہ (س) کی اولاد میں سے سب سے بڑے فرزند کے سپرد کیا جاتا تھا۔[28]
امُّ العِیَال
امّ العیال مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ایک گاؤں تھا[29] جس میں ایک چشمہ جاری تھا جو بیس ہزار سے زیادہ کھجور کے درختوں کو سیراب کرتا تھا۔ اس گاؤں کی سالانہ آمدنی تقریباً اسی ہزار دینار بتائی جاتی ہے۔[30] ام العیال نامی یہ گاؤں حضرت فاطمہ (س) کی ملکیت تھا اور آپ (س) نے وصیت کی کہ اس کی آمدنی کو صدقہ کے طور پر خرچ کیا جائے۔[31]
حوالہ جات
- ↑ زمانی، «وصایای حضرت فاطمہ(س)» ص70؛ عاشوری لنگرودی، «مروری بر وصیت نامہ حضرت فاطمہ زہرا (علیہا السلام)» ص68۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج100، ص184؛ نوری، مستدرک الوسائل،1408ھ، ج14، ص54؛ معزی ملایری، جامع الاحادیث الشیعۃ، 1411ھ، ج19، ص106۔
- ↑ مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج43، ص178۔
- ↑ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، 1375شمسی، ج1، ص151۔
- ↑ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، 1375شمسی، ج1، ص151۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج29، ص112، ج31، ص619؛ عاملی، الصحیح من سیرۃ الامام علی، 1430ھ، ج10، ص296۔
- ↑ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، 1375شمسی، ج1، ص151۔
- ↑ طبری، دلائل الامامۃ، 1413ھ، ص133؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج43، ص208۔
- ↑ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، 1375شمسی، ج1، ص151؛ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج31، ص619۔
- ↑ طبری، دلائل الامامۃ، 1413ھ، ص133؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج43، ص208۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج79، ص27؛ نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج2، ص316۔
- ↑ قائمی، در مکتب فاطمہ علیہا السلام، 1377شمسی، ص313-314؛ زمانی، «وصایای حضرت فاطمہ(س)» ص72۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج43، ص209۔
- ↑ ابنابیالحدید، شرح نہجالبلاغہ، 1385ھ، ج16، ص214۔
- ↑ «کاتب المسیحی: الزہراء عارضت الظلم وانتفضت لحمایۃ سیاسۃ الحق الإلہی»، وبگاہ شبکہ الکوثر۔
- ↑ «استاد عندلیب ہمدانی در گفت وگو با شفقنا: دفن مخفیانہ و شبانہ حضرت زہرا(س) بزرگترین سند «مظلومیت و اعتراض» است»، خبرگزاری شفقنا۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج43، ص189۔
- ↑ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، 1364ھ، ج1، ص469؛ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، 1414ھ، ج3، ص220۔
- ↑ نعمان مغربی، دعائم الاسلام، دار المعارف، ج1، ص233؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، 1364ھ، ج1، ص469۔
- ↑ بیہقی، السنن الکبری، دار الفکر، ج4، ص35؛ دولابی، الذریۃ الطاہرۃ النبویۃ، 1407ھ، ص154؛ ابنعبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج4، ص1898؛ متقی ہندی، کنز العمال، 1409ھ، ج13، ص687۔
- ↑ ابنعبدالبر، الاستیعاب،1412ھ، ج4، ص1862.ابناثیر، اسد الغابۃ، دار الکتاب العربی، ج5، ص478؛ المزی، تہذیب الکمال، 1413ھ، ج35، ص197؛ صفدی، الوافی بالوفیات، 1420ھ، ج15، ص190۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج100، ص184۔
- ↑ نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج14، ص54؛ معزی ملایری، جامع الاحادیث الشیعۃ، 1411ھ، ج19، ص106۔
- ↑ نوری، مستدرک الوسائل، 1408ھ، ج14، ص54۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج100، ص184؛ نوری، مستدرک الوسائل،1408ھ، ج14، ص54؛ معزی ملایری، جامع الاحادیث الشیعۃ، 1411ھ، ج19، ص106۔
- ↑ ابناسحاق، ترکۃ النبی، 1404ھ، ص78؛ حموی، معجم البلدان، 1399ھ، ج5، ص241؛ عظیم آبادی، عون المعبود، 1415ھ، ج8، ص137۔
- ↑ حمیری قمی، قرب الاسناد، 1413ھ، ص363؛ کلینی، اصول کافی، 1367شمسی، ج7، ص47۔
- ↑ کلینی، اصول کافی، 1367شمسی، ج7، ص48؛ نعمان مغربی، دعائم الاسلام، دار المعارف، ج2، ص344۔
- ↑ حموی، معجم البلدان، 1399ھ، ج1، ص254۔
- ↑ ابنحزم، جمہرۃ انساب العرب، 1403ھ، ص140۔
- ↑ حموی، معجم البلدان، 1399ھ، ج1، ص254؛ ابنجوزی، المنتظم، 1412ھ، ج1، ص145۔
نوٹ
- ↑ ایک اوقیہ 7 مثقال کے برابر ہے
مآخذ
- ابنابیالحدید، عبدالحمید بن ہبہاللہ، شرح نہجالبلاغہ، بیروت، دار احیا التراث العربی، 1385ھ۔
- ابناثیر، علی بن محمد، اسد الغابۃ، بیروت، دار الکتاب العربی، بیتا۔
- ابناحمد الدولابی، محمد، الذریۃ الطاہرۃ النبویۃ، تحقیق سعد المبارک الحسن، الکویت: الدار السلفیۃ، 1407ھ۔
- ابناسحاق، حماد، ترکۃ النبی، تحقیق اکرم ضیاء العمری، بیجا، بینا، 1404ھ۔
- ابنجوزی، عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الامم و الملوک، تحقیق محمد عبدالقادر و مصطفی عبدالقادر، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1412ھ۔
- ابنحزم، علی بن احمد، جمہرۃ انساب العرب، تحقیق لجنۃ من العلماء، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1403ھ۔
- ابنعبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق علی محمد، بیروت، دار الجیل، 1412ھ۔
- المزی، یوسف، تہذیب الکمال فی اسماء الرّجال، تحقیق بشار عواد، بیروت، الرّسالۃ، چاپ چہارم، 1413ھ۔
- بیہقی، احمد بن حسین، السنن الکبری، بیجا، دار الفکر، بیتا۔
- حر عاملی، محمد، وسائل الشیعۃ الی تحصیل مسائل الشریعۃ، تحقیق مؤسسۃ آل البیت، قم، مؤسسۃ آل البیت، 1414ھ۔
- حموی، یاقوت، معجم البلدان، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1399ھ۔
- حمیری، عبداللہ بن جعفر، قرب الاسناد، تحقیق موسسۃ آل البیت، قم، موسسۃ آل البیت، 1413ھ۔
- زمانی، رجبعلی، «وصایای حضرت فاطمہ(س)»، در مجلہ فرہنگ کوثر، شمارہ 69، 1386ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد، تہذیب الأحکام فی شرح المقنعۃ للشیخ المفید، تحقیق حسن موسوی، طہران، دارالکتب الاسلامیۃ، چاپ چہارم، 1364ہجری شمسی۔
- صدیقی عظیمآبادی، محمداشرف، عون المعبود: شرح سنن أبی داوود وہو غایۃ المقصود فی حل سنن أبی داوود، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، چاپ سوم، 1415ھ۔
- صفدی، صلاحالدین، الوافی بالوفیات، تحقیق احمد ارناووط و ترکی مصطفی، بیروت، دار احیاء التراث، 1420ھ۔
- طبری، محمد، دلائل الإمامۃ، تحقیق قسم الدراسات الاسلامیۃ، قم، مؤسسۃ البعثۃ، 1413ھ۔
- عاشوری لنگرودی، حسن، «مروری بر وصیتنامہ حضرت فاطمہ زہرا(س)»، فصلنامہ رہتوشہ، شمارہ 11، 1401ہجری شمسی۔
- فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین، قم، انتشارات رضی، چاپ اول، 1375ہجری شمسی۔
- قائمی، علی، در مکتب فاطمہ علیہا السلام: مجموعہای از مقالات و سخنرانیہا، تہران، نشر امیری، 1377ہجری شمسی۔
- «کاتب المسیحی: الزہراء عارضت الظلم وانتفضت لحمایۃ سیاسۃ الحق الإلہی»، وبگاہ شبکہ الکوثر، تاریخ بازدید: 9 آذر 1404ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، اصول الکافی، تعلیق علیاکبر غفاری، بیجا، دارالکتب الاسلامیۃ، 1367ہجری شمسی۔
- متقی ہندی، علاءالدین، کنزل العمال، تصحیح بکری حیانی صخوۃ السفا، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1409ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، 1403ھ۔
- مرتضی عاملی، سیدجعفر، الصحیح من سیرۃ الإمام علی، قم، ولاء المرتضی، 1430ھ۔
- معزی ملایری، اسماعیل، جامع احادیث الشیعۃ فی احکام الشریعۃ، تحت اشراف آیتاللہ العظمی بروجردی، قم، مؤلف، 1412ھ۔
- نعمان مغربی، دعائم الاسلام، تحقیق آصف بن علی، قاہرہ، دار المعارف، 1383ھ۔
- نوری، حسین، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، تحقیق مؤسسۃ آل البیت، بیروت، مؤسسۃ آل البیت، چاپ دوم، 1408ھ۔
- «استاد عندلیب ہمدانی در گفت وگو با شفقنا: دفن مخفیانہ و شبانہ حضرت زہرا(س) بزرگترین سند «مظلومیت و اعتراض» است»، خبرگزاری شفقنا، تاریخ درج مطلب: 3 آذر 1404شمسی، تاریخ بازدید: 10 آذر 1404ہجری شمسی۔