ابوبکر اور عمر کی عیادت حضرت فاطمہ (س)
ابوبکر اور عمر کی عیادتِ حضرت فاطمہ (س) اُس ملاقات کی طرف اشارہ ہے جو تاریخی روایات کے مطابق واقعہ سقیفہ اور مسئلہ فدک کے بعد، امام علیؑ کی وساطت سے شیخین اور حضرت فاطمہ الزہراء کے مابین انجام پائی۔ اس واقعے کا ذکر شیعہ کتب حدیث اور بعض اہل سنت کے مصادر حدیثی میں بھی ملتا ہے اور شیعہ و سنی کلامی مناظرات میں، خصوصاً حضرت فاطمہؑ کی شیخین سے ناراضگی کے موضوع پر اسے بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔
روایات کے مطابق، یہ ملاقات حضرت فاطمہؑ کی ناراضی کے اظہار پر ختم ہوئی اور آپ (س) اپنی عمر کے آخری لمحے تک ان سے ناراض رہیں۔ حضرت فاطمہ (س) نے وصیت کی کہ ان کی تدفین کے موقع پر وہ دونوں موجود نہ ہوں۔ اس کے مقابلے میں کچھ ایسی روایات بھی نقل ہوئی ہیں جن میں حضرت فاطمہؑ کی جانب سے دونوں خلفا سے رضامندی کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ روایات سند کی کمزوری، دیگر معتبر روایات سے تعارض اور حضرت فاطمہؑ کی تشییع جنازہ میں ان کی عدم موجودگی کی بنا پر محلِ اختلاف سمجھی جاتی ہیں۔
اہمیت اور پس منظر
واقعہ سقیفہ اور مسئلہ فدک کے بعد ابو بکر اور عمر کی عیادت حضرت فاطمہ زہراء (س) اور ان پر آپ(س) کی ناراضگی، شیعہ و سنی کلامی اختلافات میں ایک اہم موضوع ہے جسے دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلامی نقطہ نظر سے حضرت فاطمہؑ کی رضا اور غضب، خدا کی رضا اور غضب کے ہم مرتبہ سمجھے جاتے ہیں اور قرآن[1] میں اللہ کو اذیت دینے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔[2] علامہ امینی نے انہی روایات کی بنیاد پر روایت عشرہ مبشرہ اور ان دونوں کے اہلِ جنت ہونے کی روایت پر اعتراض کیا ہے۔[3]
شیعہ اور سنی مصادر میں عیادت کا واقعہ
شیعہ مصادر اور بعض اہلِ سنت کی کتابوں کے مطابق، حضرت فاطمہؑ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بیمار تھیں۔ اسی دوران ابو بکر اور عُمر ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ابتدا میں حضرت فاطمہؑ نے انہیں اندر آنے کی اجازت نہ دی، لیکن امام علیؑ کی وساطت کے بعد وہ دونوں گھر کے اندر داخل ہوئے۔ حضرت فاطمہؑ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا اور فرمایا کہ جب تک وہ اپنی شکایت رسولِ خداؐ کے سامنے پیش نہ کردیں، وہ ان سے بات نہیں کریں گی۔ پھر حضرت فاطمہؑ نے ان دونوں سے قسم لی کہ کیا انہوں نے رسولِ خداؐ کا یہ فرمان سنا ہے کہ فاطمہؑ کو اذیت دینا رسول خداؐ کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔ جب انہوں نے اس بات کا اقرار کیا تو حضرت فاطمہؑ نے اعلان کیا کہ وہ کبھی بھی ان سے راضی نہیں ہوں گی۔ اس پر ابو بکر نے ندامت کا اظہار کیا، مگر عمر نے انہیں یاد دلایا کہ لوگوں نے اپنے امور کس طرح ان کے سپرد کیے ہیں، جبکہ وہ ایک عورت کی ناراضی یا خوشنودی سے متاثر ہو رہے ہیں۔[4]
اس ملاقات کا ذکر شیعہ مصادر جیسے علل الشرائع[5] اور کتاب سلیم بن قیس[6] نیز اہل سنت کی بعض کتابوں جیسے الامامۃ و السیاسۃ اور عمر رضا کحالہ کی "اعلام النساء" نامی کتاب میں ملتا ہے۔ کلامی مناظرات میں اس واقعے کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔
اسی طرح بعض اہلِ سنت کی معتبر کتابوں مثلاً صحیح البخاری،[7] السنن الکبری بیہقی[8] اوع تاریخ الاسلام ذہبی[9] میں بھی حضرت فاطمہؑ کے ابو بکر پر ناراضگی کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ نے ابو بکر کے خلاف بددعا کی۔[10] "کتاب سقیفہ و فدک" کے مولف کے مطابق، جب ابو بکر نے فدک واپس کرنے سے انکار کیا تو حضرت فاطمہؑ نے قسم کھائی کہ وہ ان کے خلاف بددعا کریں گی اور اپنی وفات کے قریب وصیت فرمائی کہ ابو بکر ان کی تشییع جنازہ میں شریک نہ ہوں۔[11]
کیا حضرت فاطمہؑ ابو بکر اور عمر سے راضی ہوگئیں؟
اہلِ سنت کے بعض مصنفین ایک روایت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہؑ کی زندگی کے آخری دنوں میں ابوبکر اور عمر نے ان کی رضامندی حاصل کر لی تھی۔[12] اس دعوے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ روایت شَعبی کے ذریعے نقل ہوئی ہے، جو تابعی تھے، لہٰذا یہ روایت مرسل اور بغیر سند کے شمار ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ روایت ان شیعہ و سنی روایات کے خلاف ہے جن میں حضرت فاطمہؑ کی ابوبکر اور عمر پر ناراضی کو آخری عمر تک برقرار بتایا گیا ہے اور یہ بات اس تاریخی نقل سے بھی مطابقت نہیں رکھتی کہ انہیں حضرت فاطمہؑ کے جنازے میں شرکت سے روکا گیا تھا اور وہ وہاں موجود نہیں تھے۔[13]
حوالہ جات
- ↑ سورہ احزاب، آیہ 57۔
- ↑ خواجویی، الرسائل الاعتقادیہ، 1426ھ، ج1، ص534۔
- ↑ امینی، الغدیر، 1416ھ، ج10، ص177۔
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرایع، کتابفروشی داوری، ص186ـ187؛ ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، 1378شمسی، ص391ـ392۔
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرایع، کتابفروشی داوری، ص186ـ187۔
- ↑ ہلالی، کتاب سلیم بن قیس، 1378شمسی، ص391ـ392۔
- ↑ بخاری، صحیح البخاری، 1414ھ، ج3، ص1126، ج4، ص1549 و ج6، ص2474۔
- ↑ بیہقی، السنن الکبری، 1419ھ، ج9، ص434۔
- ↑ ذہبی، تاریخ الاسلام، 1409ھ، ج3، ص21۔
- ↑ ابنقتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، 1410ھ، ج1، ص31؛ بلاذری، انساب الاشراف، 1417ھ، ج10، ص79۔
- ↑ جوہری، السقیفہ و فدک، مکتبۃ نینوی، ج1، ص102؛ ابن ابیالحدید، شرح نہج البلاغہ، 1404ھ، ج16، ص214۔
- ↑ بیہقی، دلائل النبوہ، 1405ھ، ج7، بخش1، ص281؛ بیہقی، الاعتقاد، 1401ھ، ج1، ص353۔
- ↑ آيا فاطمہ(س) از شيخين راضی شد؟، مؤسسہ تحقیقاتی حضرت ولیعصر ع۔
مآخذ
- قرآن کریم۔
- آيا فاطمہ(س) از شيخين راضی شد؟، مؤسسہ تحقیقاتی حضرت ولیعصر ع، تاریخ انتشار: 10 نومبر 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 1 جنوری 2026ء۔
- ابن ابیالحدید، عبدالحمید بن ہبۃ االلہ، شرح نہج البلاغہ، قاہرہ، دار احیاء الکتب العربیہ، 1404ھ۔
- ابنقتیبہ، عبداللہ بن مسلم، الإمامۃ و السیاسۃ المعروف بتاریخ الخلفاء، بیروت، دار الاضواء، 1410ھ۔
- امینی، عبدالحسین، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، قم، مرکز الغدير للدراسات الإسلاميہ، 1416ھ۔
- بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق: د. مصطفی دیب البغا، دمشق، دار ابنکثیر ـ دار الیمامہ، چاپ پنجم، 1414ھ۔
- بلاذری، احمد بن یحیی، جمل من انساب الاشراف، بیروت، دار الفکر، 1417ھ۔
- بیہقی، احمد بن حسین، الاعتقاد و الہدايۃ إلى سبيل الرشاد على مذہب السلف و أصحاب الحديث، تحقیق: احمد عصام الکاتب، بیروت، دار الآفاق الجدیدہ، 1401ھ۔
- بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوۃ و معرفۃ احوال صاحب الشریعہ، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1405ھ۔
- بیہقی، احمد بن حسین، السنن الکبری، بیروت، دار الفکر، 1419ھ۔
- جوہری، احمد بن عبدالعزیز، السقیفہ و فدک، قم، مکتبۃ نینوی الحدیثہ، بیتا۔
- خواجویی، اسماعیل بن محمدحسین، الرسائل الاعتقادیہ، قم، مؤسسہ عاشورا، 1426ھ۔
- ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الإسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، بیروت، دار الکتاب العربی، 1409ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، کتابفروشی داوری، بیتا۔
- کحالہ، عمر رضا، اعلام النساء، مؤسسۃ الرسالہ، بیتا۔
- ہلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس، تحقیق: محمدباقر انصاری زنجانی، قم، نشر الہادی، چاپ اول، 1378ہجری شمسی۔