مسودہ:مثلہ کرنا
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
| یہ مقالہ ایک فقہی موضوع کے بارے میں توصیفی تحریر ہے اور دینی اعمال کے لئے معیار نہیں بن سکتا۔ دینی اعمال کے لئے دیگر مصادر کی طرف رجوع کریں۔ |
مُثْلَہ کرنا، ایک فقہی اصطلاح ہے جس کے معنی انسان یا حیوان کے اعضاء کاٹنے یا الگ کرنے کے ہیں۔ مثلہ کرنا شرعی اعتبار سے گناہان کبیرہ میں سے ہے۔ فقہ کے مختلف ابواب میں اس سے بحث کی جاتی ہے۔ جنگ میں دشمنوں کا مثلہ کرنا بھی اسلام میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ فقہاء اس حکم کی علت انسان کے جسم کی عزت و احترام کو قرار دیتے ہیں جس کا خیال رکھنا حتی کہ موت کے بعد بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ البتہ بعض صورتوں میں جیسے پوسٹ مارٹم اور اعضاء کی پیوندکاری کے لئے عضو کا کاٹنا جائز سمجھا گیا ہے۔
پیغمبر اکرمؐ کی جانب سے مثلہ کرنے سے ممانعت کے باوجود، یہ عمل بعد کے ادوار میں بعض جنگوں میں رونما ہوا۔ تاریخی مصادر نے معاویہ کے دور اور پھر یزید بن معاویہ کے زمانے میں واقعہ کربلا کے دوران مثلہ کرنے کے واقعات بیان کئے ہیں۔ بعد میں تکفیری گروہوں جیسے داعش نے بھی اس عمل کو جاری رکھا۔
اسلام میں مثلہ کرنے کی ممانعت
مثلہ کرنا ایک فقہی اصطلاح ہے جس کے معنی انسان یا حیوان کی زندگی یا مرنے کے بعد اس کے کسی عضو یا اعضاء کو کاٹ دینا ہے۔[1] فقہاء اس کام کو حرام اور گناہان کبیرہ میں شمار کرتے ہیں[2] اور اس حکم کو جنگ میں بھی اور ان دشمنوں کے بارے میں بھی جنہوں نے کسی مسلمان کا مثلہ کیا ہو، لازم الاجرا سمجھتے ہیں۔[3] تاریخی اعتبار سے اس سلسلے کا سب سے زیادہ مشہور واقعہ جنگ اُحد میں مشرکین کے ہاتھوں پیغمبر اکرمؐ کے چچا حمزہ بن عبد المطلب کا مثلہ ہونا ہے۔[4]
بعض مفسرین نے قتل میں اسراف سے منع کرنے والی آیت[5] اور جنگ میں زیادتی سے روکنے والی آیت[6] کو مثلہ کرنے کی ممانعت پر بھی مشتمل قرار دیا ہے۔ اسلامی روایات میں بھی انسان اور حیوان کا مثلہ کرنا منع کیا گیا ہے۔[7] احادیث کے علاوہ انسان کے جسم کا حتی کہ موت کے بعد بھی احترام، اس عمل کے حرام ہونے کی وجوہات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔[8]
مثلہ کی بحث فقہ کے مختلف ابواب جیسے جہاد،[9] قصاص[10] اور اعضاء کی پیوندکاری کے سلسلے میں فقہ طب[11] میں آتی ہے۔ اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران کے مدنی قوانین[12] اور اسلامی انسانی حقوق کے قوانین میں مثلہ کرنا جرم شمار ہوتا ہے۔[13]
مثلہ کی ممانعت کی خلاف ورزی کی مثالیں
پیغمبر اکرمؐ کی جانب سے مثلہ سے منع کرنے کے باوجود تاریخ اسلام میں اس کی خلاف ورزی کی مثالیں نقل ہوئی ہیں،[14] جن میں سے:
- مالک بن نویرہ کے قتل کے واقعہ میں: خالد بن ولید نے مالک اور اس کے ساتھیوں کو ارتداد کے الزام میں قتل کرنے کے بعد ان کے سر کاٹ دئے۔ اس اقدام پر مسلمانوں کی طرف سے اعتراض ہوا۔ اس واقعہ کو تاریخ اسلام میں مثلہ کے حکم کی پہلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔[15]
- معاویہ بن ابی سفیان کے دور میں: مثلہ کرنے کے واقعات نقل ہوئے ہیں، البتہ اس پر کسی کی طرف سے اعتراض کی خبر نہیں ہے۔[16] مثلاً معاویہ کے کارندوں نے امام علیؑ کے ساتھی عمرو بن حمق خزاعی کا سر تن سے جدا کر کے شام بھیج دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مسلمان کا سر کاٹ کر کسی دوسرے شہر منتقل کیا گیا۔[17]
- یزید بن معاویہ کے دور میں: واقعہ کربلا میں شہدائے کربلا میں سے متعدد شہداء کے سر، جن میں امام حسینؑ بھی شامل تھے، جدا کر کے شام بھیجے گئے۔[18]
- 14 اور 15ویں صدی ہجری میں: تکفیری گروہوں کی طرف سے: داعش کے ہاتھوں مقتولین کے جسموں کا مثلہ کرنے کی رپورٹیں درج ہیں۔[19]
- ایران میں جنوری 2026ء کے واقعات میں: بعض رپورٹوں میں حکومتی افواج کے خلاف فسادی افراد یا گروہوں کی طرف سے مثلہ کرنے کے واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[20]
مثلہ کرنے کے جواز کی صورتیں
بعض فقہی آثار میں درج ذیل صورتوں میں مثلہ کو جائز شمار کیا گیا ہے:
- محارب کے اعضاء کاٹنا؛ سورہ مائدہ کی آیت 33 کی بنا پر محارب کی سزا میں ایک ہاتھ اور ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹا جاتا ہے۔[21]
- عضو کا قصاص؛ جب کوئی شخص کسی دوسرے کا کوئی عضو عمداً کاٹ دے تو سورہ مائدہ آیت نمبر 45 کی بنا پر اسی عضو کا قصاص لینا ممکن ہے۔ لیکن قتل عمد میں قصاص صرف قتل تک محدود ہے اور مثلہ نہیں کیا جاتا۔[22]
- پوسٹ مارٹم برائے طبی تعلیم: اگر طبی تعلیم اور مریضوں کی جان کا بچانا پوسٹ مارٹم پر موقوف ہو تو بعض فقہاء نے اسے ضرورت اور واجب کفائی کے طور پر جائز قرار دیا ہے۔[23]
- جرم کی تشخیص کے لئے پوسٹ مارٹم: موت کی علت یا اہم جرائم کی تشخیص اور لوگوں کے حقوق کی تضییع سے بچنے کے لئے شرعی ضوابط کی رعایت کے ساتھ پوسٹ مارٹم کی اجازت دی گئی ہے۔[24]
- مسلمان کی جان بچانے کے لئے: کسی مردہ مسلمان کا عضو کاٹ کر اسے دوسرے زندہ مسلمان کے جسم میں پیوند کرنا، قاعدہ اضطرار اور مسلمان کی جان بچانے کی اہمیت کی بنا پر جائز ہے۔[25]
بہرحال بعض فقہاء کے مطابق یہ صورتیں اس وقت جائز ہیں جب اس سے انسان کی توہین یا ہتک حرمت کا ارادہ نہ ہو؛ کیونکہ مثلہ کرنا ذاتاً ایک توہین آمیز اور ممنوع عمل سمجھا جاتا ہے۔[26]
حوالہ جات
- ↑ ابن ادریس حلی، کتاب السرائر، 1410ھ، ج2، ص21؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص77-78۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1378ھ، ج2، ص19؛ ابن ادریس حلی، کتاب السرائر، 1410ھ، ج2، ص21؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص77-78۔
- ↑ شہید ثانی، مسالک الافہام، بی تا، ج3، ص26۔
- ↑ واقدی، المغازی، 1409ھ، ج1، ص286۔
- ↑ مکارم، تفسیر نمونہ، 1373شمسی، ج12، ص109۔
- ↑ ابوالفتوح رازى، روض الجنان، 1408ھ، ج3، ص70۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کریں: حرعاملی، وسائل الشیعہ، 1416ھ، ج29، ص126-128۔
- ↑ محمدی، «فریقین کی نظر میں تکفیریوں کی جانب سے اسیروں کا مثلہ کرنا؛ بدعت یا سنت»، ص9-11۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1378ھ، ج2، ص19؛ ابن ادریس حلی، کتاب السرائر، 1410ھ، ج2، ص21۔
- ↑ مرعشی نجفی، القصاص علی ضوء القرآن و السنۃ، 1415ھ، ج، ص352۔
- ↑ قائنی، المبسوط فی الفقہ المسائل المعاصرۃ، 1424ھ، ج1، ص158۔
- ↑ جعفری لنگرودی، مبسوط در ترمینولوژی حقوق، 1388شمسی، ج4، ص299۔
- ↑ «اسلامی حقوق انسانی کا مکمل متن»، شبکہ اجتہاد۔
- ↑ شمس الدين، أنصار الحسين، بی تا، ج1، ص225۔
- ↑ شمس الدين، أنصار الحسين، بی تا، ج1، ص225-26۔
- ↑ شمس الدين، أنصار الحسين، بی تا، ج1، ص227۔
- ↑ اصفہانی، الاغانی، 1389ھ، ج17، ص144؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، ج3، ص258۔
- ↑ شمس الدين، أنصار الحسين، بی تا، ج1، ص227۔
- ↑ «جنایات داعش»، خبرگزاری تابناک۔
- ↑ «جنوری 2026ء ایران کے واقعات کیوں بغاوت کے شبیہ تھے؟»]، مشرق نیوز،
- ↑ قائنی، المبسوط فی الفقہ المسائل المعاصرۃ، 1424ھ، ج1، ص159۔
- ↑ قائنی، المبسوط فی الفقہ المسائل المعاصرۃ، 1424ھ، ج1، ص159-160۔
- ↑ روحانی، المسائل المستحدثہ، 1414ھ، ج1، ص116۔
- ↑ روحانی، المسائل المستحدثہ، 1414ھ، ج1، ص116۔
- ↑ خرازی، «انواع تشریح و احکام آن»، 1368شمسی، ج1، ص344؛ محمدی گیلانی، «پوسٹ مارٹم»، 1374شمسی، ج1، ص274۔
- ↑ قائنی، المبسوط فی الفقہ المسائل المعاصرۃ، 1424ھ، ج1، ص164۔
مآخذ
- ابوالفتوح رازى، حسين بن على، روض الجنان و روح الجنان فى تفسير القرآن، تحقيق: محمدجعفر ياحقى و محمدمہدى ناصح، مشہد، اسلامى تحقیقاتی مرکز آستان قدس رضوى، 1408ھ۔
- ابن ادريس حلی، السرائر الحاوی لتحرير الفتاوی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامي التابعۃ لجماعۃ المدرسين، 1410ھ۔
- ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، درالکتب العلمیہ، بیروت 1995ء۔
- اصفہانی، أبوالفرج، الاغانی، تحقيق : محمد علي البجاوي بإشراف محمد أبو الفضل إبراہيم، قاہرہ، طبعۃ الہيئۃ المصريۃ العامۃ للتأليف والنشر، 1389ھ۔
- جعفری لنگرودی، محمدجعفر، مبسوط در ترمینولوژی حقوق، تہران، گنج دانش، 1388ہجری شمسی۔
- «داعش کی جنایات»، تابناک نیوز ایجنسی، تاریخ اخذ: 27 فروری سنہ 2026ء۔
- حرّ عاملی، محمد بن الحسن، تفصیل وسائل الشيعۃ فی تحصیل مسائل الشیعۃ، قم، مؤسسۃ آل البيت(ع)، 1416ھ۔
- خرازی، محسن، «انواع تشریح و احکام آن»، ج1، ص344، در مجموعہ مقالات سمینار دیدگاہہای اسلام در پزشکی: برگزار شدہ در دانشگاہ علوم پزشکی مشہد، اسفندماہ 1368، گردآوری و تنظیم حسین فتاحی معصوم، مشہد 1371ہجری شمسی۔
- «جنوری 2026ء ایران کے واقعات کیوں بغاوت کے شبیہ تھے؟»، مشرق نیوز، تاریخ درج مطلب: 3 فروری سنہ 2026ء، تاریخ اخذ: 11 مئی سنہ 2026ء۔
- روحانی، محمدصادق، المسائل المستحدثہ، قم، بی نا، 1414ھ۔
- شمس الدين، محمدمہدی، أنصار الحسين، بی جا، الدار الإسلاميّۃ، بی تا۔
- شہيد ثانی، زین الدین بن علی، مسالك الأفہام إلى تنقيح شرائع الإسلام، بی جا، مؤسسۃ المعارف الاسلاميۃ، بی تا۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط في فقہ الإماميۃ، تحقیق محمدباقر بہبودی، تہران، المكتبۃ المرتضويۃ لإحياء الآثار الجعفريۃ، 1378ھ۔
- قائنی، محمد، المبسوط فی الفقہ المسائل المعاصرۃ، قم، مرکز فقہی ائمہ اطہار(ع)، 1424ھ۔
- مرعشی نجفی، سید شہاب الدین، القصاص علی ضوء القرآن و السنۃ، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی(رہ)، 1415ھ۔
- «اسلامی حقوق انسانی کا مکمل متن»، شبکہ اجتہاد. تاریخ اخذ: 27 فروری سنہ 2026ء۔
- محمدی گیلانی، محمد، «پوسٹ مارٹم»، در مجلہ فقہ اہل بیت، سال 1، شمارہ 3، خزاں سنہ 1995ء
- محمدی، «فریقین کی نظر میں تکفیریوں کی جانب سے اسیروں کا مثلہ کرنا؛ بدعت یا سنت، »، فصلنامہ مطالعات فقہی و فلسفی، شمارہ1، بہار سنہ 2020ء۔
- کشّی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃالرجال المعروف بہ رجال الکشّی، تحقیق حسن مصطفوی، مشہد، دانشگاہ مشہد، 1348ہجری شمسی۔
- كلينی، محمد بن یعقوب، الكافی، مصحح: علی اکبر غفاری، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، 1407ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
- نجفی جواہری، شيخ محمد حسن، جواہر الكلام، محقق عباس قوچانی، بیروت، دار إحياء التراث العربي، 1362ہجری شمسی۔
- واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق مارسدنس جونز، بیروت، موسسہ الاعلمی، 1409ھ۔