مسودہ:سید مجتبی حسینی خامنہ ای
| اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے سپریم لیڈر | |
| کوائف | |
|---|---|
| نسب | افطسی سادات اور سلطان سید احمد |
| تاریخ پیدائش | 8 ستمبر 1969ء |
| آبائی شہر | مشہد |
| ملک | ایران |
| شریک حیات | زہرا حداد عادل |
| مشہور اقارب | سید جواد حسینی خامنہای (دادا) سید علی حسینی خامنہای (والد) غلام علی حداد عادل (سسر) |
| مذہب | شیعہ |
| سیاسی کوائف | |
| پیشرو | آیت اللہ سید علی خامنہ ای |
| علمی و دینی معلومات | |
| اساتذہ | سید علی خامنہای سید محمود ہاشمی شاہرودی محمدتقی مصباح یزدی محسن خرازی لطفاللہ صافی گلپایگانی |
| دستخط | |

سید مجتبی حسینی خامنہ ای (پیدائش 1969ء) اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں۔ انہیں امریکہ اور صہیونی حکومت کے حملے میں اپنے والد کی شہادت کے بعد مجلس خبرگان رہبری کی طرف سے 8 مارچ 2026ء کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا گیا۔
سوانح حیات
سید مجتبی حسینی خامنہ ای 1969ء کو ایران کے مذہبی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم مدرسہ علوی تہران سے جبکہ دینی تعلیم اپنے والد اور سید محمود ہاشمی شاہرودی سے حاصل کی۔ 1999ء میں اعلی دینی تعلیم کے لئے قم چلے گئے جہاں انہوں نے آیت اللہ مصباح یزدی، محسن خرازی، آیت اللہ صافی گلپایگانی اور علی عندلیبی جیسے اساتذہ کی شاگردی اختیار کی۔
سنہ 2011 سے 2024 تک حوزہ علمیہ قم میں فقہ اور اصول میں درس خارج کی تدریس میں مصروف رہے۔ یہ درس ستمبر 2024ء تک تقریباً 13 سال جاری رہا جس میں تقریباً 700 طلبہ نے شرکت کی۔[1]

آٹھ سالہ ایران عراق جنگ کے دوران سنہ 1986ء کو آپ 17 سال کی عمر میں محاذ پر گئے اور لشکر 27 محمد رسول اللہ کے حبیب بن مظاہر برگیڈ شمولیت اختیار کر کے بیت المقدس آپریش 2، 3، 4، والفجر آپریشن 10 اور مرصاد آپریشن میں حصہ لیا۔
نومبر 2019ء کو امریکہ کی وزارت خزانہ نے انہیں بیت رہبری سے وابستہ آٹھ دیگر افراد کے ساتھ پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔
سنہ 1999ء میں آپ کی شادی زہرا حداد عادل سے ہوئی، جو غلام علی حداد عادل (ایران کے قومی اسمبلی کے سابق سپیکر) کی بیٹی تھیں۔ اس شادی سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ ان کی اہلیہ 28 فروری 2026ء کو ایرن پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں شہید ہوگئیں جس میں آپ کے والد آیت اللہ سید علی خامنہ ای بھی ان کے دفتر کے کچھ اہلکار اور ایران کے اعلی عسکری شخصیات سمیت شہید ہوئے تھے۔ سید مجتبی خود بھی اس حملے میں زخمی ہوئے تھے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی رہبریت
8 مارچ 2026ء کو مجلس خبرگان رہبری نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے آٹھ دن بعد سید مجتبی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا۔[2] اس تاخیر کی وجہ خبرگان کے اجلاس کے خلاف سکیورٹی خطرات بتائے گئے ہیں۔ امریکہ اور صہیونی حکومت نے مجلس خبرگان کے اجلاس کو روکنے کے لئے قم اور تہران میں خبرگان کی عمارتوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ اس فیصلے سے قبل بعض مراجع تقلید جیسے آیت اللہ مکارم شیرازی اور آیت اللہ نوری ہمدانی کے علاوہ بعض سرکاری عہدہ داروں اور گروہوں نے رہبر کے تعین کے عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
ردعمل

سید مجتبی خامنہ ای کے ایران سپریم لیڈر منتخب ہونے پر ایران کے اندر اور باہر وسیع پیمانے پر ردعمل سامنا آیا۔ بعض بین الاقوامی سیاسی شخصیات، اسلامی مزاحمتی بلاک اور اسلامی جمہوریہ کے اعلیٰ عہدہ داروں نے اس انتخاب پر مبارکبادی پیش کی۔[4] ایران میں مختلف افراد، اداروں اور گروہوں کی کی طرف سے مبارکباد کے پیغامات کے علاوہ، نئے رہبر سے بیعت کی عوامی تقریبات ملک بھر میں منعقد ہوئیں۔[5]
شیعہ مراجع تقلید میں سے آیت اللہ نوری ہمدانی نے سید مجتبی خامنہ ای کے انتخاب کو شائستہ اور مدبرانہ قرار دیا اور انہیں ایران کی رہبریت کے لئے تمام ضروری شرائط بشمول فقاہت، شجاعت، تقوی، بصیریت اور مدبرانہ صلاحیت کا حامل قرار دیا۔ آیت اللہ مکارم شیرازی نے بھی خبرگان کے انتخاب کو اصلح قرار دیا اور عوام اور نظام کے ارکان کو نئے رہبر کی بیعت اور انقلاب کے راستے پر اتحاد و استقامت کے ساتھ ثابت قدم رہنے کی دعوت دی۔[6]
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امید ظاہر کی کہ وہ اپنے والد کے راستے کو عزت کے ساتھ جاری رکھیں گے اور ایرانی عوام کو مشکلات کے مقابلے میں متحد کریں گے۔[7]
اس کے برعکس امریکہ اور صہیونی حکومت نے اس انتخاب پر تشویش کا اظہار کیا اور انہیں قتل کی دھمکی دی۔ ان دونوں حکومتوں نے پہلے بھی سید مجتبی خامنہ ای کی ایران کی رہبری کے انتخاب کے خلاف انتباہ کیا تھا۔[8]
رہبریت کے دوران سیاسی موقف
12 مارچ 2026ء کو سید مجتبی خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کی حیثیت سے اپنا پہلا باضابطہ پیغام جاری کیا۔ یہ پیغام جو جنگ رمضان کے دوران شائع ہوا، سات مختلف عناوین پر مشتمل تھا جس میں ایران کے سابق رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کا مقام اور ان کا کردار، ایرانی قوم، مسلح افواج، انتظامی اداروں، محور مقاومت، خطے کے دیگر ممالک اور بیرونی دشمنوں سے مقابلے کے طریقوں کے بارے میں نکات شامل تھے۔ اس پیغام میں مغربی ایشیا کے ممالک سے کہا گیا کہ وہ "ایران پر جارحیت" کے مرتکب ہونے والے دشمنوں کے خلاف اپنا موقف واضح کریں اور اپنے ملکوں میں موجود اغیار کے عسکری اور معاشی اڈے بند کریں۔ انہوں نے خطے میں امن و امان قائم کرنے کے امریکی دعوے کو "کھلا جھوٹ" قرار دیا اور دباؤ کے ذرائع منجملہ آبنائے ہرمز کی بندش کو اس وقت تک جاری رکھنے پر زور دیا جب تک جارح افواج مکمل طور پر عقب نشینی نہیں کرتے۔[9]

اسی طرح عید الفطر اور عید نوروز کے موقع پر جاری کردہ پیغام میں انہوں نے 12 روزہ جنگ، دسمبر 2025ء کے واقعات اور جنگ رمضان کے شہداء کے اہل خانہ اور پسماندگان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے، دسمبر 2025ء کے واقعات کو ملک اور ملکی سالمیت کے خلاف بغاوت اور جنگ قرار دیا۔ اس پیغام میں آپ نے مرحوم آیت اللہ سید علی خامنہ کی پیروی کرتے ہوئے نئے شمسی سال(1405ہجری شمسی) کے لئے مخصوص نعرہ انتخاب کیا اور "قومی وحدت اور سلامتی کے سایہ میں مزاحمتی معیشت" کو نئے سال کا نعرہ قرار دیا۔[10] اس پیغام میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر زور دیتے ہوئے افغانستان اور پاکستان پر مسلمانوں کے اتحاد کی خاطر آپس میں بہتر تعلقات قائم کرنے پر زور دیا۔ نیز حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی موقف امام خمینی اور آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے راستے پر امریکہ اور صہیونیت کے خلاف مزاحمت کی مسلسل حمایت پر استوار ہے۔
9 اپریل 2026ء کو آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے چالیسویں دن کے موقع پر ایک پیغام میں ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں زمانہ شناس اور بابصیرت فقیہ، نہ تھکنے والے مجاہد، عالم ربانی، ذکر و تہجد اور بارگاہ الٰہی میں گڑگڑانے والا، معصومینؑ سے توسل کرنے والا اور الٰہی وعدوں پر ایمان رکھنے والا قرار دیا۔ نیز اس پیغام کے ایک حصے میں جنگ رمضان کے دوران ایرانی عوامی اجتماعات کو جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے ایران کے جنوبی ہمسایہ ممالک سے کہا کہ وہ بیرونی طاقتوں کے وعدوں پر بھروسہ نہ کریں۔[11]
حوالہ جات
- ↑ چرا آیتالله مجتبی خامنهای کلاس درس خارج را تعطیل کرد؟ (فیلم)، عصر ایران.
- ↑ رهبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رهبری تعیین و معرفی شد، دبیرخانه مجلس خبرگان رهبری.
- ↑ مراسم بیعت با سومین رهبر انقلاب - تهران، ایسنا.
- ↑ جدیدترین واکنشهای بینالمللی به انتخاب رهبر جدید انقلاب اسلامی، خبرگزاری مهر.
- ↑ پیام های تبریک مراجع، شخصیت ها و مقامات حوزوی و کشوری درپی انتخاب رهبر جدید انقلاب اسلامی، شفقنا.
- ↑ پیام حضرت آیت الله مکارم شیرازی در پی انتخاب رهبر جدید انقلاب اسلامی، شفقنا۔
- ↑ واکنش پوتین به انتخاب آیتالله سید مجتبی خامنهای به عنوان رهبر جدید انقلاب ، دنیائے اقتقصاد۔
- ↑ واکنش ترامپ به انتخاب رهبر جدید ایران: خواهیم دید چه می شود، عصر ایران۔
- ↑ «اولین پیام حضرت آیتالله سیدمجتبی حسینی خامنهای رهبر معظّم انقلاب اسلامی»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «پیام نوروزی رهبر انقلاب به مناسبت آغاز سال ۱۴۰۵...، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
- ↑ «پیام حضرت آیتالله سیدمجتبی حسینی خامنهای رهبر معظّم انقلاب اسلامی بهمناسبت چهلمین روز شهادت قائد عظیمالشأن انقلاب...، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتالله العظمی خامنهای.
مآخذ
- «اولین پیام حضرت آیتاللہ سیدمجتبی حسینی خامنہای رہبر معظّم انقلاب اسلامی»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 12 مارچ 2026ء، تاریخ بازدید: 16 مارچ 2026ء.
- «پیامہای تبریک انتخاب سومین رہبر انقلاب اسلامی»، شفقنا.
- «مراسم بیعت با سومین رہبر انقلاب - تہران»، ایسنا.
- «جدیدترین واکنشہای بینالمللی بہ انتخاب رہبر جدید انقلاب اسلامی»، خبرگزاری مہر.
- «پیام ہای تبریک مراجع، شخصیتہا و مقامات حوزوی و کشوری درپی انتخاب رہبر جدید انقلاب اسلامی»، شفقنا.
- «چرا آیتاللہ مجتبی خامنہای کلاس درس خارج را تعطیل کرد؟ (فیلم)»، عصر ایران
- «رہبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رہبری تعیین و معرفی شد»، دبیرخانہ مجلس خبرگان رہبری.
