مسودہ:دشمن کے ساتھ صلح
| ویکی شیعہ میں مقالات «شیعہ نقطہ نظر» سے تحریر کئے جاتے ہیں، اس موضوع کے دیگر پہلوؤں سے آشنائی کے لئے دوسرے منابع کی طرف رجوع کریں۔ |
دشمن کے ساتھ صلح، اس معاہدے کو کہا جاتا ہے جو اختلافات کے حل اور جنگ کے خاتمے کے لئے منعقد کیا جاتا ہے۔ صلح کی مشروعیت اسلامی فقہ اور بین الاقوامی قوانین دونوں میں تسلیم شدہ ہے اور فقہِ سیاسی کے اہم مباحث میں شمار ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں صلح کے موضوع پر متعدد آیات موجود ہیں، جن میں سورہ انفال آیت نمبر 61 جو “آیتِ صلح” کے نام سے مشہور ہے اور سورہ بقرہ آیت نمبر 208 جو “آیتِ سِلم” کہلاتی ہے، شامل ہیں۔ اسی طرح عہد نامہ مالک اشتر بھی ان روایات میں سے ہے جس میں صلح سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔
اسلام میں اصل رجحان صلح اور مصالحت کی طرف ہے، جبکہ جنگ کی طرف اضطراری اور مجبوری کی حالت میں قدم اٹھایا جاتا ہے۔ شیعہ مکتبِ فکر میں صلح قبول کرنا معصومینؑ اور اسلامی معاشرے کے رہنما کے اختیار میں ہوتا ہے اور یہ ہمیشہ مصلحت کی بنیاد پر انجام پاتی ہے۔ کہا گیا ہے کہ صلح کے معاہدے میں کچھ شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، جیسے اس کا واضح اور غیر مبہم ہونا۔ صلح کے معاہدے میں فریقین کی باہمی رضامندی سے قیدیوں کی رہائی و تبادلے اور جنگی تاوان کی مقدار و طریقۂ ادائیگی جیسے امور بھی طے کئے جا سکتے ہیں۔
صلح اور جنگ بندی میں فرق ہے؛ جنگ بندی عارضی ہوتا ہے جبکہ صلح جنگ کے مستقل خاتمے کو کہتے ہیں۔ فقہی لحاظ سے صلح کا معاہدہ ایک لازم الاجراء اور قابلِ نفاذ عقد شمار ہوتا ہے اور اس میں خیانت سے اجتناب ضروری ہے۔ تاہم بعض فقہاء جیسے شیخ بہائی اور محدث نوری کے مطابق کفار کے ساتھ صلح عموماً عارضی ہونی چاہیے، جو کم از کم ایک یا دو سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال تک محدود ہو سکتی ہے۔
فقہی اعتبار سے صلح کا معاہدہ رہنما اور قیادت کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ بعد میں آنے والا رہنما بھی اس کا پابند ہوتا ہے۔ بعض محققین نے صلح حدیبیہ اور عہد نامہ مالک اشتر کی روشنی میں صلح کے چند مقاصد بیان کیے ہیں، جیسے اسلام کا تحفظ، دین کی تبلیغ، لوگوں کی ہدایت اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا تسلسل۔
تاریخ اسلام میں جنگ صفین میں حکمیت کو قبول کرنا، امام حسن علیہ السلام کی معاویہ کے ساتھ صلح اور ایران و عراق جنگ میں امام خمینیؒ کی جانب سے اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 598 کو قبول کرنے کو صلح کی مثالوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تعریف اور مقام بحث
دشمن کے ساتھ صلح، صلح کے معاہدوں میں سے ایک ہے[1] جس کے ذریعے فریقین جنگ کا سبب بننے والے اختلافات کو ختم کر کے جنگی حالت کا خاتمہ کرتے ہیں۔[2] صلح بین الاقوامی قانون اور اسلامی فقہِ سیاسی کے اہم موضوعات میں شمار ہوتی ہے[3] اور اس کے جواز و مشروعیت میں اسلامی فقہاء کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں پایا جاتا۔[4] قرآن مجید کی متعدد آیات اس موضوع سے متعلق ہیں، جیسے سورہ انفال آیت نمبر 61 (جسے “آیتِ صلح” کہا جاتا ہے) اور سورہ بقرہ آیت نمبر 208 (جسے “آیتِ سِلم” کہا جاتا ہے)۔[5]
نہج البلاغہ کا مکتوب نمبر 53 جو عہدنامۂ مالک اشتر کے نام سے معروف ہے، میں بھی صلح کے مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں۔[6] شیعہ محققین نے صلح حدیبیہ، نہج البلاغہ مکتوب نمبر 16 اور عہد نامہ مالک اشتر کی روشنی میں صلح کے مختلف مقاصد و فوائد بیان کئے ہیں، جن میں اسلام کا تحفظ، دین اسلام کی تبلیغ اور لوگوں کی ہدایت نیز مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق کا تسلسل شامل ہیں۔[7]
اسلامی فقہاء (مجتہدین) کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اسلام میں پہلی ترجیح جنگ کو حاصل ہے یا صلح کو۔ اس سلسلے میں ہر گروہ نے اپنے موقف کے اثبات کے لئے آیات اور روایات سے استدلال کیا ہے۔[8] تاہم یہ کہا گیا ہے کہ اسلام میں اصل رجحان صلح اور مصالحت کی طرف ہے، جبکہ جنگ صرف اضطراری اور ناگزیر حالات میں اپنانے والی ایک حکمتِ عملی ہے۔[9]
صلح اور جنگ بندی
دشمن کے ساتھ صلح اور جنگ بندی میں فرق پایا جاتا ہے؛ صلح جنگ کے دائمی خاتمے کا نام ہے جو فریقین کے درمیان جنگ کے اثرات اور نقصانات کے ازالے وغیرہ پر باہمی رضامندی کے ساتھ انجام پاتی ہے۔[10] جبکہ جنگ بندی ایک عارضی معاہدہ ہے جو جنگ کو وقتی طور پر روکنے کے لئے کیا جاتا ہے، اور اس کے خاتمے یا خلاف ورزی کا امکان موجود رہتا ہے۔[11]
اسلامی فقہ میں جنگ بندی کو مُہادَنہ[12] کہا جاتا ہے، اور اس پر بابِ جہاد کے ضمن میں بحث کی جاتی ہے[13] جہاں اس کے احکام اور شرعی ضوابط بیان کئے گئے ہیں۔[14]
صلح کی شرائط
کہا گیا ہے کہ صلح کو قبول کرنا اور اس سے متعلق معاہدات کا انعقاد پیغمبر اکرمؐ، ائمہ معصومینؑ اور اسلامی معاشرے کے رہنما کے اختیارات میں شامل ہے۔[15] اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے آرٹیکل 110 کے مطابق جنگ اور صلح کا فیصلہ رہبر کے فرائض میں شمار ہوتا ہے۔[16] تاہم بعض محققین کے مطابق صدر مللکت بھی فوجی کمانڈروں، سیاستدانوں اور فقہاء سے مشاورت کے بعد صلح کا معاہدہ کر سکتا ہے۔[17] اس بنیاد پر کہا گیا ہے کہ اسلامی حکومت کو صلح کے معاہدے کی شرائط اور مدت کا تعین اسلامی معاشرے کی مصلحت کے مطابق کرنا چاہیے۔[18] یہ مصلحت دشمن کے ساتھ مالی ادائیگی یا عدم ادائیگی جیسے امور پر بھی لاگو ہو سکتی ہے؛[19] جیسا کہ محدث نوری نے روایات کی بنیاد پر کہا ہے کہ اسلامی معاشرے کی قیادت صلح کرنے کے بعد اس بات میں مختار ہے کہ دشمن سے کچھ مال و دولت لے یا بغیر کسی مالی شرط کے جنگ کا خاتمہ کرے۔[20]
صلح کے معاہدے میں مالی ادائیگی کے علاوہ قیدیوں کی آزادی، زخمیوں کا تبادلہ اور جنگی تاوان کی ادائیگی جیسے امور بھی شامل کئے جا سکتے ہیں۔[21] قانونی نقطۂ نظر سے صلح کا معاہدہ واضح، صریح اور تحریری ہونا چاہئے تاکہ خیانت یا ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے۔[22] سید رضی نے عہد نامہ مالک اشتر سے استناد کرتے ہوئے صلح کے معاہدے کے واضح ہونے کو ضروری قرار دیا ہے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی تاویل اور ابہام سے محفوظ رہے۔[23]
کہا گیا ہے کہ صلح کا معاہدہ کسی خاص مدت تک محدود نہیں ہوتا اور اسے صرف فریقین کے فسخ کرنے یا کسی فریق کی خلاف ورزی کی صورت میں ختم کیا جا سکتا ہے۔[24] تاہم شیخ بہائی کا موقف ہے کہ کفار کے ساتھ کیا جانے والا صلح نامہ عارضی ہونا چاہئے، جس کی کم از کم مدت ایک یا دو سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال ہے۔[25] محدث نوری نے بھی اس مدت کو اہل بیتؑ کی روایات کے مطابق قرار دیا ہے۔[26] کفار کے ساتھ صلح کے دائمی نہ ہونے کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ کفار کے ساتھ جہاد اسلام کے احکام میں شامل ہے اور صلح ایسا نہ ہو کہ کسی شرعی حکم کے معطل ہونے کا سبب بنے۔[27]
صلح کی پابندی
تمام شیعہ فقہاء عقدِ صلح کو لازم الاجراء معاہدات میں شمار کرتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ یہ معاہدہ صرف فریقین کی باہمی رضامندی سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔[28] اسی طرح متعدد قرآنی آیات، جیسے سورہ اسراء آیت نمبر 34 اور سورہ نحل آیت نمبر 91 سے استدلال کیا گیا ہے کہ معاہدات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی واجب اور ان کی خلاف ورزی حرام ہے۔[29]
اسی طرح عہد نامہ مالک اشتر میں بھی صلح کے معاہدے کی پابندی پر زور دیتے ہوئے عہد شکنی، دھوکہ دہی اور خیانت سے منع کیا گیا ہے۔[30] صلح کا معاہدہ رہنما کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوتا بلکہ بعد میں آنے والے رہنما پر بھی اس کی پابندی واجب ہے۔[31] جیسا کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے بھائی امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی معاویہ کے ساتھ ان کے صلح نامے کی پابندی کو برقرار رکھا۔[32]
اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر دشمن صلح کے معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو اس معاہدے کی پابندی باقی نہیں رہتی۔[33] اسی طرح اگر بعض دشمن فریق معاہدہ توڑ دیں تو صرف انہی افراد سے متعلق صلح کو کالعدم تصور کیا جائے گا نہ تمام دشمنوں سے متعلق۔[34] بعض فقہاء کا یہ بھی موقف ہے کہ اگر اسلامی رہنما کو یہ علم ہو کہ کفار خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں یا صلح توڑنے کی تیاری کر رہے ہیں تو وہ ان سے پہلے معاہدہ ختم کر سکتا ہے۔[35]
تاریخِ اسلام میں صلح کی اہم مثالیں
تاریخ اسلام میں صلح کی مثالوں کے لئے درج ذیل واقعات کو پیش کیا جاتا ہے:
- جنگ صفین میں حکمیت کو قبول کرنا؛ حکمیت کی تجویز عمرو بن عاص اور معاویہ کی چال کے نتیجے میں اس وقت سامنے آئی جب ان کی فوج اپنے ہی اندر انتشار کا شکار ہو گئی تھی اور امام علی علیہ السلام کی فوج کے مقابلے میں کمزور پڑ گئی تھی۔ ابتدا میں امام علی علیہ السلام حکمیت کے مخالف تھے، لیکن اپنی فوج کے بعض افراد کے شدید اصرار پر آپؑ نے اسے قبول کر لیا۔[36]
- صلح امام حسنؑ: یہ وہ معاہدہ تھا جو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان سنہ 41 ہجری میں اس وقت ہوا جب دونوں کے درمیان جنگ کے بعد حالات پیدا ہوئے اور اس کے نتیجے میں امام حسنؑ کو خلافت سے دستبردار ہونا پڑا۔[37] کہا گیا ہے کہ یہ صلح اس لئے کی گئی کہ امام حسنؑ نے جنگ کو اسلامی معاشرے کے مفاد اور اسلام کے تحفظ کے خلاف سمجھا۔[38]
- اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 598 کو ایران کی جانب سے قبول کرنا؛ امام خمینی نے سنہ 1987ء میں اقوام متحدہ کی قرارداد 598 کو قبول کرتے ہوئے ایران و عراق جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا۔[39]
حوالہ جات
- ↑ جمعی از نویسندگان، فرہنگ فقہ فارسی، 1387شمسی، ج5، ص92۔
- ↑ عظیمی شوشتری و آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص608۔
- ↑ عمید زنجانی، فقہ سیاسی، 1377شمسی، ج3، ص378۔
- ↑ عظیمی شوشتری و آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص608۔
- ↑ محمدیان و دیگران، اصطلاحات نظامی در فقہ اسلامی، 1378شمسی، ص86؛ جمعی از محققان، فرہنگ موضوعی جہاد و دفاع، ص235۔
- ↑ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، نامہ53، ص442۔
- ↑ عمید زنجانی و دیگران، دانشنامہ فقہ سیاسی، 1389شمسی، ج2، ص222؛ مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، 1386شمسی، ج11، ص110؛ عظیمی شوشتری، آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص132 و 166۔
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: محقق داماد، حقوق بین الملل: رہیافتی اسلامی، 1393شمسی، ص63 - 99؛ برزنونی، «اسلام؛ اصالت جنگ یا اصالت صلح؟»، ص14-105؛ ورعی، بررسی فقہی اصل در روابط خارجی دولت اسلامی، 1390شمسی، ص57-113۔
- ↑ حسینی آہق، «صلح»، ص41۔
- ↑ نوروزی، «جنگ بندی کی تعریف اور اس کے حقوقی فوائد»، روزنامہ شرق۔
- ↑ نوروزی، «جنگ بندی کی تعریف اور اس کے حقوقی فوائد»، روزنامہ شرق۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص292؛ خامنہ ای، «مہادنہ (جنگ بندی اور دشمنی ختم کرنے کی قرارداد)»، ص5۔
- ↑ برای نمونہ نگاہ کنید بہ: نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص291۔
- ↑ مطہری، سیری در سیرہ ائمہ اطہار(ع)، 1384شمسی، ص68-69؛ جمعی از نویسندگان، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، 1382شمسی، ج1، ص104-105۔
- ↑ جمعی از محققان، فرہنگ موضوعی جہاد و دفاع در آینہ آیات و روایات، 1429ھ، ص238؛ شریفی اشکوری، فقرات فقہیہ، 1381شمسی، ج4، ص146۔
- ↑ «قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران»، 1388شمسی، ص61۔
- ↑ قلعہ جی، الموسوعۃ الفقہیۃ المیسرہ،1421ھ، ج2، ص1238۔
- ↑ شریفی اشکوری، فقرات فقہیہ، 1381شمسی، ج4، ص146۔
- ↑ شریفی اشکوری، فقرات فقہیہ، 1381شمسی، ج4، ص146۔
- ↑ مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، 1408ھ، ج11، ص129۔
- ↑ عظیمی شوشتری و آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص616؛ قلعہ جی، الموسوعۃ الفقہیۃ المیسرہ،1421ھ، ج2، ص1238 و 1239۔
- ↑ عظیمی شوشتری و آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص625۔
- ↑ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، نامہ53، ص442۔
- ↑ عظیمی شوشتری و آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص613۔
- ↑ شیخ بہایی، جامع عباسی، 1386شمسی، ص403۔
- ↑ مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، 1408ھ، ج11، ص129۔
- ↑ عظیمی شوشتری و آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص612۔
- ↑ حسینی آہق، «صلح»، ص44۔
- ↑ عظیمی شوشتری و آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، 1393شمسی، ص620 و 621۔
- ↑ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، نامہ53، ص442۔
- ↑ شریفی اشکوری، فقرات فقہیہ، 1381شمسی، ج4، ص146۔
- ↑ جعفریان، حیات فکری و سیاسی ائمہ(ع)، 1381شمسی، ص157؛ پیشوایی، سیرہ پیشوایان، 1390شمسی، ص147۔
- ↑ قلعہ جی، الموسوعۃ الفقہیۃ المیسرہ،1421ھ، ج2، ص1239۔
- ↑ شریفی اشکوری، فقرات فقہیہ، 1381شمسی، ج4، ص146۔
- ↑ شریفی اشکوری، فقرات فقہیہ، 1381شمسی، ج4، ص146۔
- ↑ ابن مزاحم، وقعۃ صفین، 1404ھ، ص 490۔
- ↑ پیشوایی، سیرہ پیشوایان، 1390شمسی، ص116۔
- ↑ پیشوایی، سیرہ پیشوایان، 1390شمسی، ص131۔
- ↑ امام خمینی، صحیفہ امام، 1389شمسی، ج20، ص118۔
مآخذ
- «قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران»، تہران، بین المللی الہدی، 1388ہجری شمسی۔
- ابن مزاحم، نصر، وقعۃ صفین، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
- امام خمینی، سیدروح اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، 1389ہجری شمسی۔
- برزنونی، محمدعلی، «اسلام؛ اصالت جنگ یا اصالت صلح؟» مجلہ حقوقی، نشریہ مرکز امور حقوق بین المللی معاونت حقوقی و امور مجلس ریاست جمہوری، شمارہ 35، 1384ہجری شمسی۔
- پیشوایی، مہدی، سیرہ پیشوایان، قم، مؤسسہ امام صادق (عليہ السلام)، 1390ہجری شمسی۔
- جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، قم، انتشارات انصاریان، 1381ہجری شمسی۔
- جمعی از محققان، فرہنگ موضوعی جہاد و دفاع در آینہ آیات و روایات، قم، زمزم ہدایت، پہلی اشاعت، 1429ھ۔
- جمعی از نویسندگان، فرہنگ فقہ فارسی، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ الاسلامی، 1387ہجری شمسی۔
- جمعی از نویسندگان، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1382ہجری شمسی۔
- حسینی آہق، مریم، «صلح»، دانشنامہ جہان اسلام، ج30، تہران، بنیاد دائرۃ المعارف اسلامی، 1375ہجری شمسی۔
- خامنہ ای، سید علی، «مہادنہ (جنگ بندی اور دشمنی ختم کرنے کی قرارداد)»، فصلنامہ فقہ اہل بیت، شمارہ 11 و 12، پاییز و زمستان 1376ہجری شمسی۔
- شریفی اشکوری، الیاس، فقرات فقہیہ: رسالہ عملیہ، تصحیح: علی موسوی زمانی و محسن مہری خوانساری، قم، آل ایوب، 1381ہجری شمسی۔
- شیخ بہایی، محمد بن حسین، جامع عباسی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1386ہجری شمسی۔
- عظیمی شوشتری، عباسعلی و مصطفی آخوندی، جنگ و صلح در اسلام، قم، زمزم ہدایت، 1393ہجری شمسی۔
- عمید زنجانی، عباسعلی و دیگران، دانشنامہ فقہ سیاسی: (مشتمل بر واژگان فقہی و حقوق عمومی)، تہران، دانشگاہ تہران، 1389ہجری شمسی۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، فقہ سیاسی، تہران، امیرکبیر، 1377ہجری شمسی۔
- قلعہ جی، محمد رواس، الموسوعہ الفقہیہ المیسرہ، بیروت، دار النفائس، 1421ھ۔
- محقق داماد، مصطفی، حقوق بين الملل، تہران، مرکز نشر علوم اسلامی، 1393ہجری شمسی۔
- محمدیان، مرتضی، و مصطفی آخوندی و محمدصالح کمیلی خراسانی، اصطلاحات نظامی در فقہ اسلامی، تہران، نمایندگی ولی فقیہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، 1378ہجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، سیری در سیرہ ائمہ اطہار(ع)، قم، انتشارات صدرا، چاپ بیست و ہفتم، 1384ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، پیام امام امیرالمؤمنین(ع)، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1386ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1362ہجری شمسی۔
- نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، قم، ہجرت، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
- نوری، حسین بن محمدتقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسۃ آل البیت، پہلی اشاعت، 1408ھ۔
- ورعی، جواد، بررسی فقہی اصل در روابط خارجی دولت اسلامی، قم، پژوہشگاہ حوزہ و دانشگاہ، 1390ہجری شمسی۔
- نوروزی، قدرت اللہ، «جنگ بندی کی تعریف اور اس کے حقوقی فوائد»، روزنامہ شرق، تاریخ درج مطلب: 25 جون 2025ء، تاریخ اخذ: 4 جولائی سنہ 2025ء۔