مسودہ:خیر الامور اوسطہا

خَیرُ الْاُمُورِ اَوْسَطُها[1] یا خَیرُ الْاُمُورِ اَوْساطُها[2] کے معنی "بہترین کام وہ ہیں جو درمیانی راستے پر ہوں" یا "ہر کام میں اعتدال بہتر ہے۔" یہ جملہ حدیث کے عنوان سے شیعہ اور سنی دونوں کے کتب حدیث میں نقل ہوا ہے۔ یہ حدیث حضرت محمدؐ،[3] امام علیؑ،[4] اور امام موسی کاظمؑ[5] سے روایت کی گئی ہے۔ کتاب بحارالانوار میں اسے حدیث قدسی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[6]
بعض علما نے اس حدیث کو ضعیف حدیث قرار دیا ہے[7] جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس کا استعمال صرف ان موارد تک محدود ہے جہاں کوئی کام کرنے میں تردد ہو یا دو کاموں میں تعارض پایا جاتا ہو۔[8]
بعض محققین نے اس حدیث میں لفظ "اوسط" کا ترجمہ "درمیانی" کے بجائے "عاقل ترین" کیا ہے اور اس تفسیر کو سورہ قلم کی آیت 28 اور سورہ بقرہ کی آیت 143 سے مربوط قرار دیا ہے۔[9] نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید کا خیال ہے کہ "وسط" کے لغوی معنی "بہترین" کے ہیں، اور قرآن میں اصطلاح "امت وسط" سے مراد بہترین امت ہے۔[10]
شیعہ مفسر اور فقیہ ناصر مکارم شیرازی کے مطابق، تمام اخلاقی خوبیاں ہمیشہ حد وسط نہیں ہوتیں ہیں؛ بعض موارد میں افراط (حد سے بڑھنا) پسندیدہ ہے، جیسے قرب خدا حاصل کرنا۔[11] شیعہ فلاسفر محمد تقی مصباح بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خدا سے قربت اور علم جیسے مفاہیم کی کوئی حد وسط نہیں ہوتی، کیونکہ ان کے دونوں اطراف لامتناہی ہیں۔[12]
اس حدیث سے ملتی جلتی روایات میں "خیر الامور" کے مصادیق میں خدا کی رضا، حسن عاقبت، حق کی وضاحت، طمع سے پاک ہونا اور انسان کی اصلاح جیسی چیزیں بیان کی گئی ہیں۔[13]
بعض علما کا خیال ہے کہ معصومینؑ کی عملی سیرت بعض مواقع پر میانہ روی کے مطابق نہیں تھی؛ جیسے کہ امام علیؑ، حضرت فاطمہ زہراء (س) اور امام حسن وامام حسینؑ نے تین دن تک اپنا کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو دے دیا، یا امام حسنؑ اپنا سارا مال غریبوں پر خرچ کر دیتے تھے۔[14] عبد اللہ جوادی آملی کا کہنا ہے کہ "خیر الامور اوسطہا" عام انسانوں کے لیے ہے کہ وہ افراط و تفریط (حد سے بڑھنے یا کمی و تقصیر) سے بچیں، لیکن ائمہؑ کے لیے جو پوری بشریت کے لیے عملی نمونہ ہیں، بہترین عمل سے مراد عمل کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔[15]
حوالہ جات
- ↑ عجلونی، کشف الخفاء، 1408ھ، ج1، ص391۔
- ↑ شیخ مفید، الإرشاد، 1413ھ، ج2، ص234۔
- ↑ صافی، الجدول فی اعراب القرآن، 1418ھ، ج 15، ص49، ابن عطیہ اندلسی، المحرر الوجیز، 1422ھ، ج 1، ص219۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج 75، ص11۔
- ↑ اربلی، کشف الغمۃ، 1381ھ، ج 2، ص229؛ کلینی، الکافی، 1363شمسی، ج6، ص541۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1410ھ، ج 74، ص166۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: عجلونی، کشف الخفاء، 1408ھ، ج1، ص391۔
- ↑ سرخسی، المبسوط، بیتا، ج3، ص165؛ کاشانی، بدائع الصنائع، 1409ھ، ج1، ص23۔
- ↑ زارعیان، «ادلہ نقلی بہ نفع یا علیہ نظریہ حد وسط ارسطوئی»، ص66۔
- ↑ ابن ابیالحدید، شرح نہجالبلاغہ، 1377شمسی، ج17، ص29۔
- ↑ مکارم شیرازی، اخلاق در قرآن، 1385شمسی، ج1، ص103۔
- ↑ مصباح، اخلاق در قرآن، 1384شمسی، ص319۔
- ↑ لیثی واسطی، عیون الحکم و المواعظ، 1376شمسی، ص237۔
- ↑ زارعیان، «ادلہ نقلی بہ نفع یا علیہ نظریہ حد وسط ارسطوئی»، ص72۔
- ↑ جوادی آملی، «باید در ہمہ اوصاف علمی و عملی از افراط و تفریط پرہیز کرد(ہر علمی اور عملی وصف میں افراط و تفریط سے پرہیز کرنا ہوگا)»۔
مآخذ
- ابنابیالحدید، عزالدین ابوحامد، شرح نہجالبلاغہ، قم، کتابخانہ آیہ اللہ مرعشی، 1377ہجری شمسی۔
- ابنعطیہ اندلسی، عبدالحق بن غالب، المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز، تحقیق عبد السلام عبدالشافی محمد، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
- اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، تحقیق و تصحیح ہاشم رسولی محلاتی، تبریز، نشر بنیہاشمی، پہلی اشاعت، 1381ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، «باید در ہمہ اوصاف علمی و عملی از افراط و تفریط پرہیز کرد(ہر علمی اور عملی وصف میں افراط و تفریط سے پرہیز کرنا ہوگا)»(ہر علمی اور عملی وصف میں افراط و تفریط سے پرہیز کرنا چاہیے)، اسراء ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 22 جون 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 6 اگست 2024ء۔
- زارعیان، شمسعلی، «ادلہ نقلی بہ نفع یا علیہ نظریہ حد وسط ارسطوئی»(حد وسط کے سلسلے میں ارسطو کے نقطہ نظر کے حق اور خلاف میں پیش کیے گئے دلائل)، در مجلہ پژوہشہای اخلاقی(اخلاقیات کی تحقیق کے مجلے میں)، شمارہ 19، بہار 1394ہجری شمسی۔
- سرخسی، شمسالدین، المبسوط، بیروت، دار المعرفہ للطباعہ والنشر والتوزیع، بیتا۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید(شیخ مفید کانفرنس)، 1413ھ۔
- صافی، محمود بن عبد الرحیم، الجدول فی اعراب القرآن، دمشق-بیروت، دار الرشید-مؤسسۃ الإیمان، 1418ھ۔
- عجلونی، اسماعیل، کشف الخفاء، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1408ھ۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر قمی، تحقیق سید طیب موسوی جزایری، قم، دار الکتاب، 1367ہجری شمسی۔
- کاشانی، أبیبکر، بدائع الصنائع، پاکستان، المکتبہ الحبیبیہ، 1409ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1363ہجری شمسی۔
- لیثی واسطی، علی، عیون الحکم و المواعظ، قم، دار الحدیث، پہلی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الطبع و النشر، 1410ھ۔
- مصباح، محمدتقی، اخلاق در قرآن، با کوشش محمدحسین اسکندری، قم، مؤسسہ امام خمینی، 1384ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر و دیگران، اخلاق در قرآن، قم، مدرسہ امام علی(ع)، 1385ہجری شمسی۔