مسودہ:حب الدنیا رأس کل خطیئۃ
| حدیث کے کوائف | |
|---|---|
| موضوع | حب دنیا |
| صادر از | پیغمبر اکرمؐ اور اہل بیتؑ |
| شیعہ مآخذ | الکافی، الخصال و... |
| مشہور احادیث | |
| حدیث سلسلۃ الذہب • حدیث ثقلین • حدیث کساء • مقبولہ عمر بن حنظلۃ • حدیث قرب نوافل • حدیث معراج • حدیث ولایت • حدیث وصایت • حدیث جنود عقل و جہل • حدیث شجرہ | |
حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ کُلِّ خَطِیئَة ، (دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے) پیغمبر اسلامؐ کی ایک مشہور حدیث ہے جو شیعہ اور اہلِ سنت حدیثی منابع میں نقل ہوئی ہے۔ شیخ صدوق نے اسے امام صادقؑ سے روایت کی ہے، جبکہ دیگر مصادر میں یہی مضمون امام سجادؑ، پیغمبر اکرمؐ اور امام علیؑ سے بھی منقول ہے۔ بعض اہلِ سنت علما نے اس حدیث کی سند کو رد یا اسے احادیث موضوعہ میس سے قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس، شیعہ علما نے اس حدیث کے مضمون پر زور دیا ہے اور بعض نے اسے آسمانی ادیان کی مشترکہ تعلیمات میں شمار کیا ہے۔
اس حدیث کی تشریح میں دنیا سے فطری لگاؤ اور اس کی محبت میں افراط و تفریط کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ اس بنا پر دنیا کی محبت اسی وقت قابلِ مذمت ہے جب وہ انسان کو کمالات کے حصول، آخرت کی فکر اور اپنے فرائض کی ادائیگی سے غافل کر دے؛ لیکن وہ محبت جو آخرت کی تیاری اور زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بنے، پسندیدہ ہے۔
حدیث کی سند اور اعتبار
حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ کُلِّ خَطِیئَة یعنی دنیا کی محبت تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ حدیث اسلامی مصادر میں نقل ہوئی ہے۔[1] شیعہ محدث شیخ صدوق (وفات: 381ھ) نے اپنی کتاب "الخصال" میں یہ روایت امام صادقؑ سے نقل کی ہے۔[2] اسی طرح "الکافی" میں امام سجادؑ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے، جس میں اس جملے کو انبیائے کرام کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔[3] "مصباح الشریعۃ" نامی کتاب جو امام صادقؑ منسوب ہے، میں یہ حدیث پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے۔[4] اس کے علاوہ، یہی مضمون امام علیؑ سے بھی منقول ہے۔[5]
آٹھویں صدی ہجری کے شیعہ عالم حسن بن محمد دیلمی نے اپنی کتاب "ارشاد القلوب" میں اس روایت کو قدرے تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس روایت میں دنیا کی محبت کو تمام گناہوں کی جڑ ہونے کے علاوہ خطاؤں کی کنجی اور نیک اعمال کے ضائع ہونے کا سبب بھی قرار دیا گیا ہے۔[6]
اہلِ سنت کے بعض مصادر میں بھی یہ روایت پیغمبر اسلامؐ سے نقل ہوئی ہے۔[7] تاہم، اہلِ سنت کے بعض علما نے اس کی سند کو رد کرتے ہوئے اسے غیر صحیح[8] یا احادیث موضوعہ میں سے قرار دیا ہے۔[9] ان میں سے بعض علماء نے اس کے مضمون پر بھی اعتراض کیا ہے۔[10] اس کے مقابلے میں، شیعہ عالم دین محمد تقی مصباح یزدی (وفات: 1399ہجری شمسی) نے اس روایت کے مضمون کو آسمانی ادیان کی مشترکہ تعلیمات میں شمار کیا ہے۔[11] شیعہ مفسر آیت اللہ مکارم شیرازی نے بھی متعدد روایات کی روشنی میں اس کے مضمون کی تائید کی ہے۔[12] یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عیسی نے اپنے حواریوں سے خطاب کرتے ہوئے یہی تعبیر استعمال کی تھی۔[13]
مفہوم
حبِ دنیا سے مراد دنیا سے محبت اور اس کے ساتھ دلبستگی ہے۔[14] مسلمان علما نے دنیا سے فطری محبت اور اس کے قابلِ مذمت پہلو یعنی دنیا کے ساتھ دلی وابستگی کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔ "الکافی" کے مترجم اور شارح سید جواد مصطفوی اس سلسلے میں وضاحت کرتے ہیں کہ دنیا سے محبت بذاتِ خود قابلِ مذمت نہیں، بلکہ دنیا کے ساتھ وہ دلبستگی مذموم ہے جو انسان کو کمالات کے حصول اور آخرت کی فکر سے غافل کر دے۔[15] ملا احمد نراقی نے بھی دنیا سے محبت کو اسی اعتبار سے پسندیدہ اور ناپسندیدہ دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کی وہ محبت جو آخرت کے حصول اور اس کی اصلاح کا ذریعہ بنے، پسندیدہ ہے؛ جب کہ وہ محبت جو صرف لذت پرستی اور خواہشاتِ نفسانی کی تکمیل کے لئے ہو، قابلِ مذمت ہے۔[16]
آیت اللہ مصباح یزدی کے مطابق اس حدیث میں حبِ دنیا سے مراد محض فطرت کے حسن و جمال سے محبت کرنا نہیں ہے،[17] بلکہ مال و دولت، منصب و مقام اور مادی لذتوں سے حد سے بڑھ کر افراطی وابستگی ہے۔[18] ان کے نزدیک اس دلبستگی کی ایک علامت یہ ہے کہ انسان اس وقت تک اپنے فرائض کی پابندی کرتا ہے جب تک اس کے ذاتی مفادات اور آرام و آسائش کو خطرہ لاحق نہ ہو؛ لیکن جیسے ہی اسے اپنے مفادات کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، وہ دنیاوی مفادات کے تحفظ کے لئے اپنے فرائض کو نظرانداز کر دیتا ہے۔[19] آیت اللہ مصباح نے دنیا سے اس نوعیت کی محبت اور دلبستگی کو مسلمانوں کے انحراف کے اسباب میں شمار کیا ہے[20] اور اس سے بچنے کے لئے مختلف طریقے بھی بیان کئے ہیں۔[21]
- مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کیجئے: حب دنیا
حوالہ جات
- ↑ کلینی، "الکافی"، ج2، ص131۔
- ↑ شیخ صدوق، "الخصال"، ج1، ص25۔
- ↑ کلینی، "الکافی"، ج2، ص131۔
- ↑ منسوب بہ امام صادقؑ، "مصباح الشریعۃ"، ص138۔
- ↑ علامہ مجلسی، "بحار الانوار"، ج75، ص54۔
- ↑ دیلمی، "ارشاد القلوب"، ج1، ص21۔
- ↑ ابن ابی الدنیا، "الزہد"، ص26۔
- ↑ کرمی مقدسی، "الفوائد الموضوعة فی الاحادیث الموضوعة"، ص115۔
- ↑ عثیمین، "فتاویٰ نور علی الدرب"، ج6، ص2۔
- ↑ عثیمین، "فتاویٰ نور علی الدرب"، ج6، ص2۔
- ↑ مصباح یزدی، «حب دنیا و راههای زدودن آن»، ص12۔
- ↑ مکارم شیرازی، "تفسیر نمونہ"، ج26، ص407۔
- ↑ ابن ابی الحدید، "شرح نہج البلاغہ"، ج6، ص233۔
- ↑ نراقی، "جامع السعادات"، اعلمی، ج2، ص19۔
- ↑ مصطفوی، "شرح بر اصول الکافی"، ج4، ص2۔
- ↑ نراقی، "معراج السعادۃ"، ص328۔
- ↑ مصباح یزدی، "آذرخشی دیگر از آسمان کربلا"، ص112۔
- ↑ مصباح یزدی، "آذرخشی دیگر از آسمان کربلا"، ص112۔
- ↑ مصباح یزدی، "آذرخشی دیگر از آسمان کربلا"، ص112۔
- ↑ مصباح یزدی، "آذرخشی دیگر از آسمان کربلا"، ص112۔
- ↑ مصباح یزدی، «حب دنیا و راههای زدودن آن»، ص12۔
مآخذ
- ابنأبیالحدید، عبدالحمید بن ہبہاللہ، "شرح نہج البلاغہ"، تحقیق و تصحیح: محمد ابوالفضل ابراہیم، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
- ابنأبیالدنیا، عبداللہ بن محمد، "الزہد"، دمشق، دار ابنکثیر، 1999ء۔
- دیلمی، حسن بن محمد، "ارشاد القلوب إلی الصواب"، قم، الشریف الرضی، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، "الخصال"، تحقیق و تصحیح: علیاکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1362ہجری شمسی۔
- العثیمین، محمد بن صالح، "فتاوی نور علی الدرب"، بے مقام، مؤسسۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین الخیریۃ، 1900ء۔
- علامہ مجلسی، محمدباقر، "بحار الانوار"، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
- کرمی مقدسی، مرعی بن یوسف، "الفوائد الموضوعة فی الاحادیث الموضوعة"، تحقیق: محمد بن لطفی الصباغ، ریاض، دار الوراق، 1998ء۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، "الکافی"، تصحیح: علیاکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مصباح یزدی، محمدتقی، «حب دنیا و راه های زدودن آن» (دنیا کی محبت اور اس سے نجات کے طریقے)، پاسدار اسلام، شمارہ 199، جون 1998ء۔
- مصباح یزدی، محمدتقی، "آذرخشی دیگر از آسمان کربلا" (افق کربلا پر ایک اور بجلی کی چمک)، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوهشی امام خمینی، 1382ہجری شمسی۔
- مصطفوی، سید جواد، "شرح بر اصول کافی"، کلینی، محمد بن یعقوب، "اصول کافی"، مترجم: ہاشم رسولی، تہران، کتابفروشی علمیہ اسلامیہ، 1369ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر، "تفسیر نمونہ"، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- منسوب بہ امام صادق(ع)، "مصباح الشریعۃ"، اعلمی، بیروت، پہلی اشاعت، 1400ھ۔
- نراقی، ملا احمد، "معراج السعادۃ"، قم، ہجرت، چھٹی اشاعت، 1378ہجری شمسی۔
- نراقی، ملا محمدمہدی، "جامع السعادات"، بیروت، اعلمی، چوتھی اشاعت، بے تاریخ۔