مسودہ:جنگ بندی
| ویکی شیعہ میں مقالات «شیعہ نقطہ نظر» سے تحریر کئے جاتے ہیں، اس موضوع کے دیگر پہلوؤں سے آشنائی کے لئے دوسرے منابع کی طرف رجوع کریں۔ |
جنگ بندی یا مُہادَنہ، جنگ کو عارضی طور پر روکنے کے لئے ہونے والے معاہدے کو کہا جاتا ہے۔ اسلامی فقہ کی رو سے اگر مصلحت کا تقاضا ہو، مثلاً مسلمانوں کی عسکری کمزوری یا دشمن کے اسلام قبول کرنے کی امید، تو جنگ بندی جائز ہے۔ البتہ اس معاہدے کی مدت متعین ہونا ضروری ہے اور اس کی خلاف ورزی صرف اسی صورت میں جائز ہے جب وہ مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہو یا دشمن خود اس کی خلاف ورزی کرے۔
جنگ بندی کی تاریخی مثالوں میں غزوۂ بنی قریظہ، جنگ صفین، ایران عراق 8 سالہ جنگ، اسرائیل ایران بارہ روزہ جنگ اور جنگِ رمضان (ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ) شامل ہیں۔ جنگ بندی اور صلح میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جنگ بندی ایک عارضی معاہدہ ہوتا ہے، جبکہ صلح مستقل طور پر جنگ اور تنازع کے خاتمے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس بنا پر جنگ بندی میں کسی بھی وقت معاہدے کی خلاف ورزی کا امکان موجود ہوتا ہے، جبکہ صلح فریقین کے درمیان اختلافات کے مستقل خاتمے پر دلالت کرتی ہے۔
معینہ مدت کے لئے جنگ کا تعطل
جنگ بندی ایک ایسا معاہدہ ہے جو ایک معینہ مدت کے لئے خواہ کسی رعایت یا امتیاز کے بدلے یا اس کے بغیر، جنگ کو روکنے کی غرض سے منعقد کیا جاتا ہے۔[1] فقہی اصطلاح میں اسے مُہادَنہ بھی کہا جاتا ہے[2] اور جہاد سے متعلق فقہی ابواب[3] میں اس کے مستقل احکام بیان کئے گئے ہیں۔[4] اسی طرح بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے مباحث میں بھی جنگ بندی پر گفتگو کی جاتی ہے۔[5]
صلح اور جنگ بندی میں فرق
جنگ بندی، ترکِ مخاصمت اور صلح ایک دوسرے سے مختلف اصطلاحات ہیں۔ ترکِ مخاصمت جنگی کارروائیوں کا باضابطہ اور عموماً طویل المدت خاتمے کو کہا جاتا ہے،[6] اسی طرح جنگ بندی ایک عارضی معاہدہ ہوتا ہے البتہ اس کی خلاف ورزی کا امکان موجود رہتا ہے۔[7] جبکہ صلح جنگ کے مستقل خاتمے کو کہا جاتا ہے، جس میں نقصانات کے ازالے، سرحدوں کے تعین اور دیگر حتمی امور کا فیصلہ بھی کر دیا جاتا ہے۔[8]
مشروعیت اور فقہی احکام
شیعہ فقہاء کے نزدیک جنگ بندی صرف اس صورت میں جائز ہے جب اس میں مصلحت پائی جائے؛ مثلاً مسلمان عسکری لحاظ سے کمزور ہوں یا اس بات کی امید ہو کہ دشمن اسلام قبول کر لے۔[9] تاہم اگر مسلمان دشمن کا مقابلہ کرنے کی قدرت رکھتے ہوں تو جنگ بندی جائز نہیں۔[10] آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے مطابق مسلمان فقہاء جنگ بندی کے جواز پر اجماع رکھتے ہیں۔[11]
جنگ بندی کی مشروعیت کے اثبات میں سورہ انفال آیت نمبر 61،[12] سیرت نبوی میں مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ صلح کے معاہدے،[13] نیز امام علیؑ کی جانب سے مالک اشتر کو مصلحت کی صورت میں صلح قبول کرنے کی ہدایت سے استدلال کیا گیا ہے۔[14] امام علیؑ نے عہد نامہ مالک اشتر میں فرمایا ہے: "اگر دشمن تمہیں ایسے صلح نامے کی دعوت دے جس میں اللہ کی رضا ہو تو اسے رد نہ کرنا۔"[15]
فقہاء کے نزدیک جنگ بندی کی مدت کا معین ہونا ضروری ہے، ورنہ معاہدہ باطل ہوگا۔[16] مشہور فقہاء کے مطابق جنگ بندی کی مدت چار ماہ تک ہو سکتی ہے لیکن ایک سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔[17] تاہم چار ماہ سے زیادہ مدت تک اس میں توسیع کے امکان کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔[18] اسی طرح فقہاء کے نزدیک جنگ بندی کی خلاف ورزی صرف اسی صورت میں جائز ہے جب اس کا برقرار رہنا مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہو یا دشمن خود اس کی خلاف ورزی کر دے۔[19]
عالمِ اسلام میں جنگ بندی کی چند مثالیں
جنگِ بنی قریظہ میں جنگ بندی (5ھ): مسلمانوں کی جانب سے بنی قریظہ کے یہودیوں کے قلعوں کے محاصرے کے بعد انہوں نے ہتھیار ڈال کر جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جسے پیغمبر اکرمْ نے قبول فرمایا۔[20] جنگِ صفین میں جنگ بندی (37ھ): جنگ صفین میں معاویہ شکست کے قریب پہنچ چکا تھا کہ اس نے حکمیت اور جنگ بندی کی تجویز پیش کی۔[21] امام علیٌ کی جانب سے متنبہ کئے جانے کے باوجود آپ کے لشکر کے ایک گروہ نے جنگ بندی قبول کر لی، جس کے نتیجے میں جنگ رک گئی۔[22] ایران-عراق جنگ میں جنگ بندی (1367ھ ش): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 598 کی منظوری کے بعد[23] عراق نے فوراً اسے قبول کر لیا، جبکہ ایران نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت جنگ بندی قبول کی۔[24] ایران-اسرائیل بارہ روزہ جنگ میں جنگ بندی (جون 2025ء): اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات پر حملوں اور ایرانی افواج کے جوابی حملوں کے بعد اسرائیل کی درخواست اور ایران کی رضامندی سے 24 جون 2025ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی۔[25] جنگِ رمضان میں ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی (8 اپریل 2926ء سے): یہ جنگ بندی امریکہ کی درخواست پر عمل میں آئی۔[26]
تصنیفات
المُہادَنَۃ، آیت اللہ خامنہ ای کے فقہ کے درس خارج کی تقریرات پر مشتمل ایک رسالہ ہے، جس کا موضوع جنگ بندی ہے۔ یہ دروس 1990 سے 1995ء کے درمیان دیے گئے۔ یہ رسالہ دو دیگر رسائل کے ساتھ ثلاث رسائل فی الجہاد کے نام سے سن 2017ھ میں انقلاب اسلامی پبلیشرز کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔[27]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص292-293؛ فضل اللہ، کتاب الجہاد، 1418ھ، ص349۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص292؛ خامنہ ای، «مہادنہ (تنازعہ یا جنگ کو ختم کرنے کی قرارداد)»، ص5۔
- ↑ دیکھیے: نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص291۔
- ↑ مطہری، سیری در سیرۂ ائمہ اطہارٌ، 1390شمسی، ص68-69؛ جمعی از نویسندگان، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، 1382شمسی، ج1، ص104-105۔
- ↑ کاظمی، «جنگ بندی، ترک مخاصمت اور جنگ کے خاتمے کا مفہوم بین الاقوانی قوانین کی رو سے»، ص132-133۔
- ↑ نوروزی، «جنگ بندی کا مفہوم اور اس کے قانونی آثار»، ویب سائٹِ شبکۂ شرق۔
- ↑ نوروزی، «جنگ بندی کا مفہوم اور اس کے قانونی آثار»، ویب سائٹِ شبکۂ شرق۔
- ↑ نوروزی، «جنگ بندی کا مفہوم اور اس کے قانونی آثار»، ویب سائٹِ شبکۂ شرق۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص293۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص312؛ فضل اللہ، کتاب الجہاد، 1418ھ، ص351؛ روحانی، فقہ الصادق، 1392شمسی، ج19، ص114-115۔
- ↑ خامنہ ای، المہادنۃ، 1418ھ، ص2۔
- ↑ روحانی، فقہ الصادق، 1392شمسی، ج19، ص113۔
- ↑ روحانی، فقہ الصادق، 1392شمسی، ج19، ص114؛ خامنہ ای، مہادنہ (تنازعہ یا جنگ کو ختم کرنے کی قرارداد)، ص8۔
- ↑ خامنہ ای، مہادنہ (تنازعہ یا جنگ کو ختم کرنے کی قرارداد)، ص8۔
- ↑ سید رضی، نہج البلاغہ (صبحی صالح)، 1414ھ، نامہ 53، ص442۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص299۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج1، ص304؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج3، ص83؛ روحانی، فقہ الصادق، 1392شمسی، ج19، ص118۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، 1408ھ، ج1، ص304؛ شہید ثانی، مسالک الافہام، 1413ھ، ج3، ص84۔
- ↑ کاشف الغطاء، کشف الغطاء، 1422ھ، ج4، ص352؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص312۔
- ↑ نمونے کے طور پر ملاحظہ ہو: شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص110-111۔
- ↑ منقری، وقعۃ صفین، 1404ھ، ص478۔
- ↑ منقری، وقعۃ صفین، 1404ھ، ص478-479۔
- ↑ مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، اطلس جنگ ایران و عراھ، 1392شمسی، ص111۔
- ↑ ابوغزالہ، جنگ عراق و ایران، 1380شمسی، ص273 و 308۔
- ↑ «از میانجیگری ترامپ تا خودداری از حملہ بہ شہر قدس-اورشلیم»، ویب سائٹ عصر ایران۔
- ↑ «امریکہ ایران کے 10 نکاتی ایجنڈے کو قبول کرنے پر مجبور ہوا»، ایران کی سرکاری اطلاع رسانی ویب سائٹ۔
- ↑ «جہاد کے باب میں رہبر معظم انقلاب کے بیانات کا مجموعہ «ثلاث رسائل فی الجہاد» شایع ہوا، انتشارات انقلاب اسلامی۔
مآخذ
- ابوغزالہ، عبدالحلیم، جنگ عراق و ایران، مترجم نادر نوروزشاد، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1380ہجری شمسی۔
- جمعی از نویسندگان، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، قم، مؤسسہ دایرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1382ہجری شمسی۔
- خامنہ ای، سیدعلی، المہادنۃ، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، 1418ھ۔
- خامنہ ای، سیدعلی، « مہادنہ (مخاصمت اور جنگ کے خاتمے کی قرارداد)»، فقہ اہل بیتٌ، شمارہ 11 و 12، خزاں و سرما 1997ء–1998ء۔
- روحانی، سید محمدصادھ، فقہ الصادھ، قم، آیین دانشمسی، 1392ہجری شمسی۔
- سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ (صبحی صالح)، تحقیق: علی نقی فیض الاسلام، قم، ہجرت، چاپ اول، 1414ھ۔
- شہید ثانی، زین الدین بن علی، مسالک الافہام، قم، بنیاد معارف اسلامی، 1413ھ۔
- کاشف الغطاء، شیخ جعفر، کشف الغطاء عن مبہمات شریعۃ الغراء، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، 1422ھ۔
- کاظمی، علی اصغر، «جنگ بندی، ترک مخاصمت اور جنگ کے خاتمے کا مفہوم بین الاقوانی قوانین کی رو سے»، نشریہ حقوقی بین المللی، شمارہ 11، 1989ء۔
- فضل اللہ، سید محمدحسین، کتاب الجہاد، بیروت، دار الملاک للطباعۃ و النشر و التوزیع، 1418ھ۔
- منقری، نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، قم، کتابخانہ آیت اللہ العظمی مرعشی نجفی، 1404ھ۔
- مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، اطلس جنگ ایران و عراھ، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی، 1392ہجری شمسی۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، شرایع الاسلام، قم، انتشارات اسماعیلیان، 1408ھ۔
- مطہری، مرتضی، سیری در سیرہ ائمہ اطہارٌ، قم، انتشارات صدرا، 1390ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، چاپ ہفتم، 1362ہجری شمسی۔
- نوروزی، قدرت اللہ، «جنگ بندی کا مفہوم اور اس کے قانونی آثار»، سایت شبکہ شرھ، تاریخ درج مطلب: 25 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 4 جولائی 2025ء۔
- 12 روزہ اسرائیل-ایران جنگ کی خصوصیات/ ترامپ کی ثالثی سے شہر قدس اور یوروشلم پر حملے سے اجتناب»، عصر ایران تجزیاتی و خبری ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 26 جولائی 2025ء۔
- «جہاد کے باب میں رہبر معظم انقلاب کے بیانات کا مجموعہ «ثلاث رسائل فی الجہاد» شایع ہوا، انتشارات انقلاب اسلامی، تاریخ درج مطلب: 14 اگست 2021ء، تاریخ مشاہدہ: 12 اگست 2025ء۔
- «امریکہ ایران کے 10 نکاتی ایجنڈے کو قبول کرنے پر مجبور ہوا»، ایران سرکاری آفیشل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 8 اپریل 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 8 اپریل 2026ء۔