مندرجات کا رخ کریں

"ابو بکر مخزومی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
imported>E.musavi
imported>E.musavi
سطر 33: سطر 33:
==نام، نسب و شہرت==
==نام، نسب و شہرت==


ان کے نام و کنیت کے سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ [[تہذیب التہذیب]] کے مطابق، بعض نے ان کا نام محمد و کنیت ابو بکر و بعض دیگر نے نام ابو بکر و کنیت ابو عبد الرحمن ذکر کی ہے۔ [[ابن حجر عسقلانی]] کہتے ہیں: ان کا نام و کنیت دونوں ابو بکر ہے۔<ref> ابن حجر، تهذیب التهذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.</ref>  
ان کے نام و کنیت کے سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ [[تہذیب التہذیب]] کے مطابق، بعض نے ان کا نام محمد و کنیت ابو بکر و بعض دیگر نے نام ابو بکر و کنیت ابو عبد الرحمن ذکر کی ہے۔ [[ابن حجر عسقلانی]] کہتے ہیں: ان کا نام و کنیت دونوں ابو بکر ہے۔<ref> ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.</ref>  


منابع میں ان کے والد کا نام عبد الرحمن بن حارث،<ref> ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.</ref> حارث بن ہشام<ref> مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶.</ref> و حارث بن عبد الرحمن بن حارث نقل ہوا ہے۔ حارث بن ہشام، ابو جہل بن ہشام کا بھائی تھا۔     
منابع میں ان کے والد کا نام عبد الرحمن بن حارث،<ref> ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.</ref> حارث بن ہشام<ref> مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶.</ref> و حارث بن عبد الرحمن بن حارث نقل ہوا ہے۔ حارث بن ہشام، ابو جہل بن ہشام کا بھائی تھا۔     

نسخہ بمطابق 14:37، 30 مارچ 2019ء



ابوبکر مخزومی
ذاتی کوائف
نام:ابوبکر مخزومی
لقب:راہب قریش
نسب:بنی مخزوم
وفات:93 یا 94 یا سنہ 95 ہجری
مذہب:اہل سنت
صحابی:تابعی
حدیثی معلومات
مشایخ:ابو ہریرهعمار بن یاسرعایشہام سلمہ
وثاقت:ثقہ (اہل سنت کے یزدیک)
شہرت:فقہائے مدینہ، امام حسین علیہ السلام سے ملاقات و گفتگو


ابوبکر مخزومی (متوفی 93۔95 ھ) راہب قریش کے نام سے مشہور، مدینہ کے سات تابعین و فقہاء میں سے تھے۔ انہوں نے مکہ میں امام حسین (ع) سے ملاقات کی اور آپ سے درخواست کی کہ وہ کوفہ نہ جائیں۔

ولادت و وفات

ابو بکر مخزومی مدینہ کے سات فقہاء و قریش کے بزرگان میں سے تھے۔ عمر بن خطاب کی خلافت میں ان کی ولادت ہوئی اور انہوں نے سنہ 93 یا 94 یا سنہ 95 ہجری میں وفات پائی۔[1]

نام، نسب و شہرت

ان کے نام و کنیت کے سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ تہذیب التہذیب کے مطابق، بعض نے ان کا نام محمد و کنیت ابو بکر و بعض دیگر نے نام ابو بکر و کنیت ابو عبد الرحمن ذکر کی ہے۔ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: ان کا نام و کنیت دونوں ابو بکر ہے۔[2]

منابع میں ان کے والد کا نام عبد الرحمن بن حارث،[3] حارث بن ہشام[4] و حارث بن عبد الرحمن بن حارث نقل ہوا ہے۔ حارث بن ہشام، ابو جہل بن ہشام کا بھائی تھا۔

قبیلہ بنی مخزوم سے منسوب ہونے کی وجہ سے ابو بکر مخزومی کے نام سے مشہور ہیں اور اسی طرح سے ابن حجر کے بقول زیادہ نماز پڑھنے کی وجہ سے لوگ انہیں راہب قریش کہا کرتے تھے۔[5]

امام حسین (ع) سے ملاقات

ابو بکر مخزومی کا شمار ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مکہ میں امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی اور خیر خواہی کے عنوان سے امام سے درخواست کی کہ وہ کوفہ نہ جائیں۔ انہوں نے اس خیر خواہی و نصیحت کا مقصد امام سے اپنی قرابت کو بیان کیا اور امام (ع) سے ان کے والد امام علی (ع) اور بھائی امام حسن (ع) کے ساتھ اہل کوفہ کی بے وفائی کا تذکرہ کیا۔ امام حسین نے اس خیر خواہی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ مسعودی نے ان کے و امام حسین کے درمیان ہونے والی گفتگو کے الفاظ کو نقل کیا ہے۔[6]

روایت

ابوبکر مخزومی کا شمار اہل سنت روات حدیث میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے والد، ابو ہریره، عمار بن یاسر، نوفل بن معاویہ، عایشہ، ام سلمہ، ام معقل اسدی، عبد الرحمن بن مطیع، ابی‌ مسعود انصاری وغیرہ سے روایت نقل کرتے ہیں۔ اسی طرح سے زہری، عمر بن عبد العزیز و حکم بن عتیبہ جیسے راویوں نے ان سے روایت نقل کی ہیں۔ ان کی روایات اہل سنت کے مصادر میں نقل ہوئی ہیں اور بعض اہل سنت علمائے رجال نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابن حجر کی گزارش کے مطابق، ابن حبان نے ان کا شمار ثقہ افراد میں کیا ہے۔[7] لیکن شیعہ منابع میں فقط ان کی امام حسین علیہ السلام سے گفتگو نقل ہوئی ہے۔[8]

حوالہ جات

  1. ابن حجر، تہذیب التہذیب ج۱۲، ص۲۸.
  2. ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  3. ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  4. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶.
  5. ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  6. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶.
  7. ابن حجر، تہذیب التهذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  8. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶؛ قرشی، زندگانی حضرت امام حسین علیہ السلام، ج۳، ۱۴۲۲ق، ص۳۴-۳۵.

مآخذ

  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، بیروت، دار الفکر للطباعہ و النشر و التوزیع، ۱۴۰۴ھ /۱۹۸۴ ء
  • قرشی، باقر شریف، زندگانی حضرت امام حسین علیہ السلام، ترجمہ: سید حسین محفوظی، بنیاد معارف اسلامی، قم، ۱۴۲۲ ھ-۱۳۸۰ ء
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب و معادن الجوہر، تحقیق: اسعد داغر، قم، دار الہجرہ، ۱۴۰۹ ھ