زرتشتی عالم سے امام رضا کا مناظرہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔ اس مناظرہ میں زرتشتی عالم ان خبروں کو پیش کرتا ہے جو زرتشت کے معجزات کے طور پر ان تک پہنچیں ہیں اور جنہیں وہ زرتشت کی نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ امام (ع) اسی دلیل کو دوسرے انبیائ کی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے دلیل بناتے ہیں اور زرتشتی عالم لا جواب ہو جاتا ہے۔

مناظرہ

مامون عباسی کے ذریعہ امام علی رضا علیہ السلام اور دوسرے ادیان و مذاہب کے علمائ و بزرگان کے درمیان ہونے والے مناظرات میں سے ایک مناظرہ میں امام زرتشتی عالم سے زرتشت کی نبوت کی دلیل کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:

زرتشت کے نبی ہونے کے سلسلہ میں آپ کی دلیل کیا ہے؟

زرتشتی عالم نے جواب دیا کہ زرتشت نے وہ معجزات انجام دیئے جو ان سے پہلے کسی نے انجام نہیں دیئے۔ البتہ ہم نے انہیں نہیں دیکھا ہے لیکن ہمارے بزرگوں نے اس بارے میں ہمیں خبریں دی ہیں کہ انہوں نے ہمارے لئے ان چیزوں کو حلال کیا ہے جو دوسروں نے حلال نہیں کیا تھا۔ لہذا ہم ان کی پیروی کرتے ہیں۔

امام (ع) نے فرمایا:

کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ ان خبروں کی وجہ سے ان کی پیروی کرتے ہیں کہ جو آپ تک پہنچیں ہیں۔

عالم نے جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔

امام (ع) نے فرمایا:

گذشتہ ساری امتوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ انبیائ کے معجزات کے سلسلہ میں نقل ہونے والی خبریں، حضرت موسی، حضرت عیسی اور حضرت محمد صلوات اللہ علیہم کے معجزات بھی ان کی امتوں تک پہنچے ہیں۔ تو پھر کیا سبب ہے کہ آپ ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے؟ جبکہ آپ ان متعدد اور یقین آور خبروں کی بنیاد پر کہ جو معجزات زرتشت لیکر آئے ہیں اور دوسرے انبیائ نہیں لائے ان کے اوپر ایمان لائے ہیں؟ زرتشتی عالم امام کی اس دلیل کے جواب میں خاموش ہو گئے۔[1] [2]

حوالہ

  1. طبرسی، احمد بن علی، احتجاج، ج۲، ص ۴۲۴ش
  2. ثُمَّ دَعَا (ع) بِالْهِرْبِذِ الْأَکبَرِ فَقَالَ لَهُ الرِّضَا (ع) أَخْبِرْنِی عَنْ زَرْدَهُشْتَ الَّذِی تَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِی مَا حُجَّتُک عَلَی نُبُوَّتِهِ قَالَ إِنَّهُ أَتَی بِمَا لَمْ یأْتِنَا أَحَدٌ قَبْلَهُ وَ لَمْ نَشْهَدْهُ وَ لَکنَّ الْأَخْبَارَ مِنْ أَسْلَافِنَا وَرَدَتْ عَلَینَا بِأَنَّهُ أَحَلَّ لَنَا مَا لَمْ یحِلَّهُ غَیرُهُ فَاتَّبَعْنَاهُ قَالَ أَفَلَیسَ إِنَّمَا أَتَتْکمُ الْأَخْبَارُ فَاتَّبَعْتُمُوهُ قَالَ بَلَی قَالَ فَکذَلِک سَائِرُ الْأُمَمِ السَّالِفَةِ أَتَتْهُمُ الْأَخْبَارُ بِمَا أَتَی بِهِ النَّبِیونَ وَ أَتَی بِهِ مُوسَی وَ عِیسَی وَ مُحَمَّدٌ فَمَا عُذْرُکمْ فِی تَرْک الْإِقْرَارِ لَهُمْ إِذْ کنْتُمْ إِنَّمَا أَقْرَرْتُمْ بِزَرْدَهُشْتَ مِنْ قِبَلِ الْأَخْبَارِ الْمُتَوَاتِرَةِ بِأَنَّهُ جَاءَ بِمَا لَمْ یجِئْ بِهِ غَیرُهُ فَانْقَطَعَ الْهِرْبِذُ مَکانَه


منابع

طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، ج۲، تصحیح محمد باقر موسوی خرسان، مشہد: نشر المرتضی، ۱۴۰۳ ق.