معاد جسمانی

ویکی شیعہ سے
(جسمانی معاد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحید توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام  • اعجاز • عدم تحریف قرآن
امامت
اعتقادات عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبتمہدویتانتظار فرجظہور • رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان
اہم مسائل
اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت


معاد جسمانی کا معنی قیامت کے دن انسانی روح اور جسم دونوں کا ایک ساتھ ہونا ہے۔ یہ عقیدہ تمام اسلامی فرقوں کا متفقہ اور مورد اتفاق اعتقادات میں سے ہے۔ لیکن اس کی خصوصیات اور اس کے تحقق پانے کی کیفیت میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ متکلمین معتقد ہیں کہ قیامت کے دن ہم اسی دنیاوی بدن کے ساتھ محشور ہونگے۔ ظواہر قرآن و سنت کی حجیت اس نظریے کے اثباتی دلائی میں سے ہے فلاسفہ عقلی طور پر معاد کو قابل اثبات نہیں سمجھتے لیکن مثالی اور ہورقلیایی جسم کے ساتھ معاد جسمانی کے قائل ہیں۔ فلاسفہ ان دلائل کی ظواہر پر اعتقاد رکھنے کو عقلا صحیح نہیں سمجھتے اسی بنا پر ملاصدرا نے ظواہر ادلہ معاد اور فلاسفہ کے نقطہ نگاہ کے درمیان موجود تعارض کو حل کرنے کیلئے جسم مثالی کے ساتھ معاد جسمانی کا نظریہ پیش کیا۔

مفہوم شناسی

كلمہ "معاد" لغت میں متعدد معانی میں رکھتا ہے منجملہ: لوٹنا، رد کرنا، پلٹانا، لوٹنے کی جگہ، دوسرا عالم، قیامت اور معاش کا متضاد وغیرہ ہیں۔ [1]

متکلمین کی اصطلاح میں معاد کا معنی محشور کرنا اور دوبارہ زندگی دینے کے ہیں اور یہ دو طرح سے قابل تصور ہے: جسمانى اور روحانى۔ علم کلام کی رو سے معاد جسمانی دین کے ضروریات میں سے ہے اور اس کا انکار موجب کفر ہے۔[2] اس نظریے کے مطابق انسان جسم اور روح سے مرکب ہے۔ انسان اس دنیاوی عمر کے خاتمے کے ساتھ عالم برزخ میں منتقل ہوتا ہے اور جب قیامت برپا ہوتی ہے تو ایک بار پھر اسی جسم اور روح کے ساتھ اپنے اعمال کی حساب و کتاب دینے کیلئے خدا کے حضور محشور ہونگے۔ نیکوکار بہشت میں نعمات سے لطف اندوز ہونگے جبکہ گناہکار کو اپنے کئے کی سزا بگتنا پڑے گا۔[3]

نظریات

معاد جسمانی سے متعلق متعدد نظریات پیش کی گئی ہیں۔ بعض اس کی منکر ہیں اور بعض اسے قبول کرتے ہیں لیکن یہ گروہ اس کے تحقق پانے کی کیفیت کو مختلف صورتوں میں بیان کیا ہے ذیل میں انہیں اختصار سے بیان کیا جاتا ہے:

الف. روح کا اسی مادی بدن میں پلٹ آنا: متکلمین آیات و روایات کی ظواہر کی حجیت کی بنا پر معتقد ہیں کہ قیامت کے دن انسان اسی دنیاوی بدن یا اس سے ملتے جلتے جسم اور روح کے ساتھ محشور ہوں گے۔[4]
ب. روح کا بدن مثالی کے ساتھ آنا: ملاصدرا نے ادلہ نقلی اور مبانی فلسفی کے درمیان تعارض کو ختم کرنے کیلئے ایک جدید نظریہ پیش کیا۔ ان کے مطابق جب انسان کی روح اس مادی بدن سے جدا ہوتی ہے تو عالم برزخ اور قیامت سے متناسب ایک جسم اور بدن اپنا لیتی ہے جو ہر لحاظ سے اس مادی بدن کی طرح ہو ہوتا ہے۔ یہ بدن اس مادی بدن کی طرح ہے نہ وہی بدن۔ اگرچہ یہ بدن بعض مادی خصوصیات کا حامل ہے لیکن مادی نہیں ہے اسی وجہ سے اس کا کوئی حجم وغیرہ نہیں ہوتا۔[5]
ج.بدن عنصری کا روح مجرد کی طرف لوٹ آنا: حکمت متعالیہ کے قائلین جیسے آقاعلی زنوزی معتقد ہیں کہ ملا صدرا کے نظریے کے برخلاف، قیامت کے دن بدن روح کے ذریعے وجود میں نہیں آتا بلکہ انسان کا یہ مادی بدن روح سے جدا ہونے کے بعد اپنی حرکت جاری رکھتے ہوئے ہمیشہ کمال کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ یہ جوہری حرکت اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک دوبارہ روح اس کی طرف پلٹ آنے اور عالم قیامت میں حضور پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو۔ بنابراین "معاد" میں روح بدن مادی کی طرف پلت نہیں آتی بلکہ یہ بدن ہے جو اپنی جوہری حرکت کے ذریعے کمال کی منزلوں کو طے کرتے ہوئے اس قابل ہو جاتا ہے کہ روح دوبارہ اس کے ساتھ تعلق پکڑتی ہے۔[6]
د. معاد جسمانی تکامل یافتہ بدن عنصری کے ساتھ: حکمت متعالیہ کے بعض دیگر قائلین جیسے سید ابوالحسن رفیعی قزوینی ملاصدرا کے نظریے اور ظواہر آیات و روایات میں تعارض کا قائل ہوتے ہوئے ایک اور نظریہ پیش کیا ہے۔ اس کے مطابق روح انسانی بدن مادی سے جدا ہونے کے بعد عالم برزخ میں بدن مثالی کے ساتھ تعلق پکڑتا ہے۔ اس کے بعد جب مادی بدن کے عناصر میں طبیعی تکامل کی وجہ سے عالم قیامت میں حضور پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے تو اس وقت معاد جسمانی متحقق ہوتا ہے۔ یہ اخروی بدن بھی اگرچہ مادہ ہی سے وجود میں آیا ہے لیکن تدریجی تکامل کے ذریعے عالم آخرت کے ساتھ تناسب پیدا کی ہے اور دوبارہ روح اس کے ساتھ تعلق پکڑ سکتی ہے۔[7]
ہ.معاد جسمانی بدن ہورقلیایی کے ساتھ: فرقہ شیخیہ کے بانی شیخ احمد احسایی کے پیش کردہ نظریہ کے مطابق انسان کے دو جسم یا بدن ہیں۔ بدن اول وہی مادی بدن ہے جو قبر میں مٹی میں تبدیل ہو کر نابود ہو جاتا ہے۔ دوسرا بدن دوم جو ظاہری آنکھوں کے ساتھ قابل مشاہدہ نہیں ہوتا یہ وہی حقیقت ہے جو احادیث کی روشنی میں قبر میں بغیر کسی تغییر کے باقی رہتا ہے۔ موت کے ساتھ روح مادی بدن سے جدا ہو کر دوسرے بدن کے ساتھ تعلق پکڑتی ہے۔ جب قیامت برپا ہوتی ہے تو انسان اسی دوسرے بدن کے ساتھ محشور ہوتا ہے اور اسی بدن کے ساتھ بشہت یا جہنم میں چلا جاتا ہے۔ [8]

اختلاف کی وجوہات

درج بالا نظریات میں سے بعض کا ایک دوسرے سے اختلاف ان اعتراضات اور شبہات کی طرف لوٹتی ہیں جو جسم عنصری کے ساتھ معاد جسمانی پر کی جاتی ہیں۔ بعض حضرات ان اعتراضات اور شبہات کو جسم عنصری کا موت کے بعد واپس نہ آنے کی یقینی اور قطعی دلیل قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بعض انہیں معاد جسم عنصری کی راہ میں مانع نہیں جانتے ہیں۔ ان اعتراضات اور شبہات میں سے بعد عقلی اور بعض نقلی ہیں۔ معاد جسمانی پر وارد بعض اعتراضات درج یوں ہیں: اعادہ معدوم کا ممتنع ہونا، شبہہ آکل و ماکول اور تناسخ کا ممتنع ہونا وغیرہ۔[9]

اس اختلاف کا دوسرا عامل انسان کی حقیقت کے بارے میں اختلاف نظر ہے۔ اسی وجہ سے بعض حضرات جو انسان کیلئے نفس ناطقہ کے قائل ہیں جیسے فلاسفہ الہیہ، صرف معاد روحانی کو قبول کرتے ہیں۔ جبکہ حضرات انسان کیلئے نفس ناطقہ کے منکر ہیں جیسے متکلمین وہ صرف معاد جسمانی کے قائل ہیں۔ لیکن انہی منکرین نفس ناطقہ میں سے بعض حضرات جیسے مادہ پرست (ملحد) جو انسان کی حقیقت کو صرف اور صرف مادی جسم جانتے ہیں، معاد جسمانی اور روحانی دونوں کے منکر ہیں۔

معاد جسمانی کو ثابت کرنے والے آیات

معاد جسمانی کو ثابت کرنے کیلئے قرآن کی تین آیات کا سہارا لے سکتے ہیں جو مختلف مردوں کے زندہ ہونے کو بیان کرتی ہیں۔ عزیر پیغمبر کا قصہ،[10] حضرت ابراہیم کے حکم سے پرندوں کا زندہ ہونا،[11] اور بنی‌اسرائیل کے ایک شخص کا زندہ ہونا،[12] منجملہ ان موارد میں سے ہیں جن میں اسی دنیا میں مردوں کے زندہ ہونے کو بیان کرتی ہیس جو معاد جسمانی پر واضح دلیل ہے۔

اس کے علاوہ وہ آیات جو زمین یا قبر سے مردوں کے نکلنے کے اوپر دلالت کرتی ہیں جیسے سورہ اعراف کی آیت نمیر ۲۴ و ۲۵ اور سورہ مریم کی آیات ۶۶ سے ۶۸ تک۔ اسی طرح وہ آیات جو قیامت کے دن انسانوں کا قبر سے اٹھائے جانے پر دلالت کرتے ہیں سورہ حج کی آیت نمیر 7 اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

کیفیت معاد جسم عنصری

آیات و روایات کی روشنی میں معاد جسمانی کی تبیین چند نکات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے:

  • ظواہر ادلہ کے مطابق بدن مادی اور جسم عنصری اپنی اصلی اجزا کے ساتھ قیامت میں محشور ہوتا ہے۔
  • بدن اخروی بدن مادی کا شبیہ ہے نہ بعنیہ وہی مادی بدن اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ۔

احادیث کے مطابق جو چیز بھی مٹی میں تبدیل ہوتی ہے یا جیوانات کی خوراک بنتی ہے وہ زمین میں محفوظ رہتی ہے اور خدا کے علم سے مخفی نہیں ہے۔ مٹی کے یہ ذرات قیامت کے دن انسانوں کو زندہ کرنے کے موقع پر جمع ہو کر خدا کے اذن سے اس جگہ منتقل ہوتی ہیں جہاں روح موجود ہوتی ہے اور وہاں پہنچ کر دوبارہ انسانی شکل اختیار کرتی ہے اور روح اس میں دوبارہ پلت آتی ہے۔[13] بعض دیکر احادیث میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ موت کے بعض اگرچہ انسانوں کے گوشت اور ہڈیاں مٹی میں تبدیل ہوتی ہیں لیکن انسان کی طینت اور اس کا اصلی جز جس سے انسان وجود میں آیا ہے ابھی بھی باقی رہتا ہے اور کسی بھی وقت نابود نہیں ہوتا یہاں تک پہلی مرتیہ کی طرح دوبارہ زندہ کئے جائیں۔ [14]

حوالہ جات

  1. دہخدا،‌ لغت‌نامہ، ذیل کلمہ «معاد».
  2. المعاد فی الکتاب و السّنۃ، ۲۲۷- ۲۲۳؛ القول السّدید فی شرح التّجرید، ۳۸۴؛ معاد از دیدگاہ قرآن، حدیث، فلسفہ، ۱۸۸۸
  3. فرہنگ شیعہ، ص: ۴۱۳
  4. حلی، باب حادی عشر، ص۲۰۷؛ فخر رازی، تفسیر کبیر، ج۲، ص۵۵
  5. ملاصدرا، اسفار اربعہ، ج۹، ص۱۸۹-۲۰۰
  6. کدیور،مجموعہ مصنفات حکیم موسس، ج۲، ص۹۳
  7. رفیعی قزوینی، غوصی در بحر معرفت، ص۱۶۶
  8. احسایی، شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرہ، ج۴، ص۴۵-۵۱؛ احسایی، شرح العرشیہ، ص۱۹۸-۱۹۱
  9. حلی، کشف‌المراد، ص۴۰۰-۴۰۷
  10. بقرہ: ۲۵۹
  11. بقرہ:۲۶۰
  12. بقرہ: ۷۲و۷۳
  13. مشہدی، ۱۴۱۳ق، ج۱۱، ص۱۰۰ و۱۰۱
  14. مجلسی، بحارالانوار، ج۷، ص۴۳


مآخذ

  • قرآن کریم؛
  • محمدی گیلانی، محمد، المعاد فی الکتاب و السنہ، تہران، ۱۳۷۹ش؛
  • حسینی شیرازی، محمد مہدی، القول السدید في شرح التجرید طوسی، نجف، مطبعہ آداب؛
  • ربانی نقابی میانجی، حسین، معاد از دیدگاہ قرآن، حدیث و فلسفہ، قم، خیام، ۱۳۶۰ش؛
  • جمعی از نویسندگان، فرہنگ شیعہ، قم، زمزم ہدایت، ۱۳۸۶ش، چاپ دوم؛
  • حلی، حسن بن یوسف، الباب الحادی عشر، تہران، موسسہ مطالعات اسلامی،
  • فخر رازی، تفسیر کبیر، بیروت، دارالکتب العلمیہ-احیاءتراث عربی؛
  • ملاصدرا، صدرالدین محمد، الحکمہ المتعالیہ فی الاسفار العقلیہ الاربعہ، چ سوم، بیروت، دارالاحیاءالتراث‌العربی، ۱۹۸۱؛
  • رفیعی قزوینی، سیدابوالحسن، غوصی در بحر معرفت، تہران، اسلام،۱۳۷۶؛
  • کدیور، محسن، مجموعہ مصنفات حکیم موسس آقا علی مدرس طہرانی، تہران، موسسہ اطلاعات، ۱۳۷۸ش؛
  • احسایی، احمد، شرح الزیارہ الجامعہ الکبیرہ، بی‌جا، مکتبہ‌العذراء، ۱۴۲۴؛
  • احسایی، احمد، شرح العرشیہ، کرمان، سعادت، ۱۳۶۱؛
  • حلی، حسن‌بن یوسف، کشف المراد فی تجریدالاعتقاد، قم، موسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۰۴ق؛
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، موسسہ الوفاء، ۱۴۰۴؛