مسودہ:مثلی لا یبایع مثلہ
| حدیث کے کوائف | |
|---|---|
| موضوع | ظالموں اور کفار کی بیعت نہ کرنا |
| صادر از | امام حسینؑ |
| شیعہ مآخذ | لہوف اور مثیر الاحزان |
| اہل سنت مآخذ | مقتل خوارزمی |
| مشہور احادیث | |
| حدیث سلسلۃ الذہب • حدیث ثقلین • حدیث کساء • مقبولہ عمر بن حنظلۃ • حدیث قرب نوافل • حدیث معراج • حدیث ولایت • حدیث وصایت • حدیث جنود عقل و جہل • حدیث شجرہ | |
مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَہ (یعنی: مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کرتا) امام حسینؑ کا ایک مشہور جملہ ہے جو آپؑ نے مروان بن حکم کو مخاطب قرار دے کر کہا جسے یزید نے امام حسینؑ سے اپنی بیعت لینے کے لئے بھیجا تھا۔[1] تاریخی مصادر کے مطابق معاویہ کی وفات کے بعد یزید نے مدینہ کے والی کو حکم دیا کہ وہ امام حسینؑ سے میری بیعت لے، لیکن امامؑ نے اس کی درخواست مسترد کر دی۔ اس کے بعد مروان بن حکم نے دھمکی دے کر امام حسینؑ سے بیعت طلب کی تو امامؑ نے جواب میں یہ جملہ فرمایا: «مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَہ»۔[2]
شیعہ فقیہ آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق روایت «مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَہ» حق و باطل کے درمیان دائمی تقابل کو بیان کرتی ہے۔[3] ان کے بقول جو شخص بھی امام حسینؑ کے نقش قدم پر زندگی بسر کرنا چاہتا ہے وہ ظالموں سے سازش نہیں کرتا،[4] طاغوتی حکومت کو قبول نہیں کرتا اور ذلت و پستی کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتا۔[5]
آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اسلامی جمہوریہ ایران کے دوسرے رہبر، نے اپنی شہادت سے پہلے اپنی آخری تقریر میں اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام اس اعلیٰ تہذیب، ثقافت اور معارف کے ساتھ کبھی بھی امریکہ کے فاسد حکمرانوں کی بیعت نہیں کریں گے۔[6]
روایت «مِثْلِی لَا يُبَايِعُ مِثْلَہ» متعدد مصادر جیسے الفتوح،[7] مقتل خوارزمی،[8] مثیر الاحزان[9] اور لہوف[10] میں ذکر ہوئی ہے۔
بعض اہل سنت مصادر میں اس جملے کے بجائے «انَّ مِثْلی لا يُبايِعُ سِرّا» (بے شک مجھ جیسا خفیہ بیعت نہیں کرتا) کی عبارت آئی ہے۔[11]
حوالہ جات
- ↑ خوارزمى، مقتل الحسین، 1423ھ، ج1، ص267۔
- ↑ خوارزمى، مقتل الحسین، 1423ھ، ج1، ص267۔
- ↑ جوادی آملی، حماسہ و عرفان، 2005ء، ص174۔ (1384ش بمطابق 2005ء)
- ↑ جوادی آملی، شکوفایی عقل، 2009ء، ص197۔ (1388ش بمطابق 2009ء)
- ↑ جوادی آملی، سروش ہدایت، اسراء، ج2، ص204۔
- ↑ خامنہ ای، «آذربایجان شرقی کے عوام سے ملاقات کے موقع پر»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای۔
- ↑ ابناعثم، الفتوح، 1411ھ، ج5، ص14۔
- ↑ خوارزمى، مقتل الحسین، 1423ھ، ج1، ص267۔
- ↑ ابننما حلى، مثیر الأحزان، 1406ھ، ص24۔
- ↑ ابنطاووس، اللہوف، 1969ء، ص23۔ (1348ش بمطابق 1969ء)
- ↑ مثال کے طور پر دیکھیے: بلاذری، انساب الأشراف، 1400ھ، ج5، ص302؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج1، ص396؛ ابناثیر، الکامل، 1385ھ، ج4، ص15۔
مآخذ
- ابناثیر، على بن ابى الکرم، الکامل فی التاریخ ، بیروت، دار صادر، 1385ھ۔
- ابناعثم، احمد، الفتوح، تحقیق على شیرى، بیروت، دارالأضواء، پہلی اشاعت، 1411ھ۔
- ابننما حلى، جعفر بن محمد، مثیر الأحزان، تحقیق مدرسہ امام مہدى(ع)، قم، مدرسہ امام مہدى(ع)، تیسری اشاعت، 1406ھ۔
- ابنطاووس، على بن موسى، اللہوف على قتلى الطفوف، ترجمہ احمد فہرى زنجانى، تہران، نشر جہان، پہلی اشاعت، 1348ہجری شمسی۔
- ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فى معرفۃ الأصحاب، تحقیق على محمد البجاوى، بیروت، دار الجیل، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
- بلاذری، أحمد بن یحیى، انساب الأشراف، تحقیق احسان عباس، بیروت، جمعیۃ المستشرقین الألمانیۃ، 1400ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، حماسہ و عرفان، تحقیق محمد صفایی، قم، اسراء، آٹھویں اشاعت، 1384ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، سروش ہدایت، قم، اسراء، پانچویں اشاعت، بیتا۔
- جوادی آملی، عبداللہ، شکوفایی عقل در پرتو نہضت حسینی، تحقیق سعید بندعلی، قم، اسراء، پانچویں اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
- خامنہای، «آذربایجان شرقی کے عوام سے ملاقات کے موقع پر»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای، تاریخ درج مطلب: 17 فروری 2026ء، تاریخ مشاہدہ: 18 مارچ 2026ء۔
- خوارزمى، موفق بن احمد، مقتل الحسین علیہ السلام، قم، انوار الہدى، دوسری اشاعت، 1423ھ۔