مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:ناجائز تعلقات

ویکی شیعہ سے

ناجائز تعلقات سے مراد وہ تعلقات ہیں جو کسی شخص اور اس کی غیر منکوحہ کے درمیان جنسی لذت کی نیت سے قائم کیے جائیں۔ اسلامی فقہ کے مطابق، بیوی اور کنیز کے علاوہ کسی دوسرے انسان یا حیوان سے، خواہ وہ ہم جنس ہو یا مخالف جنس، محرم ہو یا نامحرم، کسی بھی قسم کا استمتاع (لذت حاصل کرنا) ناجائز اور حرام عمل ہے۔ بعض صورتوں میں اسے کبیرہ گناہ بھی شمار کیا جاتا ہے۔ زنا اور لواط جیسے گناہوں کے علاوہ، جن کی شرعی حد مقرر ہے، دیگر حرکات جیسے بغل گیری، بوسہ دینا، شہوت آمیز نگاہیں، اور کوئی بھی ایسا تعلق جو جنسی تعلق کی راہ ہموار کرے، بھی ناجائز تعلقات میں شمار ہوتے ہیں۔ ناجائز تعلقات محض جسمانی رابطے تک محدود نہیں، بلکہ اس میں خلوت (اکیلے میں ملنا)، پیغام رسانی اور مجازی فضا (سائبر اسپیس) میں قائم کیے جانے والے تعلقات بھی شامل ہیں۔ اسلامی فقہ میں ایسے ناجائز تعلقات جو زنا کی حد تک تک نہ پہنچیں، کے لیے 99 کوڑوں تک کی تعزیری سزا مقرر کی گئی ہے۔

محققین نے ناجائز تعلقات کے متعدد سماجی اسباب و عوامل بیان کیے ہیں؛ جن میں ذہنی سکون میں کمی، طلاق اور خاندانی نظام میں خلل، شادی کی شرح میں کمی، اسقاط حمل اور دینی عقائد میں کمزوری شامل ہیں۔

اہمیت

ناجائز تعلقات اور غیرشائستہ عمل (خلافِ عفت عمل) سے مراد کسی شخص کا اپنی غیر زوجہ سے جنسی استفادہ کرنا ہے، جو زنا کے درجے تک نہ پہنچے۔ یہ عمل فقہی طور پر حرام اور قانونی طور پر جرم ہے، جس کی شریعت اسلام میں سزا مقرر کی گئی ہے۔[1] اسلام میں ایسے تعلقات گناہ شمار ہوتے ہیں اور بعض کبیرہ گناہوں میں شامل ہیں۔[2] اسلامی فقہ میں زنا سے کم تر ناجائز تعلقات؛ جس میں بوسہ دینا اور نامحرم کے ساتھ ہم خوابگی وغیرہ شامل ہیں؛ کے لیے تعزیری سزا مقررکی گئی ہے[3] جو ایران کے اسلامی قانونِ سزا میں 99 کوڑوں تک طے کی گئی ہے۔[4]

اسی طرح قرآن کی بعض آیات مثلاً سور انعام کی آیت نمبر 151، سورہ نحل کی آیت نمبر 90، سورہ اعراف کی آیت نمبر 33 وغیرہ؛ جن میں مسلمانوں کو بُرے کاموں (فواحش) سے روکا گیا ہے، انہیں ناجائز جنسی تعلقات کی تمام صورتوں؛ زنا، لواط، مساحقہ سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔[5]

ناجائز تعلقات کے برے اثرات

محققین نے ناجائز تعلقات کے متعدد انفرادی اور سماجی برے اثرات شمار کیے ہیں، جیسے عائلی زندگی کی بنیادوں کا کمزور ہونا اور ان کے بقا کو خطرہ، معاشرے میں منکرات اور سماجی برائیوں کا پھیلنا۔[6] ناصر مکارم شیرازی کے مطابق، ناجائز تعلقات میں اضافہ کی وجہ سے شادی کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے۔[7] شیعہ مفکر اسلام مرتضی مطہری کا کہنا ہے کہ ناجائز تعلقات کا رواج شادی کی حیثیت کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ اسے انفرادی آزادی کی راہ میں رکاوٹ سمجھے جانےکا باعث بنتا ہے۔[8]

ذہنی سکون میں کمی[9] اسقاط حمل،[10] ناجائز اولاد میں اضافہ،[11] تعلیمی زوال، نوجوانوں کی صلاحیتوں کی بربادی، دینی عقائد کا کمزور ہونا اور روحانیت و معنویت کی طرف رجحان میں کمی[12] ناجائز تعلقات کے دوسرے برے اثرات شمار ہوتے ہیں۔

مفہوم شناسی

ناجائز تعلقات زنا کی نسبت ایک وسیع مفہوم ہیں جس میں ہر قسم کا شرعی دائرہ سے باہر تعلق شامل ہے جو حد جماع تک نہ پہنچے۔[13] تاہم محققین کے مطابق، یہ اصطلاح اسلامی فقہ میں ایک الگ عنوان کے طور پر استعمال نہیں ہوئی ہے[14] اور ایران کے جزائی قوانین اور بعض مشابہ حقوقی نظاموں میں بھی اس کی واضح تعریف بیان نہیں ہوئی ہے بلکہ صرف اس کی مثالیں اور سزائیں بیان کی گئی ہیں۔[15]

اسلام میں ہر وہ عمل جس کی آیات یا روایات کی رو سے حرمت ثابت ہو، ناجائز تعلقات کے زمرے میں آتا ہے، اسی لیے ہم جنس کے درمیان جنسی تعلق بھی ناجائز ہے۔[16] بعض شیعہ فقہاء بشمول لطف اللہ صافی گلپائیگانی، سید محمد علی علوی گرگانی، ناصر مکارم شیرازی ناجائز تعلقات کو ہر وہ فساد انگیز جنسی تعلق قرار دیتے ہیں جس میں جنسی لذت کا قصد ہو یا اس کا پیش خیمہ ہو؛[17] اس تعریف کے مطابق، ناجائز تعلق صرف جسمانی رابطے تک محدود نہیں بلکہ عاشقانہ پیغام رسانی وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔[18] اس کے برعکس بعض شیعہ مراجع تقلید جیسے سید موسی شبیری زنجانی اور عباس محفوظی صرف غیر شرعی جسمانی جنسی تعلق کو ناجائز تعلقات مانتے ہیں، جن کا فقہ میں ذکر ملتا ہو۔ البتہ مذکورہ فقہاء بھی غیر حاضرانہ محرک تعلقات کو فساد اور شہوت بھڑکانے کی وجہ سے حرام عمل مانتے ہیں، لیکن یہ ان کے نزدیک اصطلاح عرف سے ماخوذ ہونے کی وجہ سے ان صورتوں پر صادق نہیں آتی ہے۔[19]

قانون کے لحاظ سے تعریف

قانون میں ناجائز تعلق مشروع اور جائز تعلق (مثلا شادی اور نکاح وغیرہ) کے مقابلے میں آتا ہے؛ لہٰذا وہ تمام حرکتیں جو میاں بیوی کے ساتھ مخصوص ہیں، اگر ان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ اس نوعیت کی حرکات انجام دیجائی تو وہ ناجائز تعلقات کہلاتے ہیں۔[20] تاہم فقہ و قانون میں زنا کے علاوہ اس کی جامع و واضح تعریف نہیں ملتی ہے۔[21] کہا جاتا ہے کہ ایران کے کیفری قوانین میں بھی "ناجائز تعلقات" کے عنوان سے الگ کسی جرم کا ذکر نہیں ملتا ہے۔[22] البتہ بعض قانون دانوں نے قوانین کے تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بالغ مرد و عورت کے درمیان ہر وہ تعلق جس میں شرعی قالب (عقد یا نکاح) موجود نہ ہو اور جنسی لذت کی نیت ہو، ناجائز تصور ہوگا۔[23] اس بنا پر، ناجائز تعلقات رضامندی یا جبر سے، جسمانی رابطے کے ساتھ یا اس کے بغیر، شادی شدہ یا غیر شادی شدہ، محرم یا نامحرم کے درمیان ہوسکتے ہیں۔[24]

ناجائز تعلق اور خلافِ عفت عمل کے مابین فرق

بعض قانون دانوں کے مطابق ایران کے اسلامی قانونِ سزا میں ناجائز تعلقات کی واضح تعریف نہیں ملتی ہے اور یہ صرف جنسی تعلق تک محدود بھی نہیں۔[25] اسی لیے اس عنوان اور "خلافِ عفت عمل" میں فرق بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خلافِ عفت عمل سے مراد مرد و نامحرم عورت کے درمیان جماع کے بغیر جنسی لذت کی نیت سے جسمانی رابطہ ہے، جبکہ ناجائز تعلقات کا مفہوم زیادہ وسیع ہے اور اس میں مرد و نامحرم عورت کے درمیان جنسی لذت کی نیت سے قائم کیے جانے والی ہر قسم کا تعلق شامل ہے۔[26] ناصر مکارم شیرازی نے "خلافِ عفت عمل" کو پاک دامنی اور طہارت کے خلاف رویہ قرار دیا ہے۔ علوی گرگانی کے مطابق، یہ وہ عمل ہے جو سیرت متشرعہ کے طریقے یا اخلاقی احکام کے خلاف ہو اور معاشرے میں جنسی امور کی حدود کو توڑنے کا باعث بنے۔[27]

ناجائز تعلقات کے مصادیق

کہتے ہیں کہ ناجائز تعلقات میں تمام قسم کے خلافِ عفت تعلقات شامل ہیں[28] اور اس میں ہر وہ تعلق شامل ہے جو جنسی خواہشات کی تسکین کی نیت سے ہو، جیسے نامحرم کے ساتھ ٹیلیفون پر شہوت انگیز گفتگو، خلوت (اکیلے میں ملنا)، یا دوسروں کی نگاہوں سے دور جگہوں پر موجود ہونا۔[29] ایران کی عدالتوں کے رواج کے مطابق، ناجائز تعلقات کی مثالیں صرف مکمل جنسی تعلق تک محدود نہیں، بلکہ جنسی لحاظ سے نامکمل تعلقات، ان کے مقدمات اور یہاں تک کہ معمولی بات چیت جیسے نامحرم سے خفیہ گفتگو بھی شامل ہے۔[30] یہ تعلق سماجی تعلقات کے نیٹ ورکس(سوشل میڈیا)، کافی شاپس، یا پارکوں میں جانے وغیرہ کی صورت میں بھی بن سکتا ہے۔[31]

ایران کی عدلیہ میں دائر مقدمات پر کی گئی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ناجائز تعلقات سے متعلق جرائم میں غیرمحصنہ کے ساتھ زنا، محصنہ کے ساتھ زنا، زبردستی زنا، عورتوں کااغواء، دلالی یا فساد کے مراکز قائم کرنا، لہو و لعب کی محفلیں قائم کرنا، لواط،[32] تفخیذ (ران سے مسّ کرنا)، مساحقہ، بوسہ لینا اور بغل گیری وغیرہ[33] شامل ہیں۔

اسلامی فقہ میں ناجائز تعلقات کی اقسام

شیعہ فقہاء کے قلمی آثار میں ناجائز تعلقات کی متعدد مثالیں اور ان کے احکام بیان کیے گئے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

  • زنا: زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے[34] اور اس کی حرمت مسلمہ دینی امور[35] میں سے ہے۔ شیعہ فقہاء سفید شادی (نکاح کے بغیر ساتھ رہنا) کو بھی زنا کے حکم میں شمار کرتے ہیں۔[36] حدِ زنا وہ سزا ہے جو اسلام میں زنا کے لیے مقرر کی گئی ہے۔[37]
  • حرام نگاہ: غیر زوجہ کی طرف شہوت بھری نگاہ ڈالنا۔[38]
  • نامحرم کو چھونا: نامحرم کے سے ساتھ جسمانی رابطہ قائم کرنا، مگر یہ کہ ایسا کرنا ضرورت کے موقع پرہو؛ جیسے علاج یا جان بچانے کے لیے ہو۔[39]
  • غیر زوجہ اور کنیز سے ہر قسم کی لذت حاصل کرنا، خواہ انسان ہو یا حیوان[40]، ہم جنس ہو یا مخالف جنس، جیسے لواط کرنا،[41] مساحقہ،[42] ہم خوابی اور بوسہ لینا۔

مجازی فضا (سائبر اسپیس) میں ناجائز تعلقات

ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ناجائز تعلقات کی نئی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں فحش نگاری، جسم فروشی، شہوت بھری نگاہ، پیغام رسانی اور چیٹنگ، اختلاط، ہم جنس پرستی، ٹیلی فون یا موبائل پر فحش گفتگو، ایک دوسرے کے ساتھ جسمانی ملاپ اور مخلاف جنس کا لباس زیب تن کرنا (ٹرانس ویسٹائزم) شامل ہیں۔[43] بعض مراجع تقلید جیسے لطف اللہ صافی گلپائیگانی اور سید علی حسینی سیستانی نے ایسے تعلقات کو اگر لذت کی نیت ہو یا فساد کا احتمال ہو تو حرام قرار دیا ہے۔[44] نیز سوشل میڈیا پر جنسی تحریک پر مشتمل مواد (مثلا فیلم، تصویر، اسٹیکر وغیرہ کی صورت میں) کی تحریر اور انہیں عام کرنا، اگر وہ مخاطب کو مشتعل کرنے کا باعث بنیں، تو وہ ناجائز تعلقات کی مثالوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔[45]

بچاؤ اور علاج

دینی علوم کے بعض محققین نے ناجائز تعلقات کے ارتکاب سے بچنے اور اس کے علاج کے طریقوں کو بیان کیا ہے۔

بچاؤ کے طریقے

بعض مفکرین کے مطابق، اسلام جنسی انحرافات کا مقابلہ کرنے میں پہلی حکمت عملی پرہیزگاری قرار دی ہے جسے مضبوط کرکے فرد میں عفت جیسی صفات پیدا کی جاسکتی ہیں۔[46] اس سلسلے میں دینی احکام اور سفارشات کا ایک مجموعہ بچاؤ کے اوزار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جن میں حرام نگاہ سے پرہیز، حجاب کا اہتمام، نامحرم سے جسمانی رابطے کی حرمت، نامحرم مرد و عورت کی خلوت سے اجتناب اور حقیقی اور مجازی فضا میں مشتعل گفتگو سے بچنا شامل ہیں۔[47]

ناجائز تعلقات سے بچاؤ کے دیگر طریقوں میں دائمی اور نکاح متعہ کو فروغ دینا وغیرہ شامل ہیں۔[48] نیز روزہ رکھنا، گفتار میں عفت، ناجائز تعلقات کے برے اثرات سے آگاہی اور بچوں کے مشتعل جنسی مناظر سے سامنے آنے پر نظر رکھنا جیسے عوامل کو اس قسم کے تعلقات کے امکانات کم کرنے میں مؤثر سمجھا گیا ہے۔[49]

علاج کی تدبیریں

ان افراد کے لیے جو ناجائز تعلقات میں مبتلا ہو چکے ہیں، کچھ اصلاحی تدابیر تجویز کی گئی ہیں، جیسے: توبہ کرنا، ناسازگار تعلقات کو توڑنا، ارادے کو مضبوط کرنا، دعا و توسل کرنا، موت کی یاد اور دنیوی لذتوں کی ناپائیداری پر غور و فکر، فارغ اوقات کےلیے مناسب منصوبہ بندی کرنا، ورزش اور بامقصد سرگرمیاں، تنہائی اور گوشہ نشینی سے پرہیز اور علماء سے مشورہ کرنا۔[50] ان چیزوں کے ساتھ ساتھ، جرم کی نوعیت کے مطابق سزا دینا بھی اصلاح اور روک تھام کے عمل میں آخری مرحلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[51]

حوالہ جات

  1. حیدری، «وب و جرایم منافی عفت: واکافی رہیافت‌ہای حقوقی»، ص214۔
  2. دستغیب، گناہان کبیرہ، 1388شمسی، ج2، ص327-332۔
  3. شیری، سقوط مجازات در حقوق کیفری اسلام و ایران، 1372شمسی، ص119-120۔
  4. مسعودی نیا، «روابط نامشروع در فضای مجازی از منظر فقہ جزایی»(جزائی فقہ کی روشنی میں مجازی فضا میں ناجائز تعلقات کا حکم)، ص63۔
  5. صدر، ماوراء الفقہ، 1420ھ، ج9، ص279 ـ 280؛ صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا و مجازات آن در فقہ اسلامی و حقوق ایران و افغانستان»(اسلامی فقہ اور ایران و افغانستان کے قانون میں زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق اور ان کی سزائیں)، ص117.
  6. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»، ص116۔
  7. مسعودی نیا، «روابط نامشروع در فضای مجازی از منظر فقہ جزایی»(جزائی فقہ کی روشنی میں مجازی فضا میں ناجائز تعلقات کا حکم)، ص63۔
  8. مطہری، مسئلہ حجاب، 1379شمسی، ص83.
  9. مطہری، مسئلہ حجاب، 1379شمسی، ص84 ـ 87۔
  10. سرخوش، «چند درصد سقط‌ہای جنین در کشور ناشی از روابط نامشروع است؟ (ملک میں اسقاط حمل کے کتنے فیصد کی وجہ ناجائز تعلقات ہیں؟)| آمار عجیب از دست دادن تولدہا در کشور بہ دلیل سقط جنین»(اسقاط حمل کی وجہ سے پیدائشوں کے حیران کن اعداد و شمار)، ہمشہری آنلاین ویبسائٹ۔
  11. فرشچی، «بحران کودکان نامشروع در غرب»(مغربی ممالک میں ناجائز اولاد کا بحران)، روزنامہ جام جم ویبسائٹ۔
  12. جہان شیلا و سجادی، «بررسی روابط آزاد دختر و پسر و تأثیرات آن»(لڑکے اور لڑکی کے آزاد تعلقات اور ان کے اثرات کا تحقیقی جائزہ)، ص50 ـ 51۔
  13. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص116۔
  14. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص128۔
  15. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص128.
  16. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص119۔
  17. نوروز‌پور، «تبیین مفہومی و مصداقی دو عنوان منافی عفت و رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق»(فقہ اور حقوق میں دو اصطلاحات "خلافِ عفت عمل" اور "ناجائز تعلقات" کی تصوراتی اور مصداقی وضاحت)، ص113 ـ 114۔
  18. نوروز‌پور، «تبیین مفہومی و مصداقی دو عنوان منافی عفت و رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق»(فقہ اور حقوق میں دو اصطلاحات "خلافِ عفت عمل" اور "ناجائز تعلقات" کی تصوراتی اور مصداقی وضاحت)، ص112 ـ 113۔
  19. نوروز‌پور، «تبیین مفہومی و مصداقی دو عنوان منافی عفت و رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق»(فقہ اور حقوق میں دو اصطلاحات "خلافِ عفت عمل" اور "ناجائز تعلقات" کی تصوراتی اور مصداقی وضاحت)، ص114۔
  20. مسعودی‌نیا، «رابطہ نامشروع در فضای مجازی از منظر فقہ جزایی»(جزائی فقہ کی روشنی میں سائبر اسپیس میں ناجائز تعلق کا حکم)، ص64۔
  21. حیدری، «وب و جرایم منافی عفت: واکافی رہیافت‌ہای حقوقی»(ویب اور خلافِ عفت جرائم: قانونی نقطہ نظر کا جائزہ)، ص214۔
  22. آرین، «مطالعہ تطبیقی بررسی رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق کیفری ایران»(فقہ اور ایران کے کیفری قانون میں ناجائز تعلق کا تقابلی مطالعہ)، ص41۔
  23. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص117۔
  24. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص117۔
  25. بداغی و احمدیہ، «خلأہای قانونی و انحرافات اجتماعی»(قانونی خامیاں اور سماجی انحرافات)، ص189۔
  26. حیدری، «وب و جرایم منافی عفت: واکافی رہیافت‌ہای حقوقی»(ویب اور خلافِ عفت جرائم: قانونی نقطہ نظر کا جائزہ)، ص214۔
  27. نوروز‌پور، «تبیین مفہومی و مصداقی دو عنوان منافی عفت و رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق»(فقہ اور حقوق میں دو اصطلاحات "خلافِ عفت عمل" اور "ناجائز تعلقات" کی تصوراتی اور مصداقی وضاحت)، ص112 ـ 113.
  28. آرین، «مطالعہ تطبیقی بررسی رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق کیفری ایران»(فقہ اور ایران کے کیفری قانون میں ناجائز تعلق کا تقابلی مطالعہ)، ص39۔
  29. آرین، «مطالعہ تطبیقی بررسی رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق کیفری ایران»(فقہ اور ایران کے کیفری قانون میں ناجائز تعلق کا تقابلی مطالعہ)، ص54۔
  30. بداغی و احمدیہ، «خلأہای قانونی و انحرافات اجتماعی»(قانونی خامیاں اور سماجی انحرافات)، ص190۔
  31. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص117.
  32. بداغی و احمدیہ، «خلأہای قانونی و انحرافات اجتماعی»(قانونی خامیاں اور سماجی انحرافات) ص52۔
  33. آرین، «مطالعہ تطبیقی بررسی رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق کیفری ایران»(فقہ اور ایران کے کیفری قانون میں ناجائز تعلق کا تقابلی مطالعہ)، ص48-53۔
  34. طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج6، ص475؛ امام خمینی، تحریر الوسیلۃ، 1408ھ، ج1، ص274۔
  35. صدر، الفتاوی الواضحہ، مطبعۃ آلاداب، ص19۔
  36. ارجمند دانش و دیگران، «ماہیت، مشروعیت و آثار ازدواج سفید» (سفید شادی کی نوعیت، قانونی حیثیت اور اثرات)، ص20۔
  37. ہاشمی شاہرودی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، 1382ش، ج4، ص294.
  38. بنی‌ہاشمی، توضیح المسائل (محشی)، 1424ھ، ج2، ص485.
  39. نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج29، ص100.
  40. نجفی، جواہر الکلام، تہران، ج41، ص637
  41. نجفی، جواہر الکلام، تہران، ج41، ص374۔
  42. نجفی، جواہر الکلام، تہران، ج41، ص387
  43. صدیقی و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا»(زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق)، ص120-124۔
  44. مسعودی‌نیا، «روابط نامشروع در فضای مجازی از منظر فقہ جزایی»(جزائی فقہ کی روشنی میں مجازی فضا میں ناجائز تعلقات کا حکم)، ص64۔
  45. مسعودی نیا، «روابط نامشروع در فضای مجازی از منظر فقہ جزایی»(جزائی فقہ کی روشنی میں مجازی فضا میں ناجائز تعلقات کا حکم)، ص66.
  46. صادقی و اکبری، «آسیب شناسی سیاست کیفری ایران در قبال جرایم جنسی از منظر فقہی و جرم شناسی»(ایران کی جنسی جرائم کے حوالے سے جزائی پالیسی کی فقہی و جرم شناسانہ بنیادوں نقائص اور کمزوریوں کا تجزیہ)، ص64 ـ 65۔
  47. جعفری و ساعدی، العلاقات غیر المشروعہ، 1445ھ، ص202، 205، 207 ـ 208، 210 و 212۔
  48. جعفری و ساعدی، العلاقات غیر المشروعہ، 1445ھ، ص220۔
  49. جعفری و ساعدی، العلاقات غیر المشروعہ، 1445ھ، ص223، 226 ـ 227 و 231.
  50. جعفری و ساعدی، العلاقات غیر المشروعہ، 1445ھ، ص235 ـ 237، 240 ـ 241، 244۔
  51. صادقی و اکبری، «آسیب شناسی سیاست کیفری ایران در قبال جرایم جنسی از منظر فقہی و جرم شناسی»(ایران کی جنسی جرائم کے حوالے سے جزائی پالیسی کی فقہی و جرم شناسانہ بنیادوں نقائص اور کمزوریوں کا تجزیہ)، ص65؛ جعفری و ساعدی، العلاقات غیر المشروعہ، 1445ھ، ص245.

مآخذ

عدل و انصاف کا تقابلی حقوقی تحقیقاتی جریدہ، شمارہ 5، گرما 1398ہجری شمسی۔

  • بداغی، فاطمہ و مریم احمدیہ، «خلأہای قانونی و انحرافات اجتماعی»(قانونی خامیاں اور سماجی انحرافات)، خواتین کی حکمت عملی سے متعلق مطالعات کا جریدہ، شمارہ 17، پاییز 1381ہجری شمسی۔
  • بداغی، فاطمہ و مریم احمدیہ، «خلأہای قانونی و انحرافات اجتماعی» (دوسرا حصہ)، خواتین کی حکمت عملی سے متعلق مطالعات کا جریدہ، شمارہ 18، زمستان 1381ہجری شمسی۔
  • بنی‌ہاشمی، سید محمدحسین، توضیح المسائل (محشی)، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ ہشتم، 1424ھ۔
  • جعفری، اسکندر و زیاد ساعدی، العلاقات غیر المشروعہ، بی‌جا، العتبۃ الحسینیۃ المقدسہ، چاپ اول، 2023ء/1445ھ۔
  • جہان شیلا، شرمین و مرضیہ سادات سجادی، «بررسی روابط آزاد دختر و پسر و تأثیرات آن»(لڑکے اور لڑکی کے آزاد تعلقات اور ان کے اثرات کا تحقیقی جائزہ)، جنسیات اور خانوادہ سے متعلق تحقیقات، شمارہ 5، ضزاں و سرما 1399ہجری شمسی۔
  • حیدری، عبداللہ، «وب و جرایم منافی عفت: واکافی رہیافت‌ہای حقوقی»(ویب اور خلافِ عفت جرائم: قانونی نقطہ نظر کا جائزہ)، نفسیات، تربیتی اور سماجی علوم کا جریدہ، شمارہ 21، گرما 1401ہجری شمسی۔
  • سرخوش، مریم، «چند درصد سقط‌ہای جنین در کشور ناشی از روابط نامشروع است؟(ملک میں اسقاط حمل کے کتنے فیصد کی وجہ ناجائز تعلقات ہیں؟) | آمار عجیب از دست دادن تولدہا در کشور بہ دلیل سقط جنین»(اسقاط حمل کی وجہ سے پیدائشوں کے حیران کن اعداد و شمار)، ہمشہری آنلاین ویبسائٹ، تاریخ درج مطلب: 21 مئی 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 21 نومبر 2024ء۔
  • شیری، عباس، سقوط مجازات در حقوق کیفری اسلام و ایران، تہران، مرکز انتشارات جہاد دانشگاہی شہید بہشتی، 1372ہجری شمسی۔
  • صادقی، سالار و عباسعلی اکبری، «آسیب شناسی سیاست کیفری ایران در قبال جرایم جنسی از منظر فقہی و جرم شناسی»(ایران کی جنسی جرائم کے حوالے سے جزائی پالیسی کی فقہی و جرم شناسانہ بنیادوں نقائص اور کمزوریوں کا تجزیہ) در فقہ و مبانی حقوق اسلامی، شمارہ 2، گرما 1401ہجری شمسی۔
  • صدر، سید محمدباقر، الفتاوی الواضحہ، مطبعۃ آلاداب، نجف، بی‎‌تا۔
  • صدر، سید محمد، ماوراء الفقہ، بیروت، دار الأضواء، 1420ھ/1999ء۔
  • صدیقی، عبدالسبحان و دیگران، «مصادیق جدید روابط نامشروع غیر از زنا و مجازات آن در فقہ اسلامی و حقوق ایران و افغانستان»(اسلامی فقہ اور ایران و افغانستان کے قانون میں زنا کے علاوہ ناجائز تعلقات کے جدید مصادیق اور ان کی سزائیں)، در مطالعات تقریبی مذاہب اسلامی، شمارہ 53، بہار گرما 1399ہجری شمسی۔
  • طوسی، محمد بن حسن، اَلتِّبیان فی تفسیرِ القرآن، تحقیق: احمد قصیر عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • فتحی‌پور، علی، «رابطہ نامشروع»، جریدہ حقوق امروز، شمارہ 14، اسفند 1343ہجری شمسی۔
  • فرشچی، کبری، «بحران کودکان نامشروع در غرب»، سایت روزنامہ جام جم، تاریخ درج مطلب: 28 جنوری 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 24 نومبر 2024ء۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، مشکلات جنسی جوانان، قم، نسل جوان، 1387ہجری شمسی۔
  • مسعودی نیا، محمد، «روابط نامشروع در فضای مجازی از منظر فقہ جزایی»(جزائی فقہ کی روشنی میں مجازی فضا میں ناجائز تعلقات کا حکم)، جزائی فقہ کے تقابلی مطالعے کا جریدہ، شمارہ 5، بہار 1401ہری شمسی۔
  • مطہری، مرتضی، مسئلہ حجاب، تہران، صدرا، باونویں اشاعت، 1379ہجری شمسی۔
  • نجفی، محمد حسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ و المکتبۃ الاسلامیہ، 1362-1369ہجری شمسی۔
  • نوروز‌پور، الیاس، «تبیین مفہومی و مصداقی دو عنوان منافی عفت و رابطہ نامشروع در فقہ و حقوق»(فقہ اور حقوق میں دو اصطلاحات "خلافِ عفت عمل" اور "ناجائز تعلقات" کی تصوراتی اور مصداقی وضاحت)، در مجلہ رسائل، شمارہ 11، خزاں اور سرما 1402ہجری شمسی۔
  • ہاشمی شاہرودی، محمود، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، قم، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی بر مذہب اہل بيت، 1382ہجری شمسی۔