مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:حدیث فضیلت اہل فارس

ویکی شیعہ سے
حدیث فضیلت اہل فارس
ایرانیوں کی علم سے لگاؤ سے متعلق پیغمبر اکرمؐ کی حدیث، ایران کے پانچ ہزار والے نوٹ پر نقش
ایرانیوں کی علم سے لگاؤ سے متعلق پیغمبر اکرمؐ کی حدیث، ایران کے پانچ ہزار والے نوٹ پر نقش
حدیث کے کوائف
صادر ازحضرت محمدؐ
اصلی راویامام علیؑ، جابر بن عبداللہ انصاری، سلمان اور ابوہریرہ
شیعہ مآخذمجمع البیان اور فقہ القرآن
اہل سنت مآخذمسند احمد، صحیح بخاری اور صحیح مسلم
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہبحدیث ثقلینحدیث کساءمقبولہ عمر بن حنظلۃحدیث قرب نوافلحدیث معراجحدیث ولایتحدیث وصایتحدیث جنود عقل و جہلحدیث شجرہ

حدیث فضیلت اہل فارس، رسول اللہؐ سے منقول ایک روایت ہے جس میں اہل فارس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اس حدیث میں آیا ہے کہ رسول اکرمؐ نے سلمان فارسی سے مخاطب ہو کر فرمایا: اگر ایمان (یا دین یا علم) ثریا میں بھی موجود ہو تو فارس کے رہنے والے اسے حاصل کر کے ہی رہیں گے۔ یہ حدیث شیعہ اور اہل سنت دونوں مصادر جیسے مَجمَع البیان اور صحیح بخاری میں ابوہریرہ کے توسط سے نقل ہوئی ہے۔

یہ روایت تین صورتوں میں نقل ہوئی ہے: «لَوْ کَانَ الایمانُ عِنْدَ الثُّرَیَّا»، «لَوْ کَانَ الدِّینُ...» اور «لَوْ کَانَ الْعِلْمُ...»، جن میں سے بعض کو صحیح اور بعض کو ضعیف قرار دیا گیا ہے۔

ان احادیث کے مطابق فارس کے رہنے والے اپنی محنت اور کوشش سے "دین، ایمان اور علم" تک رسائی کو ممکن بنا دیں گے اور یہ لوگ اسلام کی روشنی کو پوری دنیا میں پھیلانے کا موجب بنیں گے۔ اس روایت میں اہل فارس سے مراد تمام فارسی زبان بولنے والے یا منطقہ فارس (موجودہ ایران کے فارس، ہرمزگان، بوشہر اور یزد وغیرہ کے صوبے) یا خراسان کے رہنے والے ہیں۔

مقام اور اہمیت

حدیث فضیلت اہل فارس میں فارس کے باشندوں کے مرتبے اور فضیلت کی طرف اشارہ کی گئی ہے۔[1] شیعہ اور اہل سنت کی تفسیری اور حدیثی مصادر کے مطابق سورہ مائدہ کی آیت 54،[2] سورہ جمعہ کی آیت 3[3] اور سورہ محمد کی آیت 38[4] کے نزول کے بعد بعض صحابہ نے رسول اللہؐ سے پوچھا کہ وہ کون سی قوم ہے جو ان کی جانشین ہوگی؟ تو رسول اللہؐ نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی کے کندھے پر رکھا اور فرمایا کہ اگر ایمان ستارہ ثریا پر بھی ہو تو سلمان کی نسل سے تعلق رکھنے والے اسے حاصل کر لیں گے۔ بعض مفسرین کے مطابق یہ احتمال دیا جاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے یہ جملہ ان تمام آیات کے بعد ارشاد فرمایا ہوگا۔[5]

حدیث فضیلت اہل فارس مختلف تعابیر کے ساتھ شیعہ منابع میں سے مَجمَع البیان[6] اور فقہ القرآن[7] میں ذکر ہوئی ہے۔ اسی طرح اہل سنت منابع میں سے مُسنَد احمد،[8] صحیح بُخاری[9] اور صحیح مسلم[10] جیسی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ بعض مورخین کے مطابق اکثر منابع میں اس حدیث کا اصل راوی ابوہُرَیرَہ ہے۔[11] بعض موارد میں امام علیؑ[12]، جابر بن عبد اللہ انصاری اور سلمان فارسی[13] سے بھی یہ روایت نقل ہوئی ہے۔

متن اور ترجمہ

قَالَ رسول اللہؐ: وَ الَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ کَانَ الْإِیمَانُ مَنُوطًا بِالثُّرَیَّا لَتَنَاوَلَہُ رِجَالٌ مِنْ فَارِس‏۔[14]
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ایمان حاصل کرنا ستارہ ثریا (تک پہنچنے) سے مشروط کر دیا جائے تو فارس کے کچھ مرد اسے ضرور حاصل کریں گے۔

کہا گیا ہے کہ رسول اللہؐ نے سورہ مائدہ کی آیت نمبر 54، سورہ جمعہ آیت نمبر 3 اور سورہ محمد آیت نمبر 38 (جو ایرانیوں کے اسلام لانے سے پہلے نازل ہوئی ہیں)[15] کی روشنی میں ایرانیوں کی دینداری اور ایمان طلبی کی پیش گوئی فرمائی تھی۔[16] نیز رسول اللہؐ نے ایرانیوں کے ایمان کو پائیدار، جاوداں اور لامحدود قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو تو یہ قول اسے حاصل کر لیں گے اور کبھی اس سے دست بردار نہیں ہوں گے۔[17] یہ روایت اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ ایرانیوں کے اسلام قبول کرنے کے بعد ان کا علم اور تہذیب اسلام کی اشاعت اور ترقی میں معاون و مددگار ثابت ہونگے۔[18] بعض مفکرین اس روایت کی بنا پر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا (یہاں تک کہ دور دراز علاقوں) میں بھی پھیل جائے گا۔[19]

کہا گیا ہے کہ ایرانیوں کے ایمان لانے کی روایت مختلف تعبیروں کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔[20] ان میں سے بعض کے آغاز میں یہ آیا ہے کہ ایران کے لوگ اسلام سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔[21] اسی طرح بعض تعابیر کے آخر میں ایرانیوں کے ایمان (خواہ وہ ثریا پر ہی کیوں نہ ہو) تک رسائی کی علت ان کے دلوں کی نرمی بتائی گئی ہے۔[22] نیز یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ایران کے لوگ سنت نبویؐ کی پیروی کریں گے اور آپؐ پر کثرت سے درود بھیجیں گے۔[23]

تین مختلف تعابیر

حدیث فضیلت اہل فارس مختلف عبارتوں کے ساتھ ذکر ہوئی ہے۔ محدثین نے ان کے معتبر ہونے اور نہ ہونے کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں۔

  • لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مَعَلَّقاً بالثُّرَيَّا: اس روایت کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔[24][یادداشت 1] بعض دوسرے محدثین نے اس کے بعض راویوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔[25]
  • لَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا: بعض نے اسے بھی صحیح قرار دیا ہے۔[26]
  • لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا: بعض نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔[27]

بعض کا ماننا ہے کہ چونکہ ایرانی اسلام، ایمان اور علم کے میدان میں بہت زیادہ کوشش اور محنت کرتے ہیں، اس لئے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ تینوں الفاظ رسول اللہؐ ہی سے نقل ہوئے ہیں۔[28] اسی طرح کہا گیا ہے کہ دین، ایمان اور علم میں گہرا اور عمیق رابطہ پایا جاتا ہے؛ چونکہ حقیقی دین تک رسائی علم اور معرفت کے بغیر ممکن ہی نہیں اور حقیقی دین کے بغیر خالص ایمان کا تصور محال ہے۔[29]

اہل فارس سے مراد

اس روایت کی بعض عبارتوں میں (رجالٌ مِن فارس)[30] اور (رِجَالٌ مِنْ‏ أَبْنَاءِ فَارِس‏)[31] آیا ہے، جس کی وجہ سے «فارس» کے معنی اور مصداق میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس سے مراد تمام فارسی بولنے والے[32]یا ایرانیوں کا محل سکونت قرار دیا ہے۔[33]جبکہ بعض نے اسے ایران کے بعض شہروں جیسے شیراز اور اس کے گرد و نواح اور خراسان[34] پر مشتمل ایک وسیع علاقہ قرار دیا ہے اور بعض نے اسے صرف خراسان کا علاقہ قرار دیا ہے۔[35]

حوالہ جات

  1. معارف، «نقد و بررسی حدیثی...»، ص115؛ صالحی شامی، سبل الہدى، 1414ھ، ج10، ص116۔
  2. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج3، ص321؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص417-418۔
  3. ابن‌حنبل، مسند احمد، 1416ھ، ج15، ص237؛ بخارى، صحیح البخاری، 1410ھ، ج8، ص46؛ صحیح مسلم، 1412ھ، ج4، ص1972۔
  4. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج9، ص164؛ طبرى، جامع البیان، 1412ھ، ج26، ص42؛ قرطبى، الجامع لأحکام القرآن، 1364شمسی، ج16، ص258۔
  5. طہماز، من سورۃ یس...، 1419ھ، ص455۔
  6. طبرسی، مجمع البیان، 1372ش، ج9، ص164۔
  7. راوندى، فقہ القرآن، 1405ق، ج‏1، ص371۔
  8. ابن‌حنبل، مسند احمد، 1416ق، ج13، ص444 و ج15، ص237 و ص260۔
  9. بخارى، صحیح البخاری، 1410ق، ج8، ص36۔
  10. مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، 1412ق، ج4، ص1972۔
  11. ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ق، ج1، ص20-27۔
  12. ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ق، ج1، ص26۔
  13. ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ق، ج1، ص25-26۔
  14. بخارى، صحیح البخاری، 1410ھ، ج8، ص46۔
  15. ہمایش بین المللی دکترین مہدویت، مجموعہ آثار...، 1388ش، ج3، ص142۔
  16. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج4، ص417-418؛ رضایى، تفسیر قرآن مہر، 1387شمسی، ج5، ص150۔
  17. ہمایش بین المللی دکترین مہدویت، مجموعہ آثار...، 1388شمسی، ج3، ص141-144۔
  18. ہمایش بین المللی دکترین مہدویت، مجموعہ آثار...، 1388شمسی، ج3، ص147۔
  19. خطیب، التفسیر القرآنی للقرآن، 1424ھ، ج14، ص945۔
  20. ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ھ، ج1، ص23-26۔
  21. ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ھ، ج1، ص23۔
  22. ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ھ، ج1، ص24-25۔
  23. ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ھ، ج1، ص26۔
  24. مثال کے طور پر دیکھیے: ابونعیم اصفہانی، تاریخ اصبہان، 1410ھ، ج1، ص21؛ پایندہ، نہج الفصاحۃ، 1382شمسی، ص135-136؛ البانی، التعليقات الحسان...، 1424ھ، ج10، ص336۔
  25. فہید دوسری، الروض البسام...، 1408ھ، ج4، ص388؛ عقیلی، الضعفاء الکبیر، 1404ھ، ج4، ص384۔
  26. مثال کے طور پر دیکھیے: البانی، التعليقات الحسان...، 1424ھ، ج10، ص205۔
  27. مثال کے طور پر دیکھیے: پایندہ، نہج الفصاحۃ، 1382شمسی، ص135-136؛ البانی، سلسلۃ الأحاديث الضعيفۃ...، 1412ھ، ج4، ص229-230۔
  28. فتلاوی، ثورۃ الموطئین للمہدی...، 1418ھ، ص268۔
  29. طبرسی، مجمع البیان، 1372ش، ج3، ص321؛ مکارم شیرازی، تفسر نمونہ، 1374ش، ج4، ص417-418۔
  30. راوندى، فقہ القرآن، 1405ھ، ج‏1، ص371؛ ابن‌حنبل، مسند احمد، 1416ھ، ج13، ص444۔
  31. حسن بن على، التفسیر المنسوب...، 1409ھ، ص121؛ مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، 1412ھ، ج4، ص1972۔
  32. صالحی شامی، سبل الہدى، 1414ھ، ج10، ص116۔
  33. جہانداری، «پانویس»، جغرافیای تاریخی فارس، ص27۔
  34. معارف، «نقد و بررسی حدیثی...»، ص121-122۔
  35. ابن‌فقیہ، البلدان، 1416ھ، ص608-610حمیری، الروض المعطار...، 1363ش، ص214۔

یادداشت

  1. بعض محققین کا خیال ہے کہ ابونعیم اصفہانی نے ان تینوں روایات کی تمام مختلف عبارتوں کو ذکر کی ہیں لیکن صرف روایت «لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مَعَلَّقاً بالثُّرَيَّا» کو صحیح اور اجماعی قرار دیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ باقی تعبیریں صحیح نہیں ہیں۔ (معارف، «نقد و بررسی حدیثی...»، ص125.)

مآخذ

  • ابن‌حنبل، احمد، مسند الامام احمد بن حنبل، تحقیق: عامر غضبان و دیگران، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، 1416ھ۔
  • ابونعیم اصفہانی، احمد بن عبداللہ، تاریخ اصبہان، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1410ھ۔
  • البانی، محمد ناصر الدین، سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ وأثرہا السیئ فی الأمۃ، ریاض، دار المعارف، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
  • البانی، محمد ناصر الدين، التعليقات الحسان على صحيح ابن حبان وتمييز سقيمہ من صحيحہ، وشاذہ من محفوظہ، عربستان، دار با وزير للنشر والتوزيع، پہلی اشاعت، 1424ھ۔
  • بخارى، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، مصر، وزارۃ الاوقاف، المجلس الاعلى للشئون الاسلامیۃ، لجنۃ إحیاء کتب السنۃ، دوسری اشاعت، 1410ھ۔
  • پایندہ، ابو القاسم‏، نہج‌الفصاحۃ، تہران، دنیاى دانش‏، چوتھی اشاعت، 1382ہجری شمسی۔
  • حسن بن على، التفسیر المنسوب إلى الإمام الحسن العسکری(ع)، تحقیق مدرسہ امام مہدى(ع)‏، قم، مدرسۃ الإمام المہدی(ع)‏، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • حسینى موسوى، محمد بن أبی طالب، تسلیۃ المُجالس و زینۃ المَجالس، تحقیق کریم فارس حسون، قم، مؤسسۃ المعارف الإسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1418ھ۔
  • حمیرى، عبد اللہ بن جعفر، قرب الإسناد، تحقیق مؤسسۃ آل‌البیت(ع)‏، قم، مؤسسۃ آل‌البیت(ع)‏، قم‏، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • خطیب، عبدالکریم، التفسیر القرآنی للقرآن، قاہرہ، دار الفکر العربی، 1424ھ۔
  • راوندى، سعید بن عبداللّٰہ، فقہ القرآن، تحقیق سید احمد حسینى، قم، انتشارات کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشى نجفى، دوسری اشاعت، 1405ھ۔
  • رضایى اصفہانى، محمدعلى، تفسیر قرآن مہر، قم، پژوہشہاى تفسیر و علوم قرآن‌، پہلی اشاعت، 1387ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإختصاص، تحقیق علی‌اکبر غفارى و محمود محرمی زرندی، الموتمر العالمى لالفیۃ الشیخ المفید، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
  • صالحی شامی، محمد بن یوسف، سبل الہدى و الرشاد فى سیرۃ خیر العباد، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و على محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تحقیق: محمدجواد بلاغی، تہران، ناصرخسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • طبرى، محمد بن جریر، جامع البیان فى تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفہ، پہلی اشاعت، 1412ھ۔
  • طہماز، عبدالحمید محمود، من سورۃ یس الی سورۃ الذاریات، دمشق، دارالقلم، 1419ھ۔
  • عقیلی، محمد بن عمرو، الضعفاء الکبیر، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1404ھ۔
  • فتلاوی، مہدی حمد، ثورۃ الموطئین للمہدی فی ضوء أحادیث أہل السنۃ، بیروت، دار الوسیلۃ، 1418ھ۔
  • فہید دوسری، جاسم بن سلیمان، الروض البسام بترتیب و تخریج فوائد تمام، بیروت، دار البشائر الاسلامیۃ، 1408ھ۔
  • قرطبى، محمد بن احمد، الجامع لأحکام القرآن، تہران، ناصر خسرو، پہلی اشاعت، 1364ہجری شمسی۔
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، مصر، دار الحدیث، مصر، پہلی اشاعت، 1412 ھ۔
  • معارف، مجید و میرحسینی، یحیی، «اہل فارس کی فضیلت میں نقل ہونے والی حدیث کا تنقیدی جائزہ»، مجلہ علوم حدیث، شمارہ 58، موسم سرما 2010ء۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
  • بین الاقوامی نظریہ مہدویت کانفرینس، پانچویں بین الاقوانی نظریہ مہدویت کانفرینس کے مقالات کا مجموعہ، قم، آیندہ روشن فاونڈیشن-مہدویت تحقیقی مرکز، 2009ء۔