رجاء بن ابی ضحاک

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رجاء بن ابی ضحاک
کوائف
نام: رجاء بن ابی ضحاک
مشہور اقارب: فضل بن سہل
وجہ شہرت: مدینہ سے مرو تک امام رضاؑ کی ہمراہی
وفات: 226ھ
مذہب: مسلمان
سماجی خدمات: دیوان مالیات کے مسئول

رجاء بن ابی‌ ضحاک مدینہ سے مرو تک امام رضاؑ کو لانے کے لئے مأمون عباسی کی جانب سے مأمور تھا۔ اس پورے سفر میں امام رضاؑ کی کڑی نگرانی اور اس سفر میں پیش آنے والے واقعات کی رپورٹ مأمون کو دینا اس کی ذمہ داری تھی۔ وہ بنی عباس کے دور خلافت میں حکمران طبقے میں سے تھا اور مأمون، معتصم اور واثق کے دور حکومت میں مختلف عہدوں من جملہ دیوان مالیات کے عہدے پر فائز رہا۔

اجمالی تعارف

رجاء بن ابی‌ ضحاک بنی عباس کے حکمران طبقے میں سے تھا جو مأمون، معتصم اور واثق کے دور خلافت میں اہم عہدوں پر فائز تھا۔ رجاء اہل جرجریا(واسط اور بغداد کے درمیان ایک جگہ اس وقت اس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے[1]) [2] اور مأمون کے وزیر فضل بن سہل کا رشتہ دار تھا۔[3]

رجاء بن ابی‌ ضحاک کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کوئی معلومات میسر نہیں؛ لیکن ان کی تاریخ وفات سنہ 226ھ ذکر کی گئی ہے۔[4] لشکر دمشق کے مسئول تدارکات علی بن اسحاق کے ساتھ اختلافات کے بعد ان کے ہاتھوں قتل ہوا۔[5] بعد میں اس کا بیٹا حسن بھی خلافت بنی عباس میں مختلف عہدوں پر فائز رہا ہے۔[6]

امام رضاؑ کو مدینہ سے مرو لانے کی ذمہ داری

رجاء کو مأمون رشید نے مدینہ سے امام رضاؑ کو مرو لانے کی ذمہ داری سونب دی تھی۔[7] بعض منابع کے مطابق انہیں امام رضاؑ کے ساتھ بعض دوسری شخصیات کو بھی مدینہ سے مرو لانے کا کہا گیا تھا۔[8]

اس پورے سفر میں وہ امام رضاؑ کی کڑی نگرانی کرتا تھا اور اس سفر میں پیش آنے والے واقعات کی رپورٹ مأمون کا بھیجتا تھا؛ اس سفر میں امام رضاؑ کی عبادت کے بارے میں اس کی طرف سے پیش کردہ گزارشات شیعہ حدیثی منابع میں نقل ہوئی ہیں۔[9] ابو ہاشم جعفری کی نقل کے مطابق اس سفر کے دوران اہواز میں امام رضاؑ سے بعض کرامت صادر ہوئی اس بنا پر رجاء نے امام اور آپ کے ساتھیوں کو وہاں سے لے جلدی جانے کا حکم دیا تاکہ لوگ آپ کی طرف مائل نہ ہو جائیں۔[10]

شیخ صدوق سے منقول ایک حدیث کے مطابق امام رضاؑ کے اصحاب میں سے بعض نے راستے میں رجاء کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جسے امامؑ نے "أَ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ نَفْساً مُؤْمِنَہً بِنَفْسٍ كَافِرَہٍ" کی عبارت کے ذریعے منع فرمایا۔[11] کتاب عیون اخبار الرضا کے مصحح مہدی لاجوردی کہتے ہیں کہ مذکورہ عبارت سے رجاء کی توصیف ہوتی ہے۔[12]

بعض منابع کے مطابق امام رضاؑ کو مرو لانے کی ذمہ عیسی بن یزید جلودی کے سپرد کی گئی تھی[13] البتہ چنانچہ شرح الاخبار میں آیا ہے امام رضاؑ کے ساتھ مدینہ سے فارس تک ہمراہی کرنے والا جلودی تھا اور فارس سے مرو تک اس ذمہ داری کو رجاء کے سپرد کی گئی۔[14]

امام رضاؑ کی شہادت کے بعد اس کے عہدے

رجاء بن ابی‌ضحاک امام رضا کی ولیعہدی کے بعد اور مأمون کا خراسان سے باہر جانے کے دوران اس کا جانشین ہوا کرتا تھا[15] اس کے بعد ایک زمانے میں جرجان کی گورنری ان کے سپرد کی گئی۔[16] اسی طرح وہ مأمون کی خلافت میں ایک وقت دیوان مالیات کا مسئول بھی رہا ہے۔[17] معتصم کے دور خلافت میں ان کا دائرہ اختیار دیوان مالیات دمشق تک محدود ہوا۔[18] واثق کی حکومت کے دوران رجاء لشکر دمشق کے مالیات کے عہدہ پر پہنچا۔[19]

حوالہ جات

  1. حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۲، ص۱۲۳؛ قزوینی، آثار البلاد و اخبار العباد، ۱۳۷۳ش، ص۳۵۱۔
  2. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۸، ص۱۲۲؛ صفدی، الوافی بالوفیات، ۱۴۱۱ق، ج۱۴، ص۱۰۴۔
  3. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج۲، ص۴۴۸، ۴۵۲؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۸، ص۵۴۰؛ ابن رستہ، الأعلاق النفیسہ، ۱۸۹۲م، ص۳۰۷۔
  4. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۹، ص۱۱۱۔
  5. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۹، ص۱۱۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۸، ص۱۲۲–۱۲۴؛ صفدی، الوافی بالوفیات، ۱۴۱۱ق، ج۱۴، ص۱۰۴۔
  6. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۸۴-۹۰؛ صفدی، الوافی بالوفیات، ۱۴۱۱ق، ج۱۲، ص۹-۱۱۔
  7. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج۲، ص۴۴۸؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۸، ص۵۴۴؛ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۱۴۱؛ نوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴ق، ص۸۷؛ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۱۴۷، ۱۶۵، ۱۸۰، ۲۰۵۔
  8. بسوی، المعرفہوالتاریخ، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۱۹۱؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۸، ص۵۴۰۔
  9. شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۱۸۰-۱۸۳؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۵۵-۵۶۔
  10. ابن حمزہ طوسی، الثاقب فی المناقب، ۱۴۱۹ق، ص۴۸۸–۴۸۹؛ قطب‌الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۶۶۱-۶۶۲۔
  11. شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۲۰۵-۲۰۶۔
  12. شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ۱۳۷۸ق، ج۲، ص۲۰۵، پاورقی ش۲۔
  13. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، بیروت، ص۴۵۴؛ مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۵۹؛ فتال نیشابوری، روضہ الواعظین، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۲۲۴۔
  14. قاضی نعمان، شرح الأخبار، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۳۹-۳۴۰۔
  15. ابن رستہ، الأعلاق النفیسہ، ۱۸۹۲م، ص۳۰۷؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج۲، ص۴۵۲–۴۵۳۔
  16. ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ۱۴۰۸ق، ج۳، ص۳۱۳۔
  17. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۸، ص۱۲۲؛ صفدی، الوافی بالوفیات، ۱۴۱۱ق، ج۱۴، ص۱۰۴۔
  18. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۹، ص۱۱۱؛ ابن عساکر تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۸، ص۱۲۲؛ صفدی، الوافی بالوفیات، ۱۴۱۱ق، ج۱۴، ص۱۰۴۔
  19. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۸، ص۱۲۲؛ صفدی، الوافی بالوفیات، ۱۴۱۱ق، ج۱۴، ص۱۰۴۔


مآخذ

  • شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا(ع)، تہران، انتشارات جہان، ۱۳۷۸ھ۔
  • ابن حمزہ طوسی، محمد بن علی، الثاقب فی المناقب، تحقیق نبیل رضا علوان، قم، انصاریان، ۱۴۱۹ھ۔
  • ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر، تحقیق خلیل شحادہ، بیروت، دارالفکر، چاپ دوم، ۱۴۰۸ھ۔
  • ابن رستہ، احمد بن عمر، الأعلاق النفیسہ، بیروت،‌ دار صادر، ۱۸۹۲م۔
  • ابن عساکر، غلی بن حسن، تاریخ مدینہ دمشق، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابوالفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، تحقیق سید احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا۔
  • بسوی، یعقوب بن سفیان، المعرفہ و التاریخ، تحقیق اکرم ضیاء العمری، بیروت، مؤسسہ الرسالہ، چاپ دوم، ۱۴۰۱ھ۔
  • حرعاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، آل‌البیت، ۱۴۰۹ھ۔
  • حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت،‌ دار صادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵م۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ھ۔
  • صفدی، خلیل بن ایبک، الوافی بالوفیات، تحقیق ہلموت ریتر، بیروت، دارالنشر، ۱۴۱۱ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ھ۔
  • فتال نیشابوری، محمد بن حسن، روضہ الواعظین و بصیرہ المتعظین، قم، انتشارات رضی، ۱۳۷۵ش۔
  • قاضی نعمان، نعمان بن محمد، شرح الأخبار فی فضائل الأئمہ الأطہار(ع)، تحقیق محمدحسین حسینی جلالی، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۹ھ۔
  • قزوینی، زکریا بن محمد، آثار البلاد و اخبار العباد، تہران، امیرکبیر، ۱۳۷۳ش۔
  • قطب‌الدین راوندی، سعید بن ہبہ‌اللہ، الخرائج و الجرائح، تحقیق مؤسسہ الإمام المہدی(عج)، قم، مؤسسہ امام مہدی(عج)، ۱۴۰۹ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الإرشاد فی معرفہ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، چاپ دوم، ۱۴۰۴ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ یعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔