یحیی بن ہرثمہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یحیی بن ہرثمہ
معلومات شخصیت
نام: یحیی بن ہرثمہ
مشہور اقارب: ہرثمہ بن اعین
اصحاب: امام علی نقی علیہ السلام
سماجی خدمات: امام علی نقی علیہ اسلام کو مدینہ سے سامرا لے جانے کی ذمہ داری ، قم اور اصفہان کی حکمرانی


یحیی بنِ ہرثَمَہ، امام علی نقی علیہ السلام کے راویوں میں سے ہیں۔ اور متوکل عباسی کی جانب سے مامور تھے کہ دسویں امام کو مدینہ سے سامرا لیکر آئیں۔ آپ حشویہ مذہب کے ماننے والے تھے لیکن اس سفر میں امام کی کرامات دیکھ کر شیعہ ہوگئے۔ شیعہ حدیثی کتابوں میں اس سفر کی تفصیلات اور کرامات سے متعلق امام علی نقی علیہ السلام کی روایتیں ، آپ سے ذکر ہوئی ہیں۔ تاریخ میں آپ کے مختلف کام اور مشغولیات بیان ہوئی ہیں۔ جیسے 233ھ۔ میں مکہ کے راستے کی نگہبانی اور حفاظت کا عہدہ، 243 ھ۔ میں قم پر حکمرانی اور 260 ھ۔ میں اصفہان پر حکمرانی۔

مختصر زندگی ‌نامہ

یحیی بن ہرثمہ ، عباسی خلفاء ہارون رشید اور مامون رشید کے عامل اور مشہور سردار ہرثمہ بن اعین کے فرزند ہیں ۔[1] یحیی بن ہرثمہ کی پیدائش اور وفات کی دقیق تاریخ ذکر نہیں ہوئی ہے صرف یہ بیان ہوتا ہے کہ آپ سنہ 233ھ۔ میں مکہ کے راستے کی نگہبانی اور حفاظت کے عہدہ پر فائز تھے۔[2] تاریخ قم کے بارے میں لکھی جانے والی کتاب ، تاریخ قمی کے بیان کے مطابق یحیی بن ہرثمہ ، عباسی خلیفہ متوکل (206۔ 247 ھ۔) کی حکومت کے زمانہ میں سنہ 243ھ میں قم کے حکمران تھے۔ ۔[3] نیز سنہ 252ھ میں مستعین عباسی اور معتز عباسی کے درمیان ہونے والی جنگ میں آپ بہت فعال انداز میں شریک ہوئے ۔[4] بعض مورخین نے سنہ 260ھ میں آپ کو اصفہان کا حاکم بتایا ہے ۔[5]

امام علی نقیؑ کو مدینہ سے سامرا لے جانا

یحیی بن ہرثمہ سنہ 243ھ[6] یا سنہ 233ھ[7] میں متوکل کی جانب سے مأمور ہوتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام کو مدینہ سے سامرا لیکر جائیں ۔[8] کیونکہ خلیفہ کو خفیہ اطلاعات ملتی ہیں کہ مدینہ کے لوگ امام علی نقی علیہ السلام کی امامت پر ایمان لا رہے ہیں اور آپ کی جانب مائل ہو رہے ہیں [9] نیز حاکم مدینہ عبداللہ بن محمد یا بریحہ عباسی[10] کے ذریعہ امام کے خلاف تہمتیں اور غلط بیانی کی جاتی ہے [11] ان باتوں کو بہانا بناکر متوکل عباسی ، یحیی بن ہرثمہ کے ذریعہ امام کے پاس ایک احترام آمیز خط بھیجتا ہے اور آپ کو سامرا آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ [12] سبط ابن جوزی کی نقل کی بنیاد پر متوکل ،امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اور آپ کی اولاد سے شدید نفرت اور بغض رکھتا تھا لہذا جیسے ہی اسے خبر ملی کہ مدینہ کے لوگ امام علی نقی علیہ السلام کی امامت کے قائل ہوگئے ہیں اور آپ کی امامت کی جانب رغبت رکھتے ہیں اس نے خطرہ کا احساس کیا اور فورا یحیی بن ہرثمہ کو حکم دیا کہ امام کو مدینہ سے سامرا لیکر آئے۔ ۔[13] یحیی بن ہرثمہ نقل کرتا ہے کہ جب مدینہ کے لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ متوکل نے امام کو سامرا بلایا ہے تو انہوں نے شدید مخالفت کی۔ [14] اور لوگوں نے اس طرح سے نالہ و شیون کیا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ [15] یحیی نے لوگوں کے سامنے قسم کھائی کہ امام سے اچھے انداز میں پیش آئے گا اور امام کے احترام کا خیال رکھے گا۔[16]

مذہب

یحیی بن ہرثمہ کے قول کی بنیاد پر پہلے وہ حشویہ مذہب کا ماننے والا تھا اور مدینہ سے سامرا کے سفر میں امام علی نقی علیہ السلام کی کرامتیں اور معجزات دیکھ کر شیعہ ہوگیا۔[17] جناب ملا محمد صالح مازندرانی کے قول کے مطابق یہ نظریہ جناب فاضل استرآبادی کی رجالی کتاب میں بھی بیان ہوا ہے۔[18]

شیعوں کی حدیثی کتابوں میں یحیی بن ہرثمہ سے امام علی نقی علیہ السلام کی بعض روایتیں، اس سفر کی تفصیلی جزئیات [19] اور بعض کرامتیں نقل ہوئی ہیں؛ جیسے ایک بے آب و گیاہ اور گرم سرزمین پر پانی کے چشموں اور درختوں کے ظاہر ہونے کا معجزہ، [20] اور گرمیوں کے موسم میں عرب کی شدید گرمی میں غیر متوقع سردی اور بارش آنے سے پہلے گرم کپڑوں کا تہیہ کرنا۔[21]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. زرکلی، الاعلام، 1989م، ج8، ص81۔
  2. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج9، ص163۔
  3. قمی، تاریخ قم، 1361ش، ص103۔
  4. طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1387ھ، ج9، ص293۔
  5. قمی، تاریخ قم، 1361ش، ص185۔
  6. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص607؛ مفید، الإرشاد، 1413ھ، ج2، ص310۔
  7. نوبختی، فرق الشیعہ، 1404ھ، ص92؛ اشعری قمی، المقالات و الفرق، 1360ش، ص100؛ قمی، تاریخ قم، 1361ش، ص103۔
  8. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج2، ص484؛ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص297۔
  9. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج2، ص484۔
  10. مسعودی، اثبات الوصیہ، 1426ھ، ص233۔
  11. ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، 1379ھ، ج4، ص417۔
  12. خط کا مضمون پڑھنے کیلئے ملاحظہ کیجئے : کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص501۔
  13. ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، 1418ھ، ص322۔
  14. مسعودی، مروج‌الذہب، 1409ھ، ج4، ص84؛ سبط بن جوزی، تذکرۃ الخواص، 1418ھ، ص32۔
  15. مسعودی، مروج‌الذہب، 1409ھ، ج4،ص84۔
  16. مسعودی، مروج‌الذہب، 1409ھ، ج4، ص85۔
  17. اربلی، کشف الغمہ، 1381ھ، ج2، ص392؛ ابن حمزہ طوسی، الثاقب فی المناقب، 1419ھ، ص552؛ قطب‌الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، 1409ھ، ج1، ص396۔
  18. مازندرانی، شرح الکافی-الأصول و الروضۃ، 1382ھ، ج7، ص303۔
  19. بطور مثال ملاحظہ کیجئے : مسعودی، مروج الذہب، 1409ھ، ج4، ص84؛ اربلی، کشف الغمہ، 1381ھ، ج2، ص390۔
  20. ابن حمزہ طوسی، الثاقب فی المناقب، 1419ھ، ص531۔
  21. ابن حمزہ طوسی، الثاقب فی المناقب، 1419ھ، ص551-552؛ قطب‌الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، 1409، ج1، ص396؛ عاملی نباتی، الصراط المستقیم، 1384ھ، ج2، ص202۔


مآخذ

  • ابن جوزی، ابوالفرج، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت،‌ دارالکتب العلمیۃ، 1412ھ۔
  • ابن حمزہ طوسی، محمد بن علی، الثاقب فی المناقب، تحقیق نبیل رضا علوان، قم، انصاریان، 1419ھ۔
  • ابن شہرآشوب مازندرانی، محمد بن علی، مناقب آل‌ابی‌طالب، قم، علامہ، 1379ھ۔
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفہ الائمۃ، تحقیق سید ہاشم رسولی محلاتی، تبریز، بنی‌ہاشم، 1381ھ۔
  • اشعری قمی، سعد بن عبداللہ، المقالات و الفرق، قم، انتشارات علمی و فرہنگی، 1360ش۔
  • زرکلی، خیرالدین، الاعلام، بیروت،‌ دارالعلم للملایین، چاپ ہشتم، 1989ء
  • سبط بن جوزی، یوسف بن حسام‌الدین، تذكرۃ الخواص‏، قم، منشورات الشریف الرضی، 1418ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت،‌ دارالتراث، چاپ دوم، 1387ھ۔
  • عاملی نباطی، علی من محمد، الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم، تحقیق میخائیل رمضان، نجف، المکتبۃ الحیدریۃ، 1384ھ۔
  • قطب‌الدین راوندی، سعید بن ہبۃ‌اللہ، الخرائج و الجرائح، تحقیق مؤسسۃ الإمام المہدی(عج)، قم، مؤسسہ امام مہدی(عج)، 1409ھ۔
  • قمی، حسن بن محمد بن حسن، تاریخ قم، ترجمہ حسن بن علی بن حسن عبد الملک قمی، تحقیق سید جلال‌الدین تہرانی، تہران، توس، 1361ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1407ھ۔
  • مازندرانی، محمدصالح بن احمد، شرح الکافی-الأصول و الروضۃ، تحقیق ابوالحسن شعرانی، تہران، المکتبۃ الإسلامیۃ، 1382ھ۔
  • مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیۃ للامام علی بن ابی‌طالب، قم، انصاریان، 1426ھ۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم،‌ دارالہجرۃ، چاپ دوم، 1409ھ۔
  • مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، تحقیق موسسہ آل‌البیت(ع)، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
  • نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، بیروت، دارالاضواء، 1404ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ یعقوبی، بیروت، دار صادر، بے تا۔