مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:جہاد المرأة حسن التبعل

ویکی شیعہ سے
جہاد المرأة حسن التبعل
جہاد المرأۃحسن التبعل
حدیث کے کوائف
موضوعشوہر داری
صادر ازپیغمبر اکرمؐ اور شیعہ ائمہؑ
شیعہ مآخذالکافی، من لایحضرہ الفقیہ
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہبحدیث ثقلینحدیث کساءمقبولہ عمر بن حنظلۃحدیث قرب نوافلحدیث معراجحدیث ولایتحدیث وصایتحدیث جنود عقل و جہلحدیث شجرہ


جِهادُ المَرأةِ حُسنُ التَّبعُّل (ترجمہ: عورت کا جہاد، نیک شوہرداری ہے) پیغمبر اکرمؐ اور شیعہ ائمہؑ سے منسوب ایک روایت ہے جس میں عورت کی نیک شوہرداری کو جہاد قرار دیا گیا ہے۔

نیک شوہر داری کو جہاد بالنفس کی ایک قسم کہا گیا ہے۔[1] کہتے ہیں کہ اس کا ثواب راہ خدا میں جہاد کرنے والے کے ثواب کے برابر ہے۔[2] اسلام میں خواتین کو جہاد، قضاوت اور حکومت جیسے بعض فرائض سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے اور ان فرائض کا ثواب انہیں شوہرداری، گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت جیسی ذمہ داریوں کے ذریعے عطا کیا جاتا ہے۔[3]

نیک شوہرداری کے مصادیق میں شوہر کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا، اس کے مال وعزت کی حفاظت کرنا، جائز معاملات میں اس کی اطاعت کرنا،[4] بے جا غیرت اور جھگڑے سے پرہیز کرنا،[5] شوہر کے لیے آراستہ کرنا اور گھر میں پُرسکون و محبت بھرا ماحول پیدا کرنا شامل ہے۔[6] البتہ، ایسے مواقع پر جب شوہر کا رویہ نا مناسب ہو، عورت کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔[7]

یہ روایت شیعہ منابع حدیثی میں مختلف اسناد سے نقل ہوئی ہے؛ کتاب جعفریات میں پیغمبر اکرمؐ سے،[8] نہج البلاغہ میں امام علیؑ سے،[9] کتاب من لایحضرہ الفقیہ میں امام جعفر صادقؑ سے[10] اور کتاب الکافی میں امام موسیٰ کاظمؑ[11] سے منقول ہے۔ اہل سنت کے منابع جیسے کتاب الدرر المنثور اور "معانی الاخبار" میں بھی یہ روایت پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے۔[12]

بعض محققین نے اس روایت کی سند کو ضعیف قرار دیتے ہوئے اس کے متن پر تنقید کی ہے۔[13] دوسری طرف، بعض علما اسے دیگر روایات، خصوصاً امام علیؑ سے منقول اس روایت کے ہم معنی سمجھتے ہیں[14] جس میں عورت کے جہاد کو شوہر کی ایذا رسانی پر صبر کرنا قرار دیا گیا ہے۔[15]

حوالہ جات

  1. حسینی خامنہ‌ای، «عدم تفاوت زن و مرد در تقرّب بہ خداوند»(قرب الہی میں مرد اور عورت کے مابین کوئی فرق نہیں)، مقام معظم رہبری ویب سائٹ۔
  2. سبزواری، مواہب الرحمن، 1414ھ، ج8، ص177۔
  3. طباطبائی، المیزان، 1352شمسی، ج4، ص350۔
  4. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغة، 1404ھ، ج18، ص332۔
  5. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغة، 1404ھ، ج18، ص332۔
  6. مصباح یزدی، در جستجوی عرفان اسلامی، 1401شمسی، ج1، ص153۔
  7. سبزواری، مواہب الرحمن، 1414ھ، ج8، ص177۔
  8. ابن‌اشعث، جعفریات، بی تا، ص67۔
  9. نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، حکمت 136، ص494۔
  10. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج4، ص416۔
  11. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص507۔
  12. سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج6، ص234. و کلاباذی، بحرالفوائد المشہور بمعانی الأخبار، 1420ھ، ص159۔
  13. ریعان، «اعتبارسنجی حکمت 136 با تمرکز بر عبارت" جہاد المرأۃحسن التبعل"»، ص5-14۔
  14. حسینیان قمی، فصلنامہ علوم حدیث، شمارہ 5۔
  15. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج5، ص9۔

مآخذ

  • حسینیان قمی، مہدی، علومِ حدیث کا سہ ماہی مجلہ، شمارہ 5۔
  • کلاباذی، محمد‌ بن ابراہیم، بحرالفوائد المشہور بمعانی الأخبار، تحقیق احمد فرید، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، پہلی اشاعت، 1420ھ۔
  • ریعان، معصومہ، «اعتبارسنجی حکمت 136 با تمرکز بر عبارت "جہاد المرآۃحسن التبعل"، نہج البلاغۃ سہ ماہی مجلہ، نواں سال، شمارہ 36، 1400ہجری شمسی۔
  • مصباح یزدی، محمدتقی، در جستجوی عرفان اسلامی، تدوین و نگارش محمدمہدی نادری قمی، قم، مؤسسہ آموزشى و پژوہشى امام خمینى(قدس سرہ)، چھٹی اشاعت، 1401ہجری شمسی۔
  • حسینی خامنہ‌ای، سیدعلی، «عدم تفاوت زن و مرد در تقرّب بہ خداوند»(قرب الہی میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں)، سید علی حسینی خامنہ‌ای ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 4 جنوری 2012ء، تاریخ مشاہدہ: 27 دسمبر 2025ء۔
  • طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، لبنان، مؤسسۃالأعلمی للمطبوعات، تیسری اشاعت، 1352ہجری شمسی۔
  • سبزواری، عبدالأعلی‌بن علی رضا، مواہب الرحمن فی تفسیر القرآن، قم، مکتب سماحۃآیۃاللہ العظمی السید السبزواری، تیسری اشاعت، 1414ھ۔
  • ابن‌ابی‌الحدید، عبدالحمید‌ بن ہبۃاللہ، شرح نہج البلاغۃ، تصحیح محمد ابو‌الفضل ابراہیم، قم، مکتبۃآیۃاللہ العظمی المرعشی النجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • سیوطی، جلال‌الدین عبدالرحمن، الدر المنثور، قم، مکتبۃآیۃاللہ العظمی المرعشی النجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • کلینی، محمد‌ بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • شریف رضی، محمد‌ بن حسین، نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، قم، ہجرت، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • صدوق، محمد‌ بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تصحیح علی اکبر غفاری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • ابن‌اشعث، محمد‌ بن محمد، جعفریات (اشعثیات)، تہران، مکتبۃالنینوی الحدیثۃ، پہلی اشاعت، بی تا۔