مسودہ:اسرائیل ایران بارہ روزہ جنگ
| تاریخ | 22 جون 2025ء |
|---|---|
| مقام | ایران اور مقبوضہ فلسطنی علاقے |
| فریق 1 | اسلامی جمہوریہ ایران |
| فریق 2 | صہیونی حکام |
| سپہ سالار 1 | آیت اللہ علی خامنہ ای |
| سپہ سالار 2 | بنیامین نتن یاہو |
| فوج 1 | سپاه و ایرانی مسلح افواج |
| فوج 2 | اسرائیلی مسلح افواج |
| نقصان 1 | فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں سمیت 1100 ایرانی شہریوں کی شہادت |
| نقصان 2 | کئی اسرائیلی ہلاک یا زخمی |
اسرائیل ایران بارہ روزہ جنگ یا دوسری مسلط کردہ جنگ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 13 جون 2025ء کو ہونے والی 12 روزہ جنگ ہے جو ایران کے ایٹمی تنصیبات، فوجی اڈوں اور رہائشی علاقوں پر اسرائیلی فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہوئی۔ اسرائیل نے ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کو تباہ کرنے، اس ملک کے سیاسی ڈھانچے میں تبدیلی لانے اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی غرض سے اس جنگ کا آغاز کیا۔ ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں کئی اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں سمیت تقریباً 150 خواتین اور بچے شامل ہیں۔
یہ حملے اسرائیل کی پیشگی منصوبہ بندی اور امریکہ کی حمایت سے کئے گئے۔ جنگ کے دسویں دن امریکی فوج نے ایران کے ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی یوں امریکہ بھی براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گیا۔ اسرائیل کو ان حملوں کے ردعمل میں بین الاقوامی شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف جواب میں ایران نے آپریشن وعدہ صادق 3 کے تحت سینکڑوں میزائل اور ڈرون مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں معین اہداف پر فائر کئے۔
یہ جنگ نہ صرف اسرائیل کی طرف سے ایران کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی، بلکہ اس سے ایران کو بھاری معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے صہیونیوں کی معکوس ہجرت کی لہر میں بھی شدت آگئی۔ 24 جون 2025ء کو امریکہ کی درخواست پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ تجزیہ کاروں نے اس جنگ کے نتیجے کو اسرائیل کی شکست قرار دیا کیونکہ وہ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
اسرائیل جنگ شروع کرنے والا
13 جون 2025ء کی صبح اسرائیل نے ایران کو ایٹمی ہتھیار تک رسائی سے باز رکھنے[1] اور ایران کے ایٹمی[2] اور میزائل[3] پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی غرض سے اس کے ایٹمی تنصیبات، فوجی اڈوں اور بعض فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کے گھروں پر فضائی حملہ کیا۔[4]
یہ حملے جنہیں "آپریشن دھاڑتے شیر" کا نام دیا گیا [5] 100 سے 200 جنگی طیاروں کے ذریعے کیا گیا اور ایران میں 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔[6] ایران کے مختلف شہروں تہران، اصفہان، اراک، لرستان، ہمدان، تبریز، کرمانشاہ اور ایلام ان حملوں کے اہداف میں شامل تھے۔ ان حملوں میں ایران کے متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈر اور ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے۔[7] فوجی اور ایٹمی مراکز کے علاوہ کچھ رہائشی علاقوں پر بھی بمباری کی گئی جس سے عام شہریوں کی بھی شہادتیں ہوئیں۔[8]

اسرائیل کے اہداف
اسرائیل نے اس حملے کو ایٹمی ہتھیار تک ایران کی رسائی کو روکنے کے لیے ایک پیشگی حملہ قرار دیا ہے۔[9][10] نیتن یاہو، اسرائیلی وزیر اعظم نے حملے کی اصل وجہ غزہ کی جنگ اور فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کے لیے ایران کی حمایت قرار دی۔[11] بہر حال، بعض خبر رساں اداروں نے اسرائیل کے ہدف کو ایٹمی پروگرام سے آگے ایران کے سیاسی نظام کی تبدیلی تک بتایا ہے۔[12] دیگر زیر بحث اہداف میں درج ذیل چیزوں کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے: اسرائیل کے خلاف ایرانی خطرے میں کمی، غزہ جنگ سے عالمی توجہ ہٹانا اور اس جنگ میں اسرائیل کی شکست کو فراموش کروانا، ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات روکنا، امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں کھینچنا، استحکام شکنی اور اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ پلٹنا، نیتن یاہو کے لیے داخلی جواز حاصل کرنا۔[13]
رپورٹوں کے مطابق، اسرائیل نے حملے سے پہلے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت مناسب وقت اور امریکہ کی سبز روشنی کا انتظار کیا تھا۔[14]
اسرائیل کی مذمت اور ایران کی حمایت
ایران پر اسرائیلی حملے کے خلاف مختلف رد عمل سامنے آئے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
- آیت اللہ خامنہ ای، ایران کے رہبر وقت، شیعہ مراجع تقلید جیسے مکارم شیرازی، نوری ہمدانی، جوادی آملی، سبحانی، مظاہری، شبیری زنجانی اور سیستانی، وحید خراسانی، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، حوزہ ہائے علمیہ کی اعلیٰ کونسل اور بہت سے شیعہ و اہل سنت علما نے ان حملوں کی مذمت کی اور جوابی کارروائی کا مطالبہ کیا۔[15] آیت اللہ جوادی آملی نے امام علیؑ کی اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہ "پتھر کو وہیں لوٹا دو جہاں سے آیا ہے" انتقام لینے کا مطالبہ کیا۔[16]
- متعدد ممالک کے حکام جیسے ونزویلا کے صدر[17] ترکی کے صدر اور پارلیمنٹ کے سپیکر[18] پاکستان کے صدر، وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے اسپیکر، مالدیپ کے صدر، لبنان کے وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے اسپیکر، عراق کے وزیر اعظم، کولمبیا کی وزارت خارجہ، چین، روس، سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، جاپان، انڈونیشیا، مصر، تاجکستان، نائجر، برازیل کی حکومت، یمن، کویت، قطر، ملائیشیا، کیوبا، عمان اور افغان طالبان کے حکام اور عرب لیگ، تنظیم تعاون اسلامی، حزب اللہ لبنان، جریان حکمت ملی عراق، یمن کی انصاراللہ تحریک اور حماس نے ایران پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین اور ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔[19] پاکستان کی قومی اسمبلی نے اکثریت کیساتھ اسرائیلی حملے کی مذمت اور ایران کی حمایت میں ایک قرارداد منظور کی۔[20]

- اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ کے 33 رکن ممالک،[21] اقوام متحدہ کے منشور کے دفاع کے دوستوں کے گروپ، جس میں 17 ممالک شامل ہیں،[22] برکس کے رکن ممالک[23] اور 20 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ[24] نے اپنے بیانات میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
- بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے 11 رکن ممالک نے 16 جون 2025ء کو بورڈ کے ہنگامی اجلاس میں ایک مشترکہ بیان کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔[25]
- عراق نے ایران پر اسرائیلی حملے کے دوران اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صہیونی حکومت کے خلاف شکایت درج کرائی۔[26]
- مختلف ممالک جیسے یمن، عراق، لبنان، پاکستان،[27] انگلستان[28] امریکہ،[29] اور کانادا میں اسرائیل کی مذمت اور ایران کی حمایت میں عوامی مظاہرے اور مارچ کیے گئے۔ ایران کے عوام نے 19 جون 2025ء کو مختلف شہروں میں "جمعۂ غضب و نصر" کے عنوان سے ریلیاں نکالیں۔[30]

- اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تخفیفِ اسلحہ کے 33 رکن ممالک،[31] اقوام متحدہ کے منشور کے دفاع کے دوستوں کے گروپ، جس میں 17 ممالک شامل ہیں،[32] برکس کے رکن ممالک[33] اور 20 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ[34] نے اپنے بیانات میں اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیا۔
- بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے 11 رکن ممالک نے 16 جون 2025ء کو بورڈ کے ہنگامی اجلاس میں ایک مشترکہ بیان کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی۔[35]
- عراق نے ایران پر اسرائیلی حملے کے دوران اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صہیونی حکومت کے خلاف شکایت درج کرائی۔[36]
- مختلف ممالک جیسے یمن، عراق، لبنان، پاکستان،[37] انگلستان[38] امریکہ،[39] اور کانادا میں اسرائیل کی مذمت اور ایران کی حمایت میں عوامی مظاہرے اور مارچ کیے گئے۔ ایران کے عوام نے 19 جون 2025ء کو مختلف شہروں میں "جمعۂ غضب و نصر" کے عنوان سے ریلیاں نکالیں۔[40]
صہیونی حکومت نے بہت بڑی غلطی کی، بہت بڑی خطا کی، غلط کام کیا اور اس کے نتائج اسے بے بس کر دیں گے، ان شاء اللہ۔ ایران کی قوم اپنے عزیز شہیدوں کے خون کو ہرگز فراموش نہیں کرے گی اور اپنے ملک کی فضائی حدود پر حملے کو بھی نظر انداز نہیں کرے گی... ان کے لیے زندگی تلخ ہو جائے گی، اس میں کوئی شک نہیں۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ حملہ کرکے معاملہ ختم ہوگیا؛ نہیں، انہوں نے خود اس کام کا آغاز کیا اور جنگ کو بھڑکایا۔ ہم انہیں اس عظیم جرم سے بحفاظت نکلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یقیناً اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج اس خبیث دشمن کو سخت ضربیں لگائیں گی۔ قوم بھی مسلح افواج کے ساتھ ہے اور اسلامی جمہوریہ، اللہ کے اذن سے، صہیونی حکومت پر غالب آئے گی۔[41]
امریکہ اور بعض یورپی ممالک کی اسرائیل سے حمایت
امریکہ کے صدر نے دھمکیوں کی زبان اختیار کی ہے... وہ دھمکی بھی دے رہے ہیں اور ایک نامناسب اور ناقابل قبول بیان میں ایران کی قوم سے صاف کہہ رہے ہیں کہ آ کر میرے سامنے سرِ تسلیم خم کرو!... پہلی بات یہ کہ دھمکی انہیں دو جو تمہاری دھمکی سے ڈرتے ہوں۔ ایران کی قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ دھمکیوں سے خوف زدہ ہونے والی قوم نہیں ہے... دوسری بات یہ کہ ایران کی قوم ہتھیار ڈالنے والی نہیں۔ ہم نے کسی پر حملہ نہیں کیا، کسی کے حملے کو قبول نہیں کریں گے اور کسی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔[42]
خبر رساں اداروں کے مطابق، اسرائیل کا ایران پر حملہ اور نیز ایران کی طرف سے مقبوضہ علاقوں پر داغے گئے میزائلوں کی ٹریکنگ امریکہ کے تعاون اور حمایت سے کی گئی تھی۔[43] کچھ تجزیہ کاروں نے امریکہ کو 12 روزہ جنگ کا اصل منصوبہ ساز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے لاجسٹک، مشاورتی اور دفاعی تعاون کے ذریعے بالواسطہ اسرائیل کی مدد کی۔[44] بعض تجزیہ کاروں نے اسرائیل کو امریکہ کی پراکسی حکومت قرار دیا ہے اور اسرائیل کی جارحیت، بشمول ایران کے شہری مراکز پر حملوں، کی وجہ امریکہ کی اس کی مسلسل حمایت کو قرار دیا ہے۔[45] اسٹیفن بیل، سیاسی تجزیہ کار اور برطانیہ کی سب سے بڑی جنگ مخالف تنظیم کے سینئر رکن، نے بھی کہا کہ اسرائیل امریکہ کی سبز روشنی کے بغیر یہ جنگ ہرگز شروع نہیں کر سکتا تھا۔[46] نیتن یاہو، اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک ABC کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے خلاف حمایت پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔[47]
گروپ جی ۷ (G7) جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیل کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔[48] فرانس کے صدر نے بھی اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو فرانس اسرائیل کا دفاع کرے گا۔[49] بعض رپورٹوں کے مطابق، برطانیہ، فرانس اور اردن نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں اسرائیل کی مدد کی۔[50]
امریکہ کا براہِ راست جنگ میں داخل ہونا
جنگ کے دسویں دن، 21 جون کی صبح، امریکی فوج نے اسرائیل کی حمایت میں فردو، نطنز اور اصفہان کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی۔[51] امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں ایران کی یورینیم افزودگی کی اہم تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔[52] تاہم، امریکی فوجی رپورٹوں[53] اور مغربی ذرائع ابلاغ، جیسے نیویارک ٹائمز،[54] نے اعتراف کیا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں۔ متعدد ممالک اور اداروں نے ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔[55]
ایران کے رہبر کو قتل کی دھمکی
اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران سید علی خامنہ ای، ایران کے رہبر وقت، کو امریکی صدر اور اسرائیلی حکام، خصوصاً نیتن یاہو، کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔
|
|
اس حصے کی اثبات پذیری کے لئے بہتر حوالہ درکار ہے۔ |
شیعہ مراجع تقلید، نجف اور قم کے حوزات علمیہ اور متعدد علماء و اسلامی اداروں نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے رہبر کی حمایت کا اعلان کیا۔[56] حوزہ علمیہ نجف کے بیان میں کہا گیا کہ سید علی خامنہ ای مزاحمت، عزت اور امتِ اسلامی کے اتحاد کی علامت ہیں، اور ان پر کسی بھی قسم کا حملہ پوری امتِ مسلمہ کے خلاف اعلانِ جنگ اور توحیدی تہذیب کی اقدار سے صریح غداری تصور کیا جائے گا۔[57]
بعض مراجع تقلید، جیسے آیت اللہ مکارم شیرازی[58] اور آیت اللہ نوری ہمدانی[59] نے بھی رہبری اور مرجعیتِ عامہ کو دھمکی دینے یا ان پر حملہ کرنے کو محاربہ کا مصداق قرار دیا۔
آپریشن وعدۂ صادق 3
ایران کی مسلح افواج نے اسرائیلی جارحیت اور مسلط کردہ جنگ کے جواب میں سیکڑوں میزائل اور ڈرون مقبوضہ علاقوں کی طرف داغ کر اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ یہ آپریشن 13 جون 2025ء کی شب، عید غدیر کی رات، ایران کے رہبر سید علی خامنہ ای کے ٹیلی ویژن خطاب کے بعد "یا علی بن ابی طالب(ع)" کے رمز کے ساتھ شروع ہوا۔[60] آپریشن وعدۂ صادق 3 کے دوران 22 میزائل حملوں کی لہروں[61] اور دس ڈرون حملوں کے مراحل میں،[62] اسرائیل کے اہم فوجی، انٹیلی جنس اور جاسوسی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کے انٹیلی جنس اور دفاعی مراکز پر سائبر حملے بھی اس آپریشن کا حصہ تھے۔
اسرائیل کی طرف سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں
صہیونی حکومت نے ایران پر حملے میں شہری علاقوں پر حملہ کر کے بارہا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
- مختلف ممالک کی حکومتوں اور حکام، تنظیم تعاون اسلامی اور خلیج تعاون کونسل نے اسرائیل کے ایران پر حملے کو ایران کی خودمختاری اور ارضی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔[63] اسرائیل کا ایران کی سرزمین پر حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 2، شق 4 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، جو ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کو ممنوع قرار دیتی ہے۔[64] ان حملوں کے دوران عراق اور شام کی فضائی حدود کی بھی خلاف ورزی ہوئی۔[65]
- ایٹمی تنصیبات پر حملہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی شمار کیا جاتا ہے اور اس کے وسیع ماحولیاتی اور انسانی نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔[66] نیز یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور آئی اے ای اے کے اساسنامے کی بھی خلاف ورزی سمجھا گیا۔[67]
- ایٹمی سائنس دانوں کا قتل آئی اے ای اے کے قواعد، اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا۔[68] 1949ء کے جنیوا کنونشن کے مطابق شہریوں کو نشانہ بنانا ممنوع ہے۔[69]
- اسلامی جمہوریہ ایران کی صدا و سیما کی عمارت پر بمباری کو بھی جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔[70]
- اسرائیل نے متعدد اسپتالوں، ایمبولینس مراکز اور ہلال احمر کو بھی نشانہ بنایا۔[71] یہ اقدام جنیوا کنونشن چہارم کی دفعہ 18 اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 1970ء کی قرارداد 2675 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔[72]
- اسرائیل کا تہران کی اوین جیل پر حملہ بھی اقوام متحدہ کے مطابق بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور جنایت جنگی قرار دیا گیا۔[73]
جنگ کے زمینہ ساز عوامل
اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط دشمنی میں ہیں، جن میں شامل ہیں:
1357ش (1979ء) کے انقلاب کے بعد نظریاتی اور سیاسی دشمنی
1357ش (1979ء) کے انقلاب کے بعد، ایران نے فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف جدوجہد کو ایک اسٹریٹجک اصول قرار دیا۔[74] اس نے فوری طور پر اسرائیل سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے اور اسرائیلی سفارت خانے کو فلسطینی سفارت خانے میں تبدیل کر دیا۔[75] اسلامی جمہوریہ کے نقطہ نظر سے، اسرائیل ایک ناجائز اور غاصب حکومت ہے جو عالم اسلام پر غلبے کے لیے بنائی گئی ہے۔[76] اسرائیل بھی ایران کو اپنا اصل خطرہ سمجھتا ہے، اس نے ایران کے خلاف متعدد خفیہ کارروائیاں کی ہیں جن میں سائنسدانوں اور ایرانی شخصیات کے قتل شامل ہیں۔[77] اسرائیل نے آپریشن طوفان الاقصیٰ اور حزب اللہ لبنان و حماس جیسی مزاحمتی گروپوں کے لیے ایران کی حمایت پر، ایران کو جنگ کی دھمکی دی تھی۔
|
|
اس حصے کی اثبات پذیری کے لئے بہتر حوالہ درکار ہے۔ |
وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم جوہری توانائی کے معاملے میں پیچھے ہٹ گئے تو امریکہ کی دشمنی ختم ہو جائے گی، اس حقیقت سے غافل ہیں۔ ان کا مسئلہ جوہری نہیں ہے۔ ایسے ممالک ہیں جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، ہمارے علاقے میں بھی ہیں، انہیں کچھ نہیں ہوتا! مسئلہ جوہری ہتھیار یا جوہری صنعت کا نہیں ہے، مسئلہ انسانی حقوق کا نہیں ہے؛ مسئلہ اسلامی جمہوریہ ہے جو ان کے سامنے شیر کی طرح کھڑی ہے۔ اگر اسلامی جمہوریہ بھی ان کے سامنے علاقے کے بعض حکومتوں کی طرح، اپنی قوم سے غداری کرنے، ان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوتی تو انہیں اس سے کوئی سروکار نہ ہوتا۔ ان کا مسئلہ استعماری استکبار کی زیادہ طلبیاں ہیں؛ یہی ایران کی قوم سے دشمنی کی وجہ ہے۔[78]
ایران کا جوہری پروگرام؛ بہانہ یا علت واقعی
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مقصد جوہری ہتھیار حاصل کرنا ہے۔ لیکن ایران کے اعلیٰ حکام اپنے جوہری پروگرام کے پرامن ہونے پر زور دیتے ہیں۔[79] سید علی خامنہ ای، ایران کے رہبر وقت نے 2010ء میں ایک فتویٰ جاری کیا جس کی بنیاد پر جوہری ہتھیار کی تیاری اور استعمال حرام ہے۔[80] یہ فتویٰ بطور سرکاری دستاویز اقوام متحدہ میں درج ہے۔
|
|
اس حصے کی اثبات پذیری کے لئے بہتر حوالہ درکار ہے۔ |
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی مئی-جون 2025ء میں تصدیق کی کہ ایران کی طرف سے جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔[81] کچھ تجزیہ کار، جن میں ایران کے رہبر بھی شامل ہیں، مانتے ہیں کہ جوہری مسئلہ ایران پر دباؤ ڈالنے اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کا محض ایک بہانہ ہے۔[82]
اسرائیل کا ایران پر حملہ، آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کی طرف سے ایران کے خلاف قرارداد کی منظوری اور امریکہ کی طرف سے جوہری معاہدے کی مہلت ختم ہونے کے بعد ہوا۔[83] کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ اس طرح ترتیب دی گئی تھی کہ جنگ کا بہانہ فراہم کر سکے۔[84] اسرائیل نے اس قرارداد کی منظوری سے پہلے بھی ایران کو ایٹمی تنصیبات پر فوجی حملے کی دھمکی دی تھی۔[85]
ایران کی طرف سے مزاحمتی محاذ کی حمایت
ایران لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین کی حماس جیسی مزاحمتی گروپوں کی سیاسی، مالی اور تسلیحاتی حمایت کرتا ہے۔ 2023ء میں آپریشن طوفان الاقصیٰ کے دوران، اسرائیل نے ایران پر ان حملوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے مزاحمتی گروپوں کی حمایت بند نہ کی تو اس ملک پر فوجی حملہ کرے گا۔ لیکن ایران نے اعلان کیا کہ وہ ہر اس گروپ کی حمایت کرے گا جو اسرائیل کے خلاف لڑے گا۔
|
|
اس حصے کی اثبات پذیری کے لئے بہتر حوالہ درکار ہے۔ |
مزاحمتی رہنماؤں کا قتل اور توازن میں تبدیلی
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ اس اندازے کے مطابق کیا تھا کہ اس سے پہلے مزاحمتی گروہوں کے سینئر کمانڈروں جیسے سید حسن نصر اللہ، اسماعیل ہنیہ اور یحیی سنوار کے قتل، حزب اللہ کے خلاف جنگ، حماس اور 2024ء میں بشار اسد کی حکومت کے خاتمے سے ایران کی علاقائی بازدارندگی کی صلاحیت کم ہو گئی ہے اور تہران کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔[86] سوریہ حافظ اور بشار اسد کے دور میں، ایران، حزب اللہ اور فلسطینی گروپوں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ تھا۔[87]
خسارت اور نقصانات
صہیونی حکومت نے ایران پر اپنے حملوں میں شہری رہائشی علاقوں اور اسپتالوں پر حملہ کیا۔ وزارت صحت کے شعبہ تعلقات عامہ کے اعداد و شمار کے مطابق 12 روزہ حملوں میں 1100 افراد مارے گئے[88] اور 5700 سے زائد زخمی ہوئے۔[89] شہداء میں 126 خواتین اور 41 بچے تھے۔[90] ان حملوں میں پاسداران انقلاب کے متعدد اعلیٰ کمانڈر جیسے محمد باقری، حسین سلامی، امیر علی حاجی زادہ، غلام علی رشید اور کئی ایٹمی سائنسدان جیسے فریدون عباسی اور محمد مہدی طہرانچی شہید ہوئے۔[91] فردو، نطنز اور اراک کے ایٹمی تنصیبات، تہران میں صدا و سیما کی مرکزی عمارت،[92] سات اسپتال، کئی ایمبولینس اسٹیشنز اور ایمبولینسیں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنیں۔[93]
اسرائیل نے آپریشن وعدہ صادق3 کے نقصانات کی رپورٹنگ اور تصاویر و ویڈیوز کی اشاعت پر پابندی لگا دی۔[94] بہر حال، ٹائمز آف اسرائیل نے 12 روزہ جنگ میں اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد 28 اور زخمیوں کی تعداد 3223 بتائی ہے۔[95]
-
ایران کے شہدائے اقتدار کی تدفین کی تقریب (27 جون 2025ء تہران)۔
-
اسرائیلی بمباری کے بعد صدا و سیما کی عمارت، 15 جون 2025ء۔
-
اسرائیلی بمباری کے بعد صدا و سیما کی عمارت کا اندرونی منظر۔
-
اسرائیلی بمباری کے بعد اوین جیل کا ایک حصہ۔
نتائج
اسرائیل کے خلاف ایران کی جنگ کے مختلف نتائج برآمد ہوئے جیسے:
- ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا چھٹا دور جو 13 جون 2025ء کو عمان میں ہونے والا تھا، صہیونی حکومت سے امریکہ کی براہِ راست حمایت کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔[96]
- ایرانی حاجیوں کی سعودی عرب سے واپسی میں تاخیر اور تبدیلی: ایران میں پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے، حاجیوں کی سعودی عرب سے فضائی واپسی منسوخ کر دی گئی اور ان کی واپسی زمینی راستے سے عراق کے ذریعے کی گئی۔[97]
- ایرانی پارلیمنٹ نے 24 جون 2025ء کو آئی اے ای اے کے ساتھ ایران کے تعاون کو معطل کرنے کا منصوبہ منظور کیا۔[98] اس منصوبے کے تحت آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کا ایران میں داخلہ اس وقت تک ممنوع ہے جب تک کہ جوہری مراکز اور سائنسدانوں کی سلامتی کی ضمانت نہ مل جائے۔[99]
- اسرائیلی مالیاتی اداروں اور میڈیا کے تخمینے کے مطابق اسرائیل کی معیشت کو 28 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان۔[100]
- عالمی معیشت اور منڈیوں پر اثر بشمول تیل اور عالمی سونے کی قیمتوں میں اضافہ اور اسرائیلی اور امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ،[101] اور ایران کی بورس کا عارضی طور پر بند ہونا۔[102]
- اسرائیل سے صہیونیوں کی دوسرے ممالک کی طرف الٹی ہجرت میں اضافہ۔[103]
- محرم 1447ق (2025-2026ء) کے لیے "ایرانِ حسین، تا ابد پیروز است" کا نعرہ بطور مشترکہ نعرہ منتخب کیا گیا۔[104]
جنگی حقائق کی تحریف
باوجود اس کے کہ اس جنگ کو صہیونیوں نے شروع کیا اور اس میں ایران کے شہری رہائشی علاقوں اور عوامی مقامات جیسے نشریاتی ادارہ جات اور اسپتالوں پر حملہ کیا گیا، کچھ مغربی میڈیا نے اس جنگ کو اسرائیل کے حق میں اور ایران کے خلاف تحریف کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے ایران کو ایٹمی ہتھیار تک رسائی کو روکنے کے لئے اور صرف اس کے فوجی علاقوں پر حملہ کیا ہے۔[105] یورونیوز نے اسرائیلی فوج کے حوالے سے نقل کیا کہ ایران پر اسرائیلی حملوں میں تہران میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔[106] جبکہ زمینی حقائق کے مطابق صہیونی حکومت نے اس جنگ کے دوران ایران کے ایٹمی سائنسدانوں اور فوجی کمانڈروں کے قتل کے علاوہ ان کے خاندانوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔[107]
اسرائیل کی طرف سے ایران کے فضائی اور میزائل اڈوں، گیس فیلڈ اور تیل کے گوداموں پر حملہ اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کا قتل، اسرائیل کے اس دعوے سے متصادم نظر آتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے کے لئے اس کے صرف ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔[108]
جنگ بندی
ایران کی عظیم قوم سے ... کئی مبارکبادیں ... پیش کرتا ہوں: ایک مبارکباد جھوٹی صہیونی حکومت پر فتح کی۔ صہیونی حکومت اپنے تمام تر شور و غل، اپنے تمام تر دعوؤں کے ساتھ، اسلامی جمہوریہ کی ضربوں کے نیچے تقریباً گر گئی اور کچل دی گئی... دوسری مبارکباد ہمارے عزیز ایران کی امریکہ کی حکومت پر فتح سے متعلق ہے۔ امریکہ کی حکومت براہِ راست جنگ میں داخل ہو گئی کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ اگر داخل نہ ہوا تو صہیونی حکومت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی... لیکن اس جنگ سے اسے کوئی حاصل نہ ہوا... اسلامی جمہوریہ نے امریکہ کے منہ پر سخت تھپڑ رسید کیا... تیسری مبارکباد ایران کی قوم کے غیر معمولی اتحاد اور اتفاق کی ہے۔ الحمداللہ ایک قریب نوے ملین افراد کی قوء، یک جا، یک زبان، شانہ بہ شانہ، ایک ساتھ، بغیر کسی فرق کے اپنے مطالبات اور اپنے مقاصد میں، کھڑے ہوئے، نعرے لگائے، بات کی، مسلح افواج کے طرز عمل کی حمایت کی..۔[109]
22 جون 2025ء کو ایران کے ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے جواب میں ایران کی طرف سے قطر میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل داغے گئے جسے "آپریشن بشارت فتح" کا نام دیا گیا۔[110] اس آپریشن کے بعد صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔[111] ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے جنگ بندی کو مجاہدین کی تدبیر اور جانفشانی کا نتیجہ قرار دیا جس نے دشمن کو شکست اور یک طرفہ جارحیت روکنے پر مجبور کر دیا۔[112] البتہ اسرائیل نے کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔[113]
کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسرائیل اس تنازع میں اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔[114] ان کے مطابق نیتن یاہو ایران کے سیاسی نظام کی تبدیلی جبکہ ٹرمپ ایران کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے خواہاں تھے، لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے مقررہ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا۔[115] نیز کہا جاتا ہے کہ جنگ بندی اس وقت حاصل ہوئی جب اسرائیل اور امریکہ ایران کے ایٹمی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہے۔[116] الجزیرہ نیٹورک نے ایران کی فتح کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کامیابی کو اس ملک کی داخلی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے نمونہ قرار دیا۔[117]
جنگ رمضان
28 فروری 2026ء مطابق ۱۰ رمضان ۱۴۴۶ق کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران میں بیت رہبری کمپاونڈ پر حملے کئے جس کے نتیجے میں ایران کے رہبر وقت آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان اور دفتر کے بعض ارکان نیز بعض فوجی کمانڈروں منجملہ سید عبدالرحیم موسوی، محمد پاکپور، علی شمخانی، عزیز نصیرزادہ، سید اسماعیل خطیب اور علی لاریجانی شہید شہید ہو گئے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران نے آپریشن وعدہ صادق 4 کے ذریعے رد عمل دکھایا اور آخر کار جنگ رمضان شروع ہو گئی۔
متعلقہ مضامین
- جنگ رمضان
- آپریشن وعدہ صادق 4
- مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی جنگوں کی فہرست
- اسرائیلی قتل عام کی فہرست
- طوفان الاقصی
حوالہ جات
- ↑ «ایران پر اسرائیلی حملے کی اصل وجہ / نیتن یاہو برسوں سے اس حملے کی تیاری کر رہا تھا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اکسیوس: اسرائیل نے امریکہ سے ایران پر حملوں میں شامل ہونے کی درخواست کی»، یورونیوز۔
- ↑ «These are the 28 victims killed in Iranian missile attacks during the 12-day conflict»، Times of Israel۔
- ↑ «گزشتہ شب سے اب تک اسرائیل کے خلاف ایران کے میزائل آپریشن کی پانچ لہروں کی تفصیلات + تصاویر»، نورنیوز۔
- ↑ «Operation Rising Lion: 200 jets hit 100 targets»، The Times of India۔
- ↑ «ایران پر اسرائیلی بمباری کا دباؤ؛ نیتن یاہو واشنگٹن کی فوجی شمولیت کے خواہاں، ٹرمپ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے درپے»، یورونیوز؛ «ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران کیا کچھ گزرا؟»، ویب سائٹ TRT Global۔
- ↑ «ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران کیا کچھ گزرا؟»، ویب سائٹ TRT Global۔
- ↑ «ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران کیا کچھ گزرا؟»، ویب سائٹ TRT Global؛ «اسرائیل کے ایران پر حملے کے شہداء کے تازہ ترین اعداد و شمار»، خبرگزاری اقتصاد آنلاین۔
- ↑ «These are the 28 victims killed in Iranian missile attacks during the 12-day conflict»، Times of Israel۔
- ↑ «ایران پر اسرائیلی حملے کی اصل وجہ / نیتن یاہو برسوں سے اس حملے کی تیاری کر رہا تھا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «مجرم نیتن یاہو نے ایران پر جارحیت کی اصل وجوہات کا اعتراف کر لیا»، المسیرۃ نیٹ۔
- ↑ «ایران پر اسرائیلی حملے کی اصل وجہ / نیتن یاہو برسوں سے اس حملے کی تیاری کر رہا تھا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ کدیور، «اسرائیل نے ایران پر کیوں حملہ کیا؟»، نورنیوز۔
- ↑ «"مذاکرات تعطل کا شکار، فوجی حملے کی افواہیں؛ ٹرمپ: اگر ایران یورینیم کی افزودگی کرے گا تو ہمیں دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا"»، یورونیوز؛ «ایران پر اسرائیلی حملے کی اصل وجہ / نیتن یاہو برسوں سے اس حملے کی تیاری کر رہا تھا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی حکومت کے مجرمانہ حملے پر مراجع تقلید اور علماء کا ردِ عمل»، رسا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی حکومت کے مجرمانہ حملے پر مراجع تقلید اور علماء کا ردِ عمل»، رسا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ونزوئیلا کے صدر نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی»، خبرگزاری آناتولی۔
- ↑ «اردغان: ایران پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے»، خبرگزاری آناتولی۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «ایران پر صہیونی حکومت کے جارحانہ حملے پر عالمی ردِ عمل»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی؛ «ایران پر صہیونی حکومت کی جارحیت پر عالمی ردِ عمل»، خبرگزاری میزان۔
- ↑ «پاکستانی پارلیمنٹ نے ایران کی حمایت اور اسرائیلی حملے کی مذمت میں قرارداد منظور کر لی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اقوام متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے 33 رکن ممالک کی ایران کی دوٹوک حمایت»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ایران پر صہیونی حکومت کی جارحیت پر عالمی ردِ عمل»، خبرگزاری میزان۔
- ↑ «برکس کے رکن ممالک نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں کی مذمت کی»، ویب سائٹ TRT Global۔
- ↑ «20 عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیلی حکومت کے ایران پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی جوہری تنصیبات کے بارے میں 1+10 ممالک کا مشترکہ بیان»، خبرآن لائن نیوز ایجنسی۔
- ↑ «عراق نے صہیونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکایت درج کرا دی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسلامی ممالک میں لاکھوں افراد نے ایران کی حمایت میں مظاہرے کیے»، خبرگزاری جمہور۔
- ↑ «لندن میں ایران پر حملے کی مذمت میں صہیونیت مخالف مظاہرہ + ویڈیو»، العالم نیوز۔
- ↑ «امریکہ میں ایران کی حمایت میں عوام سڑکوں پر نکل آئے + ویڈیو»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ایرانیوں کا جمعۂ غضب؛ اسرائیل کے خلاف عوام کی انتقام کی للکار + ویڈیو»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ «اقوام متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے 33 رکن ممالک کی ایران کی دوٹوک حمایت»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ایران پر صہیونی حکومت کی جارحیت پر عالمی ردِ عمل»، خبرگزاری میزان۔
- ↑ «برکس کے رکن ممالک نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں کی مذمت کی»، ویب سائٹ TRT Global۔
- ↑ «20 عرب اور اسلامی ممالک نے اسرائیلی حکومت کے ایران پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی جوہری تنصیبات کے بارے میں 1+10 ممالک کا مشترکہ بیان»، خبرآن لائن نیوز ایجنسی۔
- ↑ «عراق نے صہیونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شکایت درج کرا دی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسلامی ممالک میں لاکھوں افراد نے ایران کی حمایت میں مظاہرے کیے»، خبرگزاری جمہور۔
- ↑ «لندن میں ایران پر حملے کی مذمت میں صہیونیت مخالف مظاہرہ + ویڈیو»، العالم نیوز۔
- ↑ «امریکہ میں ایران کی حمایت میں عوام سڑکوں پر نکل آئے + ویڈیو»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ایرانیوں کا جمعۂ غضب؛ اسرائیل کے خلاف عوام کی انتقام کی للکار + ویڈیو»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ «ایران کی قوم سے ٹیلی ویژن خطاب»، رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دفتر برائے تحفظ و نشر آثار کی اطلاع رسانی ویب گاہ۔
- ↑ «صہیونی حکومت کی جارحیت کے بعد ایران کی قوم سے دوسرا ٹیلی ویژن خطاب»، رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دفتر برائے تحفظ و نشر آثار کی اطلاع رسانی ویب گاہ۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کریں: «ایران اور اسرائیل کی جنگ»، یورونیوز؛ «صہیونی حکومت کی وزارتِ جنگ کا صدر دفتر ایرانی میزائلوں کی زد میں»، خبرگزاری میزان۔
- ↑ کشوریان آزاد، «ایران کے خلاف صہیونی حکومت کی جنگ کا اصل منصوبہ ساز امریکہ ہے»، امریکہ اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کی ویب گاہ۔
- ↑ «صدا و سیما پر حملہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے؛ یہ ایک غیر قانونی جنگ ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کا دنیا پر مسلط کردہ نظام»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صدا و سیما پر حملہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے؛ یہ ایک غیر قانونی جنگ ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کا دنیا پر مسلط کردہ نظام»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «نیتن یاہو کا ABC سے انٹرویو: ایران کے خلاف ٹرمپ کی مدد پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «گروپ 7 کا یک طرفہ بیان؛ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں»، مہر نیوز ایجنسی۔
- ↑ «Macron urges renewed nuclear dialogue after Israel's Iran strikes»، France24۔
- ↑ «بارہ روزہ جنگ میں کون سے یورپی ممالک اسرائیل کی مدد کے لیے آگے آئے؟»، خبرگزاری مشرق۔
- ↑ «ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملہ؛ ٹرمپ: یا صلح ہوگی یا اس سے بھی شدید کارروائی کریں گے»، یورونیوز۔
- ↑ «ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملہ؛ ٹرمپ: یا صلح ہوگی یا اس سے بھی شدید کارروائی کریں گے»، یورونیوز۔
- ↑ ««آدھی رات کا ہتھوڑا» آپریشن کے نتائج پر ابہام؛ 16 ٹرک سوالات کے مرکز میں»، العین فارسی۔
- ↑ ««آدھی رات کا ہتھوڑا» آپریشن کے نتائج پر ابہام؛ 16 ٹرک سوالات کے مرکز میں»، العین فارسی؛ «نیویارک ٹائمز کا دعویٰ: 12 بنکر شکن بم بھی فردو کو تباہ نہ کر سکے»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «امریکی فوجی جارحیت پر ایران کا ردِ عمل: جوہری صنعت کی ترقی کا راستہ پوری قوت سے جاری رہے گا»، نورنیوز۔
- ↑ «رہبر انقلاب کے خلاف ٹرمپ کی گستاخانہ دھمکی پر مراجع تقلید اور علماء کا شدید ردِ عمل»، رسا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «حوزہ علمیہ نجف نے «مجرم ٹرمپ» کی جانب سے امام خامنہ ای کو قتل کی دھمکی پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «جو بھی شخص یا حکومت رہبری اور مرجعیت کو دھمکی دے، وہ محارب ہے»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «رہبری اور مرجعیتِ شیعہ کے خلاف ہر قسم کی دھمکی اور تعرض کا حکم محارب ہے»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «وعدۂ صادق 3؛ ایرانی میزائل تل ابیب اور حیفا میں اپنے اہداف پر جا لگے»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ «جنگ بندی سے چند لمحے پہلے اسرائیل کے فوجی اور امدادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «فوج کی جانب سے درجنوں ڈرون مقبوضہ علاقوں کی طرف روانہ»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسرائیل نے ایران پر حملے میں کن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی؟»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسرائیل نے ایران پر حملے میں کن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی؟»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسرائیل نے ایران پر حملے میں کن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی؟»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسرائیل نے ایران پر حملے میں کن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی؟»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت میں 1+10 ممالک کا مشترکہ بیان»، خبرآن لائن نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اسرائیل نے ایران پر حملے میں کن بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی؟»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «غزہ کے اسپتالوں پر حملہ؛ بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں؟»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صدا و سیما پر حملہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے؛ یہ ایک غیر قانونی جنگ ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کا دنیا پر مسلط کردہ نظام»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «وزیر صحت: اب تک تین اسپتال اور چھ ایمبولینسیں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں»، خبرگزاری انتخاب۔
- ↑ «غزہ کے اسپتالوں پر حملہ؛ بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں؟»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «اقوام متحدہ: اوین جیل پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے»، خبرگزاری میزان۔
- ↑ «انتفاضۂ فلسطین کی حمایت میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔
- ↑ ملاحظہ کریں: سویدان، دایرۃالمعارف مصور تاریخ یہودیت و صہیونیسء، 1391شمسی، ص399۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «صہیونی ریاست کے ساتھ ملت ایران کی دشمنی کے علل و اسباب پر ایک نظر»، تسنیم نیوز ایجنسی۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کریں: «ایران میں اسرائیل کی اہم ترین ٹارگٹ کلنگز کا جائزہ: فخری زادہ سے ہنیہ تک»، العین نیوز ایجنسی فارسی؛ «ایران کے جوہری سائنسدان شہداء کے بارے میں خصوصی شمارہ»، حوزہ آفیشل ویب سائٹ۔
- ↑ «سال 91 شمسی کے آغاز پر حرم رضوی میں خطاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔
- ↑ «"شورائے حکام (آئی اے ای اے) کی تہران کے خلاف قرارداد؛ ایران نے ایک محفوذ مقام پر افزودگی کے نئے مرکز کے قیام کی اطلاع دی ہے۔"»، یورونیوز، نیوز ایجنسی۔
- ↑ «بین الاقوامی کانفرنس برائے جوہری تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ اشاعۂ جوہری ہتھیاروں کا تعارف»، ہمشہری آنلاین ویب سائٹ۔
- ↑ «ایران پر صہیونی حکومت کی جارحیت کے بعد گروسی کا اعتراف+ فلم»، مہر نیوز ایجنسی؛ «اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق گروسی کا دیرہنگام اعتراف»، شبکہ شرق۔
- ↑ «سال 91 شمسی کے آغاز پر حرم رضوی میں خطاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای۔
- ↑ «اسرائیل نے ایران پر کیوں حملہ کیا؟»، نورنیوز۔
- ↑ «ایران پر صہیونی حکومت کی جارحیت کے بعد گروسی کا اعتراف+ فلم»، مہر نیوز ایجنسی؛ «اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق گروسی کا دیر ہنگام اعتراف»، شبکہ شرق۔
- ↑ مثال کے طور پر ملاحظہ کریں: «نیویارک ٹائمز کی روایت کے مطابق ایران اور امریکہ کے مذاکرات میں اصل تنازع کیا ہے؟»، مہر نیوز ایجنسی۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «ایران کی «محور مقاومت» سے کونسی چیز باقی رہ گئی ہے؟»، بی بی سی فارسی۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «ایران کی «محور مقاومت» سے کونسی چیز باقی رہ گئی ہے؟»، خبرگزاری بی بی سی فارسی۔
- ↑ «صہیونی حکام کی جارحیت کے نتیجے میں شہدار کی تعداد 1100 سے تجاوز کر گئی»، مشرق نیوز ایجنسی؛ «صہیونی حکام کی جارحیت سے 7 ہسپتالوں اور 5750 انسانوں کو نقصان پہنچا»، مہر نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی حکام کی جارحیت سے 7 ہسپتالوں اور 5750 انسانوں کو نقصان پہنچا»، مہر نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی حکام کی جارحیت کے نتیجے میں شہدار کی تعداد 1100 سے تجاوز کر گئی»، مشرق نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی حملوں میں شہید ہونے والے شہداء کے اسامی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی؛ «کی ایران پر حملے میں 3 اور ایٹمی سائنسدان مارے گئے»، آناتولی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «پیر کی شام صدا و سیما پر حملے کی تفصیلات/ آگ بجھانے کی کوششوں کے ساتھ نشریات بلا تعطل جاری رہیں»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ایران پر اسرائیلی حملے کے شہداء اور زخمیوں کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے گئے»، شرق نیٹ ورک۔
- ↑ Whitney, «Proof that Israel Has Lost the War: Sizable Portion of Military, Intelligence, Energy, and R&D Facilities Destroyed», GlobalResearch؛ «ایرانی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات کے اعداد و شمار پر اسرائیل کی پردہ پوشی»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ «These are the 28 victims killed in Iranian missile attacks during the 12-day conflict», times of israel۔
- ↑ «وزیر خارجہ عمان نے ایران و امریکا کے درمیان اتوار کو ہونے والے مذاکرات کی تعطلی کی خبر دی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «حجاج کا ہوائی اور زمینی راستوں سے ملک واپسی»، صدا و سیما نیوز ایجنسی۔
- ↑ «پارلیمنٹ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ساتھ تعاون کو معطل کر دیا»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ایٹمی مراکز اور جوہری سائنس دانوں کی سلامتی کی ضمانت فراہم ہونے تک ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں کا داخلہ ممنوع ہے»، آستان بہارستان نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی ذرائع: ایرانی میزائلوں نے 28 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا»، مشرق نیوز ایجنسی؛ «صہیونی ذرائع: ایرانی میزائلوں نے 28 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا»، اعتماد آنلاین۔
- ↑ «آپریشن وعدۂ صادق 3 کے نتیجے میں امریکہ اور صہیونی حکومت کی اسٹاک مارکیٹوں کے اشاریوں میں کمی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «بورس تا اطلاع ثانوی تعطیل ہے»، آفیشل ویب سائٹ روزنامہ دنيائے اقتصاد۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «ایرانی حملوں کے بعد مقبوضہ اراضی خانی ہونے پر نتانیاہو کی وحشت»، سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی۔
- ↑ «ماہ محرم ماتمی دستوں کا مشترک نعرہ: "حسینؑ کا ایرانِ ابد تک کامیاب ہے"»، مشرق۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «فاکس نیوز اور سی ان ان میں نامردی کی انتہا + فلم»، نورنیوز۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «جنگ ایران و اسرائیل»، یورونیوز۔
- ↑ ملاحظہ کریں: «فاکس نیوز اور سی ان ان میں نامردی کی انتہا + فلم»، نورنیوز۔
- ↑ «ایران پر اسرائیلی حملے کی اصل وجہ/نتن یاہو سالوں سال حملے کی تیاری کر رہا تھا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی حکومت کی جارحیت کے بعد ایران کی قوم سے تیسرا ٹیلی ویژن خطاب»، پایگاہ اطلاع رسانی دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای۔
- ↑ «آپریشن "بشارت فتح" کے ذریعے دشمن صہیونی کو جنگ بندی پر مجبور کیا»، مہر نیوز ایجنسی۔
- ↑ «آپریشن "بشارت فتح" کے ذریعے دشمن صہیونی کو جنگ بندی پر مجبور کیا»، مہر نیوز ایجنسی۔
- ↑ «سپریم قومی سلامتی کونسل: عوام کی ہوشیاری اور یکجہتی نے دشمن کی بنیادی حکمتِ عملی کو ناکام بنا دیا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «صہیونی حکومت نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی + فیلم»، دانشجو نیوز ایجنسی۔
- ↑ غولدبیرغ، «اسرائيل ایران میں کیسے ناکام ہوا؟»، الجزیرہ نٹ ورک؛ «آیا جنگ اسرائیل و ایران بہ پایان رسید؟»، پایگاہ خبری - تحلیلی فرارو؛ «ٹرمپ: آتش بس برقرار است/ نتانیاہو رسماً موافقت با آتش بس را اعلام کرد/ تشکر اسرائیل از ٹرمپ بابت آتش بس»، خبرگزاری تابناک۔
- ↑ علائی، «ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں اسرائیل اور آمریکا کی ناکامی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی۔
- ↑ «امریکی خفیہ دستاویزات: ایران پر حملے سے اس کے جوہری پروگرام کو صرف کئی ماہ تک کے لئے پیچھے دکیل دیا ہے»، یورونیوز، نیوز ایجنسی۔
- ↑ غولدبیرغ، «اسرائيل ایران میں کیسے ناکام ہوا؟»، الجزیرہ نٹ ورک۔
مآخذ
- «سنتکام کی ایران پر حملے کی تیاری؛ ٹرمپ نتن یاہو سے: مذاکرات جاری رکھیں گے، فی الحال بمباری کا مخالف ہوں»، یورونیوز، نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 12 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 16 جون 2025ء۔
- «جنگ کے 560 ویں دن غزہ میں ہلاکتوں اور نقصانات کی مکمل اعداد و شمار»، ایسنا نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 18 اپریل 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 18 جون 2025ء۔
- «اسرائیل نے ایران پر حملے میں کونسی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی؟»، ایسنا نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 14 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 19 جون 2025ء۔
- «امریکی خفیہ دستاویزات: ایران پر حملے سے اس کے جوہری پروگرام کو صرف کئی ماہ تک کے لئے پیچھے دکیل دیا ہے»، یورونیوز، نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 25 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 25 جون 2025ء۔
- «اسرائیلی حملے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق گروسی کا دیر اعتراف»، شبکہ شرق، تاریخ درج مطلب: 18 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 18 جون 2025ء۔
- «ایران پر صہیونی حکومت کی جارحیت کے بعد گروسی کا اعتراف+ فلم»، مہر نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 18 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 18 جون 2025ء۔
- «"مذاکرات تعطل کا شکار اور فوجی حملے کی افواہیں؛ ٹرمپ: اگر ایران یورینیم افزودگی کرے گا تو ہمارے پاس دوسرا راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا"»، یورونیوز، نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 7 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 16 جون 2025ء۔
- «نئے شمسی سال 1391 کے آغاز پر حرم رضوی میں خطاب»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ ای، تاریخ درج مطلب: 20 مارچ 2012ء، تاریخ مشاہدہ: 7 جولائی 2025ء۔
- «جوہری ہتھیاروں کی حرمت کے بارے میں رہبر انقلاب کے اہم بیانات»، خبر آنلاین نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 24 فروری 2021ء، تاریخ مشاہدہ: 7 جولائی 2025ء۔
- «"براڈکاسٹنگ آرگنائزیشن (صدا و سیما) پر حملہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے؛ یہ ایک غیرقانونی جنگ ہے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کا دنیا پر مسلط کردہ نظام ہے۔"»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 17 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 17 جون 2025ء۔
- «ایران و اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران کیا کیا گزری؟»، وبگاہ TRT Global، تاریخ درج مطلب: 27 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 8 جولائی 2025ء۔
- «ایران پر اسرائیلی حملے کی اصل وجہ/نتن یاہو سالوں سال حملے کی تیاری کر رہا تھا»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 16 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 18 جون 2025ء۔
- علائی، حسین، «ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے میں اسرائیل اور آمریکا کی ناکامی»، جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 24 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 25 جون 2025ء۔
- غولدبیرغ، أوری، «اسرائيل ایران میں کیسے ناکام ہوا؟»، الجزیرہ نٹ ورک، تاریخ درج مطلب: 25 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 25 جون 2025ء۔
- «"شورائے حکام (آئی اے ای اے) کی تہران کے خلاف قرارداد؛ ایران نے ایک محفوذ مقام پر افزودگی کے نئے مرکز کے قیام کی اطلاع دی ہے۔"»، یورونیوز، نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 10 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 16 جون 2025ء۔
- کشوریان آزاد، محسن، «ایران کے خلاف اسرائیلی حملے کا ماسٹر مائنڈ امریکہ ہے»، وبگاہ مؤسسہ مطالعات آمریکا، تاریخ درج مطلب: 29 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 8 جولائی 2025ء۔
- کدیور، جمیلہ، «اسرائیل نے ایران پر کیوں حملہ کیا؟»، نورنیوز، تاریخ درج مطلب: 15 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 18 جون 2025ء۔
- «مجرم نیتن یاہو ایران پر جارحیت کی اصل وجوہات کا اعتراف کرتا ہے»، المسیرۃ نٹ، تاریخ درج مطلب: 27 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 28 جون 2025ء۔
- «فاکس نیوز اور سی ان ان میں نامردی کی انتہا + فلم»، نورنیوز، تاریخ درج مطلب: 17 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 18 جون 2025ء۔
- «ٹرمپ کی رہبر انقلاب کی شان میں گشتاخی کے خلاف مراجع تقلید اور علماء کا شدید رد عمل »، رسا نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 18 جون 2025ء، تاریخ مشاہدہ: 25 جون 2025ء۔
- «ایران کے جوہری سائنسدان شہداء کے بارے میں خصوصی شمارہ»، حوزہ آفیشل ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 2 اکتوبر 2012ء، تاریخ مشاہدہ: 25 جون 2025ء۔
- «Macron urges renewed nuclear dialogue after Israel's Iran strikes»، France 24, Published: 13 June 2025, Accessed: 30 June 2025.
- «Operation Rising Lion: 200 jets hit 100 targets»، The times of India, Published: 14 June 2025, Accessed: 30 June 2025.