موکب

ویکی شیعہ سے

مُوکِب، مختلف مذہبی رسومات میں زائرین یا عام لوگوں کے درمیان کھانا، چائے یا شربت وغیرہ تقسیم کرنے والی جگہ کو موکب کہا جاتا ہے۔ اربعین پیدل سفر کے موقع پر کربلا کے راستے میں زائرین کے لئے قیام و طعام نیز میڈیکل اور دیگر ضروری خدمات کے لئے مختلف موکب بر پا کئے جاتے ہیں۔ یہ اصطلاح عراق کے شیعوں کے درمیان بہت رائج ہے اور ان اواخر میں ایران اور دیگر شیعہ نشین ممالک اور علاقوں میں بھی اس کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ البتہ ایران میں اس سے پہلے "ایستگاہ صلواتی"(یعنی مفت خدمت رسانی) موکب کی سی خدمات فراہم کرتے تھے۔

موکب کا لفظ عرب شیعوں کے یہاں عزاداری کی جگہ یا عزاداری کی رسومات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ عراق میں "موکبُ الْعَزاء" (یعنی عزاداری کا موکب) اور "موکبٌ خِدْمیّ"(یعنی خدمت فراہم کرنے کا موکب) دو لفظ رائج ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں بھی موکب کا قیام رائج ہے جنہیں "سبیل" کہا جاتا ہے۔ موکبوں میں ہونے والے اخراجات عموما مخیر حضرات کے عطیہ جات سے پورے کئے جاتے ہیں۔

مفہوم‌ شناسی اور تاریخچہ

موکب لوگوں کی خدمت‌ کرنے والی جگہ کو کہا جاتا ہے[1] جو مختلف مقامات[2] یا مذہبی رسومات[3] میں لوگوں خاص کر زائرین کو مفت خدمات فراہم کرتی ہے۔ موکب‌ خیموں یا عمارتوں کی شکل میں برپا کئے جاتے ہیں۔[4]

تاریخی قدمت

موکب کا لفظ عرب زبان شیعوں کے یہاں محل عزا،[5] دستہ عزا[6] یا اجتماعی شکل میں عزاداری برپا کرنے یا عزاداری کے جلسے جلوسوں کو کہا جاتا ہے۔[7][یادداشت 1] کتاب ادبُ الطَّف کہ جو تقریبا 1347ہجری شمسی میں لکھی گئی ہے،[8] میں مختلف موکبوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اربعین حسینی کے نزدیک کربلا کے راستے میں مختلف مقامات پر نصب کئے جاتے تھے جن میں زائرین امام حسین کی خدمت کی جاتی تھی۔[9]

فرہنگ سوگ شیعی نامی کتاب جو 1395 ہجری شمسی میں شایع ہوئی، کے مطابق عراق میں اربعین حسینی کے موقع پر زائرین کے لئے قیام و طعام اور دوسری خدمات فراہم کرنے والے خیموں اور مقامات کو بھی موکب کہتے ہیں۔[10] اس ملک میں عزاداری کے دستہ جات اور زائرین کے لئے خدمات فراہم کرنے والے موکب میں فرق بیان کرنے کے لئے ایک کو "موکبُ الْعَزاء؛ یعنی عزاداری کا موکب" اور دوسرے کو "موکبٌ خِدْمی؛ یعنی خدمات فراہم کرنے والے موکب" کہا جاتا ہے۔[11]

موکب برپا کرنے کا رسم ہجری شمسی کے اسی کے عشرے میں عراق سے ایران کی طرف منقل ہوئی؛[12] البتہ اس سے پہلے ایران میں "ایستگاہ صلواتی"[یادداشت 2] موکب کے جیسے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے۔[13] "موکب" اور "ایستگاہ صلواتی" ایران میں فارسی‌ زبان بولنے والے مناطق میں ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔[14]

خدمات

موکبوں میں پیش کی جانے والی خدمات مفت ہوتی ہیں جس میں کھانا، چائے، شربت[15] جوتوں کو پالش کرنا[16] وغیره شامل ہیں۔ اربعین پیدل مارچ کے موقع پر کربلا کے راستے میں برپا کرنے والے موکبوں میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ رہائہجری شمسی، طبی سہولیات، تھکاوٹ دور کرنے کے لئے پاؤں اور بدن کے ماساج نیز وسائل کی تعمیر جیسے خدمات بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔[17]

قدرتی آفات جیسے زلزلہ اور سیلاب وغیرہ کے موقع پر بھی موکب‌ لگائے جاتے ہیں جن میں متاثرین کے درمیان روزمرہ ضروری اشیاء جیسے اشیاء خورد و نوہجری شمسی، ٹینٹ، کمبل اور پانی وغیره تقسیم کرتے ہیں۔[18] موکب‌ کے اخراجات عوامی عطیہ جات[19] اور کبھی کبھار حکومتی امداد کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔[20]

موکب برپا کرنے کا وقت اور جگہ

عراق میں اربعین پیدل مارچ کے موقع پر لگائے گئے موکب

مختلف مذہبی مناسبات من جملہ اربعین پیدل مارچ،[21] محرم الحرم،[22] نیمہ شعبان،[23] اور ائمہ معصومین کی ولادت اور شہادت کے ایام[24] میں مختلف شیعہ نشین علاقوں میں موکب برپا کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح شیعہ مذہبی مقامات جیسے ائمہ معصومینؑ کے روضوں میں بھی زائرین کی خدمت کے لئے موکب لگائے جاتے ہیں۔[25]

نیمہ شعبان کو امام زمانہ عج اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ولادت کے موقع پر ہر سال نجف سے کربلا کی طرف پیدل مارچ کے دوران بھی موکب لگائے جاتے ہیں۔[26] اسی طرح سنہ 1401 ہجری شمسی کو عید غدیر کے موقع پر تہران میں "دس کیلو میٹر طویل مہمانی" کے نام سے ایک جشن منعقد ہوا جس میں تقریبا 350 موکب لگائے گئے تھے۔[27]

اربعین پیدل مارچ میں

مزید معلومات کے لئے دیکھئے: اربعین پیدل مارچ

اربعین پیدل مارچ کے موقع پر عراق کے مذہبی حلقوں، مقامی عشایر اور نزدیکی گاؤں کے مکینوں کی جانب سے موکب لگائے جاتے ہیں[28] جن کے انتظامات مکمل طور پر عوامی رضا کاروں کے ذریعے انجام دئے جاتے ہیں۔[29]

اعداد و شمار کے مطابق عراق میں امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضہ مبارکہ کے تحت کام کرنے والے "موکب‌، حسینہ‌ جات اور دیگر مذہبی مقامات" کے توسط سے سنہ 1399ہجری شمسی کے اربعین حسینی کے موقع پر پورے عراق میں 32 ہزار موکب لگائے گئے تھے۔[30] حضرت عباس کے روضہ مبارکہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق سنہ 1401ہجری شمسی کو اربعین کے موقع پر کربلا سے متصل راستوں میں 14500 موکب لگائے گئے تھے جن میں سے 300 موکب دوسرے ممالک من جملہ ایران کی طرف سے لگائے گئے تھے۔[31]

روضہ حضرت عباس کے مطابق سنہ 1401 ہجری شمسی کو اربعین کے موقع پر کربلا اور اس سے متصل راستوں میں تقسیم کئے گئے اشیائ خورد و نوش کی تعداد 4 میلین بتایا جاتا ہے۔[32]

شیعہ‌ نشین ممالک میں موکب

عراق اور ایران کے علاوہ دوسرے شیعہ نشین ممالک میں بھی مختلف مقامات پر موکب لگائے جاتے ہیں۔[33] پاکستان اور ہندوستان میں جب ان مقامات پر شربت وغیره دئے جاتے ہیں تو «سَبیل»[34] اور جب کھانا دئے جاتے ہیں تو «نیازِ حسین»[35] کہا جاتا ہے۔ [یادداشت 3] پاکستان میں اہل‌ سنت بھی محرم الحرام کے ایام میں سبیل اور نیاز وغیرہ لگاتے ہیں۔[36] حلیم اور بریانی من جملہ کھانے کی اشیاء میں سے ہیں جو ان ایام میں پاکستان میں لوگوں میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔ [37]

نوٹ

  1. چوتھی یا پانچویں صدی ہجری کے لغوی کتابوں میں موکب سے مراد "ایسا گروہ لیتے ہیں جو سوار یا پیدل حرکت کرتے ہیں"۔(ابن درید، جمہرۃ اللغۃ، ذیل واژہ وکب، 1988م، ج1، ص3۷8؛ ابن سیدہ، المحکم و المحیط الاعظم، 1421ھ، ج۷، ص153.) بعض امام حسینؑ کے کاروان کی طرف بھی اسی عبارت کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے "الموکب الحسینی" کہتے ہیں۔ (نقدی، زینب الکبری، منشورات مکتبۃ المفید، ص93.) حسینیہ اعظم زنجان میں ہر سال 8 محرم کو ہونے والی عزاداری جو حرکت کرتے ہوئے عزاداری کی جاتی ہے، کو "موکب عزادارن حسینہ اعظم زنجان" کہا جاتا ہے۔ («روایتی دیگر از عشق و دلدادگی زنجانی در یوم العباس»، خبرگزاری جمہوری اسلامی.)
  2. ایستگاہ صلواتی: اس خاص مذہبی محل کو کہا جاتا ہے جس میں کھانے پینے کی اشیاء کو صلوات پڑھنے کے عوض مفت میں دی جاتی ہے۔ (معین، فرہنگ فارسی معین، ج1 (آ-ح)، 1384ہجری شمسی، ذیل واژہ ایستگاہ.)
  3. پاکستان میں کھانا تقسیم کرنے والے مقامات کو "لنگرِ حسین" نیز کہا جاتا ہے۔ («Ashura observed peacefully in Khyber Pakhtunkhwa»، DAWN.)

حوالہ جات

  1. «ہمہ چیز در مورد موکب‌ہای اربعین»، بلیط اینجا.
  2. نمونہ کے لئے رجوع کریں «موکب‌داران سراسر کشور از زائران در جوار حرم مطہر امام رضا(ع) پذیرایی می‌کنند»، خبرگزاری تسنیم؛ «مواکبُ الخدمۃ الحسینیۃ تفتتح موائدَہا الرمضانیۃ لإفطار الزائرین»، شبکۃ الکفیل العالمیۃ.
  3. نمونہ کے لئے رجوع کریں: «برنامہ‌ہای محرم و صفر در منطقہ 14»، ہمشہری آنلاین (سایت خبری روزنامہ ہمشہری)؛ «200 موکب مردمی ایام نیمہ شعبان در قم بہ زائران خدمت‌رسانی می‌کنند»، خبرگزاری تسنیء۔
  4. اسحاقی، «پیادہ‌روی اربعین»، ص100.
  5. اسحاقی، «موکب»، ص481.
  6. مراجعہ کریں: «بمشارکۃ أکثر من 200 موکب عزاء.. عتبات کربلاء»، العتبۃ الحسینیۃ المقدسۃ.
  7. محدثی، فرہنگ عاشورا، 13۷6ہجری شمسی، ص1۷5.
  8. اسفندیاری، کتابشناسی تاریخی امام حسین(ع)، 1380ہجری شمسی، ص1۷8.
  9. شبر، ادب الطف، 1409ھ، ج1، ص42.
  10. اسحاقی، «پیادہ‌روی اربعین»، ص100.
  11. برای نمونہ نگاہ کنید بہ «العتبۃُ العبّاسیۃ المقدّسۃ ترفد مواکب الخدمۃ الحسینیۃ بموادّ غذائیۃ»،‌ شبکۃ الکفیل العالمیۃ.
  12. نمونہ کے لئے رجوع کریں «راہ‌اندازی 100 موکب پذیرایی ہیات‌ہای مذہبی ایلام در اربعین 96»، خبرگزاری جمہوری اسلامی (ایرنا)؛ «ہزینہ 60 میلیارد تومانی موکب‌داران خوزستانی در ایام اربعین»، خبرگزاری مہر.
  13. نمونہ کے لئے رجوع کریں «در سالروز رحلت امام خمینی»، ص199.
  14. نمونہ کے لئے رجوع کریں «این موکب 60 روز میزبان بی‌خانمان‌ہاست»، سایت روزنامہ ہمشہری؛ «لیست ایستگاہ‌ہای صلواتی ہمدان»، خبرگزاری فارس.
  15. «موکب‌ہای سرو غذا در پیادہ‌روی اربعین»، الکوثر.
  16. نمونہ کے لئے رجوع کریں «کفاشان موکب در انتظار کفش‌ہای امام زمان(عج)»، خبرگزاری رسمی حوزہ.
  17. اسحاقی، «پیادہ‌روی اربعین»، ص100.
  18. نمونہ کے لئے دیکھئیں«موکب‌ہای استان مرکزی در نقاط سیل زدہ فعال شد»، ستاد بازسازی عتبات عالیات؛ «برپایی موکب 1000 نفری در مناطق زلزلہ‌زدہ غرب کشور»، خبرگزاری تسنیم؛ «استقرار 6 موکب اربعین در مناطق زلزلہ‌زدہ‌اندیکا»، خبرگزاری جمہوری اسلامی (ایرنا).
  19. «من این تحصل المواکب الحسینیۃ علی التمویل؟»، السومریۃ.
  20. نمونہ کے لئے دیکھئیں«اسقرار موکب‌ہای جہاد کشاورزی استان در مرز میرجاوہ برای زوار اربعین»، خبرگزاری دانشجویان ایران (ایرنا)؛ «ارائہ خدمات بہ زائران حسینی در 43 موکب داخلی و خارجی در کردستان»، خبرگزاری کردپرس.
  21. اسحاقی، «پیادہ‌روی اربعین»، ص100.
  22. برای نمونہ نگاہ کنید بہ «برنامہ‌ہای محرم و صفر در منطقہ 14»، ہمشہری آنلاین (سایت خبری روزنامہ ہمشہری).
  23. نمونہ کے لئے رجوع کریں«200 موکب مردمی ایام نیمہ شعبان در قم بہ زائران خدمت‌رسانی می‌کنند»، خبرگزاری تسنیء۔
  24. نمونہ کے لئے رجوع کریں «پذیرایی بیش از 20 نفر در ایام شہادت امام صادق(ع)»، خبرگزاری رسمی حوزہ؛ «برپایی موکب امام رضا ع) در دہہ کرامت»، خبرگزاری رضوی.
  25. نمونہ کے لئے رجوع کریں «موکب‌داران سراسر کشور از زائران در جوار حرم مطہر امام رضا(ع) پذیرایی می‌کنند»، خبرگزاری تسنیم؛ «مواکبُ الخدمۃ الحسینیۃ تفتتح موائدَہا الرمضانیۃ لإفطار الزائرین»، شبکۃ الکفیل العالمیۃ.
  26. نمونہ کے لئے رجوع کریں «جزئیات میزبانی موکب ایرانی خدام‌الحسین از زائران پیادہ‌روی نیمہ شعبان»،‌ خبرگزاری دانشجویان ایران (ایسنا).
  27. «در مہمونی 10 کیلومتری خیابان ولیعصر چہ گذشت؟»، خبرگزاری دانشجو.
  28. اسحاقی، «پیادہ‌روی اربعین»، ص100.
  29. اسحاقی، «پیادہ‌روی اربعین»، ص100.
  30. «إحصائیات حول عدد المواکب الخدمیۃ والعزائیۃ ووجبات الطعام والخدمات الطبیۃ وعدد المتطوعین بالأربعینیۃ»، خبرگزاری شفقنا.
  31. «جزئیات خدمات ارائہ شدہ از سوی آستان قدس عباسی در اربعین حسینی»، شبکہ جہانی الکفیل.
  32. «جزئیات خدمات ارائہ شدہ از سوی آستان قدس عباسی در اربعین حسینی»، شبکہ جہانی الکفیل.
  33. نمونہ کے لئے رجوع کریں «Holding on to the tradition of setting up sabeels»، DAWN.
  34. نمونہ کے لئے رجوع کریں «Holding on to the tradition of setting up sabeels»، DAWN؛ «امام حسین کے یوم ولاد ت پر شہر میں جگہ جگہ ہوا سبیلوں کا اہتمام»، اخبار آپ کا.
  35. نمونہ کے لئے رجوع کریں «Trend of ‘Niaz’ distribution on Ashura still alive across country»، Daily Pakistan؛ «Ashura observed peacefully in Khyber Pakhtunkhwa»، DAWN.
  36. «SWAT organized a Sabeel on the 10th of Muharram»، Daily Azb.
  37. «Trend of ‘Niaz’ distribution on Ashura still alive across country»، Daily Pakistan.

مآخذ