مسودہ:کم عمری کی شادی
کم عمری کی شادی یا بچپنے میں شادی ایک بین الاقوامی اصطلاح ہے جس سے ایسی شادی مراد ہے جو 18 سال سے کم عمر افراد کے درمیان ہو؛ لیکن شیعہ فقہ میں شادی کے لیے کوئی مخصوص عمر مقرر نہیں کی گئی ہے، بلکہ اس کے احکام شرعی بلوغت کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔ شیعہ فقہاء کے نزدیک کم عمری کی شادی ولی کی اجازت اور مصلحت کی رعایت، یا کم از کم مفسدہ نہ ہونے کی شرط کے ساتھ جائز ہے۔ فقہاء کے درمیان ولی کے اختیارات کی حدود اور بلوغ کے بعد نکاح فسخ کرنے کے حق کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے؛ بعض فقہاء ولایت کو صرف باپ اور دادا تک محدود سمجھتے ہیں، جبکہ بعض دیگر مخصوص حالات میں حاکمِ شرع، باپ کے وصی، بلکہ ماں کو بھی یہ اختیار دیتے ہیں۔
شیعہ فقہاء کے فتوے کے مطابق نابالغ لڑکی سے جنسی تعلق قائم کرنا حرام ہے، البتہ دیگر جائز قسم کے ازدواجی استفادے کی اجازت ہے۔ اگر جنسی تعلق قائم کر لیا جائے تو میاں بیوی کے درمیان دائمی حرمت پیدا ہو جاتی ہے؛ تاہم شوہر پر اس کے نفقہ کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے اور اگر اس عمل کے نتیجے میں اِفضاء واقع ہو جائے تو مرد پر دیت ادا کرنا بھی لازم ہوگا۔
بعض فقہاء نے معاشرتی حالات کی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم عمری کی شادی کو عموماً خلاف مصلحت قرار دیتے ہوئے اسے فقہ کے جدید اور مستحدث مسائل میں شمار کیا ہے۔
تعریف اور اہمیت
بین الاقوامی تعریف کے مطابق کم عمری کی شادی سے مراد 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی ہے؛[1] لیکن شیعہ فقہ میں نکاح کے لیے کوئی عمر متعین نہیں کی گئی ہے، بلکہ صرف زمان بلوغ کو معیار قرار دے کر نابالغ بچوں کے نکاح سے متعلق مخصوص احکام بیان کیے گئے ہیں۔[2] شیعہ فقیہ ناصر مکارم شیرازی کے مطابق نکاح اسی وقت جائز ہے جب تین شرطیں موجود ہوں: 1. بلوغِ شرعی؛ 2. جسمانی بلوغ و نشوونما؛ 3. مناسب عقلی پختگی (رشد)۔[3] اگرچہ کم عمری کی شادی پر شیعہ فقہ میں قدیم زمانے سے بحث ہوتی رہی ہے؛[4] لیکن بعض محققین کے نزدیک زمان، مکان اور معاشرتی حالات کی تبدیلی کے باعث یہ فقہ کے مسائل مستحدثہ میں شمار ہوتی ہے۔[5]
حقوق دانوں کے مطابق کم عمری کی شادی ایک سماجی مسئلہ ہے، جو اکثر لڑکیوں کی مکمل رضامندی کے بغیر انجام پاتی ہے۔ اس کے منفی نتائج میں صحت کے مسائل، تعلیم سے محرومی اور روزگار کے مواقع محدود ہوجانا شامل ہیں۔[6]
کم عمری کی شادی کی شرائط
شیعہ فقہ کے مطابق نابالغ بچوں کی شادی صرف اس صورت میں جائز ہے جب ولی کی اجازت موجود ہو اور اس میں مفسدہ نہ ہو یا بچے کی مصلحت پائی جاتی ہو۔[7]
ولی کی اجازت
شیعہ فقہاء کے مطابق بچے کے نکاح میں اس کا باپ ولی ہوتا ہے، البتہ دیگر افراد کی ولایت اور ان کی ترجیح کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔[8] چند اہم آراء درج ذیل ہیں:
- شہید ثانی اپنی کتاب شرح لمعہ میں صرف باپ یا دادا کو بچے کا ولی قرار دیتے ہیں۔[9]
- موسی شبیری نے روایات کی بنیاد پر باپ، دادا، حاکم شرع اور باپ کے وصی کو بچے کے نکاح کا ولی اور صاحبِ اختیار قرار دیا ہے۔[10]
- یوسف صانعی کے نزدیک باپ کے علاوہ ماں اورحاکم اسلامی کی ولایت بھی صحیح ہے۔ ان کے مطابق اگر باپ موجود نہ ہو تو ماں کی ولایت دادا پر مقدم ہوگی اور اگر دونوں موجود نہ ہوں تو یہ اختیار حاکم شرع کو منتقل ہوجائے گا۔[11]
مصلحت کا ہونا ضروری ہے یا صرف مفسدہ کا نہ ہونا کافی ہے؟
بعض محققین کے مطابق کم عمری کی شادی میں مصلحت کا ہونا ضروی ہے یا صرف مفسدہ کا نہ کافی؟ اس بارے میں فقہاء کی مختلف آراء ہیں:
- سید ابو القاسم خوئی کے نزدیک باپ بچے کا نکاح مصلحت یا مفسدہ کو ملحوظ رکھے بغیر بھی کر سکتا ہے، جبکہ مصلحت کی رعایت کو وہ احتیاط کا تقاضا قرار دیتے ہیں۔[12]
- سید محسن طباطبائی حکیم کے مطابق شہید ثانی کی کتاب مسالک کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ اور دادا کی ولایت میں صرف مفسدہ کا نہ ہونا کافی ہے۔[13]
- بعض فقہاء کے نزدیک بچے کی شادی اسی وقت جائز ہے جب مفسدہ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کی مصلحت بھی موجود ہو۔ اس رائے کے حامیوں میں محمد فاضل لنکرانی اور ناصر مکارم شیرازی شامل ہیں۔[14]
کم عمری کی شادی کے احکام
بچپن میں ہونے والی شادی کے ازدواجی احکام
تمام شیعہ فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ شوہر کے لیے نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا حرام ہے، البتہ اس کے علاوہ دیگر جائز قسم کے ازدواجی استفادے کی اجازت ہے۔[15] فقہاء کے مطابق اگر اس عمل کے نتیجے میں اِفضاء (یعنی ایسا جسمانی نقصان جس سے شرم گاہ اور پیشاب یا حیض کا راستہ ایک ہو جائے) واقع ہو جائے تو مرد پر دیت واجب ہوگی۔[16] اسی طرح اس عمل سے میاں بیوی کے درمیان دائمی حرمت پیدا ہو جاتی ہے، تاہم شوہر پر وجاب ہے کہ عورت کا نفقہ بدستور دیتا رہے۔[17] بعض فقہاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ دائمی حرمت کے علاوہ ایسا نکاح باطل بھی ہوجاتا ہے۔[18]
بلوغ کے بعد نکاح فسخ کرنے کا حق
بعض فقہاء کے مطابق اگر کسی لڑکی کا نکاح اس کے ولی نے اس کے بچپن میں کر دیا ہو تو بلوغ کے بعد اسے نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔[19] بعض محققین نے لکھا ہے کہ شیخ طوسی اور ابن ادریس حلی جیسے بعض فقہاء فسخ کا حق صرف لڑکوں کے لیے ثابت مانتے ہیں۔[20] اس کے برعکس، یوسف صانعی جیسے فقہاء کے نزدیک بلوغ کے بعد لڑکی کو بھی فسخ نکاح کا حق حاصل ہے؛ لہٰذا وہ بالغ ہونے کے بعد اس نکاح کو قبول بھی کرسکتی ہے اور اسے فسخ بھی کرسکتی ہے۔[21] ناصر مکارم شیرازی کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں کم عمری کی شادی عموماً بچے کی مصلحت کے خلاف ہوتی ہے، اس لیے سوائے غیر معمولی اور استثنائی حالات کے ایسا نکاح باطل ہے اور بالغ ہونے کے بعد متعلقہ شخص فسخ یا طلاق کی ضرورت کے بغیر اپنی مرضی سے نیا نکاح کرسکتا ہے۔[22]
حوالہ جات
- ↑ دانشپور و دیگران، «بررسی مصلحت در ازدواج ولایی کودک در حقوق ایران، با رویکردی بر فقہ اسلامی»، ص44؛ تلکآبادی، «بازشناسی ادلہ قرآنی جواز کودک ہمسری در فقہ شیعہ»، ص8۔
- ↑ اسماعیلی و دیگران، «مستندشناسی نظریہ بطلان کودکہمسری مطابق با فتوای آیتاللہ مکارم شیرازی»، ص53۔
- ↑ مکارم شیرازی، «ازدواج کودک»، پایگاہ اطلاعرسانی آیت اللہ مکارم شیرازی۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: ابنزہرہ، غنيۃ النزوع، 1417ھ، ص342؛ طوسی، النہايۃ، 1400ھ، ص464۔
- ↑ اسماعیلی و دیگران، «مستندشناسی نظریہ بطلان کودکہمسری مطابق با فتوای آیتاللہ مکارم شیرازی»، ص62-64۔
- ↑ ستودہ، کودک ہمسری از منظر قواعد حقوق بشری، ص4۔
- ↑ عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج20، ص275 و 289؛ کلینی، کافی، 1412ھ، ج5، ص395، ح1۔
- ↑ صانعی، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»، پایگاہ اطلاعرسانی دفتر آیت اللہ صانعی؛ الروضۃ البہيۃ في شرح اللمعۃ الدمشقيۃ ، ج5، ص151و116و118؛ شبیری و سنایی، «ولایت مادر بر نکاح فرزند»، ص16 و 19۔
- ↑ الروضۃ البہيۃ في شرح اللمعۃ الدمشقيۃ ، ج5، ص151و116و118۔
- ↑ شبیری و سنایی، «ولایت مادر بر نکاح فرزند»، ص16 و 19۔
- ↑ صانعی، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»، پایگاہ اطلاعرسانی دفتر آیت اللہ صانعی۔
- ↑ آذری و میراحمدی، «رویکردہای قضائی بہ تشخیص مصلحت در ازدواج کودکان»، ص6۔
- ↑ طباطبایی حکیم، مستمسک العروۃ، 1416ھ، ج14، ص455-456۔
- ↑ آذری و میراحمدی، «رویکردہای قضائی بہ تشخیص مصلحت در ازدواج کودکان»، ص6۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1414ھ، ج29، ص414؛ حسینیفر و زرگوشنسب، «کاوشی نو در ادلہ فقہی افضای صغیرہ»، ص234۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1414ھ، ج29، ص416-428؛ حسینیفر و زرگوشنسب، «کاوشی نو در ادلہ فقہی افضای صغیرہ»، ص241-246۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1414ھ، ج29، ص416-428۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1414ھ، ج29، ص416-428۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، نشر دار إحياء التراث العربي، ج29، ص216، بحرانی، الحدائق الناضرۃ، ج23، ص204؛ روحانی، فقہ الصادق، ج31، ص196-200؛ ابنزہرہ، غنیۃ النزوع، 1417ھ، ج1، ص342۔
- ↑ منظمی و موحدیمحب، «شناسائی حق فسخ نکاح کودک، پس ازبلوغ، در پرتو مخصص لبّی»ص127؛ نجفی، جواہر الکلام، نشر دار إحياء التراث العربي، ج28، ص216.
- ↑ صانعی، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»، پایگاہ اطلاعرسانی دفتر آیت اللہ صانعی۔
- ↑ مکارم شیرازی، «ولایت بر صغیرہ»، پایگاہ اطلاعرسانی دفتر آیت اللہ مکارم۔
مآخذ
- آذری، ہاجر، و منیرہ میراحمدی، «رویکردہای قضائی بہ تشخیص مصلحت در ازدواج کودکان»(کم عمری کی شادی میں مصلحت کی تشخیص کے حوالے سے عدالتی نقطۂ ہائے نظر)، سہ ماہہ جریدہ "عورت اور معاشرہ"، شمارہ 40، سرما 1398ہجری شمسی۔
- اسماعیلی، فاطمہ، و اکرم صفیری و مرتضی چیتسازیان، «مستندشناسی نظریہ بطلان کودکہمسری مطابق با فتوای آیتاللہ مکارم شیرازی»(آیت اللہ مکارم شیرازی کے فتوے کی روشنی میں کم عمری کی شادی کے بطلان کے نظریے کا دستاویزی و ماخذی جائزہ)، سہ ماہہ جریدہ "عائلی مسائل کی تحقیقات"، دورہ 20، شمارہ 3، شمارہ مسلسل 79، 1403ہجری شمسی۔
- بحرانی، یوسف، الحدائق الناضرۃ فی احکام العترۃ الطاہرۃ، نشر جامعہ مدرسین، قم، پہلی اشاعت، 1405ھ۔
- تلکآبادی، حسن، «بازشناسی ادلہ قرآنی جواز کودک ہمسری در فقہ شیعہ»(شیعہ فقہ میں کم عمری کی شادی کے جواز پر قرآنی دلائل کا تنقیدی جائزہ)، سہ ماہہ جریدہ "اسلامی فقہ اور حقوق کی بنایدیں"، شمارہ 3، خزاں اور سرما 1400ہجری شمسی۔
- حسینیفر، علی، و عبدالجبار زرگوشنسب، «کاوشی نو در ادلہ فقہی افضای صغیرہ»(افضائے صغیرہ کے فقہی دلائل پر ایک نئی تحقیق)، سہ ماہہ جریدہ "مطالعات فقہ اسلامی اور حقوق کی بنیادیں"، شمارہ 44، 1400ہجری شمسی۔
- حلبی (ابنزہرہ)، حمزہ بن علی، غنيۃ النزوع إلى علمي الأصول و الفروع، مؤسسہ امام صادق (ع)، قم، پہلی اشاعت، 1417ھ۔
- دانشپور، افتخار، و عباسعلی روحانی و راضیہ فخارزادہ، «بررسی مصلحت در ازدواج ولایی کودک در حقوق ایران، با رویکردی بر فقہ اسلامی»(اسلامی فقہ کے تناظر میں ایرانی قانون میں بچوں کی کم عمری کی شادی میں مصلحت کا جائزہ)، سہ ماہہ جریدہ "اسلامی حقوق کی فقہی بنیادیں"، شمارہ 27، بہار و گرما 1400ہجری شمسی۔
- روحانی، سید محمدصادق، فقہ الصادق، قم، انتشارات الاجتہاد، بیتا۔
- ستودہ، شہلا، کودک ہمسری از منظر قواعد حقوق بشری(انسانی حقوق کے اصولوں کی روشنی میں کم عمری کی شادی کا جائزہ)، سہ ماہہ جریدہ "جدید فقہ اور حقوق"، دورہ 10، شمارہ 20، 1403ہجری شمسی۔
- شبیری، سید موسی، و حسین سنایی، «ولایت مادر بر نکاح فرزند»(بچے کی شادی میں ماں کی ولایت کا جائزہ)، سہ ماہہ جریدہ "فقہی تحقیقات تا اجتہاد"، شمارہ 4، خزاں و سرما 1397ہجری شمسی۔
- شہید ثانی، زینالدین بن علی، روضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ (محشی کلانتر)، داوری، قم، پہلی اشاعت، 1410ھ۔
- شہید ثانی، زینالدین بن علی، مسالك الأفہام إلى تنقيح شرایع الاسلام، مؤسسۃ المعارف الإسلاميۃ، قم، پہلی اشاعت، 1413ق.
- صانعی، یوسف، «بلوغ دختر و پسر ـ ازدواج صغار»(لڑکی اور لڑکوں کی بلوغت-کم عمری کی شادی)، آیت اللہ صانعی کے دفتر کی اطلاع رسانی کی ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 6 نومبر 2025ء۔
- طوسی، محمدبن حسن، النہايۃ في مجرد الفقہ و الفتاوى، بیروت، دار الکتاب العربي، 1400ھ۔
- طباطبایی حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ، قم، دارالتفسیر، 1416ھ۔
- عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، قم، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، دار الکتب الاسلامیۃ، تہران، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- مکارم شیرازی، «ولایت بر صغیرہ»(صغیرہ پر ولایت)، آیت اللہ مکارم کے دفتر کی اطلاع رسانی کی ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 6 نومبر 2025ء۔
- مکارم شیرازی، ناصر، «ازدواج کودک»(کم عمری کی شادی)، آیت اللہ مکارم کے دفتر کی اطلاع رسانی کی ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ: 6 نومبر 2025ء۔
- منظمی، فاطمہ، و مہدی موحدیمحب، «شناسائی حق فسخ نکاح کودک، پس ازبلوغ، در پرتو مخصص لبّی»(مخصص لبی کی روشنی میں بلوغت کے بعد بچے کے حقِ فسخِ نکاح کی شناخت و تحقیق)، سہ ماہہ جریدہ "مطالعات عورت اور خاندان"، دورہ 13، شمارۀ 1، مسلسل 36، بہار 1400ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرایع الاسلام، دارالاحیاء لتراث العربی، بیروت، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔