مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:شاہدان اعمال

ویکی شیعہ سے
مقالہ شاہدان اعمال جیسے مقالوں کے ساتھ مربوط ہے۔
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحیدتوحید ذاتیتوحید صفاتیتوحید افعالیتوحید عبادیصفات ذات و صفات فعل
فروعتوسلشفاعتتبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبحبداءامر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام اعجازعدم تحریف قرآن
امامت
اعتقاداتعصمت ولایت تكوینیعلم غیبخلیفۃ اللہ غیبتمہدویتانتظار فرجظہور رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخمعاد جسمانی حشرصراطتطایر کتبمیزان
اہم موضوعات
اہل بیت چودہ معصومینتقیہ مرجعیت


شاہدانِ اعمال، وہ گروہ ہیں جو قیامت کے دن خدا کے اذن سے اور اپنے علم و آگاہی کی بنا پر انسانوں کے دنیوی اعمال پر گواہی دیتے ہیں۔ دینی مصادر میں خدا، انبیاء، اہل بیتؑ، فرشتے، اعضائے بدن، زمین اور نامۂ اعمال کو ان گواہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ بعض مصادر میں تجسم اعمال، زمانہ، شہدا، نماز اور قرآن کو بھی قیامت کے گواہوں میں ذکر کیا گیا ہے۔

تفسیری اور حدیثی مصادر میں ہر گروہ کی گواہی کے طریقے کی وضاحت کی گئی ہے۔ فرشتے ثبت شدہ اعمال کی بنا پر، اعضائے بدن اعمال کی انجام دہی میں اپنے کردار کے مطابق اور زمین کے وہ مقامات جہاں پر نیک یا بد اعمال انجام دئے گئے ہیں، گواہی دیتے ہیں۔ پیغمبر اسلامؐ اور دیگر انبیاء کی گواہی کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ مفسرین نے گواہوں کی کثرت کی مختلف علتیں بیان کی ہیں، جن میں انسان کی باطنی نگرانی کو مضبوط کرنا اور قیامت کے دن حجت تمام کرنا شامل ہیں۔

اہمیت و مقام بحث

شاہدانِ اعمال سے مراد وہ گروہ ہیں جنہوں نے دنیا میں انسانوں کے اعمال کا مشاہدہ کیا ہو[1] اور قیامت کے دن خدا کے اذن اور اپنے علم کی بنا پر[2] ان اعمال کی گواہی دے۔[3] یہ گواہی ظاہری اور باطنی اعمال اور ان میں خلوص کے درجے پر بھی محیط ہے۔[4]

کتاب «گواہان اعمال» کے مصنف علی رضا اعرافی کے مطابق شاہدانِ اعمال پر ایمان لانا آسمانی ادیان کے مشترکہ تعلیمات میں سے ہے۔[5] ان کے مطابق یہ مقام عام افراد کے لئے نہیں بلکہ اولیائے الٰہی کے لئے مخصوص ہے۔[6]

گواہوں کا تعارف

آیت اللہ اعرافی کے مطابق شاہدانِ اعمال کا موضوع پراکندہ صورت میں معاد اور قیامت یا حیا سے متعلق آیات و روایات میں زیر بحث آیا ہے۔[7] اسی طرح مناجات شعبانیہ اور دعائے کمیل جیسی دعاؤں میں بھی اس موضوع کا ذکر ملتا ہے۔[8] اس سلسلے میں سیر حاصل بحث سید محمد حسین حسینی طہرانی کی کتاب معاد شناسی میں پیش کی گئی ہے۔[9]

شیعہ مرجع تقلید اور مفسر آیت اللہ مکارم شیرازی نے خدا، انبیاء، فرشتے، بدن کے اعضا (زبان، ہاتھ، پاؤں، کان اور جلد) اور زمین کو ان گواہوں میں شمار کیا ہے۔ بعض مفسرین نے نامۂ اعمال اور تجسم اعمال کو بھی ان گواہوں میں شامل کیا ہے۔

گواہوں کی کثرت کی حکمت

کہا گیا ہے کہ متعدد گواہوں کا ہونا نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے میں انسان کی مدد کرتا ہے اور اس کے ضبط نفس کو مضبوط کرتا ہے۔[10] امام صادقؑ کی ایک روایت کے مطابق فرشتے انسان کے اعمال کے گواہ ہیں تاکہ خدا کی اطاعت میں اضافہ ہو اور گناہ سے دوری ہو۔[11] اخلاقی کتب میں شاہدان اعمال کو ذکر خدا کی یاد دہانی اور اس پر مداومت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔[12]

گواہوں کی اقسام

خدا

مفسرین نے سورہ یونس آیت نمبر 46 اور سورہ حج آیت نمبر 17 جیسی آیات سے استدلال کرتے ہوئے خدا کو قیامت کے گواہوں میں شمار کیا ہے۔[13] دیگر گواہوں کی گواہی خدا کی مشیت اور تدبیر کے تحت انجام پائے گی۔[14] نعمت اللہ صالحی سورہ یونس کی 46ویں آیت اور سورہ مجادلہ کی چھٹی اور ساتویں آیت کی روشنی میں اس بات کے قائل ہیں کہ قیامت کے دن گواہی دنے والوں میں خدا آخری گواہ ہوگا۔[15]

انبیاء

انبیاء اپنے زمانے اور بعد کے انسانوں کے ظاہری و باطنی اعمال پر احاطہ رکھنے رکھنے کی بنا پر تمام انسانوں کی زندگی میں انجام دئے گئے اعمال پر گواہی دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔[16] شیعہ مرجع تقلید اور مفسر آیت اللہ مکارم شیرازی سورہ نحل آیت نمبر 89 اور سورہ نساء آیت نمبر 41 کی روشنی میں اس بات کے معتقد ہیں کہ انبیاء اپنی حیات میں اپنی امت کے اعمال پر گواہ اور ناظر ہوتے ہیں اور ان کی رحلت کے بعد ان کے اوصیاء اور جانشین امت کے اعمال پر گواہ ہوں گے۔[17]

پیغمبر اکرمؐ

متعدد آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال پر گواہ ہیں اور اسی وجہ سے یہ مقام خصوصی توجہ کا حامل ہے۔[18]

بعض مفسرین منجملہ آیت اللہ مکارم شیرازی سورہ نحل آیت نمبر 89 اور سورہ نساء آیت نمبر 41 سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ اپنے زمانے کے لوگوں کے اعمال پر گواہ ہیں۔[19] ایک اور نظرئے کے مطابق جس پر بعض روایات بھی دلالت کرتی ہیں[20] پیغمبر اکرمؐ تمام پچھلے انبیاء پر بھی گواہ ہیں۔[21] علامہ طباطبائی پیغمبر اکرمؐ کو دوسرے گواہوں پر ناظر قرار دیتے ہیں، یوں امت کے اعمال پر آپ کی گواہی دوسرے گواہوں کی گواہی کے ذریعے تحقق پاتی ہے۔[22]

کتاب «گواہان اعمال» کے مصنف آیت اللہ اعرافی بعض روایات[23] اور علامہ مجلسی کے کلام[24] کی روشنی میں کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ تمام مخلوقات بشمول عام انسانوں اور انبیاء پر جامع نظارت اور گواہی رکھتے ہیں اور یہ گواہی انبیاء کی طرف سے پیغام رسالت کے ابلاغ اور بندوں کے ذریعے اس پیغام کو قبول کرنے کی نشاندہی کرتی ہے۔[25] اسی طرح وہ اس بات کے بھی معتقد ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ کی رحلت سے اس نظارت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور رحلت کے بعد بھی بندوں کے اعمال آپؐ کے حضور پیش کئے جانے میں کوئی مانع نہیں ہے۔[26]

ائمہ معصومینؑ

الکافی اور بحارالانوار جیسی کتابوں میں قیامت کے دن اہل بیتؑ کی گواہی سے متعلق نقل ہونے روایات کے لئے مخصص ابواب ترتیب دئے گئے ہیں۔[27] تفسیر نورالثقلین میں پیغمبر اکرمؐ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس کے مطابق حضرت علیؑ اور آپ کی ذریت میں سے گیارہ افراد قیامت کے دن گواہ ہونگے۔[28] بعض روایات میں بندوں کے اعمال کا اہل بیتؑ کے حضور پیش کئے جانے کی طرف اشارہ ملتا ہے جو انسانوں کے اعمال پر اہل بیت کے احاطے پر دلالت کرتی ہیں۔[29] سید محمدحسین تہرانی اپنی کتاب معاد شناسی میں کہتے ہیں کہ گواہی کا مقام ائمہ حق کے ساتھ مخصوص ہے اور ائمہ باطل اس میں شامل نہیں ہیں۔[30]


امت اسلامی یا انسان کامل

سورہ بقرہ آیت نمبر 143 میں قیامت کے دن امت اسلامی کی گواہی کا ذکر آیا ہے۔[31] تاہم شیعہ مرجع تقلید اور مفسر آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق یہاں آیت کا مقصود تمام مسلمان نہیں بلکہ ایک خاص گروہ ہے جو اعمال پر گواہی دینے کی اہلیت رکھتا ہے۔[32] آیت اللہ جعفر سبحانی بھی اس مقام کو امت کے بلند مرتبہ طبقے کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں جس کی تطبیق روایات میں ائمہ معصومینؑ پر کی گئی ہے۔[33] ان کے مطابق اگر دیگر افراد بھی گواہ شمار ہوں، تو انہیں بھی پوشیدہ اعمال پر وسیع علم حاصل ہونا چاہئے یا ان کی گواہی صرف اپنے معاصرین کے ظاہری اعمال تک محدود ہوگی۔[34]

شیعہ محدث علامہ مجلسی پیغمبرؐ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں جس کے مطابق بعض مؤمنین بھی امت کے گواہوں میں شامل ہیں۔[35] اسی طرح فضل بن حسن طبرسی سورہ نحل آیت نمبر 84 کی تفسیر میں ہر زمانے کے سب سے زیادہ عادل فرد کو قیامت کے گواہوں میں شمار کرتے ہیں۔[36]

فرشتے

شیعہ فقیہ آیت اللہ جعفر سبحانی قرآن کی متعدد آیات جیسے سورہ ق کی آیت نمبر 21 اور 22، آیت نمبر 11 اور 13 نیز حضرت علیؑ سے منقول ایک روایت[37] سے استدلال کرتے ہوئے کہتے کرتے ہیں کہ جو فرشتے دنیا میں انسان کے اعمال کے ناظر تھے وہ قیامت میں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔[38] حسین انصاریان دعائے کمیل کی شرح میں لکھتے ہیں کہ فرشتوں میں کراماً کاتبین اور رقیب و عتید قیامت کے دن گواہی دینے والوں میں شامل ہیں۔[39]

نامۂ اعمال

کتاب منشور جاوید میں سورہ جاثیہ کی آیت نمبر27 سے آیت نمبر 29 تک اور سورہ اسراء آیت نمبر 13 جیسی آیات سے استدلال کرتے ہوئے نامۂ اعمال کو قیامت کے گواہوں میں شمار کیا گیا ہے۔[40] لیکن حوزہ علمیہ قم کے استاد آیت اللہ اعرافی کے مطابق نامۂ اعمال کو قیامت کے گواہوں میں شمار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نامۂ اعمال انسان کے اعمال کی حقیقت کو کہا جاتا ہے اور خود عمل (جو اپنی حقیقت کو ثبت و ضبط کرتا ہے) کو ایک آگاہ حاضر کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔[41]

جسم کے اعضاء اور ان کی گواہی کا طریقہ

مفسرین اعضائے بدن کو قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہی دینے والے گواہوں میں شمار کرتے ہیں۔[42] علامہ طباطبائی کے مطابق ہر عضو اپنے توسط سے انجام پانے والے خاص عمل پر گواہی دیتا ہے اور قرآن میں ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان اور دل کی گواہی کا ذکر آیا ہے۔[43] شیخ صدوق نے امام صادقؑ سے ایک حدیث نقل کیا ہے جس کے مطابق بعض قرآنی سورتوں کی تلاوت پر مداومت کرنے سے قیامت کے دن بدن کے تمام اعضا انسان کے حق میں گواہی دیں گے۔[44]

سید محمد حسین طہرانی کتاب معاد شناسی میں لکھتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے انسان کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی تاکہ انکار ممکن نہ ہو[45] اس کے بعد گناہ کی نوعیت کے مطابق جسم کا ہر عضو گواہی دے گا۔[46] زبان غیبت، جھوٹ اور چغلی جیسے گناہوں پر اور ہاتھ پیر چوری جیسے اعمال پر گواہی دیں گے۔[47] علامہ طباطبائی سورہ فصلت آیت نمبر 20 سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر عضو دوسرے اعضاء کے گناہوں پر بھی گواہی دیتا ہے۔[48] لیکن جلد (کھال) صرف اسی گناہ پر گواہی دیتی ہے جسے انجام دینے کا ذریعہ بنا ہو۔[49] حسینی طہرانی کہتے ہیں کہ ہاتھ کی گواہی قیامت کے دن اس عمل کا ظہور ہونا ہے جو اس نے دنیا میں ہاتھ کے ذریعے انجام دیا ہے۔[50]

مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ مؤمن کے بدن کے اعضا اس کے خلاف گواہی نہیں دیں گے کیونکہ اعضائے بدن کی گواہی ان لوگوں کے خلاف ہے جن پر خدا کا عذاب یقینی ہو چکا ہو، جبکہ مؤمن نجات پانے والوں میں سے ہیں۔[51]

زمین

زمین کو قیامت کے گواہوں میں شمار کیا گیا ہے جو انسانوں کے اعمال کو ضبط کرتی ہے اور پھر گواہی دیتی ہے۔[52] شیعہ مرجع تقلید اور مفسر آیت اللہ جعفر سبحانی سورہ زلزال کی آیت نمبر 4 اور 5 کے ذیل میں نقل ہونے والی احادیث[53] سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زمین کے تمام اجزاء قیامت کے گواہ نہیں ہیں، بلکہ صرف وہ جگہ یا مقام جہاں انسان نے نیک یا بد عمل انجام دیا ہو وہ قیامت کے دن گواہی دیں گے۔[54] وہ اس بات کی توضیح دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلامی فلسفہ کی بنیاد پر تمام موجودات حتیٰ کہ زمین بھی ایک قسم کا ادراک رکھتی ہے اور متعدد آیات اور روایات اس نظریے کی تائید کرتی ہیں۔[55] اسی طرح بعض فقہا امام صادقؑ سے منقول بعض روایات جو قیامت کے دن زمین کی گواہی پر دلالت کرتی ہیں، سے استناد کرتے ہوئے مختلف مقامات پر نماز پڑھنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔[56] مصنف و محقق صالحی حاجی آبادی زمان و مکان کے بولنے کی نوعیت کے بارے میں مختلف آراء نقل کی ہیں۔[57]

تجسم اعمال

انسان کے اعمال کا اخروی جسمانیت اختیار کرنا بھی قیامت کے دن کے گواہوں میں شمار کیا گیا ہے۔[58] شیعہ فقیہ آیت اللہ اعرافی اس بات کے قائل ہیں کہ کلامی اور تفسیری کتب میں تجسم اعمال کے بارے میں ایک نظریہ پایا جاتا ہے جس کے مطابق انسان کے اعمال قیامت کے دن مجسم انداز میں محشور ہوں گے اور انسان کے خلاف یا اس کے حق میں گواہی دیں گے۔[59] ان کے مطابق تجسم اعمال کا گواہ ہونا دیگر گواہوں کی گواہی سے بالاتر ہے کیونکہ جب گناہ گار اپنے برے اعمال کو مجسم دیکھے گا تو خود اپنے کئے پر گواہی دے گا۔[60]

دیگر گواہان

حدیثی مصادر میں شہدا،[61] مساجد،[62] نماز،[63] قرآن[64] اور زمانے[65] کو بھی قیامت کے گواہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ علامہ مجلسی نے پیغمبر اکرمؐ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے تحت دن، رات اور مہینے جیسے ماہ رجب، ماہ شعبان اور ماہ رمضان اعمال پر گواہ ہونگے۔[66]

کتاب «انسان اور سچے گواہان» کے مصنف صالحی حاجی آبادی اس بات کے معتقد ہیں کہ اگرچہ قرآن و روایات میں علماء کے لئے گواہ کا لفظ نہیں آیا، لیکن قیات کے دن شفاعت[67] اور شکایت سے مربوط روایات[68] میں علماء کو اعمال کے شفیع کے طور پر ذکر کیا گیا ہے اور یہ شفاعت اعمال پر گواہی دینا ہی ہے۔[69]

حوالہ جات

  1. جوادی آملی، معاد در قرآن، 1395شمسی، ص418۔
  2. حسینی طہرانی، معادشناسی، 1427ھ، ج7، ص97-99۔
  3. علامہ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج7، ص315۔
  4. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص76۔
  5. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص15۔
  6. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص68۔
  7. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص16۔
  8. کفعمی، المصباح للکفعمی، 1405ھ، ص559؛ ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، 1376شمسی، ج3، ص297۔
  9. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص16۔
  10. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص65۔
  11. طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج2، ص348ش۔
  12. طبرسی، مکارم الاخلاق، 1370شمسی، ص457۔
  13. قرائتی، تفسر نور، 1388شمسی، ج3، ص579؛ صابونی، صفوۃ التفاسیر، 1421ھ، ج2، ص260۔
  14. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص27۔
  15. صالحی حاجی‌آبادی، انسان و شاہدان صادق، 1387شمسی، ص29۔
  16. سبحانی، منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص483۔
  17. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج11، ص359 و ج3، ص392۔
  18. سبحانی، منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص483۔
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج11، ص359 و ج3، ص392۔
  20. حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج3، ص73۔
  21. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371شمسی، ج3، ص392۔
  22. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج12، ص323 و 324۔
  23. طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج1، ص242ش۔
  24. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج7، ص310۔
  25. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص30-33۔
  26. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص33-35۔
  27. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص190؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج7، ص306۔
  28. حویزی، نور الثقلین، 1415ھ، ج3، ص526۔
  29. تفسیر القمی، 1363شمسی، ج1، ص304؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص219۔
  30. حسینی طہرانی، معادشناسی، 1423ھ، ج7، ص104-107۔
  31. سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص484۔
  32. جوادی آملی، معاد در قرآن، 1395شمسی، ص416؛ سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص485۔
  33. سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص485۔
  34. سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص486۔
  35. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج7، ص315۔
  36. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج6، ص584۔
  37. نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبہ85، ص116۔
  38. سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص487۔
  39. انصاریان، شرح دعای کمیل، 1382شمسی، ص477۔
  40. سبحانی منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص492۔
  41. اعرافی، گواہان اعمال، 1397، ص19۔
  42. مدرسی، من ہدی القرآن، تہران، 1419ھ، ج8، ص289؛ حسینی ہمدانی، انوار درخشان‏، 1404ھ، ج11، ص347۔
  43. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج15، ص94 و ج17، ص103۔
  44. صدوق، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، 1406ھ، ص123۔
  45. حسینی طہرانی، معادشناسی، 1423ھ، ج7، ص186۔
  46. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج15، ص94۔
  47. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج15، ص94۔
  48. طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج17، ص378۔
  49. طباطبایی، المیزان، 1390، ج17، ص379۔
  50. حسینی طہرانی، معادشناسی،1423ھ، ج7، ص187 - 192۔
  51. جوادی آملی، معاد در قرآن، 1395شمسی، ص419؛ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج15، ص107۔
  52. حسینی طہرانی، معادشناسی، 1423ھ، ج7، ص226۔
  53. بطور مثال ملاحظہ کریں: شیخ صدوق، علل الشرایع، 1385شمسی، ج2، ص343؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج7، ص315۔
  54. سبحانی، منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص489۔
  55. سبحانی، منشور جاوید، 1390شمسی، ج5، ص490۔
  56. طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی مع حاشیۃ الایروانی، بی‌تا، ج1، ص596۔
  57. صالحی حاجی‌آبادی، انسان و شاہدان صادق، 1387شمسی، ص116۔
  58. سبحانی، معادشناسی، 1387شمسی، ص163۔
  59. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص48-49۔
  60. اعرافی، گواہان اعمال، 1397شمسی، ص50-51۔
  61. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، 1404ھ، ج15، ص40۔
  62. شیخ صدوق، امالی، 1376شمسی، ص359۔
  63. عاملی، وسائل الشیعۃ، 1409ھ، ج15، ص108۔
  64. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص596۔
  65. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج7، ص315۔
  66. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج7، ص315۔
  67. روضہ الواعظین و بصیرہ المتعظین، 1375شمسی، ج1، ص11۔
  68. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص613۔
  69. صالحی حاجی‌آبادی، انسان و شاہدان صادق، 1387شمسی، ص65-67۔

مآخذ

  • نہج البلاغۃ، تصحیح: صبحی صالح، قم‏، ہجرت، پہلی اشاعت‏، 1414ھ۔
  • ابن‌ابی‌الحدید، عزالدین ابوحامد، شرح نہج‌البلاغہ، تصحیح، محمد ابوالفضل ابراہیم، قم، کتابخانہ عمومی آیت‌اللہ مرعشی نجفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، محقق: جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، پہلی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
  • اعرافی، علیرضا، گواہان اعمال، قم، موسسہ فرہنگی ہنری اشراق و عرفان، 1397ہجری شمسی۔
  • انصاریان، حسین، شرح دعای کمیل، تحقیق: محمدجواد صابریان، قم، دار العرفان، دوسری اشاعت، 1382ہجری شمسی۔
  • جوادی آملی، معاد در قرآن، قم، اسراء، گیارہویں اشاعت، 1395ہجری شمسی۔
  • حسینی طہرانی، محمدحسین، معادشناسی، مشہد، نور ملکوت قرآن، 1427ھ۔
  • حسینی ہمدانی، محمد، انوار درخشان در تفسیر قرآن‏، تحقیق، محمدباقر بہبودی، تہران، لطفی، پہلی اشاعت، 1404ھ۔
  • حویزی، عبدعلی، تفسیر نور الثقلین، تصحیح: ہاشم رسولی، قم، اسماعیلیان، چوتھی اشاعت، 1415ھ۔
  • سبحانی تبریزی، جعفر، معادشناسی، ترجمہ علی شیروانی، قم، دار الفکر، 1387ہجری شمسی۔
  • سبحانی تبریزی، جعفر، منشور جاوید، قم، موسسہ امام صادقؑ، 1390ہجری شمسی۔
  • شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، تصحیح: مؤسسۃ آل البیتؑ، قم، مؤسسۃ آل البیتؑ، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، چھٹی اشاعت، 1376ہجری شمسی۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی‏، علل الشرائع‏، قم، کتاب فروشی داوری، پہلی اشاعت‏، 1385ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، امالی، تحقیق حسین استاد ولی و علی‌اکبر غفاری، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
  • صابونی، محمدعلی، صفوۃ التفاسیر، بیروت، دار الفکر، پہلی اشاعت، 1421ھ۔
  • صالحی حاجی‌آبادی، نعمت‌اللہ، انسان و شاہدان صادق، قم، گلہای بہشت، 1387ہجری شمسی۔
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، قم، دارالشریف الرضی، 1406ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1390ھ۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی مع حاشیۃ الایروانی، بی‌نا، بی‌تا.
  • طبرسی، احمد بن علی‏، الإحتجاج علی أہل اللجاج، محقق محمد باقر خرسان، نشر مرتضی‏، پہلی اشاعت، 1403ھ۔
  • طبرسی، حسن بن فضل، مکارم الاخلاق، قم، الشریف الرضی، 1370ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضل‌اللہ یزدی طباطبایی و ہاشم رسولی، تہران، ناصر خسرو، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
  • فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضۃ الواعظین و بصیرۃ المتعظین(ط- القدیمۃ)، قم، انتشارات رضی‏، پہلی اشاعت، 1375ہجری شمسی۔
  • قرائتی، محسن‏، تفسر نور، تہران، مرکز فرہنگی درس‌ہایی از قرآن‏، پہلی اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق: سید طیب موسوی جزایری، قم، دارالکتاب، 1363ہجری شمسی۔
  • کفعمی، ابراہیم بن علی عاملی، المصباح للکفعمی (جنۃ الأمان الواقیۃ)، قم، دار الرضی (زاہدی)، دوسری اشاعت، 1405ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح، علی‌اکبر غفاری، محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، محقق، جمعی از محققان‏، بیروت‏، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
  • مدرسی، محمدتقی، من ہدی القرآن، تہران، دار محبی الحسین، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران‏، دار الکتب الإسلامیۃ، دسویں اشاعت، 1371ہجری شمسی۔
  • نوری، حسین، «روز قیامت کے گواہان»، مجلہ پاسداران اسلام، شمارہ 111، اسفند 1369ہجری شمسی۔