مسودہ:حدیث ذکر علی عبادۃ
| حدیث ذکر عل عبادۃ | |
|---|---|
حدیث "ذکر علی عبادۃ" کی پینٹینگ بقلم: استاد فرہاد شیرخانی | |
| حدیث کے کوائف | |
| صادر از | حضرت محمدؐ |
| دوسرے روات | عائشہ و دیگر راوی |
| شیعہ مآخذ | الاختصاص، مناقب آل ابی طالب، کشف الیقین |
| اہل سنت مآخذ | مناقب ابن مغازلی، فتح الکبیر، شرح الجامع الصغیر |
| مشہور احادیث | |
| حدیث سلسلۃ الذہب • حدیث ثقلین • حدیث کساء • مقبولہ عمر بن حنظلۃ • حدیث قرب نوافل • حدیث معراج • حدیث ولایت • حدیث وصایت • حدیث جنود عقل و جہل • حدیث شجرہ | |
ذِکرُ عَلیِِّ عِبادۃ (علیؑ کا ذکر کرنا عبادت ہے) رسول اکرمؐ کی ایک حدیث ہے جس میں امام علیؑ کے ذکر کو عبادت قرار دیا گیا ہے جوکہ آپؑ کی ایک فضیلت شمار ہوتی ہے۔ یہ حدیث شیعہ اور سنی دونوں مصادر احادیث میں نقل ہوئی ہے۔
بعض شیعہ علماء نے اس حدیث میں "عبادت" سے محض امام علیؑ کے نام کی تکرار مراد نہیں لی، بلکہ اس سے مراد آپؑ کے مقام و منزلت میں غور و فکر کرنا ہے۔ امام علیؑ سمیت دیگر معصومینؑ کا ذکر، عمل و رفتار میں ان کو سرمشق قرار دینے کا مقدمہ قرار دیا گیا ہے۔
منزلت اور سند حدیث
حدیث "ذکر علی عبادۃ" رسول خداؐ سے منقول ہے[1] اور امام علیؑ کی فضیلت شمار ہوتی ہے۔[2] یہ حدیث متعدد شیعہ[3] اور سنی[4] مصادر میں بیان ہوئی ہے۔ کتاب اختصاص میں یہ عبارت احادیث نبوی کے ضمن میں آئی ہے جس میں اللہ، رسول خداؐ اور امام علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام کے ذکر کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔[5] نیز ابن شہرآشوب (متوفی: 588ھ) کی کتاب مناقب آل ابیطالب[6] اور علامہ حلی (متوفیٰ: 726ھ) کی کتاب کشف الیقین[7] میں بھی یہ حدیث نقل ہوئی ہے۔
یہ حدیث اہل سنت کے مصادر حدیث میں سے مناقب ابنمغازلی (متوفی: 483ھ)،[8] سیوطی (متوفی: 911ھ) کی کتاب فتح الکبیر[9] اور صنعانی (متوفی: 1182ھ) کی کتاب شرح الجامع الصغیر[10] میں عائشہ سے روایت کی گئی ہے [11]
بعض اہل سنت علماء نے اس کے ایک راوی "حسن بن صابر کسائی" کو ضعیف قرار دیا ہے۔[12] سید حسن حسینی آل مجدد شیرازی کی کتاب "الابادَۃ لحُکم الوضع علی حدیث ذِکرُ علی عبادۃ" میں اہل سنت مصادر میں اس روایت کی اسناد کا جائزہ لیا گیا اور اس کے اعتبار کے دفاع پر بحث کی گئی ہے۔[13]
حدیث "ذکر علی عبادۃ" میں عبادت اور ذکر کا مفہوم
شیعہ عالم دین سید محمد محسن حسینی تہرانی (متوفی: 1440ھ) کے مطابق، "ذکر علی عبادۃ" کا مطلب صرف نام "علیؑ" کی تکرار نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد منزلت امام علیؑ اور آپؑ کی امامت پر غور و فکر کرنا اور علوی سیرت سے عملی پیروی کو ممکن بنانے کے سلسلے کوشش کرنا ہے۔ حسینی تہرانی کے بقول عبادت ہر اس چیز کو شامل ہے جس سے انسان خدا کا تقرب حاصل کرے۔[14] حسین انصاریان کا کہنا ہے کہ امام علیؑ کا ذکر انسان کے دل میں خدا کی یاد کا مظہر ہے، اسی وجہ سے یہ عبادت شمار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، معصومین علیہم السلام کی یاد، زندگی میں عملی طور پر ان کی پیروی اور اتباع کی راہ ہموار کرتی ہے۔[15] بعض اہل سنت علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں "ذکر" سے مراد یہ ہے کہ ہم امام علیؑ کے مناقب و فضائل کا کریں، آپؑ کے اقوال، موعظہ و نصحیتوں کو بیان کریں یا آپؑ سے احادیث نقل کریں۔ref>ملاحظہ کیجیے: مناوی، فیض القدیر، 1356ھ، ج3، ص565؛ صنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر، 1432ھ، ج6، ص178۔</ref>
حدیث "ذکر علی عبادۃ" اور ادبی آثار
بعض شعراء کی ادبی تخلیقات میں حدیث "ذکرُ علیٌ عبادۃ" کی جھلک نظر آتی ہے، جن میں محمود ژولیدہ بھی شامل ہیں:[16]
ترجمہ: حدیثِ "ذکرُ علی عبادۃ" کہتی ہے کہ مولا علیؑ کا ذکر کرنا بہترین عبادت ہے۔ کعبہ پر نظر کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کعبہ بھی ذکر علیؑ کررہا ہے، علیؑ دلوں کا قبلہ اور اللہ کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ نبضِ قلبِ پیغمبرؐ "علیؑ علیؑ علیؑ" ہے۔ ناطق قرآن کا نعرہ بھی علیؑ علیؑ ہے۔
حوالہ جات
- ↑ مقدس اردبیلی، حدیقۃ الشیعۃ، 1383شمسی، ج2، ص777۔
- ↑ صنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر، 1432ھ، ج6، ص178۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: شیخ مفید، الإختصاص، 1413ھ، ص224؛ ابنشہرآشوب، مناقب آل أبیطالب، 1379ھ، ج3، ص202؛ علامہ حلی، کشف الیقین، 1411ھ، ص449؛
- ↑ مناوی، فیض القدیر، 1356ھ، ج3، ص565؛ ابنمغازلی، مناقب أمیرالمؤمنین، 1424ھ، ص268؛ سیوطی، الفتح الکبیر، 1423ھ، ج2، ص115، حدیث 6460؛ صنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر، 1432ھ، ج6، ص178۔
- ↑ شیخ مفید، الإختصاص، 1413ھ، ص224۔
- ↑ ابنشہرآشوب، مناقب آل أبی طالب، 1379ھ، ج3، ص202۔
- ↑ علامہ حلی، کشف الیقین، 1411ھ، ص449۔
- ↑ ابنمغازلی، مناقب أمیرالمؤمنین، 1424ھ، ص268۔
- ↑ سیوطی، الفتح الکبیر، 1423ھ، ج2، ص115، حدیث 6460۔
- ↑ صنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر، 1432ھ، ج6، ص178۔
- ↑ مناوی، فیض القدیر، 1356ھ، ج3، ص565؛ ابنمغازلی، مناقب أمیرالمؤمنین، 1424ھ، ص268؛ سیوطی، الفتح الکبیر، 1423ھ، ج2، ص115، حدیث 6460؛ صنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر، 1432ھ، ج6، ص178۔
- ↑ نگاہ کنید بہ: مناوی، فیض القدیر، 1356ھ، ج3، ص565؛ صنعانی، التنویر شرح الجامع الصغیر، 1432ھ، ج6، ص178۔
- ↑ «الإبادۃ لحکم الوضع»، کتابخانہ مدرسۂ فقاہت۔
- ↑ «ہدف از حضور در مجالس ذکر»، مکتب وحی۔
- ↑ «تحلیل حدیث «ذکر علی عبادۃ»، خبرگزاری مہر۔
- ↑ «حدیثِ "ذکرُ علیٌ عبادہ" خود گویاست»، امام ہشت۔
مآخذ
- «الإبادۃ لحکم الوضع»، کتابخانہ مدرسۂ فقاہت، تاریخ بازدید: تاریخ مشاہدہ:23 اپریل 2024ء۔
- ابنشہرآشوب، مناقب آل أبی طالب علیہم السلام، قم، انتشارات علامہ، چاپ اول، 1379ھ۔
- ابنمغازلی، علی بن محمد، مناقب أمیرالمؤمنین علی بن أبی طالب(رض)، محقق: أبو عبدالرحمن ترکی بن عبد اللہ الوادعی، صنعاء، دار الآثار، چاپ اول، 1424ھ۔
- «تحلیل حدیث «حدیثِ "ذکرُ علیٌ عبادہ" خود گویاست»، امام ہشت، تاریخ بازدید:تاریخ مشاہدہ:23 اپریل 2024ء۔
- «تحلیل حدیث «ذکر علی عبادۃ»، خبرگزاری مہر، تاریخ نشر: 7 ستمبر 2017ء، تاریخ مشاہدہ:23 اپریل 2024ء۔
- سیوطی، جلالالدین، الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ إلی الجامع الصغیر، محقق: یوسف النبہانی، بیروت، دار الفکر، چاپ اول، 1423ھ۔
- شیخ مفید، الإختصاص، تحقیق و تصحیح علیاکبر غفاری و محمود محرمی، قم، المؤتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، چاپ اول، 1413ھ۔
- صنعانی، محمد بن إسماعیل، التنویر شرح الجامع الصغیر، تحقیق محمد إسحاق، ریاض، مکتبۃ دار السلام، چاپ اول، 1432ھ۔
- علامہ حلی، حسن بن یوسف، کشف الیقین فی فضائل أمیرالمؤمنین(ع)، تحقیق و تصحیح حسین درگاہی، تہران، وزارت ارشاد، چاپ اول، 1411ھ۔
- مقدس اردبیلی، حدیقۃ الشیعۃ، تصحیح صادق حسنزادہ، قم، انتشارات انصاریان، چاپ سوم، 1383ہجری شمسی۔
- مناوی، عبدالرؤوف، فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، مصر، المکتبۃ التجاریۃ الکبری، چاپ اول، 1356ھ۔
- «ہدف از حضور در مجالس ذکر»، مکتب وحی، تاریخ نشر: 18 ذیحجہ 1432ھ، تاریخ مشاہدہ: 23 اپریل 2024ء۔