طوفان الاقصی
| یہ مقالہ یا اس کا کچھ حصہ حالیہ کسی واقعے کے بارے میں ہے۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ممکن ہے اس میں کچھ تبدیلیاں آجائیں۔ ابتدائی معلومات ممکن ہے ناقص یا دقیق نہ ہوں اور اس مقالے کی آخری اپڈیٹ بھی اس واقعے کو پوری طرح منعکس نہ کرسکے۔ |
| اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازعہ | |
|---|---|
| تاریخ | 7 اکتوبر 2023ء سے |
| مقام | اسرائیل کے زیر قبضہ سرزمین |
| علل و اسباب | فلسطین کی آزادی |
| سپہ سالار 1 | محمد ضیف |
| سپہ سالار 2 | اسرائیلی فوج |
| فوج 1 | حماس |
| فوج 2 | اسرائیل |
| نقصان 1 | اب تک 1400 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک اور 3000 زخمی |
| نقصان 2 | اب تک 72000 سے زائد اہالیان غزہ شہید اور 172000 سے زیادہ زخمی تا مارچ 2026ء |
طوفانُ الْاَقصیٰ اسرائیلی مظالم اور ان کی طرف سے مسجد الاقصی کی بے حرمتی کے خلاف حماس کے فوجی آپریشن کا نام ہے۔ یہ آپریشن مورخہ7 اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے درمیانی سرحدی علاقوں میں شروع ہوا اور کئی دنوں تک جاری رہا۔ ان حملوں کا پس منظر یہ ہے کہ حماس کے مجاہدین نے صیہونی حکومت کے مسلسل قبضے کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں پر راکٹ حملے کیے اور پھر زمینی راستے سے ان علاقوں میں داخل ہوئے۔ اس حملے کے نتیجے میں اب تک 1400 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 3000 زخمی ہوئے ہیں۔ عالمی طور پر حماس کے اس حملے کو اسرائیل کی بے سابقہ شکست کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
اس حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر حملہ کیا ان حملوں میں مارچ 2026ء تک اہالیان غزہ میں سے 72000 سے زائد افراد شہید اور 172000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ غزہ میں شہریوں کے قتل عام اور اسرائیل کی جانب سے رہائشی علاقوں پر اندھا دھند بمباری کے خلاف دنیا بھرکی مختلف جگہوں سے ردعمل سامنے آرہا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران و مرجع تقلید عالم تشیع آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور دیگر شیعہ مجتہدین نے غزہ کے عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
اہمیت اور اہداف
7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے مجاہدین نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے خلاف "طوفان الاقصی" کے نام سے ایک فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے اس آپریشن کو تاریخ میں ایک منفرد فوجی آپریشن اور صیہونی حکومت کی بہت بڑی شکست قرار دیا۔[1] اس کے علاوہ بعض ذرائع ابلاغ نے حماس کے گرفتار مجاہدین کے حوالے سے کہا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی ایک سال قبل کی گئی تھی۔[2] حماس کے عسکری کمانڈر محمد ضیف[3] اور حماس رہنما یحییٰ سنوار جیسے مجاہدین جو کئی سال تک اسرائیلی جیل میں قید رہے؛ اس کارروائی کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل ہیں۔[4]
طوفان الاقصیٰ آپریشن کے محرکات
حماس کے اس حملے کا محرک فلسطین کی آزادی، مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل کے قبضے سے نکالنا اور اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں کا مقابلہ کہا گیا ہے۔[5] حماس کے حامی میڈیا کا بھی یہی کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے اس حملے کی وجوہات فلسطینیوں کے قتل عام، مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی، اس کے محافظوں پر ظلم و تعدی، فلسطینیوں پر صیہونی آباد کاروں کے حملے کی حمایت کرنے جیسے اسرائیل کے مسلسل جرائم کا ردعمل ہے۔[6] اس حملے کے تیسرے دن حماس کے فوجی کمانڈر نے طوفان الاقصیٰ آپریشن کی وجوہات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صہیونیوں کی طرف سے مسلمانوں کے مقدسات کی مسلسل توہین، فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و تعدی اور فلسطینی سرزمین پر صیہونیوں کے غیر قانونی قبضے کے رد عمل میں یہ حملہ کیا گیا ہے.[7]
یہ بلا اور مصیبت صہیونیوں نے خود اپنے اوپر لائی ہے۔ جب ظلم اور جنایت انتہا کو پہنچ جاتی ہے اور جب درندگی انتہا کو پہنچ جاتی تو پھر طوفان کا انتظار کرنا ہوگا... فلسطینوں کا بہادرانہ اور جانثارانہ اقدام، غاصب دشمن کے سالہا سال سے جاری ظلم و بربریت کا جواب تھا اور آخری مہینوں میں ان کے ظلم و بربریت میں شدت آگئی تھی؛ اس کی ذمہ دار موجودہ غاصب صہیونی حکومت ہے۔[8]
آپریشن کا آغاز
7 اکتوبر 2023ء کو غزہ کی پٹی پر تعینات حماس کے مجاہدین نے ایک غیر متوقع منصوبہ بندی پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں پر حملہ کیا۔ اس حملے کے ابتدائی لمحات میں مقبوضہ علاقوں کی جانب 5000 راکٹ فائر کیے گئے جس کے بعد حماس کے مجاہدین نے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ علاقوں کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے دیواریں عبور کیں اور وہاں سے صہیونی بستیوں پر زمینی حملہ کیا۔[9] آپریشن کا آغاز قسام بٹالین کے کمانڈر محمد ضیف کے حکم سے ہوا۔حملے کے ابتدائی اوقات میں صیہونی شہریوں اور فوجیوں کے ایک گروہ کو حماس نے گرفتار کر لیا اور انہیں قیدیوں کے طور پر غزہ منتقل کیے گئے۔ شدید حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی صیہونی حکومت کے وزیر جنگ نے ہنگامی حالت کا اعلان کردیا۔[10]حماس کی جانب سے اس حملے میں حصہ لینے والی فورسز کی تعداد تقریباً 1000 افراد پر مشتمل ہے اور مقبوضہ علاقوں میں داخل ہونے والے آپریشنل پوائنٹس کی تعداد 15 ہے۔[11] اسرائیل کے اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ علاقوں پر حماس کے حملے کے آغاز کے 12ویں دن تک 1400 اسرائیلی ہلاک اور 3500 زخمی ہو چکے ہیں۔[12]
رد عمل
«یہ بات بہت اہم ہے کہ ہم سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ حماس کے حملے ویسے ہی نہیں ہوئے ہیں۔ فلسطینی 56 سالوں سے قبضے کے گھٹن ماحول میں سختی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی زمینوں کو نئی بستیاں آباد کرکے چھینا جارہا ہے اور ان پر سختیاں ڈھائی جارہی ہیں۔ ان کا اقتصاد تباہ ہوچکا ہے؛ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔ اب وہ لوگ سیاسی راہ حل سے ناامید ہوچکے تھے۔»[13]
اس آپریشن کی خبر میڈیا پر منتشر ہونے کے بعد مختلف ممالک جیسے ایران،[14] افغانستان،[15] اور عراق[16] کے مسلمانوں نے اسلامی مقاومتی بلاک کی فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جشن منایا۔ جمہوری اسلامی ایران،[17] لبنان کی حزب اللہ اور انصار اللہ یمن[18] نے حماس کے اس حملے کی حمایت کا اعلان کیا۔[19]عالم تشیع کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس آپریشن کو اسرائیل کے لیے ناقابل تلافی ناکامی قرار دیا۔[20] علاوہ ازیں ترک صدر رجب طیب اردگان نے حماس کو ایک آزادی پسند گروہ قرار دیا جو اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے لڑتا ہے۔[21] حوزہ علمیہ قم کے مدیر علی رضا اعرافی نے اس حملے کو اسلامی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کا اہم پیش خیمہ قرار دیا۔[22]
امریکہ نے اسرائیل کی امداد کے سلسلے میں اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں کو اس علاقے میں بھیجا۔[23]
غزہ پر اسرائیل کے حملے میں شہریوں کا قتل عام


حماس کے "طوفان الاقصی" نامی حملے کے بعد اسرائیلیوں نے جوابی حملوں میں غزہ کی پٹی میں رہائشی اور فوجی علاقوں پر حملہ کیا۔ پانی اور بجلی منقطع کرنا، رہائشی علاقوں پر بمباری، شہریوں، خواتین اور بچوں کو ہلاک کرنا، طبی عملے اور ہسپتالوں پر بمباری اور ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال ایسے اقدامات ہیں جو اسرائیل نے حماس کے مجاہدین کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران سرانجام دیے ہیں۔[24]
ایک رپورٹ کے مطابق 12 مئی 2026ء تک اسرائیل کے غزہ پر کئے جانے والے حملوں میں شہدا کی تعداد 72,742 اور زخمیوں کی تعداد 172,500 سے تجاوز کر گئی ہے۔[25] 21 ہزار سے زائد لوگ لاپتہ ہوگئے ہیں۔ [26] شہداء میں 21 ہزار سے زائد بچے [27] اور 12 ہزار سے زائد خواتین[28] شامل ہیں۔ 41 ہزار سے زائد بچے زخمی ہوچکے ہیں۔[29] صرف المعمدانی ہسپتال پر کئے جانے والے ایک ہی حملے میں 500 عام شہری مارے گئے ہیں۔ حملے کے دوران ہسپتال زخمیوں اور بے گھر افراد سے بھرا ہوا تھا۔[30]
- مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کیجئے: معمدانی ہسپتال کا قتل عام
اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں 52 ٹن سے زیادہ دھماکہ خیز مواد گرایا اور 305,000 سے زائد رہائش گاہوں کو تباہ اور 15 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کیا گیا ہے۔[31] بعض اخبار کے مطابق غزہ کے 80 فیصد سے زیادہ انفراسٹریکچر تباہ[32] اور 150000 سے زیادہ گھر مکمل منہدم جبکہ 85 فیصد سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔ [33] بعض ذرائع ابلاغ کے مطابق، جنگ کے دوران 600 سے زائد مساجد، 33 ہسپتال اور 110 اسکول و جامعات بھی تباہ ہوگئے ہیں۔[34]
عارضی جنگ بندی
جنگ کے 46 دن کے بعد نومبر 2023ء کو قطر اور مصر کی ثالثی پر فلسطین کے مقاومتی بلاک کے مجاہدین اور اسرائیل کے مابین عارضی طور پر جنگ بندی ہوئی۔ دونوں ممالک اس بات کے پابند ہوئے کہ 24 نومبر سے چار دن تک جنگ روک دی جائے گی اور اسرائیل کے حماس کے ہاتھوں 50 قیدیوں کے بدلے اسرائیل 150 فلسطینی قیدی رہا کرے گا اور انسانی ہمدردی کے تحت دیے جانے والے امدادی سامان کو غزہ پٹی تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ ڈالنا اس باہمی مفاہمت کا حصہ تھا۔[35]
19 جنوری کی جنگ بندی
حماس اور اسرائیل کے درمیان 15 ماہ (470 دن) تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ یہ جنگ بندی 19 جنوری 2025ء سے تین مراحل میں نافذ ہونا شروع ہوئی۔ پہلے مرحلے میں، جو 42 دن پر مشتمل تھا، اسرائیلی فوج غزہ کی سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹتنے کی پابند ہوگئی، جبکہ 33 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 700 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا۔ اسی مرحلے میں غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی بھی شروع ہونا تھی۔[36] دوسرے مرحلے میں اسرائیلی افواج کو مکمل طور پر غزہ سے نکلنا تھا اور دونوں فریقوں کے درمیان جنگ مکمل طور پر روک دی جانی تھی۔[37] تیسرے مرحلے میں دونوں جانب ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کا تبادلہ، غزہ کی تعمیرِ نو کا منصوبہ شروع کرنا اور سرحدی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنا شامل تھا۔[38] اس جنگ بندی کے معاہدے میں قطر، مصر اور امریکہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔[39]
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران اسرائیل کی واحد کامیابی جنگی جرائم کا ارتکاب تھا۔ [40] آیت اللہ خامنہ ای نے بھی 19 جنوری کی جنگ بندی کو اسرائیل کی شکست قرار دیا۔[41] ترکی کے صدر نے جنگ بندی کے ردِعمل میں کہا کہ غزہ، تقریباً 50 ہزار شہیدوں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، کے باوجود تسلیم نہیں ہوا اور ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔[42] یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل نے غزہ اور رفح کو شدید تباہ کیا اور حماس کے بعض رہنماؤں، جیسے اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار کو ہلاک کیا، تاہم وہ غزہ میں جنگ کے اپنے بنیادی اہداف حاصل نہیں کر سکا۔ ان اہداف میں حماس کی مکمل تباہی، اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، غزہ میں حکومت کی تبدیلی اور غزہ کا اسرائیل سے الحاق شامل تھے۔[43] اہداف اسرائیل شامل نابودی کامل حماس، آزادی اسیران اسرائیلی، تغییر حاکمیت در غزہ و الحاق آن بہ اسرائیل بود۔[44]
سیاسی، اقتصادی اور امنیتی نتائج
طوفان الاقصی کے سیاسی، امنیتی اور اقتصادی آثار و نتائج میں سے بعض درج ذیل ہیں:

شیعہ علما او مراجع تقلید کا رد عمل
مرجع اور رہبر عالم تشیع آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایک خطاب میں جبکہ نجف اشرف میں مقیم شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی نے اپنے ایک بیانیے میں غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے کی مذمت کی۔ دیگر مراجع تقلید نوری ہمدانی، مکارم شیرازی، جعفر سبحانی اور جوادی آملی نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور فلسطینیوں کی حمایت کی۔[45] آیت اللہ سید خامنہ ای نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کو کھلی نسل کشی قرار دیتے ہوئے صیہونی حکومت کو عالمی عدالت میں پیش کیے جانے اور غزہ پر بمباری کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔[46]
دنیا کے مختلف ممالک کے طلبا اور عوام کا احتجاجی مظاہرہ
صہیونی حکومت کی غزہ پر حملوں کے بعد، 17 اپریل 2024ء سے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے عوام کی نسل کشی اور قتلِ عام کے خلاف طلبہ کے پُرامن احتجاج کا سلسلہ امریکی جامعات سے شروع ہوا اور بتدریج دیگر مغربی ممالک کی جامعات تک بھی پھیل گیا۔[47] امریکی حکومت اور دیگر مغربی حکومتوں کی جانب سے احتجاج کرنے والے طلبہ کی آواز کو دبانے، انہیں گرفتار کرنے اور جامعات سے نکالنے کے اقدامات پر مختلف ردِعمل سامنے آئے۔[48] ان ردِعمل میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای نے فلسطین کے حامی طلبہ کے نام ایک خط جاری کرکے ان کے اقدام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ہمدردی کیا۔ انہوں نے اس خط میں امریکہ کے فلسطین حامی نوجوانوں کو محورِ مزاحمت کا حصہ قرار دیا، جو اپنی حکومت کے برعکس اسرائیل کے خلاف ایک باعزت جدوجہد شروع کرچکے ہیں، تاریخ کے درست سمت میں کھڑے ہیں، اور انہیں قرآن سے آشنائی حاصل کرنے کی نصیحت کی۔[49]
اسی طرح غزہ کے عوام کے قتلِ عام اور اسرائیلی فوج کے اقدامات کے خلاف دنیا کے مختلف خطوں میں، بالخصوص عالمِ اسلام اور بعض غیر مسلم ممالک میں بھی احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ ترکی، ایران، ملائیشیا، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ ان ممالک میں شامل تھے جہاں مزاحمتی قوتوں کی حمایت میں مظاہرے دیکھنے میں آئے۔[50]
امریکہ اور اسرائیل کے عالمِ اسلام پر تسلط کے منصوبے کی ناکامی
اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق، طوفان الاقصیٰ آپریشن نے اس منصوبے کو درہم برہم کر دیا جو امریکہ، اسرائیل اور خطے کی بعض حکومتوں نے صہیونی حکومت کو مغربی ایشیا کے خطے اور حتیٰ کہ پوری اسلامی دنیا کی معیشت و سیاست پر مسلط کرنے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مغربی ایشیا کی حکومتوں کے ساتھ صہیونی حکومت کے تعلقات کو اسرائیل کی خواہشات کے مطابق استوار کیا جانا تھا۔[51] اسی طرح بعض اخبار کے مطابق، طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے منصوبے کو معطل کر دیا۔[52]
اسرائیل کی اقتصادی منڈیاں زوال کا شکار
اسرائیلی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سے مندی، کرنسی کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی برادری میں اسرائیل کی کریڈٹ ریٹنگ کے کمزور ہونے کو اس آپریشن کے نتائج سمجھے جارہے ہیں۔ نیز اسرائیل میں سرمایہ کاری کی مقدار میں کمی کو "طوفان الاقصیٰ آپریشن" کے طویل المدتی نتائج میں سے قرار دیا گیا ہے۔[53] اس کے علاوہ فارس نیوز ایجنسی نے سوئس کمپنی نیسلے اور ہسپانوی کمپنی(Inditex) جیسی بین الاقوامی کمپنیوں کی شاخوں کی بندش کی خبر دی ہے۔[54]
شمالی مقبوضہ علاقوں میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی
حماس کے آپریشن کے دو روز بعد حزب اللہ لبنان نے ایک پیغام کے ذریعے اس اقدام کی حمایت کا اعلان کیا۔[55] حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کو روکنے اور غزہ کے عوام کے قتلِ عام کو صہیونی حکومت کے ہاتھوں سے رکوانے کے مقصد سے شمالی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ حزب اللہ کی جانب سے حماس اور غزہ کے عوام کی حمایت کے ردِعمل میں اسرائیلی فوج نے اس تحریک کے متعدد کمانڈروں اور اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنا کر شہید کیا، جن میں فؤاد شکر، ابراہیم عقیل، نبیل قاووق اور علی کرکی شامل تھے۔ اسی طرح حزب اللہ کے پیجرز میں دھماکے کر کے ان کے متعدد ارکان کو زخمی اور شہید کیا گیا۔ اس کے علاوہ، بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے اُس وقت کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ بھی شہید ہوئے۔
فلسطینی علاقوں سے صیہونیوں کی مہاجرت کی الٹی گنتی شروع
بین الاقوامی امور کے ایک ماہر کے تجزیے کے مطابق طوفان الاقصیٰ آپریشن مقبوضہ علاقوں سے صیہونیوں کی نقل مکانی میں شدت کا باعث بنا ہے۔[56] اس کے علاوہ اسٹریٹجک امور کے ماہر محمد حسین قدیری ابیانہ کے مطابق حماس کے اس آپریشن سے نہ صرف مقبوضہ علاقوں کی طرف نقل مکانی رکی ہے؛ بلکہ مقبوضہ علاقوں سے صیہونیوں کی دوسری جگہوں کی طرف مہاجرت شروع ہوئی ہے۔[57] شبکۂ العالم نے اسرائیلی مؤرخ ایلان پاپے (Ilan Pappé) کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ معتبر ذرائع کے مطابق، غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک 7 لاکھ صہیونی مقبوضہ فلسطین چھوڑ چکے ہیں۔[58]
عراق اور شام میں امریکی اڈوں پر حملے
غزہ پر اسرائیل کے حملوں اور عام شہریوں کے قتل عام کے بعد عراقی مزاحمتی مجاہدین نے عراق اور شام میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ان گروہوں کے عہدیداروں کے مطابق یہ کارروائیاں امریکہ کی طرف سے صیہونی حکومت کی مالی، فوجی اور سیاسی حمایت کے جواب میں کی جاتی ہیں اور یہ اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اسرائیل غزہ پر اپنے حملے بند نہیں کر دیتا۔ ایرانی اخبار "کیہان اخبار(شائع شدہ: 11 اکتوبر 2023ء)" نے فاکس نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ 7 اکتوبر سے عراق اور شام میں امریکی اڈوں کو اسلامی مزاحمتی بلاک کے مجاہدین متعدد حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔[59]
اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم
دنیا کے مختلف ممالک میں لوگوں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے باقاعدہ سے مہم چلائی تاکہ لوگ اسرائیلی مصنوعات کا استعمال بند کریں۔[60] نیز اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل سے ملاقات میں بعض اسلامی ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تیل کی برآمدات بند کرنے کا مطالبہ کیا۔[61]
بعض ممالک کا اسرائیل اور اس کی حامی حکومتوں کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع
غزہ میں شہریوں کی ہلاکت کے ردعمل میں کولمبیا نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے اور اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کر دیا۔[62] نیز، لیبی حکومت نے انگلستان، امریکہ، فرانس اور اٹلی کے سفیروں کو صیہونی حکومت کی حمایت میں ان کی حکومتوں کے موقف کی وجہ سے طرابلس سے نکال دیا۔[63] ایرانی وزیر خارجہ نے اسلامی تعاون تنظیم کے سکریٹری جنرل سے ملاقات میں اسرائیلی حکومت کے سفیروں کو اسلامی ممالک سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔[64] ترکی کی "سعادت اور مستقبل کی سیاسی جماعتوں" کے رہنماؤں نے بھی انقرہ سے تل ابیب کے تعلقات منقطع کرنے اور اسرائیلی سفیر کو ترکی سے ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔[65]
یورپی یونین کے ماتحت اداروں کے 350 سے زائد سابق وزراء، سفیروں اور اعلیٰ عہدیداروں نے اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی عوام کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ردِعمل میں، یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان شراکت داری کے معاہدے کو مستقل طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔[66]
بحیرہ احمر کو اسرائیلی جہازوں کے لیے غیر محفوظ بن گیا
طوفان اقصیٰ آپریشن کے بعد اور اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی پر بمباری اور شہریوں کی ہلاکت کے جواب میں یمن کی تحریک انصار اللہ نے اعلان کیا کہ بحیرہ احمر میں صہیونی بحری جہاز اس کے ہدف ہوں گے۔ لہٰذا، 19 نومبر 2023ء کو بحیرہ احمر میں (Galaxy Leader) نامی تجارتی جہاز پکڑا گیا۔ یہ جہاز ایک اسرائیلی تاجر "رامی اونگر" کا ہے۔[67] نیز، انصار اللہ کے مجاہدین بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں اسرائیلی جہازوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی جانب روانہ ہونے والے تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔[68]
حوثیوں کی طاقت کو کم کرنے اور ان کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکہ نے یمن کے مختلف علاقوں میں انصار اللہ سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا۔[69] ان حملوں کے باوجود انصار اللہ نے اعلان کیا کہ یہ حملے ان کو فلسطین کی حمایت کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتے ہیں۔[70]
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے وارنٹ گرفتاری
بین الاقوامی فوجداری عدالت، ہیگ نے 21 نومبر 2024ء کو صہیونی حکومت کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس حکومت کے سابق وزیرِ جنگ یوآو گالانت کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ اس کی وجہ غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب قرار دی گئی۔[71] خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کے مطابق، امریکہ کے برعکس فرانس اور برطانیہ سمیت بعض یورپی ممالک کی حکومتوں نے اس فیصلے کی حمایت کی۔ اس وقت یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اسے عدالت کے رکن تمام ممالک، بشمول یورپی یونین کے رکن ممالک، کے لیے قابلِ عمل اور لازم الاتباع قرار دیا۔[72]
اسرائیل و امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ
14 اپریل 2024ء کو ایران نے ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا،[73] اس حملے کو دنیا کا سب سے بڑا ڈرون حملہ اور ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا میزائل حملہ قرار دیا گیا۔[74] یہ کارروائی یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں کی گئی تھی،[75] جس کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے سات اہلکار شہید ہوئے تھے۔[76] یکم اکتوبر 2024ء کو ایران نے حماس کے اُس وقت کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور حزب اللہ لبنان کے اُس وقت کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ سمیت مزاحمتی محاذ کے بعض اہم رہنماؤں کے قتل کے جواب میں اسرائیلی اہداف پر ایک اور میزائل حملہ کیا۔[77] ان دونوں کارروائیوں کو آپریشن وعدہ صادق 1 اور 2 کا نام دیا گیا۔
13 جون 2025ء، اسرائیل نے ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات پر حملوں کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈر، جوہری سائنس دان[78] اور 600 سے زائد ایرانی شہری شہید ہوئے۔[79] ان حملوں کے بیان کردہ مقاصد میں ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا، اس کے سیاسی نظام میں تبدیلی لانا، نیز عالمی توجہ کو غزہ کی جنگ سے ہٹانا اور اس جنگ میں اسرائیل کی ناکامی کو فراموش کرانا شامل تھا۔[80] یہ حملے امریکہ کی حمایت[81] اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جانب سے ایران کے خلاف قرارداد منظور کیے جانے کے صرف ایک روز بعد کیے گئے۔[82] ایران نے ان حملوں کے جواب میں اور اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کو بنیاد بناتے ہوئے[83] آپریشن وعدہ صادق 3 شروع کیا، جس میں سینکڑوں میزائل اور ڈرون اسرائیلی فوجی اڈوں کی جانب داغے گئے۔[84] بالآخر 12 روز کے بعد، 24 جون 2025ء کو، امریکہ کی درخواست پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔[85] بعض تجزیہ کاروں نے اسرائیل کے اپنے اہداف حاصل نہ کر پانے کے پیشِ نظر اسے اسرائیل کی تزویراتی شکست قرار دیا۔[86]
اس کے بعد اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری 2026ء کو ایران پر حملے کیے، جن کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور متعدد فوجی کمانڈروں کی شہادت ہوئی۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں آپریشن وعدہ صادق 4 انجام دیا اور یہ جنگ جنگ رمضان کے نام سے معروف ہوئی۔ اس جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے جواب میں، مقبوضہ فلسطین کے علاوہ متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، کویت، سعودی عرب اور قطر میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات کو بھی ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ «دہمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکہ العالم۔
- ↑ «بازندہ اصلی عملیات «طوفان الاقصی» کیست؟»، خبرگزاری دنیای اقتصاد۔
- ↑ ««محمد الضیف» کہ امروز شہادتش تأیید شد، کہ بود؟»، خبرگزاری تابناک۔
- ↑ «Hamas’s pick of Yahya Sinwar as leader makes a ceasefire less likely»، economist.
- ↑ «طوفان الاقصی نقطہ عطف زوال قطعی رژیم صہیونیستی است»، مرکز پژوہشہای مجلس شورای اسلامی۔
- ↑ «دہمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکہ العالم۔
- ↑ «لحظہ بہ لحظہ با سومین روز از عملیات طوفان الاقصی»، خبرگزاری العالم۔
- ↑ «مراسم مشترک دانشآموختگی دانشجویان دانشگاہہای افسری نیروہای مسلح»، دفتر و حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای۔
- ↑ «دہمین روز از عملیات طوفان الاقصی»، شبکہ العالم۔
- ↑ «لحظہ بہ لحظہ با عملیات توفان الاقصی»، شبکہ العالم۔
- ↑ «بازندہ اصلی عملیات «طوفان الاقصی» کیست؟»، خبرگزاری دنیای اقتصاد۔
- ↑ «دوازدہمین روز از عملیات طوفان الاقصی»، شبکہ العالم؛ «Palestinian health minister says 3,478 killed in Gaza; Israeli government says 1,400 killed in Israel»، nbcnews۔
- ↑ «گوترش: جنگ ہم دارای قوانینی است»، خبرگزاری آنادولو۔
- ↑ ملاحطہ کیجیے: «شادی مردم تہران در پی پیروزی مقاومت فلسطین در عملیات طوفان الاقصی»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ «شادی مردم افغانستان پس از عملیات طوفان الاقصی»]، خبرگزاری مہر۔
- ↑ «تصویر اولین جشن عملیات طوفان الاقصی| کارناوالہای شادی بہ راہ افتادند»، ہمشہریآنلاین۔
- ↑ «تہران بہ پشتیبانی ہمہجانبہ از مقاومت فلسطین ادامہ میدہد حمایت ایران از «طوفانالاقصی»»، سایت روزنامہ دنیای اقتصاد۔
- ↑ «"أنصار اللہ": "طوفان الأقصى" كشفت ضعف العدو.. ودعوات إلى الاحتشاد دعماً للعملية». شبکہ المیادین.
- ↑ «لحظہ بہ لحظہ با دومین روز از عملیات طوفان الاقصی]»، شبکہ العالم۔
- ↑ «مراسم مشترک دانشآموختگی دانشجویان دانشگاہہای افسری نیروہای مسلح»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ «رئیس جمہوری ترکیہ حماس را «سازمان آزادیبخش» خواند»، وبگاہ بیبیسی فارسی۔
- ↑ «عملیات طوفان الاقصی سرآغاز تحولات بزرگی در جہان اسلام و منطقہ است»، شورای نگہبان۔
- ↑ «لحظہ بہ لحظہ با پنجمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، خبرگزاری العالم۔
- ↑ «دہمین روز از عملیات "طوفان الاقصی"»، شبکہ العالم۔
- ↑ «شمار شہدای جنگ علیہ غزہ بہ 72 ہزار و 742 نفر رسید»، مرکز اطلاعرسانی فلسطین۔
- ↑ «حملات 15 ماہہ اسرائیل بہ غزہ: کشتہ شدن 47 ہزار فلسطینی و ویرانی زیرساختہا»، خبرگزاری آناتولی.
- ↑ «کودکان غزہ؛ قربانیان خاموش جنگ و نسلی کہ زیر آوار بزرگ میشود»، مرکز اطلاعرسانی فلسطین۔
- ↑ «آمار کامل تلفات و خسارتہای غزہ در پانصد و شصتمین روز جنگ»، خبرگزاری ایسنا۔
- ↑ «کودکان غزہ؛ قربانیان خاموش جنگ و نسلی کہ زیر آوار بزرگ میشود»، مرکز اطلاعرسانی فلسطین۔
- ↑ «دوازدہمین روز از عملیات طوفان الاقصی»، شبکہ العالم۔
- ↑ «إسرائيل دمرت أكثر من 305 آلاف منزل في غزة»
- ↑ «حملات 15 ماہہ اسرائیل بہ غزہ: کشتہ شدن 47 ہزار فلسطینی و ویرانی زیرساختہا»، خبرگزاری آناتولی.
- ↑ «جنگ 466 روزہ غزہ بہ روایت آمار»، سایت تحلیلی خبری عصر ایران۔
- ↑ «جنگ 466 روزہ غزہ بہ روایت آمار»، سایت تحلیلی خبری عصر ایران۔
- ↑ «الہدنة الإنسانية المؤقتة في غزة 2023.. بنودہا وتفاصيلہا»، الجزیرہ۔
- ↑ «جزئیات عقبنشینی ارتش اشغالگر اسرائیل از غزہ»، شبکہ العالم؛ «متن کامل توافقنامہ حماس و رژیم صہیونیستی برای آتشبس»، خبرگزاری مہر۔
- ↑ «جزئیات عقبنشینی ارتش اشغالگر اسرائیل از غزہ»، شبکہ العالم.
- ↑ «متن کامل توافقنامہ حماس و رژیم صہیونیستی برای آتشبس»، خبرگزاری مہر.
- ↑ «دفتر نتانیاہو: اسرائیل و حماس توافق آتشبس غزہ را امضا کردند»، خبرگزاری دویچہولہ۔
- ↑ «حماس: جنایات جنگی تنہا موفقیت اسرائیل در غزہ بودہ است»، خبرگزاری آناتولی۔
- ↑ «توئیت رسانہ KHAMENEI.IR در پی اعلام آتشبس در غزہ»، دفتر حفظ و نشر آثار آیتآللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ «اردوغان: غزہ با وجود بیش از 50 ہزار شہید تسلیم نشد»، خبرگزاری آناتولی۔
- ↑ حجت، «آتشبس؛ اسرائیل پیروز شد؟»، خبرگزاری جمہور.
- ↑ حجت، «آتشبس؛ اسرائیل پیروز شد؟»، خبرگزاری جمہور۔
- ↑ «واکنش مراجع عظام تقلید بہ جنایات رژیم صہیونیستی»، خبرگزاری مشرق۔
- ↑ «دیدار نخبگان و استعدادہای برتر علمی با رہبر انقلاب»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ «جنبش دانشجویی حمایت از فلسطین از آمریکا بہ فرانسہ رسید»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ برای نمونہ نگاہ کنید بہ «واکنش سازمان ملل بہ بازداشت دانشجویان حامی فلسطین در دانشگاہہای آمریکا»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ «نامہ حضرت آیتاللہ خامنہای بہ دانشجویان حامی مردم فلسطین در دانشگاہہای ایالات متحدہ آمریکا»، وبگاہ دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ «نہمین روز از عملیات "طوفان الاقصیٰ"»، شبکہ العالم۔
- ↑ بیانات آیتاللہ خامنہای در مراسم سی و پنجمین سالگرد ارتحال حضرت امام خمینی، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای۔
- ↑ «منبع نزدیک بہ دولت عربستان: ریاض مذاکرات عادیسازی با اسرائیل را تعلیق کرد»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ «بازندہ اصلی عملیات «طوفان الاقصی» کیست؟»، خبرگزاری دنیای اقتصاد۔
- ↑ «جنگ غزہ شرکتہای بینالمللی در سرزمینہای اشغالی را مجبور بہ تعطیلی کرد»، خبرگزاری فارس۔
- ↑ «لحظہ بہ لحظہ با دومین روز از عملیات طوفان الاقصیٰ»، شبکہ العالم۔
- ↑ سفالگر، «آیندہ رژیم صہیونیستی در پرتو عملیات "طوفان اقصی"»، سایت تحلیلی طنین۔
- ↑ «عملیات طوفان الاقصیٰ مہاجرت بہ سرزمینہای اشغالی را متوقف كرد»، وبگاہ رادیو گفتگو۔
- ↑ «700 ہزار صہیونیست اراضی اشغالی را ترک کردند»، شبکہ العالم۔
- ↑ «ارسال 7 ہزار تن سلاح آمریکایی بہ اسرائیل حملات مقاومت بہ پایگاہہای آمریکایی شدت گرفت»، روزنامہ کیہان، 20 آبان 1402ہجری شمسی۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: «واکنش کاربران بہ جنایات رژیم جعلی صہیونیستی؛»، خبرنامہ دانشجویان ایران۔
- ↑ «امیرعبداللہیان: خواستار تحریم فوری و کامل رژیم صہیونیستی توسط کشورہای اسلامی ہستیم»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ «کلمبیا سفیر رژیم اسرائیل را اخراج کرد»، العالم۔
- ↑ «لیبی سفرای تعدادی از کشورہای حامی اسرائیل را اخراج کرد»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ «امیرعبداللہیان: خواستار تحریم فوری و کامل رژیم صہیونیستی توسط کشورہای اسلامی ہستیم»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ «درخواست اخراج سفیر رژیم صہیونیستی از ترکیہ»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ «بیش از 350 مقام سابق اروپایی خواہان تعلیق توافقنامہ شراکت با اسرائیل شدند»، خبرگزاری جمہوری اسلامی۔
- ↑ «Yemen’s Houthi rebels seize cargo ship in Red Sea and call Israeli vessels ‘legitimate targets’»، guardian۔
- ↑ «القصف الأميركي لليمن.. السعودية تدعو لضبط النفس وعدم التصعيد»، الجزیرہ۔
- ↑ «ضربات أميركية وبريطانية على أہداف في صنعاء والحديدة والحوثي يتوعد بالرد»، الجزیرہ۔
- ↑ «أميركا وبريطانيا تنفذان 48 غارة شمال اليمن والحوثيون: سنواصل دعم غزة»، الجزیرہ۔
- ↑ «حکم دیوان لاہہ چہ تبعات سیاسی - حقوقی برای نتانیاہو و رژیم صہیونیستی دارد؟»، خبرگزاری مہر؛ «واکنشہا بہ صدور حکم جلب نتانیاہو و گالانت در دادگاہ لاہہ»، خبرگزاری دویچہولہ۔
- ↑ «واکنشہا بہ صدور حکم جلب نتانیاہو و گالانت در دادگاہ لاہہ»، خبرگزاری دویچہولہ۔
- ↑ «حملہ گستردہ موشکی و پہپادی ایران بہ اسرائیل آغاز شد»، خبرگزاری تسنیم۔
- ↑ Motamedi, "‘True Promise’: Why and how did Iran launch a historic attack on Israel?», Al Jazeera Media Network.
- ↑ «سرلشکر باقری: گنبد آہنین نتوانست مقابلہ قابلتوجہی با عملیات ما داشتہ باشد»، شبکہ العالم۔
- ↑ «حملہ اسرائیل بہ کنسولگری ایران در سوریہ و شہادت 7 عضو ارشد سپاہ (+فیلم و عکس)»، عصر ایران۔
- ↑ «بیانیہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی درخصوص عملیات موشکی علیہ اسرائیل»، العالم۔
- ↑ «اسامی شہدای حملہ تروریستی رژیم صہیونیستی»، خبرگزاری ایرنا۔
- ↑ «آخرین آمار شہدا و مجروحان حملہ اسرائیل بہ ایران اعلام شد»، شبکہ شرق۔
- ↑ کدیور، «چرا اسرائیل بہ ایران حملہ کرد؟»، نورنیوز۔
- ↑ نمونہ کےلیےملاحظہ کیجیے: «جنگ ایران و اسرائیل»، یورونیوز؛ «مقر وزارت جنگ رژیم صہیونیستی زیر آتش موشکہای ایران»، خبرگزاری میزان۔
- ↑ «چرا اسرائیل بہ ایران حملہ کرد؟»، نورنیوز۔
- ↑ «رژیم صہیونیستی تمام قوانین و معاہدات بینالمللی را بہ زیر پا گذاشت»، خبرگزاری میزان۔
- ↑ «سپاہ: عملیات وعدہ صادق 3 با رمز یا علی بن ابی طالب آغاز شد»، خبرگزاری انتخاب۔
- ↑ «تحمیل آتش بس بہ دشمن صہیونی، در پی عملیات موفق بشارت فتح»، خبرگزاری مہر۔
- ↑ غولدبیرغ، «كيف فشلت إسرائيل في إيران؟»، شبکة الجزیرة؛ «آیا جنگ اسرائیل و ایران بہ پایان رسید؟»، پایگاہ خبری - تحلیلی فرارو؛ «ترامپ: آتشبس برقرار است/ نتانیاہو رسماً موافقت با آتش بس را اعلام کرد/ تشکر اسرائیل از ترامپ بابت آتشبس»، خبرگزاری تابناک۔
مآخذ
- «"أنصار اللہ": "طوفان الأقصى" كشفت ضعف العدو.. ودعوات إلى الاحتشاد دعماً للعملية»، سایت شبکہ المیادین، تاریخ درج مطلب: 7 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 21 اکتوبر 2023ء۔
- «آتش زدن سفارت رژیم صہیونیستی در اردن»، خبرآنلاین، تاریخ درج مطلب: 17 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 21 اکتوبر 2023ء۔
- «أبرز تطورات اليوم الـ13 لعملية طوفان الأقصى»، خبرگزاری الجزیرة، تاریخ درج مطلب: 19 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 21 اکتوبر 2023ء۔
- «اعلان عزا در حرم مطہر رضوی بہ دنبال جنایات صہیونیستہا در نوار غزہ»، وبگاہ آستان نیوز، تاریخ درج مطلب: 17 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 18 اکتوبر 2023ء۔
- «بازندہ اصلی عملیات «طوفان الاقصیٰ» کیست؟»، خبرگزاری دنیای اقتصاد، تاریخ درج مطلب: 11 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء
- «تصویر اولین جشن عملیات طوفان الاقصیٰ| کارناوالہای شادی بہ راہ افتادند»، ہمشہریآنلاین، تاریخ درج مطلب: 7 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 17 اکتوبر 2023ء۔
- «تہران بہ پشتیبانی ہمہجانبہ از مقاومت فلسطین ادامہ میدہد حمایت ایران از «طوفانالاقصیٰ»»، سایت روزنامہ دنیای اقتصاد۔
- جنگ غزہ شرکتہای بینالمللی در سرزمینہای اشغالی را مجبور بہ تعطیلی کرد»، خبرگزاری فارس، تاریخ درج مطلب: 20 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 20 اکتوبر 2023ء۔
- «دوازدہمین روز از عملیات طوفان الاقصیٰ»، شبکہ العالم، تاریخ درج مطلب: 18 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 18 اکتوبر 2023ء۔
- «دہمین روز از عملیات "طوفان الاقصیٰ"»، شبکہ العالم، تاریخ درج مطلب: 15 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 15 اکتوبر 2023ء۔
- «دیدار نخبگان و استعدادہای برتر علمی با رہبر انقلاب»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 17 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 17 اکتوبر 2023ء۔
- «رئیس جمہوری ترکیہ حماس را «سازمان آزادیبخش» خواند»، وبگاہ بیبیسی فارسی، تاریخ درج مطلب: 25 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 25 اکتوبر 2023ء۔
- سفالگر، سامان، «آیندہ رژیم صہیونیستی در پرتو عملیات "طوفان اقصی"»، سایت تحلیلی طنین، تاریخ درج مطلب: 15 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 19 اکتوبر 2023ء۔
- «شادی مردم تہران در پی پیروزی مقاومت فلسطین در عملیات طوفان الاقصیٰ»، خبرگزاری ایرنا۔
- «شادی مردم افغانستان پس از عملیات طوفان الاقصیٰ»، خبرگزاری مہر.
- «طوفان الاقصیٰ نقطہ عطف زوال قطعی رژیم صہیونیستی است»، مرکز پژوہشہای مجلس شورای اسلامی، تاریخ درج مطلب: 10 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 19 اکتوبر 2023ء۔
- «العراق وإيران ودول عربية تدخل حدادا عاماً على أرواح ضحايا غزة»، وبگاہ شفقنا، تاریخ درج مطلب: 19 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 19 اکتوبر 2023ء۔
- «عملیات طوفان الاقصیٰ سرآغاز تحولات بزرگی در جہان اسلام و منطقہ است»، شورای نگہبان، تاریخ درج مطلب: 9 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «عملیات طوفان الاقصیٰ مہاجرت بہ سرزمینہای اشغالی را متوقف كرد»، وبگاہ رادیو گفتگو، تاریخ درج مطلب: 16 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 21 اکتوبر 2023ء۔
- «گوترش: جنگ ہم دارای قوانینی است»، خبرگزاری آنادولو، تاریخ درج مطلب: 24 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 25 اکتوبر 2023ء،
- «لحظہ بہ لحظہ با عملیات توفان الاقصیٰ»، شبکہ العالم، تاریخ درج مطلب: 7 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «لحظہ بہ لحظہ با دومین روز از عملیات طوفان الاقصیٰ»، شبکہ العالم، تاریخ درج مطلب: 8 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «لحظہ بہ لحظہ با سومین روز از عملیات طوفان الاقصیٰ»، شبکہ العالم، تاریخ درج مطلب: 9 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «لحظہ بہ لحظہ با پنجمین روز از عملیات "طوفان الاقصیٰ"»، خبرگزاری العالم، تاریخ درج مطلب: 6 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «لحظہ بہ لحظہ با 187امین روز حملات رژیم صہیونیستی بہ باریکہ غزہ و کرانہ باختری فلسطین»، شبکہ العالم، تاریخ درج مطلب: 11 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 10 اپریل 2023ء۔
- «مراسم مشترک دانشآموختگی دانشجویان دانشگاہہای افسری نیروہای مسلح»، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللہ العظمی خامنہای، تاریخ درج مطلب: 10 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 18 اکتوبر 2023ء۔
- «منبع نزدیک بہ دولت عربستان: ریاض مذاکرات عادیسازی با اسرائیل را تعلیق کرد»، خبرگزاری تسنیم، تاریخ درج مطلب: 16 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 18 اکتوبر 2023ء۔
- «نہمین روز از عملیات "طوفان الاقصیٰ"»، شبکہ العالم، تاریخ درج مطلب: 15 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «واکنش مراجع عظام تقلید بہ جنایات رژیم صہیونیستی»، خبرگزاری مشرق، تاریخ درج مطلب: 12 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «ہشتمین روز از عملیات "طوفان الاقصیٰ"»، خبرگزاری العالم، تاریخ درج مطلب:14 اکتوبر 2023ء، تاریخ مشاہدہ: 16 اکتوبر 2023ء۔
- «الہدنة الإنسانية المؤقتة في غزة 2023.. بنودہا وتفاصيلہا»، الجزیرہ، تاریخ مشاہدہ: 29 نوامبر 2023ء۔
- «حملہ اسرائیل بہ کنسولگری ایران در سوریہ و شہادت 7 عضو ارشد سپاہ (+فیلم و عکس)»، عصر ایران، تاریخ درج مطلب: 1 اپریل 2023ء، تاریخ مشاہدہ 14 اپریل 2023ء۔
- «حملہ گستردہ موشکی و پہپادی ایران بہ اسرائیل آغاز شد»، خبرگزاری تسنیم، تاریخ درج مطلب: 14 اپریل 2023، تاریخ مشاہدہ 14 اپریل 2023ء۔
- «موشک ہایپرسونیک ایران بہ اہداف اسرائیلی اصابت کرد /سفیر سوئیس بہ جای وزارتخارجہ بہ سپاہ احضار شد /موشکہای بالستیک ظرف 15 دقیقہ بہ اسرائیل رسیدند»، خبرآنلاین، تاریخ درج مطلب: 15 اپریل 2023، تاریخ مشاہدہ: 17 اپریل 2023۔
- «جنبش دانشجویی حمایت از فلسطین از آمریکا بہ فرانسہ رسید»، خبرگزاری ایرنا، تاریخ درج مطلب: 25 اپریل 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 25 اپریل 2024ء۔
- «حدود 100 دانشجوی حامی فلسطین در کالیفرنیا بازداشت شدند»، خبرگزاری ایرنا، 25 اپریل 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 25 اپریل 2024ء۔
- «واکنش سازمان ملل بہ بازداشت دانشجویان حامی فلسطین در دانشگاہہای آمریکا»، خبرگزاری ایرنا، 24 اپریل 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 25 اپریل 2024ء۔
- «Palestinian health minister says 3,478 killed in Gaza; Israeli government says 1,400 killed in Israel", nbcnews, Published: October 18, 2023, Accessed: Oct 18, 2023.
- Israel-Hamas war: List of key events, day 19, AlJAZEERA, Published: Oct 25, 2023, Accessed: Oct 25, 2023.
- Death toll of Palestinians from Israeli attacks on Gaza exceeds 8,300: ministry, Xinhua English News, Published: Oct 30, 2023, Accessed: Oct 30, 2023.
- "Yemen’s Houthi rebels seize cargo ship in Red Sea and call Israeli vessels ‘legitimate targets’»، guardian.