تہجد

ویکی شیعہ سے
(نماز تہجد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


تَہَجُّد، رات کا ایک حصہ عبادت، خاص کر نماز شب کیلئے بیدار رہنے کو کہا جاتا ہے۔ اور یہ کام آیت مجیدہ وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ(ترجمہ اور رات کے ایک حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہیں) کے تحت پیغمبر اکرمؐ پر واجب جبکہ دوسرے مؤمنین پر مستحب ہے۔ احادیث کی رو سے تہجّد آخرت کی زینت، مؤمن کی عزت، بدن کی سلامتی، روزی میں وسعت، دن کے گناہوں کی بخشش، خدا کی خشنودی اور پیغمبروں کے اخلاق سے متصف ہونے کا ذریعہ ہے۔

مفہوم شناسی

تہجد کے لفظ کا اصل اور مادہ "ہ ج د" ہے۔ راغب اصفہانی[1] اور طَبْرِسی[2] "ہُجود" کو "سونے" کے معنی میں لیتے ہیں جبکہ جوہری[3] کے مطابق یہ لفظ "اضداد" میں سے ہے اس بنا پر دور معنی رات کو "سونے" اور "بیدار رہنے" کے معنی میں آتا ہے۔ تہجّد اصطلاح میں نماز شب کو کہا جاتا ہے[4] اور متہجِّد اس شخص کو کہا جاتا ہے جو رات کو نماز پڑھنے کیلئے بیدار ہوتا ہے۔[5]
قرآن مجید

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُوداً (ترجمہ: اور رات کا کچھ حصہ نماز تہجد پڑھئے، جو کہ آپ کے لئے ایک مختص حکم ہے، کہ آپ کو آپ کا رب ایک لائق تعریف موقف (مقام شفاعت) پر کھڑا کرے۔) [ اسراء–7]

وسائل الشیعۃ، ج‏8، ص،157

ة==قرآن کی روشنی میں== قرآن کریم میں تہجد کا لفظ صرف ایک بار آیا ہے، وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحْمُوداً (ترجمہ: اور رات کا کچھ حصہ نماز تہجد پڑھئے، جو کہ آپ کے لئے ایک مختص حکم ہے، کہ آپ کو آپ کا رب ایک لائق تعریف موقف (مقام شفاعت) پر کھڑا کرے۔) [ اسراء–7] اس آیت کی بنا پر نمازشب پیغمبر اکرمؐ پر واجب ہے۔[6] اور اسی تہجّد اور نماز شب کی خاطر آپ کو قیامت کے دن شفاعت کا مقام عطا کیا گیا ہے۔[7] اس آیت کا اصلی مخاطب رسول اکرمؐ ہے۔[8] لیکن آیہ مجیدہ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَ‌سُولِ اللَّـہِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (ترجمہ: مسلمانو! تمہارے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے) [ سورہ احزاب–21] ،کی رو سے تمام مسلمانوں کو بھی تہجّد کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب صدر اسلام میں تمام مسلمانوں پر تھی لیکن بعد میں سنّت مؤکد میں تبدیل ہوا ہے۔[9]

اگرچہ تہجّد کا لفظ قرآن میں صرف ایک بار آیا ہے لیکن قرآن کی متعدد آیتوں میں شب زندہ داری اور صبح کے وقت استغفار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ اسی طرح صبح کے وقت مغفرت کی دعا کرنا جسے پرہیزگاروں کی بارز ترین نشانی،[10] شب زندہ داری کو بندگان خدائے رحمان[11] اور حقیقی مؤمنین کی صفات [12] وغیرہ قرار دینا[13] بھی تہجد کی طرف اشارہ ہے۔ ہمچنین سورہ مُزَّمِّل کی دوسری آیت قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (ترجمہ: رات کا ایک حصہ قیام کرو) [ سورہ مزمل–2] جس کا اصلی مخاطب پیغمبر اکرم ہے لیکن مختلف احادیث کی بنا پر تمام مؤمین کیلئے بھی اس بات کی سفارش کی گئی ہے۔

احادیث کی روشنی میں

احادیث میں بھی تہجّد کا لفظ نماز شب کیلئے استعمال ہوا ہے۔[14] یہاں تک کہ احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر خداؐ اپنی رحلت سے پہلے حضرت علیؑ کو وصیت کرتے ہوئے تین دفعہ فرمایا: "علیک بصلاة اللّیل(ترجمہ نماز شب پڑھنا آپ پر لازمی ہے)"۔[15]

احادیث میں تہجّد آخرت کی زینت (مال اور اولاد کے مقابلے میں جنہیں دنیا کی زینب قرار دی گئی ہے) مؤمن کا شرف،[16] بدن کی سلامتی،[17] رزق و روزی میں وسعت،[18] دن کے گناہوں کا کفارہ،[19] خدا کی خشنودی اور انبیاء کی اخلاق سے متصف ہونے[20] کا وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔[21]

زمان

تہجّد کا وقت آدھی رات سے طلوع فجر صادق تک ہے اور چتنا اذان صبح سے نزدیک‌ ہو زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔[22]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ذیل «ہجد»
  2. طبرسی، ج ۶، ص ۶۶۸
  3. ذیل «ہجد»
  4. فخررازی، ج ۲۱، ص ۲۹
  5. ابن منظور؛ ابن فارس، ذیل «ہجد»
  6. ابن بابویہ، ۱۴۰۴، ج ۱، ص ۴۸۴
  7. فخررازی، ج ۲۱، ص ۳۱؛ طبرسی، ج ۶، ص ۶۷۱؛ طباطبائی، ج ۱۳، ص ۱۷۶
  8. رجوع کنید بہ طبرسی، ج ۶، ص ۶۷۰
  9. طبری، ج ۲۹، ص ۷۸؛ ابوداوود، ج۲، ص۷۱ـ۷۲
  10. آل عمران: ۱۷؛ ذاریات: ۱۷ـ ۱۸
  11. فرقان: ۶۴
  12. سجدہ: ۱۶
  13. زمر: ۹
  14. مجلسی، ج ۸۴، ص ۱۴۰
  15. ابن بابویہ، ہمانجا؛ حرّعاملی، ج ۸، ص ۱۴۵
  16. حرّعاملی، ج ۸، ص ۱۴۵، ۱۵۷
  17. ہمان، ج ۸، ص ۱۵۰؛ مجلسی، ج ۸۴، ص ۱۴۴
  18. ابن بابویہ، ۱۳۶۴ش، ص ۴۱
  19. حرّعاملی، ج ۸، ص ۱۴۶؛ مجلسی، ج ۸۴، ص ۱۳۶
  20. ابن بابویہ، ہمانجا
  21. حرّعاملی، ج ۸، ص ۱۶۲؛ مجلسی، ج ۸۴، ص ۱۶۲
  22. مجلسی، ج ۸۴، ص ۲۲۷


منابع

  • ابن بابویہ، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، نجف ۱۹۷۲، چاپ افست قم، ۱۳۶۴ش۔
  • ہمو، کتاب من لایحضرہ الفقیہ، چاپ علی اکبر غفاری، قم، ۱۴۰۴ق۔
  • ابن فارس۔
  • ابن منظور۔
  • سلیمان بن اشعث ابوداوود، سنن ابی داود، استانبول ۱۴۰۱/۱۹۸۱۔
  • اسماعیل بن حماد جوہری، الصحّاح: تاج اللغہ و صحاح العربیہ، چاپ احمدعبدالغفور عطار، قاہرہ ۱۳۷۶، چاپ افست بیروت، ۱۴۰۷ق۔
  • حرّعاملی۔
  • حسین بن محمد راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، چاپ محمدسیدکیلانی، تہران؟] ۱۳۳۲ش۔
  • طباطبائی۔
  • طبرسی۔
  • طبری، جامع۔
  • محمدبن عمر فخررازی، التفسیرالکبیر، قاہرہ، بی‌تا، چاپ افست تہران، بی‌تا۔
  • مجلسی۔