مسودہ:قیامت کے مواقف
| خداشناسی | |
|---|---|
| توحید | توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل |
| فروع | توسل • شفاعت • تبرک |
| عدل (افعال الہی) | |
| حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین | |
| نبوت | |
| خاتمیت • پیامبر اسلام • اعجاز • عدم تحریف قرآن | |
| امامت | |
| اعتقادات | عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبت • مہدویت • انتظار فرج • ظہور • رجعت |
| ائمہ معصومینؑ | |
| معاد | |
| برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان | |
| اہم موضوعات | |
| اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت | |
قیامت کے مواقف، ان مقامات کو کہا جاتا ہے جہاں انسان کو پلِ صراط سے گزرتے وقت حساب و کتاب کے لئے ٹھہرایا جاتا ہے۔ ان مقامات پر انسان کے عقائد اور اعمال کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔ ان مواقف کی تعداد کے بارے میں مختلف آراء پائے جاتے ہیں؛ بعض نے ان کی تعداد سات، بعض نے پچاس اور بعض نے ستر بیان کی ہے، اگرچہ بعض علماء کے نزدیک یہ اعداد و شمار کسی معین تعداد کی بجائے مواقف کی کثرت پر دلالت کرتے ہیں۔
بعض شیعہ علماء کے مطابق تمام انسانوں کو پلِ صراط سے گزرنے کے لئے ان مواقف سے عبور کرنا ہوگا، البتہ انبیائے کرام اور اہلِ بیتؑ ان مقامات پر توقف سے مستثنیٰ ہیں۔ مؤمنین بھی اس حوالے سے یکساں نہیں ہوتے؛ بعض نہایت تیزی سے ان مراحل سے گزر جاتے ہیں، جبکہ بعض اپنی کوتاہیوں کے باعث زیادہ دیر تک وہاں رکے رہتے ہیں۔ بعض شیعہ روایات میں اہلِ بیتؑ کی محبت کو قیامت کے مواقف سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کے اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔
آیات و روایات کی روشنی میں قیامت کے مواقف کی مجموعی مدت پچاس ہزار سال بیان کی گئی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک یہ طویل توقف خاص طور پر کفار اور ظالموں سے متعلق ہے۔ بعض افراد حقّ الناس کے موقف پر ایک ہزار سال تک رکے رہتے ہیں۔
مفہوم شناسی
حدیثی[1] اور کلامی[2] منابع میں قیامت کے مواقف سے مراد وہ توقف گاہیں ہیں جہاں انسان سے اس کے عقائد جیسے توحید، نبوت، امامت،[3] اور اعمال جیسے نماز، روزہ اور حج وغیرہ کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔[4] شیخ صدوق اور شیخ مفید کے مطابق یہ مواقف دراصل پلِ صراط کے مختلف عقبات اور گھاٹیاں ہیں جن سے عبور کرنا صرف نیک اعمال یا رحمتِ الٰہی کے ذریعے ممکن ہے اور جو شخص ان سے گزرنے میں ناکام رہے گا وہ جہنم میں گر جائے گا۔[5]
شیخ مفید نے نقل کیا ہے کہ امام علیؑ لوگوں کو قیامت کے مواقف سے گزرنے کی تیاری کرنے کی تلقین کرتے تھے اور ان سے کامیابی کے ساتھ عبور کرنے کو رحمتِ الٰہی سے وابستہ قرار دیتے تھے۔[6] آپؑ سے منسوب ایک روایت میں متعدد مواقف کا ذکر ملتا ہے جن میں بعض مقامات پر لوگ ایک دوسرے کے لئے استغفار کریں گے، جبکہ بعض مقامات پر ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے۔[7]
تعداد اور مدت
قیامت کے مواقف کی تعداد کے بارے میں آیات[8] اور روایات[9] کی بنیاد پر مختلف آراء پائے جاتے ہیں۔ بعض روایات میں ان کی تعداد سات،[10] بعض میں پچاس[11] اور بعض میں ستر [12]بیان ہوئی ہے۔ اس کے مقابلے میں بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف مواقف کی کثرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان کی دقیق تعداد معلوم نہیں ہے۔[13]
شیخ صدوق اور شیخ مفید کے مطابق ہر موقف کسی ایک واجبات یا محرمات الٰہی سے متعلق ہے اور انسان سے اس کے انجام دینے یا ترک کرنے کے بارے میں باز پرس کی جائے گی۔[14] اسی بنا پر بعض علماء نے مواقف کی تعداد کو واجبات اور محرماتِ الٰہی کی تعداد کے برابر قرار دیا ہے۔[15] عبد الحسین دستغیب کے مطابق پلِ صراط میں سات بڑے عقبات ہیں اور ہر عقبہ متعدد مواقف پر مشتمل ہے۔[16]
آیت اللہ جوادی آملی نے بعض روایات[17] اور سورہ سجدہ آیت نمبر 5 اور سورہ معارج آیت نمبر 4 کی روشنی میں قیامت کے مواقف کی مجموعی مدت پچاس ہزار سال بیان کی ہے۔[18] تاہم بعض علماء اس طویل مدت کو کفار اور ظالموں کے ساتھ مخصوص قرار دیتے ہیں۔[19] بعض روایات میں بعض افراد کے لئے ایک ہزار سال اور بعض کے لئے پچاس ہزار سال تک توقف کا ذکر ملتا ہے۔[20] سید عبد الحسین دستغیب کے مطابق بعض لوگ حقّ الناس کے موقف پر ایک ہزار سال تک روکے جائیں گے۔[21]
اقسام
حدیثی اور اعتقادی منابع میں قیامت کے مواقف کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے:
اعتقادی مواقف
حدیثی اور کلامی منابع کے مطابق بعض مواقف میں انسان کے دینی عقائد، جیسے توحید اور نبوت[22] کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ بعض شیعہ روایات میں "موقفِ ولایت" کا بھی ذکر ملتا ہے،[23] جہاں امام علیؑ اور اہلِ بیتؑ کی ولایت[24] اور ان کے دشمنوں سے تبرا کے متعلق باز پرس ہوگی۔[25] بعض علماء نے اس موقف کو تمام مواقف میں سب سے اہم قرار دیا ہے[26] اور انہی روایات[27] کی بنیاد پر اہلِ بیتؑ کی محبت کو ان مراحل سے نجات کی شرط قرار دیا ہے۔[28]
عملی مواقف
کلامی منابع میں انسان کے اعمال کے جائزے کے لئے بھی مخصوص مواقف کا ذکر ملتا ہے۔ ان مواقف میں نماز،[29] روزہ، زکوٰۃ، جہاد، حج،[30] صلۂ رحمی اور امانت داری[31] جیسے فرائض کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اسی طرح حقوق العباد،[32] عدل و انصاف،[33] عمر اور جوانی نیز رزق حلال کے حصول اور خرچ کرنے کے طریقے کے بارے میں بھی باز پرس ہوگی۔[34] اس کے علاوہ بعض گناہوں اور محرمات، جیسے ظلم،[35] جھوٹ، غیبت اور زنا کے بارے میں بھی سوال کیا جائے گا۔[36]
کیا تمام انسان مواقف میں روکے جائیں گے؟
کیا تمام انسانوں کو قیامت کے مواقف پر ٹھہرائے جائیں گے؟ اس سلسلے میں مختلف آراء پائے جاتے ہیں۔ بعض علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ تمام انسانوں کو پلِ صراط سے گزرنے کے لئے ان مواقف سے عبور کرنا ہوگا،[37] لیکن انبیائے اولو العزم، اہل بیتؑ[38] اور مخلصین[39] ان مقامات پر توقف سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس کے مقابلے میں شیعہ فقیہ اور مفسر آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق بعض افراد سرے سے کسی موقف میں حاضر ہی نہیں ہوں گے، کیونکہ ان کے بقول وہ انسانی صورت میں محشور نہیں کئے جائیں گے۔[40]
روایات کے مطابق قیامت کے مواقف میں توقف کی مدت کے لحاظ سے مؤمنین بھی سب ایک جیسے نہیں ہونگے۔ بعض بغیر کسی توقف کے تیزی سے گزر جائیں گے،[41] بعض تھوڑی دیر کے لئے رکیں گے،[42] جبکہ بعض اتنی مدت تک ٹھہریں گے جتنی دیر میں ایک واجب نماز ادا کی جاتی ہے۔[43]
حوالہ جات
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج8، ص143۔
- ↑ شیخ صدوق، اعتقادات الإمامیۃ، 1414ھ، ص71-72؛ شیخ مفيد، تصحيح اعتقادات الإماميۃ، 1414ھ، ص112-113۔
- ↑ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، 1378ق، ج2، ص129۔
- ↑ نمازی، معاد از دیدگاہ آیات و روایات، 1385شمسی، ص285؛ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص295۔
- ↑ شیخ صدوق، اعتقادات الإمامیۃ، 1414ھ، ص71-72؛ شیخ مفيد، تصحيح اعتقادات الإماميۃ، 1414ھ، ص112-113۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص234۔
- ↑ شیخ صدوق، التوحید، 1398ھ، ص260۔
- ↑ برای نمونہ بنگرید بہ: سورہ سجدہ، آیہ 5 و سورہ معارج، آیہ 4۔
- ↑ برای نمونہ بنگرید بہ: شیخ طوسى، امالی، 1414ھ، ج1، ص36۔
- ↑ طبرسی، جوامع الجامع، 1412ھ، ج4، ص487۔
- ↑ جوادی آملی، «تفسیر سورہ سجدہ، جلسہ دوم: 21/12/1391ش»، پرتال اسراء۔
- ↑ مظاہری، معاد در قرآن، 1364شمسی، ص148؛ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص294۔
- ↑ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص294۔
- ↑ شیخ صدوق، اعتقادات الإمامیۃ، 1414ھ، ص71-72؛ شیخ مفيد، تصحيح اعتقادات الإماميۃ، 1414ھ، ص112-113۔
- ↑ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص298۔
- ↑ دستغیب، معاد، 1390شمسی، ص162-163۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج8، ص143۔
- ↑ جوادی آملی، «تفسیر سورہ سجدہ، جلسہ دوم: 21/12/1391ش»، پرتال اسراء۔
- ↑ شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج10، ص115؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج25، ص17۔
- ↑ مجلسی، بحارالانور، 1403ھ، ج7، ص128۔
- ↑ دستغیب، معاد، 1390شمسی، ص154۔
- ↑ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، 1378ق، ج2، ص129۔
- ↑ برای نمونہ بنگرید بہ: ابن شاذان، مائۃ منقبۃ، 1407ھ، ص36۔
- ↑ شیخ صدوق، اعتقادات الإمامیۃ، 1414ھ، ص71-72۔
- ↑ ابن شاذان، مائۃ منقبۃ، 1407ھ، ص36۔
- ↑ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص2925۔
- ↑ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، 1378ھ، ج1، ص313؛ شیخ طوسى، الأمالی، 1414ھ، ص290۔
- ↑ جوادی آملی، معاد در قرآن، 1395شمسی، ج4، ص403؛ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص295۔
- ↑ شیخ صدوق، اعتقادات الإمامیۃ، 1414ھ، ص71-72؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج3، ص268۔
- ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی، 1423ھ، ج8، ص92۔
- ↑ شیخ صدوق، اعتقادات الإمامیۃ، 1414ھ، ص71-72؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص152۔
- ↑ طبرانی، المعجم الکبیر، مکتبۃ ابن تیمیۃ، ج8، ص100-101۔
- ↑ ابن شہرآشوب، مناقب، 1379ق، ج2، ص152۔
- ↑ ابن شعبہ حرانى، تحف العقول، 1363ھ، ص56۔
- ↑ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج2، ص331۔
- ↑ حسینی طہرانی، معادشناسی، 1423ھ، ج8، ص92۔
- ↑ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص298۔
- ↑ حیدری، المعاد رویۃ قرآنیۃ، 1431ھ، ج1، ص297-298۔
- ↑ جوادی آملی، معاد در قرآن، 1395ش، ج4، ص402۔
- ↑ جوادی آملی، معاد در قرآن، 1395شمسی، ج4، ص402۔
- ↑ شیخ صدوق، الأمالی، 1376شمسی، ص177؛ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج6، ص812۔
- ↑ مجلسی، بحارالانور، 1403ھ، ج7، ص128۔
- ↑ شیخ طوسى، التبیان، دار احیاء التراث العربى، ج10، ص115؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج25، ص17۔
مآخذ
- قرآن.
- ابن شہرآشوب، محمد بن على، مناقب آل أبی طالب علیہم السلام، قم، علامہ، پہلی اشاعت، 1379ق.
- ابن شاذان، محمد بن احمد، مائۃ منقبۃ من مناقب أمیر المؤمنین و الأئمۃ، تحقیق مدرسہ امام مہدى(ع)، قم، مدرسۃ الإمام المہدى(ع)، پہلی اشاعت، 1407ھ۔
- ابن شعبہ حرانى، حسن بن على، تحف العقول، تحقیق علی اکبر غفارى، قم، جامعہ مدرسین، دوسری اشاعت، قم، 1363ھ۔
- جوادی آملی، «تفسیر سورہ سجدہ، جلسہ دوم: 1391/12/21ش»، پورتال اسراء، تاریخ درج مطلب: 11 مارچ سنہ 2013ء، تاریخ مشاہدہ: 20 نومبر سنہ 2025ء۔
- جوادی آملی، عبداللہ، معاد در قرآن، قم، اسراء، چوتھی اشاعت، 1385ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، معاد در قرآن، قم، اسراء، گیارہویں اشاعت، تابستان 1395ہجری شمسی۔
- حسینی طہرانی، محمدحسین، معادشناسی، مشہد، علامہ طباطبایی، 1423ھ۔
- حیدری، کمال، المعاد رویۃ قرآنیۃ، قم، دار فراقد، 1431ھ۔
- دستغیب، عبدالحسین، معاد، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1390ہجری شمسی۔
- شعيري، محمد بن محمد، جامع الأخبار، نجف، مطبعۃ حیدریۃ، بى تا۔
- شیخ صدوق، محمد بن على، الأمالی، تہران، کتابچى، چاپ ششم، 1376ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن على، اعتقادات الإمامیۃ، قم، کنگرہ شیخ مفید، دوسری اشاعت، 1414ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن على، التوحید، تحقیق ہاشم حسینى، قم، جامعہ مدرسین، پہلی اشاعت، 1398ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن على، عیون أخبار الرضا(ع)، تحقیق مہدی لاجوردى، تہران، جہان، پہلی اشاعت، 1378ق.
- شیخ طوسى، محمد بن حسن، التبیان فى تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیرعاملى، بیروت، دار احیاء التراث العربى، پہلی اشاعت، بی تا۔
- شیخ طوسى، محمد بن حسن، الأمالی، تحقیق مؤسسۃ البعثۃ، قم، دار الثقافۃ، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، تحقیق موسسہ آل البیت(ع)، قم، کنگرہ شیخ مفید، پہلی اشاعت، 1413ھ۔
- شیخ مفيد، محمد بن محمد، تصحيح اعتقادات الإماميۃ، تصحیح حسین درگاہی، قم، كنگرہ شيخ مفيد، دوسری اشاعت، 1414ھ۔
- طبرانی، سلیمان بن أحمد، المعجم الکبیر، تحقیق حمدی بن عبد المجید السلفی، قاہرہ، مکتبۃ ابن تیمیۃ، دوسری اشاعت، بی تا۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیرپت، دار المعرفۃ، 1408ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، جوامع الجامع، قم، حوزہ علمیہ- مرکز مدیریت، 1412ھ۔
- قمى، على بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق طیب موسوى جزائرى، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1407ھ۔
- کوفى، فرات بن ابراہیم، تفسیر فرات الکوفی، تحقیق محمد کاظم، تہران، مؤسسۃ الطبع و النشر فی وزارۃ الإرشاد الإسلامی، 1410ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحارالانور: الجامعۃ لدرر اخبار الائمۃ الاطہار(ع)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1403ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، پہلی اشاعت، 1374ہجری شمسی۔
- نمازی، عبدالنبی، معاد از دیدگاہ آیات و روایات، قم، تحسین، 1385ہجری شمسی۔