مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:قرآن کی شفا بخشی

ویکی شیعہ سے

قرآن کی شفا بخشی، سے مراد قرآن مجید کی آیات کا اعتقادی، اخلاقی اور جسمانی بیماریوں کے علاج معالجے میں اثر انداز ہونا ہے اور یہ چیز قرآن کی ماورائی خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔ مفسرین کے مطابق کفر، نفاق اور حسد وغیرہ ’’دل کی بیماریوں‘‘ کے نمونے ہیں جن کا علاج قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کے ذریعے ممکن ہے۔ احادیث میں مختلف جسمانی و روحانی امراض کے علاج کے لئے قرآن کی متعدد آیات اور سورتیں جیسے سورہ فاتحہ، سورہ ناس، سورہ فلق اور آیۃ الکرسی پڑھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

قرآن کی شفا بخشی کو مادی علل و اسباب سے ماوراء خدا کی مشیت اور قدرت کی طرف نسبت دی جاتی ہے۔ دوسری جانب پیغمبر اکرمؐ اور اہل‌ بیتؑ کی سیرت اور تعلیمات میں بیماریوں کے علاج معالجے کے لئے ڈاکٹر اور دوائیوں کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی طرف بھی رجوع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح بعض مؤمنین اور شیعہ علماء کے ذاتی تجربے نیز نفسیاتی ماہرین کی تحقیقات بھی بیماریوں کے علاج میں قرآن کی تأثیر کی تائید کرتی ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انسان اس چیز پر یقین رکھتا ہو اور خلوص نیت کے ساتھ قرآن کے احکام پر عمل پیرا ہو۔

مفہوم‌ شناسی اور اہمیت

قرآن کی شفا بخشی کا مطلب قرآن کی آیات کے ذریعے مختلف امراض کا علاج یا ان میں بہتری آنا ہے[1] اور اس چیز کو قرآن کی ماورائی خصوصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔[2] مفسرین کے مطابق قرآن کی تمام آیات میں شفا دینے کی خصوصیت پائی جاتی ہے،[3] اور اس سلسلے میں سورہ اسراء آیت نمیر 82 کو من جملہ ان دلائل میں شمار کرتے ہیں جن میں قرآن کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[4] بعض محققین کے مطابق "شفا" کا لفظ اور اس کے مشتقات قرآن کی 6 آیتوں[5] میں آیا ہے جنہیں ’’آیاتِ شفا‘‘ کہا جاتا ہے۔[6]

روایات[7] کے مطابق قرآن اعتقادی، اخلاقی حتیٰ کہ جسمانی بیماریوں کے علاج میں بھی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔[8] ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای قرآن کو انسانی معاشرے میں موجود نفسیاتی بیماریوں، جنگوں، ظلم اور ناانصافیوں کے علاج میں مفید قرار دیتے ہیں،[9] البتہ قرآن کی اس تاثیر کو قرآن کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے ساتھ مشروط سمجھتے ہیں۔[10]

قرآن سے روحانی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج

قرآن انسان کی تمام اعتقادی اور اخلاقی امراض کا علاج ہے؛ جہالت جو کہ بدترین باطنی بیماریوں میں سے ہے، کو علم کی روشنی سے دور کرتا ہے، شک کو یقین کے ذریعے دور کرتا ہے، غم و اندوہ کو سکون کے ذریعے برطرف کرتا ہے، خوف و ہراس کو اطمینان اور امید میں تبدیل کرتا ہے اور ڈپریشن اور مستقبل کے بارے میں موجود پریشانیوں کو عزم راسخ اور ثابت قدمی کے ذریعے ختم کرتا ہے۔

قرآن کو روحانی بیماریوں کا علاج قرار دیا گیا ہے۔[11] شیعہ مفسر قرآن آیت اللہ مکارم شیرازی سورہ یونس آیت نمبر 67[12] کی تفسیر میں ’’دل کی بیماری‘‘ سے مراد انسان کی باطنی آلودگیوں کو قرار دیتے ہیں۔[13] اس قسم کی بیماریوں میں کفر اور شرک کو اعتقادی جبکہ حسد، بخل اور کینہ وغیرہ کو اخلاقی بیماریوں کے زمرے میں شامل کئے جاتے ہیں۔[14]

اہل سنت مفسر فخر رازی کے مطابق قرآن جہاں تخلیق کائینات سے متعلق اصل حقائق کو بیان کرنے نیز انسان اور مبداء و معاد کی حقیقی اور صحیح تعریف کے ذریعے باطل اعتقادات کی اصلاح کرتا ہے وہاں اخلاقی رذائل کی نشاندہی کے ذریعے انسان کو ان اخلاقی بیماریوں سے نجات پانے اور اپنے اندر اخلاقی فضائل پیدا کرنے کی طرف انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔[15]

امام علیؑ سے مروی ایک حدیث[16] میں کفر، نفاق اور گمراہی کو اہم روحانی امراض میں شمار کرتے ہوئے قرآن کو ان کی شفا قرار دیا گیا ہے۔[17] ادارہ معارف وحی کے بانی علی نصیری سورہ یونس آیت نمبر 57 اور سورہ اسراء آیت نمبر 82 سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن تمام انسانوں کے اعتقادی امراض اور مؤمنیں کے اخلاقی امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔[18]

اضطراب اور پریشانی کا خاتمہ

بعض محققین کے مطابق نفسیاتی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور اس کے معانی میں غور و فکر پریشانی اور افسردگی میں کمی کا باعث بنتا ہے۔[19] مختلف گروہوں جیسے حاملہ خواتین اور مریضوں پر کئے گئے مطالعات سے بھی پتہ چلتا ہے کے قرآن کی آواز سننے سے نفسیاتی اور جسمانی حالت میں بہتری آتی ہے۔[20] اسی طرح چھ ماہ تک روزانہ قرآن کی مسلسل تلاوت نوجوانوں میں اضطراب میں واضح کمی کا باعث بنی ہے۔[21]

قرآن سے جسمانی بیماریوں کا علاج

بعض مفسرین کے نزدیک قرآن کچھ جسمانی بیماریوں کے علاج میں بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔[22] البتہ قرآن کی تلاوت، قرآن سے متبرک ہونا اور قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کو قرآن کی شفا بخشی کے علل و اسباب میں شمار کئے جاتے ہیں۔[23] مزید برآں بعض محققین کھانے پینے،[24] جنسی مسائل[25] روزہ رکھنا[26] اور شہد کے استعمال[27] جیسے موضوعات میں حفظان صحت کے اصولوں سے متعلق قرآنی تعلیمات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن احتیاطی احکام کے ذریعے انسان کی سلامتی اور مختلف بیماریوں سے بچنے میں مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔[28]

قرآن کی شفا بخشی احادیث کی روشنی میں

متعد احادیث میں قرآن کی آیات اور سوروں کے خواص کا تذکرہ ملتا ہے۔[29] ان احادیث میں بعض بیماریوں کے علاج کے لئے بعض سوروں کی سفارش کی گئی ہے۔[30] منجملہ ان میں:

امام علیؑ سے منقول ایک حدیث میں آنکھوں کے امراض سے شفا پانے کے لئے بھی آیۃ الکرسی پڑھنے کی سفارش کی گئی ہے۔[36] البتہ اس کی تاثیر پر یقین رکھنے کو قرآن کی شفا بخشی کے لئے شرط قرار دیا گیا ہے۔[37]بعض شیعہ علماء جیسے آیت اللہ خوئی اس قسم کی احادیث کی سند پر اشکال کرتے ہیں اور بعض انہیں جعلی قرار دیتے ہیں۔[38]

قرآن کی شفا بخشی کے عملی تجربے

مختلف تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کی بعض آیات اور سورتیں جسمانی بیماریوں میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔[39] آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق جسمانی امراض کے علاج میں قرآن کی تاثیر تجربے سے ثابت ہے۔[40] گیارہویں صدی ہجری کے شیعہ عالم دین ملا صالح مازندرانی اس بات کے معتقد ہیں کہ قرآن کی ہر آیت، خصوصاً اگر خلوص دل اور یقین کے ساتھ پڑھی جائے تو شفا کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح مختلف بیماریوں کے علاج میں سورہ حمد کی ستر مرتبہ تلاوت بہت آزمودہ بتائی گئی ہے۔[41] علامہ محمد تقی مجلسی سورہ حمد کی تلاوت کے ذریعے ہزار سے زائد مریضوں کی شفایابی کا تذکرہ کرتے ہیں جنہیں انہوں نے خود مشاہدہ کیا ہے۔[42]

قرآن کی شفا بخشی اور ارادۂ الٰہی

قرآن کی شفا بخشی کو خدا کی قدرت اور مشیت کی طرف نسبت دی جاتی ہے، یعنی خدا مادی اور طبیعی علل و اسباب سے ہت کر بھی بیماروں کو شفا دے سکتا ہے۔ چنانچہ قرآن میں حضرت عیسیٰ کے ذریعے بیماروں کی شفایابی اور مُردوں کے زندہ کئے جانے کو اذن الٰہی[43] سے تعبیر کیا گیا ہے۔[44] تاہم قرآنی آیات اور سوروں کے خواص اور قرآن کی شفا بخشی سے متعلق وارد ہونے والی احادیث کے بارے میں مختلف نظریات پیش کئے گئے ہیں:[45]

  • بعض لوگ قرآن کی شفا بخشی کو بھی ایک ایسی دوائی کی طرح قرار دیتے ہیں جو سب کے لئے مؤثر ہے،
  • بعض لوگ قرآن سے شفا ملنے کو خدا کا لطف و کرم اور ایک قسم کی کرامت قرار دیتے ہیں،
  • بعض لوگ اس بات کے معتقد ہیں ہیں کہ قرآن کی تلاوت بیماری سے شفا ملنے کے لئے زمینہ ہموار کرتی ہے نہ یہ کہ بیماری سے نجات ملنے میں قرآن براہ راست مؤثر ہو،[46]
  • بعض محققین کے مطابق پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومینؑ کی سیرت میں قرآن کو طبیب اور دوائی کی طرح قرار دیا گیا ہے لیکن اسے ایک عام دوائی کی طرح نہیں سمجھنا چاہئے، بلکہ اس کے خواص کو مادی اور طبیعی علل و اسباب کے ساتھ ملاحظہ کرنا چاہئے۔[47]

متعلقہ کتب

قرآن کی شفا بخشی سے متعلق لکھی گئی بعض تصانیف درج ذیل ہیں:

  • اخلاقی بیماریاں اور قرآن کی شفا بخشی؛ تصنیف: ناصر رفیعی محمدی، پبلیشر: انتشارات مرکز بین‌المللی ترجمہ و نشر المصطفی(ص)، تاریخی اشاعت: 2022ء [48]
  • اخلاقی بیماریاں اور قرآن کا علاج؛ تصنیف: محمود اکبری، انتشارات فتیان، 2011 عیسوی، 1 جلد۔[49]
  • قرآن سے علاج؛ تصینف: محمدرضا کریمی بختیاری؛ روحانی، نفسیاتی اور جسمانی بیماریوں کے علاج میں قرآن، دعا اور مناجات کا اثر[50]
  • قرآن سے شفا اور علاج؛ تصنیف: مجتبی رضایی، بیماریوں سے نجات کے لئے قرآنی احکام اور اس سلسلے میں کچھ داستانیں۔[51]
  • خواصّ آیات قرآن کریم؛ محمدتقی آقانجفی، تاریخ اشاعت 2006 عیسوی، پبلیشر: نشر فراہانی۔[52]

حوالہ جات

  1. فراہیدی، کتاب العین، واژہ «شفی»۔
  2. نصیری، تفسیر موضوعی قرآن کریم، 2019 عیسوی۔ ص55۔
  3. فخررازی، التفسیرالکبیر، 2000 عیسوی، ج21، ص390؛ طباطبایی، المیزان، 1971 عیسوی، ج13، ص184۔
  4. نمونہ کے لئے مراجعہ کریں: ہاشمی رفسنجانی و محققان، فرہنگ قرآن، 2004 عیسوی، ج17، ص302؛ رضایی اصفہانی و جمعی از پژوہشگران، تفسیر قرآن مہر، 2008 عیسوی، ج12، ص143؛ محمدی، «قرآنی کی شفا بخشی پر ایک نظر»، ص195۔
  5. سورہ اسراء، آیہ، 82؛ سورہ یونس، آیہ 57؛ سورہ فصلت، آیہ 44، سورہ توبہ، آیہ 14؛ سورہ نحل، آیہ 69؛ سورہ شعراء، آیہ 80۔
  6. محسنی، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، ص59۔
  7. نمونہ کے لئے مراجعہ کریں: امام عسکری(ع)، التفسیر المنسوب الی الامام العسکری، 1989 عیسوی، ص14؛ نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبۀ 176، ص252۔
  8. سعدی، پرسمان قرائت قرآن، 2007 عیسوی، ج32، ص33؛ فرقانی و حیدری، آشنایی با تفسیر و روشہای تفسیری، مرکز تحقیقات اسلامی، ص20۔
  9. «بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کے شرکاء سے ملاقات کے موقع پر دئے گئے بیانات»، آیت‌ اللہ‌ خامنہ‌ ای کے آثار کی حفاظت اور اشاعتی ادارے کی معلوماتی ویب سائٹ۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، دار الکتاب الاسلامی، 1995 عیسوی، ج12، ص242۔
  11. جوادی آملی، تفسیر موضوعی قرآن کریم، 2002 عیسوی، ص236؛ محسنی، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، ص57۔
  12. سورہ یونس، آیہ 57۔
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، دار الکتاب الاسلامی، 1995 عیسوی، ج8، ص318۔
  14. محسنی، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، ص57؛ نصیری، تفسیر موضوعی قرآن کریم، 2019 عیسوی۔ ص56۔
  15. فخررازی، التفسیرالکبیر، 2000 عیسوی، ج21، ص389-390۔
  16. نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبۀ 176، ص252؛ دیلمی، أعلام الدین فی صفات المؤمنین، 1988 عیسوی، ص105۔
  17. نصیری، تفسیر موضوعی قرآن کریم، 2019 عیسوی۔ ص57۔
  18. نصیری، تفسیر موضوعی قرآن کریم، 2019 عیسوی۔ ص56۔
  19. جمعی از نویسندگان، مجمومہ مقالات اولین ہمایش نقش دین در بہداشت روان، 2003 عیسوی، ص88۔
  20. محسن‌زادہ و حسینی، «تأثیر قرآن در درمان بیماری‌ہا، مروری بار مطالعاات»، ص25۔
  21. جمعی از نویسندگان، مجمومہ مقالات اولین ہمایش نقش دین در بہداشت روان، 2003 عیسوی، ص79۔
  22. نمونہ کے لئے مراجعہ کریں: شیخ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج6، ص513؛ طبرسی، مجمع البیان، 1993 عیسوی، ج6، ص673؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1988 عیسوی، ج12، ص277؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1995 عیسوی، ج3، ص213۔
  23. محمدی، «قرآنی کی شفا بخشی پر ایک نظر»، ص196؛ محسنی، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، ص61۔
  24. سورہ اعراف، آیہ 31 و سورہ انعام، آیہ 145۔
  25. سورہ بقرہ، آیہ 222 و سورہ اسراء، آیہ 32۔
  26. سورہ احزاب، آیہ 35۔
  27. سورہ نحل، آیہ 68-69۔
  28. علایی و رضایی، «مبانی بہداشت و سلامت در قرآن»، ص138۔
  29. نمونہ کے لئے مراجعہ کریں: ابن‌حیون، دعائم الإسلام ، 1965 عیسوی، ج2، ص146، ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، 1984 عیسوی، ص106؛ شیخ صدوھ، الخصال، 1983 عیسوی، ج2، ص616؛ قطب الدین راوندی، الدعوات، 1987 عیسوی، ص188۔
  30. نصیری، تفسیر موضوعی قرآن کریم، 2019 عیسوی۔ ص57۔
  31. کلینی، الکافی، 1987 عیسوی، ج2، ص623، حدیث 15؛ شیخ طوسی، الامالی، 1994 عیسوی، ص284، حدیث 553۔
  32. بحرانی، البرہان، 1996 عیسوی، ج5، ص8120؛ مجلسی، بحار الانوار، 1983 عیسوی، ج18، ص71۔
  33. کلینی، الکافی، 1987 عیسوی، ج2، ص621، حدیث 8؛ شیخ صدوھ، ثواب الاعمال، 1986 عیسوی، ص105۔
  34. شعیری، جامع الاخبار، مطبعۃ حیدریۃ، ص157؛ مجلسی، بحار الانوار، 1983 عیسوی، ج92، ص132۔
  35. نصیری، تفسیر موضوعی قرآن کریم، 2019 عیسوی۔ ص57؛ محسنی، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، ص62۔
  36. ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، 1984 عیسوی، ص106؛ شیخ صدوھ، الخصال، 1983 عیسوی، ج2، ص616۔
  37. محمدی، «قرآنی کی شفا بخشی پر ایک نظر»، ص196۔
  38. خویی، البیان، 1998 عیسوی، ص28-29۔
  39. محسنی، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، ص63۔
  40. جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 2002 عیسوی، .ج1، ص263۔
  41. مازندرانی، الکافی، الاصول و الروضۃ، 1963 عیسوی۔
  42. مجلسی اول، روضۃ المتقین، 1986 عیسوی، ج13، ص137۔
  43. سورۂ مائدہ، آیۂ 110؛ سورہ آل‌عمران، آیہ 49۔
  44. محسنی، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، ص59۔
  45. علایی و رضایی، «قرآن کا اعجاز آمیز علاج»، ص83-85۔
  46. علایی و رضایی، «قرآن کا اعجاز آمیز علاج»، ص84-85۔
  47. علایی و رضایی، «قرآن کا اعجاز آمیز علاج»، ص84-85۔
  48. بیماری‌ہای اخلاقی و شفابخشی قرآنی، وبگاہ کتابخانۂ قائمیہ۔
  49. اخلاقی بیماریاں اور قرآنی علاج معالجے، نور ڈیجیٹل لائبریری۔
  50. «قرآن سے علاج»، ایران کی لائبریریوں کی معلوماتی ویب سائٹ۔
  51. «شفا و قرآن سے علاج»، ایران کی لائبریریوں کی معلوماتی ویب سائٹ۔
  52. «خواص آیات قرآن کریم بہ ہمراہ ملحقات»، ایران کی لائبریریوں کی معلوماتی ویب سائٹ۔

مآخذ

  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیرالقرآن، تحقیق: دکتر یاحقی، محمد جعفر، دکتر ناصح، محمد مہدی، مشہد، اسلامی تحقیقاتی مرکز آستان قدس رضوی ، 1988 عیسوی۔
  • ابن‌حیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الإسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الأحکام، محقق و مصحح: فیضی، آصف،‏ قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، دوسری اشاعت، 1965 عیسوی۔
  • ابن‌شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول عن آل الرسول(ع)، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، دوسری اشاعت، 1984 عیسوی۔
  • امام عسکری(ع)، حسن بن علی، التفسیر المنسوب الی الامام العسکری، مدرسہ امام مہدی، قم، پہلی اشاعت، 1989 عیسوی۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، تہران، بنیاد بعثت، پہلی اشاعت، 1996 عیسوی۔
  • «بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کے شرکاء سے ملاقات کے موقع پر دئے گئے بیانات»، آیت‌ اللہ‌ خامنہ‌ ای کے آثار کی حفاظت اور اشاعتی ادارے کی معلوماتی ویب سائٹ، تاریخ درج: 22 فروری 2024 عیسوی، تاریخ اخذ: 15 نومبر 2025 عیسوی۔
  • «بیماری‌ہای اخلاقی و شفابخشی قرآنی»، وبگاہ کتابخانۂ قائمیہ، تاریخ اخذ: 14 نومبر 2025 عیسوی۔
  • «اخلاقی بیماریاں اور قرآنی علاج معالجے»، نور ڈیجیٹل لائبریری، تاریخ اخذ: 14 نومبر 2025 عیسوی۔
  • جمعی از نویسندگان، مجمومہ مقالات اولین ہمایش نقش دین در بہداشت روان، تہران، جامعات میں مقامِ معظمِ رہبری کا نمائندہ ادارہ، پہلی اشاعت، 2003 عیسوی۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، تنظیم و ویرایش: رزقی، روح‌اللہ جمالی، احمد، قم، مرکز نشر اسراء، تیسری اشاعت، 2002 عیسوی۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر موضوعی قرآن کریم (قرآن در قرآن)، تنظیم و ویرایش: غلامعلی امین دین، قم: مرکز نشر اسراء، تیسری اشاعت، 2002 عیسوی۔
  • «خواص آیات قرآن کریم بہ ہمراہ ملحقات»، ایران کی لائبریریوں کی معلوماتی ویب سائٹ، تاریخ اخذ: 14 نومبر 2025 عیسوی۔
  • خویی، سید ابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ احیاء آثار الامام الخوئی‏، 1998 عیسوی۔
  • «قرآن سے علاج»، ایران کی لائبریریوں کی معلوماتی ویب سائٹ، تاریخ اخذ: 14 نومبر 2025 عیسوی۔
  • دیلمی، حسن بن محمد، أعلام الدین فی صفات المؤمنین، قم، مؤسسہ آل البیت(ع)، پہلی اشاعت، 1988 عیسوی۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، و جمعی از پژوہشگران، تفسیر قرآن مہر، قم، قرآنی علوم اور تفسیر کی تحقیقات، پہلی اشاعت، 2008 عیسوی۔
  • سعدی، محمدجواد، پرسمان قرائت قرآن، قم، موسسہ بوستان کتاب، چوتھی اشاعت، 2007 عیسوی۔
  • سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغۃ، محقق: صبحی صالح، قم، ہجرت، پہلی اشاعت، 1994 عیسوی۔
  • شعیری، محمد بن محمد، جامع الاخبار، نجف، مطبعۃ حیدریۃ، پہلی اشاعت، بی‌تا.
  • شیخ صدوق (ابن بابویہ)، محمد بن علی‏، ثواب الاعمال و عقاب الأعمال، دار الشریف الرضی للنشر، قم، دوسری اشاعت، 1986 عیسوی۔
  • شیخ صدوق (ابن‌بابویہ)، محمد بن علی، الخصال، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1983 عیسوی۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ: شیخ آقابزرگ تہرانی، تحقیق: قصیرعاملی، احمد، دار احیاء التراث العربی، بیروت، بی‌تا.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن‏، الامالی، قم، دار الثقافۃ، پہلی اشاعت، 1994 عیسوی۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، بیروت، موسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1971 عیسوی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: یزدی طباطبایی، فضل‌اللہ و رسولی محلاتی، ہاشم، تہران، ناصرخسرو، تیسری اشاعت، 1993 عیسوی۔
  • علایی حسین‌علی، و رضایی، حسن‌رضا، «قرآن کا اعجاز آمیز علاج»، در دو فصلنامۂ قرآن و علم، سال ہفتم، شمارۂ 9، قرآنی علوم اور تفسیر کی تحقیقات، قم، خزاں و سرما 2011 عیسوی۔
  • علایی حسین‌علی، و رضایی، حسن‌رضا، «مبانی بہداشت و سلامت در قرآن»، در دو فصلنامۂ قرآن و علم، سال ہفتم، شمارۂ 12، قرآنی علوم اور تفسیر کی تحقیقات، قم، بہار و تابستان 2013 عیسوی۔
  • فخر رازی، محمدبن عمر، التفسیرالکبیر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 2000 عیسوی۔
  • فراہیدی، خلیل بن احمد، کتاب العین، تصحیح: مہدی مخزومی و ابراہیم سامرائی، قم، نشر ہجرت، دوسری اشاعت. 1990 عیسوی۔
  • فرقانی، قدرت‌اللہ، و حیدری، احمد، آشنایی با تفسیر و روشہای تفسیری، قم، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا اسلامی تحقیقاتی مرکز، پہلی اشاعت، بی‌تا.
  • فیض کاشانی، ملامحسن، تفسیر الصافی، تحقیق: اعلمی، حسین، انتشارات الصدر، تہران، دوسری اشاعت، 1995 عیسوی۔
  • قطب الدین راوندی، سعید بن ہبۃ اللہ، الدعوات (سلوۃ الحزین)، قم، انتشارات مدرسہ امام مہدی(عج)، پہلی اشاعت، 1987 عیسوی۔
  • «شفا و قرآن سے علاج»، ایران کی لائبریریوں کی معلوماتی ویب سائٹ، تاریخ اخذ: 14 نومبر 2025 عیسوی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چوتھی اشاعت، 1987 عیسوی۔
  • مازندرانی، محمدصالح، الکافی، الاصول و الروضۃ، تہران، المکتبۃ الإسامیۃ، پہلی اشاعت، 1963 عیسوی۔
  • مجلسی اول، محمدتقی، روضۃ المتقین فی شرح من لا یحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: موسوی کرمانی، سید حسین، اشتہاردی، علی‌پناہ، طباطبائی، سید فضل اللہ، قم، کوشانپور اسلامی ثقافتی مرکز، دوسری اشاعت، 1986 عیسوی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، 1983 عیسوی۔
  • محسنی، محمدسالم، «روحانی اور جسمانی بیماریوں سے قرآن کی شفا بخشی»، فصلنامہ علمی پژوہشی قرآن و طب، دورہ دہم، شمارۂ 1، بہار 2025 عیسوی۔
  • محسن‌زادہ، فریدہ، و حسینی منیرالسادات، «بیماریوں پر قرآن کی تأثیر: مطالعات پر ایک نظر»، نشریہ اسلام و سلامت، دورہ سوم، شمارہ 1، بہار 2016 عیسوی۔
  • محمدی، محمدعلی، «قرآنی کی شفا بخشی پر ایک نظر»، فصلنامہ علمی-تخصصی رہ‌توشہ، شمارۂ 9، بہار 2022 عیسوی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، پہلی اشاعت، تہران، دار الکتاب الاسلامی، پہلی اشاعت، 1995 عیسوی۔
  • نصیری، علی، تفسیر موضوعی قرآن کریم، تہران، انتشارات معارف، 2019 عیسوی۔ ص55 - 57،
  • ہاشمی رفسنجانی، اکبر، و محققان مرکز فرہنگ و معارف قرآن، فرہنگ قرآن، قم، بوستان کتاب، دوسری اشاعت، 2004 عیسوی۔