مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:قرآن کی جامعیت

ویکی شیعہ سے

قرآن کی جامعیت سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید ہدایتِ انسان کے پہلو کے لیے درکار تمام معارف و تعلیمات پر مشتمل ہے۔ علوم قرآنی میں یہ ایک اختلافی بحث ہے، جو اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار ہی سے اہل علم کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ تفسیری اور حدیثی منابع، خصوصاً «تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ» جیسی آیات کی تفسیر کے ذیل میں، جامعیتِ قرآن کے مفہوم اور اس کے دائرۂ کار کے بارے میں مختلف آراء پیش کی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں چند بنیادی نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک قرآن میں انسان کی ضرورت کے تمام علوم و معارف موجود ہیں۔ بعض دوسرے علما قرآن کو بنیادی طور پر کتابِ ہدایت قرار دیتے ہیں، جس کا اصل مقصد انسان کی دینی، اخلاقی اور سماجی رہنمائی ہے۔ جبکہ ایک تیسرا گروہ یہ کا خیال ہے کہ قرآن ایمان، اخلاق اور زندگی کے بنیادی اصول بیان کرتا ہے اور دوسری ضروریات زندگی کو عقلِ انسانی اور تجربے کے سپرد کیا گیا ہے۔ چودھویں اور پندرھویں صدی ہجری سے یہ بحث دین کے دائرۂ کار، علم و دین کے باہمی تعلق اور دین سے انسان کو کن امور کی توقع رکھنی چاہیے؛ جیسے موضوعات کے ساتھ مربوط ہوگئی ہے اور انہی مباحث کے تناظر میں اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

جامعیت قرآن کی بحث کی اہمیت

جامعیتِ قرآن کی بحث کی اہمیت یہاں سے اجاگر ہوتی ہے کہ اس کے ذریعے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیمات کا دائرہ کس حد تک وسیع ہے اور انسانی زندگی کے انفرادی و اجتماعی شعبوں میں دین کا کردار کیا ہے؟[1] جامعیتِ قرآن کے بارے میں مختلف نظریات کی بنیاد پر اخلاق، احکام، سیاست، معیشت، ثقافت اور علم و دین کے باہمی تعلق جیسے موضوعات میں دین کے کردار سے متعلق مختلف نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔[2] اسی لیے یہ بحث اس امر کے تعین میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ دین سے کن امور کی توقع رکھی جائے؟، قرآن سے رجوع کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہو؟ اور فقہمِ دین کے سلسلے میں عقل اور انسانی تجربے کا کیا مقام تعین کیا جاتا ہے؟۔[3] عصر حاضر (پندرھویں صدی ہجری) میں جامعیتِ قرآن کا موضوع دین کے دائرۂ کار، دین سے توقعات، علم و دین کے تعلق اور دین کی ابدیت جیسے مباحث سے گہرا تعلق اختیار کرچکا ہے اور انہی موضوعات کے تناظر میں اس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔[4]

مفہوم‌ شناسی

جامعیتِ قرآن سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ کریم ان تمام معارف، اصول اور تعلیمات پر مشتمل ہے جو انسان کی ہدایت اور اس کی انفرادی و اجتماعی زندگی کی صحیح تنظیم کے لیے ضروری ہیں۔[5] اس بنا پر قرآن انسان کی ہدایت کے راستے میں پیش آنے والی بنیادی ضروریات کو بیان کرتا ہے اور حقیقت کی معرفت، انسانی تعلقات کی درست تنظیم اور حقیقی سعادت کے حصول کے لیے ضروری کلی اصول اور رہنما خطوط فراہم کرتا ہے۔[6]

تاریخی پس منظر

بعض تحقیقات کے مطابق جامعیتِ قرآن کی بحث کا آغاز عہدِ صحابہ سے ہوا۔[7] عبد اللہ بن مسعود سے منقول ایک روایت میں قرآن کو گذشتہ اور آئندہ علوم کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے اور علم کے حصول کے لیے اس کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔[8] مفسرین نے بھی «وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ»[9] جیسی آیات کی تفسیر میں «کلِّ شیء» کے مفہوم اور قرآن کی جامعیت کے حدود پر تفصیلی بحث کی ہے۔[10]

شیعہ حدیثی منابع میں بھی اس موضوع پر متعدد روایات نقل ہوئی ہیں۔[11] نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 158 میں قرآن کو ایسی کتاب قرار دیا گیا ہے جس میں آئندہ کے علوم، گذشتہ امتوں کے حالات، انسانی مسائل و مشکلات کا علاج اور زندگی کو صحیح انداز میں منظم کرنے کی ہدایات موجود ہیں۔[12] اسی طرح اصول کافی میں جامعیتِ قرآن کے عنوان سے ایک مستقل باب قائم کیا گیا ہے، جس میں اس موضوع سے متعلق متعدد روایات جمع کی گئی ہیں۔[13]

قرآن کی مطلق جامعیت

اس نظریے کے مطابق قرآنِ کریم انسان کو اس کے نہ صرف دینی اور ہدایتی امور میں رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ انسان کی دنیاوی اور اخروی زندگی سے متعلق تمام ضروری امور اور تمام علوم و معارف پر بھی محیط ہے اور کوئی چیز اس کے دائرۂ شمول سے خارج نہیں ہے۔[14] شیعہ مفسرین میں سے عبد اللہ جوادی آملی کو اس نظریے کے نمایاں حامیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔[15] ان کے نزدیک قرآن ہر اس امر کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو انسان کی سعادت و خوشبختی میں مؤثر ہو؛ البتہ انسانی سعادت کو صرف عقائد، فقہ، اخلاق اور حقوق تک محدود کرنا اور تجربی، نیم تجربی، تجریدی اور شہودی علوم کو سعادتِ انسانی میں غیر مؤثر سمجھنا درست نہیں۔ اسی بنا پر وہ ان تمام علوم کو قرآن کے ظاہر و باطن کے دائرے میں شامل قرار دیتے ہیں۔[16] بعض مصادر میں اہل سنت کے مفسرین ابو الفضل المرسی[17] اور طنطاوی جوہری کو بھی اس نظریے کے حامیوں میں شمار کیا گیا ہے۔[18]

اس نظریے کے قائلین نے اپنے موقف کے حق میں درج ذیل دلائل پیش کیے ہیں:

  1. قرآنی آیات؛ مثلاً آیت «وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ»[19] اور آیت «وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَہُدًى وَرَحْمَۃً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ»،[20] کو قرآن کی مطلق جامعیت کے اثبات کے لیے دلیل بنایا گیا ہے۔[21] ان علماء کے نزدیک ان آیات میں «کلِّ شیء» سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی انسان کو دین و دنیا کے امور اور تمام علوم و معارف میں ضرورت پیش آتی ہے۔[22]
  2. قرآن مجید کی آفاقیت پر دلالت کرنے والی آیات؛ جیسے «وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَۃً لِلْعَالَمِينَ»[23] اور «وَمَا ہُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ»،[24] جنہیں قرآن کی آفاقیت اور ہمہ گیر ہدایت کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔[25]
  3. اہل بیتؑ سے منقول روایات؛[26] ائمہؑ سے منقول بعض روایات[27] کو بھی قرآن کی مطلق جامعیت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[28]
  4. دلیل عقلی؛ اس کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام آخری اور کامل دین ہے اور ایک کامل دین کو قیامت تک انسان کی تمام ضروریات کا جواب دینا چاہیے۔ چونکہ قرآن اسلام کا بنیادی اور اہم ترین ماخذ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہ انسان کی تمام ضروریات اور تمام معارف پر مشتمل ہو۔[29]

انسان کی ہدایت کے اعتبار سے قرآن کی جامعیت

بعض مسلمان علماء اور مفسرین کے نزدیک قرآن کی جامعیت صرف امورِ ہدایت تک محدود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ قرآن کتابِ ہدایت ہے، اس لیے اس کا جامع ہونا بھی انہی امور میں ہونا چاہیے جو انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت اور اس کی ہدایت سے متعلق ہیں۔[30] مثال کے طور پر علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں آیت «وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ وَہُدىً وَرَحْمَۃً وَبُشْرى لِلْمُسْلِمِينَ»[31] کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہاں «کلِّ شیء» سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کا تعلق ہدایت سے ہے؛ یعنی وہ تمام امور جن کی انسان کو ااس کی ہدایت کے راستے میں ضرورت ہوتی ہے، جیسے مبدأ و معاد سے متعلق حقیقی معارف، اعلیٰ اخلاق، الٰہی شریعتیں، نیز انبیاء کے واقعات، نصیحتیں اور عبرت آموز قصے۔ قرآن ان تمام امور کو بیان کرتا ہے۔[32]

قرآن کی جامعیت کے بارے میں حداقلی نظریہ

قرآن کی تعلیمات کے دائرۂ شمول کے بارے میں حداقلی نظریہ (محدود اور بنیادی چیزوں میں قرآن کا ہادی ہونا) بعض جدید دینی مفکرین کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔[33] اس نظریے کے مطابق بھی قرآن ایک کتابِ ہدایت ہے، لیکن ہدایت کے دائرے اور اس سے متعلق امور کے تعین میں یہ نظریہ دوسرے موقف سے مختلف ہے۔ ہدایت کے حوالے سے جامعیت کے نظریے کے مطابق قرآن انسان کی تمام ہدایتی ضروریات، خواہ وہ دینی ہوں یا عملی زندگی سے متعلق، بیان کرتا ہے؛ لیکن حداقلی نظریہ کے مطابق قرآن صرف ایمان اور اخلاق کے بنیادی اصول و ضوابط پیش کرتا ہے، جبکہ انسانی زندگی کی تنظیم اور اس کی ہدایت کے بہت سے عملی پہلو عقلِ انسانی اور تجربے کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔[34]

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کیجیے: ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص57۔
  2. ملاحظہ کیجیے: سروش، فربہ‌تر از ایدئولوژی، 1393شمسی، ص48 و 58 و 122؛ ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص59-67۔
  3. ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص57۔
  4. ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص11۔
  5. ملاحظہ کیجیے: ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص19؛ طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص224۔
  6. ملاحظہ کیجیے: ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص19؛ طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص224۔
  7. طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص222۔
  8. ابن‌سعید، سنن ابن‌سعید، 1414ھ، ج1، ص7۔
  9. سورہ نحل، آیہ 89۔
  10. ملاحظہ کیجیے: طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، 1393ھ، ج12، ص324-325۔
  11. کریمی، جامعیت قرآن، 1390شمسی، ص114-115؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص59-62۔
  12. ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص33؛ نہج البلاغہ، خطبہ 158، ص223۔
  13. علامہ مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج1، ص208-210؛ کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص59-62؛ کریمی، جامعیت قرآن، 1390شمسی، ص114-115۔
  14. طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص225۔
  15. حسین‌زادہ و دیگران، «مطالعہ تطبیقی خوانش جامعیت قرآن کریم از منظر آیت اللہ جوادی آملی و آلوسی»، ص27۔
  16. جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1391شمسی، ج26، ص186-187۔
  17. ذہبی، التفسیر و المفسرون، مكتبۃ وہبۃ، ج2، ص353-354؛ معرفت، التمہید فی علوم القرآن،1428ھ، ج6، ص15-16۔
  18. طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص226؛ طنطاوی، الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم، 1425ھ، ج1، ص5۔
  19. سورہ نحل، آیہ 89۔
  20. سورہ یوسف، آیہ 111۔
  21. طنطاوی، الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم، 1425ھ، ج8، ص190؛ ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص20۔
  22. طنطاوی، الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم، 1425ھ، ج8، ص190؛ حسین‌زادہ و دیگران، «مطالعہ تطبیقی خوانش جامعیت قرآن کریم از منظر آیت اللہ جوادی آملی و آلوسی»، ص27۔
  23. سورہ انبیا، آیہ 107۔
  24. سورہ قلم، آیہ 52۔
  25. ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص25-26؛ کریمی، جامعیت قرآن، 1390شمسی، ص105-106۔
  26. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص59-62؛ نہج البلاغہ، خطبہ 158، ص223۔
  27. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص59-62؛ نہج البلاغہ، خطبہ 158، ص223۔
  28. ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص25-26۔
  29. ایازی، جامعیت قرآن، 1380شمسی، ص36-37؛ کریمی، جامعیت قرآن، 1390شمسی، ص124-125۔
  30. طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص227-228۔
  31. سورہ نحل، آیہ 89۔
  32. طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، 1393ھ، ج12، ص324-325۔
  33. طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص231۔
  34. طہماسبی بلداجی، ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»، ص231؛ جواہری، «نظریہ جامعیت علمی شبکہ‌ای و ہوشمند قرآن کریم (ساختار و فرآیند)»، ص105۔

مآخذ

  • ابن‌ سعید، سعید بن منصور، سنن ابن‌سعید، ریاض، دار الصمیعی، پہلی اشاعت، 1414ھ۔
  • ایازی، سید محمد علی، جامعیت قرآن، رشت، نشر کتاب مبین، 1380ہجری شمسی۔
  • جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، مؤسسہ اسراء، 1391ہجری شمسی۔
  • جواہری، سید محمد حسن، «نظریہ جامعیت علمی شبکہ‌ای و ہوشمند قرآن کریم (ساختار و فرآیند)»(قرآن کریم کی علمی جامعیت کا نظریہ: شبکاتی (آنتولوجی)اور باہمی مربوط ڈھانچہ — ساخت اور مراحل)، جریدہ قرآنی تحقیقات، شمارہ 111، شہریور 1403ہجری شمسی۔
  • حسین‌زادہ، خدیجہ و دیگران، «مطالعہ تطبیقی خوانش جامعیت قرآن کریم از منظر آیت اللہ جوادی آملی و آلوسی»(آیت اللہ جوادی آملی اور آلوسی کے نقطۂ نظر سے قرآنِ کریم کی جامعیت کا تقابلی مطالعہ)، جریدہ تقابلی مطالعاتِ قرآن و حدیث))، شمارہ 15، خزاں اور سرما 1399ہجری شمسی۔
  • ذہبی، محمدحسین، التفسیر و المفسرون، قاہرہ، مكتبۃ وہبۃ، بی‌تا۔
  • زرکشی، محمد بن عبداللہ، البرہان فی علوم القرآن، بیروت، 1376ھ۔
  • علامہ مجلسی، محمد باقر، مرآۃ العقول، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1404ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
  • طنطاوی، بن‌جوہری، الجواہر فی تفسیر القرآن الکریم، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1425ھ۔
  • طہماسبی بلداجی، اصغر و ابراہیم ابراہیمی، «نقد و بررسی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ جامعیت قرآن»(جامعیت قرآن کے بارے میں فریقین کے مفسرین کا تحقیقی تنقیدی جائزہ)، تقابلی تفسیر کا تحقیقاتی جریدہ، شمارہ 9، شہریور 1398ہجری شمسی۔
  • سروش، عبدالکریم، فربہ‌تر از ایدئولوژی، تہران، انتشارات صراط، 1393ہجری شمسی۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1407ھ۔
  • معرفت، محمدہادی، التمہید فی علوم القرآن، قم، مؤسسہ فرہنگی انتشاراتی التمہید، 1428ھ۔
  • نہج البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، قم، مركز البحوث الاسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔