مسودہ:سورہ انفال آیت نمبر 17
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | انفال |
| آیت نمبر | 17 |
| پارہ | 9 |
| شان نزول | مسلمانوں کا جنگ بدر میں فتح کو اپنی طرف نسبت دینا |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | اعتقادی |
| مضمون | غزوہ بدر |
| مربوط آیات | سورہ انفال آیت نمبر 42 |
سورہ انفال آیت نمبر 17 مسلمانوں کی غزوہ بدر میں فتح کو خدا کی مدد کا نتیجہ قرار دیتی ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو اس جنگ میں فتح پر فخر اور خودبینی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے؛ کیونکہ یہ جنگ ان کے لیے ایک آزمائش تھی۔
یہ بتایا گیا ہے کہ جنگ بدر میں پیغمبر اکرمؐ نے مٹھی بھر کنکریاں دشمن کی طرف پھینکیں جو مشرکوں کی آنکھوں اور منہ میں جا گریں اور ان پر دہشت طاری ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ شکست کھا گئے۔ مسلمانوں نے واپسی پر اس فتح پر خوشی منائی اور آپس میں فخر کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی۔
مفسرین کے مطابق، آیت کا یہ کہنا کہ "تم نے یہ کام نہیں کیا"، اس لیے ہے کہ دشمن پر غلبہ پانے کی قوت اور جنگ بدر میں رونما ہونے والے معجزات جو دشمنوں کی شکست کا سبب بنے، وہ خدا کی طرف سے تھے۔
تعارف
سورہ انفال کی آیت 17 یاد دلاتی ہے کہ جنگ بدر میں مشرکوں کی شکست خدا کی مدد کا نتیجہ تھی، تاکہ مسلمان خودبینی میں مبتلا نہ ہوں؛ کیونکہ پچھلی آیات میں انہیں مشرکوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور وہ لوگوں کے قتل کو اپنی طرف منسوب کر رہے تھے۔[1]
عبارت «وَ مَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَ لَٰکِنَّ اللَّهَ رَمَیٰ» جو مومنوں کی دشمنوں کے خلاف خدائی مدد کی طرف اشارہ ہے، فتح کے پیغامات میں استعمال ہوتی ہے[2] اور دشمن کے خلاف مزاحمت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال ہوئی ہے۔[3]
فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ ۚ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ ۚ وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴿١٧﴾
(اے مسلمانو) تم نے ان (کفار) کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا اور (اے رسول(ص)) وہ سنگریزے تو نے نہیں پھینکے جبکہ تو نے پھینکے بلکہ خدا نے پھینکے (یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ) خدا اہلِ ایمان پر خوب احسان فرمائے (یا اللہ اس کے ذریعہ سے ایمان والوں کو بہترین آزمائش میں ڈال کر آزمائے) یقینا اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
سورہ انفال آیت نمبر 17
شأن نزول
مفسرین کے مطابق یہ آیت جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[4] اس جنگ میں جبرئیل کے حکم سے پیغمبرؐ نے دشمن کی طرف کنکریاں پھینکیں جس سے مشرکین پر دہشت طاری ہو گئی۔ پھر مسلمانوں نے جنگ جاری رکھی اور دشمن کو شکست دے دی۔[5] فتح کے بعد مسلمانوں نے آپس میں فخر کیا کہ ہر ایک نے کیا کیا ہے، تو یہ آیت یاد دلانے کے لیے نازل ہوئی کہ فتح صرف خدا کی طرف سے ہے۔[6]
غزوہ بدر معجزے اور الٰہی آزمائش کا میدان
غزوہ بدر آزمائش اور معجزے کا ایک میدان ہے۔ آیت «لِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِینَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَنًا» میں یہ آزمائش مومنوں کو نعمتوں اور فتح کے ذریعے آزمانا ہے۔[7] ناصر مکارم شیرازی، «بلاء حسن» کو خدا کی طرف سے نعمتوں اور فتوحات کے ذریعے آزمائش قرار دیتے ہیں اور اسے «بلاء سیء» (مصیبتوں کے ذریعے آزمائش) کے مقابل رکھتے ہیں۔[8] وہ وضاحت کرتے ہیں کہ خدا چاہتا تھا کہ مسلمانوں کی پہلی مسلح مڈبھیڑ میں انہیں فتح کا مزہ چکھائے اور ان کے دل گرمائے، لیکن یہ فتح غرور کا سبب نہ بنے اور مسلمان خدا پر بھروسہ کرنے سے غافل نہ ہوں؛ اسی لیے آیت «إِنَّ اللَّهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ» پر ختم ہوتی ہے۔[9]
علامہ طباطبائی المیزان تفسیر میں مسلمانوں کی فتح کو فطری قوانین کے خلاف اور خدائی امداد کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ یہ فتح فرشتوں کے نزول اور مشرکوں کے دلوں میں خوف ڈالنے کی وجہ سے خدا کی طرف منسوب ہے، اگرچہ ظاہر میں پیغمبرؐ اور مومن جنگ میں موجود تھے۔[10]
کیا آیت کا مفہوم جبر پر دلالت کرتا ہے؟
اشاعرہ کا ماننا ہے کہ جس آیت میں خدا نے مشرکوں کو قتل کرنے اور کنکریاں پھینکنے کو اپنی طرف منسوب کیا ہے، اس سے جبریت ثابت ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں کو اپنے اعمال میں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے[11] اور سب کچھ خدا کی مشیت اور فعل کے تحت ہے، یہاں تک کہ ایمان اور کفر، بیٹھنا اور اٹھنا جیسے اعمال بھی۔[12]
اس نظریے کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ان اعمال کو خدا کی طرف منسوب کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے: اولاً، وہ قوت اور طاقت جو مسلمانوں نے جنگ بدر میں فتح کے لیے استعمال کی، وہ خدا کی طرف سے تھی۔ ثانیاً، معجزات اور الٰہی امدادیں جنہوں نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور دشمنوں کو شکست دی، درحقیقت خدا کے ہاتھ سے ہوئیں۔ اس صورت میں فتح بیک وقت انسانوں کا کام بھی تھی (کیونکہ وہ ان کی کوشش اور ارادے سے ہوئی) اور خدا کا کام بھی (کیونکہ اس کے پیچھے الٰہی طاقت تھی)۔[13]
حوالہ جات
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۸۱۵.
- ↑ «پیام امام خمینی به مناسبت آزادی خرمشهر»، پرتال امام خمینی.
- ↑ «و ما رمیت اذ رمیت»، خبرگزاری دانشجو.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۸۱۴؛ مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۵، ص۴۶۶؛ طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۳۸.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۸۲ش، ج۴، ص۸۱۴؛ واحدی، أسباب نزول، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۷.
- ↑ بیضاوی، أنوار التنزیل، ۱۴۱۸ق، ج۳، ص۵۳.
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۷، ص۱۱۶.
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۷، ص۱۱۶.
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۷، ص۱۱۶.
- ↑ طباطبایی، المیزان، منشورات اسماعيليان، ج۹، ص۳۸-۳۹.
- ↑ مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۵، ص۴۶۶؛ قاسمی، محاسن التأویل، ۱۴۱۸ق، ج۵، ص۲۶۹.
- ↑ طیب، کلم الطیب، ۱۳۶۳ش، ص۱۰۸.
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۷، ص۱۱۵.
مآخذ
- بیضاوی، عبدالله بن عمر، انوار التنزیل و اسرار التأویل، تحقیق: المرعشلی، محمد عبد الرحمن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
- «پیام امام خمینی به مناسبت آزادی خرمشهر»، پرتال امام خمینی، تاریخ انتشار: ۴ خرداد ۱۴۰۰ش، تاریخ بازدید: ۲۶ آیان ۱۴۰۲ش.
- طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق.
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمه: بلاغی، محمد جواد، تهران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۸۲ش.
- طیب، سید عبدالحسین، کلم الطیب در تقریر عقاید اسلام، ص۱۰۸، کتابخانه اسلام، چاپ چهارم، ۱۳۶۳ش.
- فخرالدین رازی، ابوعبدالله محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ق.
- قاسمی، محمد جمال الدین، محاسن التأویل، بیروت، دار الکتب العلمیه، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران، دار الکتب الإسلامیة، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.
- واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، تحقیق: زغلول، کمال بسیونی، بیروت، دارالکتب العلمیة، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
- «و ما رمیت اذ رمیت»، خبرگزاری دانشجو، تاریخ انتشار: ۶ مهر ۱۳۹۱ش، تاریخ بازدید: ۲۶ آیان ۱۴۰۲ش.