مسودہ:سورہ آل عمران آیت نمبر 144
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ آل عمران |
| آیت نمبر | 144 |
| پارہ | 4 |
| شان نزول | دین اسلام سے منحرف ہونے والے بعض مسلمانوں کے بارے میں |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | جنگ احد میں رسول خداؐ کی شہادت کی افواہ پر دین اسلام سے منحرف ہونے والے مسلمانوں کے بارے میں |
سورہ آل عمران آیت نمبر 144، حضرت محمدؐ کو اللہ کی جانب سے بھیجے گئے ایک رسول کے طور پر متعارف کراتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ آپؐ کی وفات یا شہادت کی صورت میں مسلمانوں کو اپنے دین سے منحرف نہیں ہونا چاہیے۔[1] اس آیت میں اسلام سے منحرف والوں کی مزمت اور سرزنش کرتے ہوئے شکر گزاروں کو انعام و اکرام کا وعدہ دیا گیا ہے۔[2] شکر گزار وہ لوگ تھے جنہوں نے پیغمبر اکرمؐ کی شہادت کی افواہ سننے کے بعد بھی اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ علامہ طباطبائی کے مطابق شاکرین ایمان کے راستے پر ثابت قدم[3] اور شیطان سے محفوظ رہتے ہیں۔[4]
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْہِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّہَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّہُ الشَّاكِرِينَ (آل عمبران/144)
اور محمد تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ فوت ہوجائیں یا قتل ہو جائیں تو تم اُلٹے پیروں پلٹ جاؤ گے تو جو بھی ایسا کرے گا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور خدا تو عنقریب شکر گزاروں کو ان کی جزا دے گا۔
سورہ آل عمران آیت نمبر 144
شیعہ[5] اور اہل سنت مفسرین[6] کا خیال ہے کہ اس آیت کے شان نزول کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو غزوہ احد میں حضرت محمدؐ کی شہادت کی افواہ سن کر اسلام سے منحرف ہوگئے تھے۔ علامہ طباطبائی بھی آیت کے سیاق کو اس شان نزول کی دلیل قرار دیتے ہیں۔[7] البتہ سید عبدالحسین طیب کے مطابق یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد کے بعض واقعات اور آپ کی جانشینی کے معاملے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔[8] تفسیر عیاشی میں امام علیؑ سے نقل ہے کہ آپ نے جنگ جمل میں فرمایا: خدا نے کسی نبی کی روح قبض نہیں کی مگر یہ کہ لوگوں میں ان کی سیرت اور سنت پر ہدایت کرنے والا کوئی شخص موجود ہو، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔[9]
احد کی جنگ میں عمرو بن قمیئہ نے پیغمبر اکرمؐ کی طرف ایک پتھر پھینکا جس سے آپ زخمی ہوئے۔ مصعب بن عمیر جو پیغمبر خداؐ سے شابہت رکھتے تھے، شہید ہو گئے اور دشمن نے سمجھ لیا کہ محمدؐ شہید ہو گئے ہیں۔ اس افواہ نے مسلمانوں کی صفوں میں تزلزل پیدا کر دیا اور بہت سے لوگ میدان جنگ سے بھاگ گئے، لیکن امام علیؑ اور ابو دجانہ جیسے لوگوں نے مزاحمت کی۔[10] اس واقعے کے بعد یہ آیت نازل ہوئی، جس میں میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں کی مذمت اور ثابت قدم رہنے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔[11]
بہت سے شیعہ مفسرین کے مطابق جملہ «انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ» کا مطلب پیغمبر اسلامؐ کی شہادت کی افواہ کے بعد اسلام سے پلٹ جانا ہے۔[12] اہل سنت مفسر فخر رازی نے بھی اس تفسیر کی تائید کی ہے۔[13] بعض شیعہ اور اہل سنت مفسرین نے «انْقَلَبْتُمْ» کو توحید سے پلٹ جانے اور جہاد سے فرار اختیار کرنے دونوں کے معنی میں لیا ہے۔[14] آیت اللہ محمد ہادی معرفت نے اس جملے کو پیغمبر اکرمؐ کی وفات کے بعد اسلام کے ختم ہونے کے احساس سے تعبیر کیا ہے۔[15] سید عبد الحسین طیب نے اس ارتداد کو پیغمبر اسلامؐ کے بعد ان کے وصی کے انتخاب میں اضطراب سے مربوط قرار دیا ہے۔[16]
شیعہ فقیہ اور مفسر آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اس آیت کو مسلمانوں کے لئے ایک سبق قرار دیتے ہیں کہ انہیں کسی فرد یا خاص گروہ پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اصولوں اور تعلیمات پر مبنی ہونا چاہئے۔[17] علامہ طباطبائی بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دین کی بقاء کو حتی پیغمبر اکرمؐ کی زندگی سے مشروط قرار نہ دیں۔[18]
حوالہ جات
- ↑ طبرسی، مجمع البيان، ج2، ص850۔
- ↑ اشکوری، تفسير شريف لاہيجى، ج1، ص385؛ طباطبایی، المیزان، ج4، ص38؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج3، ص117؛ معرفت، التفسیر الاثری الجامع، ج9، ص107؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج9، ص377۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، ج4، ص39-40۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، ج4، ص39۔
- ↑ قمی، تفسير القمی، ج1، ص119؛ طوسی، التبيان، بیروت، ج3، ص6-7؛ طبرسی، مجمع البيان، ج2، ص848-849؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ج5، ص91-94؛ کاشانی، تفسیر کبیر منہج الصادقين، ج2، ص349-350؛ جرجانی، تفسیر گازر، ج2، ص130-133؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج3، ص115؛ مغنیہ، التفسير الکاشف، دار الکتاب الاسلامی، ج2، ص169-171؛ معرفت، التفسیر الاثری الجامع، ج9، ص107۔
- ↑ عبدہ، الاعمال الکاملۃ، ج5، ص118-119؛ بیضاوی، انوار التنزیل، ج2، ص41؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج9، ص376؛ زمخشری، الکشاف، ج1، ص422-423
- ↑ طباطبایی، المیزان، ج4، ص37-38۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، ج3، ص375۔
- ↑ عیاشی، تفسير العيّاشی، ج1، ص200۔
- ↑ قمی، تفسير القمی، ج1، ص119؛ طوسی، التبيان، بیروت، ج3، ص6-7؛ طبرسی، مجمع البيان، ج2، ص848-849؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ج5، ص91-94؛ کاشانی، تفسیر کبیر منہج الصادقين، ج2، ص349-350؛ جرجانی، تفسیر گازر، ج2، ص130-133؛ طباطبایی، المیزان، ج4، ص37؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج3، ص115؛ مغنیہ، التفسير الکاشف، دار الکتاب الاسلامی، ج2، ص169-171؛ معرفت، التفسیر الاثری الجامع، ج9، ص107۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، ج1، ص87؛ شیخ طوسی، الامالی، ص143؛ کوفی، تفسير فرات الكوفی، ص95؛ کلینی، الکافی، ج8، ص110؛ شیخ صدوق، الامالی، ص200؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفۃ، ج2، ص100؛ طبری، تاریخ الطبری، ج2، ص514-515؛ زرندی، نظم درر السمطين، ص153-154؛ ابن اثیر، الكامل، ج2، ص148-154۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، ج4، ص37.، مقاتل بن سلیمان، تفسیر مقاتل بن سلیمان، ج1، ص305؛ قمی، تفسير القمی، ج1، ص119؛ طوسی، التبيان، بیروت، ج3، ص7؛ طبرسی، مجمع البيان، ج2، ص850؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ج5، ص96؛ فیض کاشانی، تفسير الصافی، ج1، ص387؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج3، ص116-117۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج9، ص377۔
- ↑ اشکوری، تفسير شريف لاہيجى، ج1، ص384-385؛ کاشانی، تفسیر کبیر منہج الصادقين، ج2، ص350-351؛ صادقی تہرانی، البلاغ، ص68؛ مغنیہ، التفسير الکاشف، دار الکتاب الاسلامی، ج2، ص171؛ عبدہ، الاعمال الکاملۃ، ج5، ص118-119۔
- ↑ معرفت، التفسیر الاثری الجامع، ج9، ص107۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، ج3، ص375۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج3، ص116-117۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، ج4، ص37۔
مآخذ
- ابن اثیر، علی بن محمد، الكامل فی التاريخ، بیروت، دار صادر، پہلی اشاعت، 1385ھ۔
- ابن ہشام، عبدالملک، السیرۃ النبویۃ، بہ تحقیق و تصحیح ابراہیم ابیاری و مصطفی سقا و عبدالحفیظ شبلی، بیروت، دار المعرفۃ، بے تا۔
- ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسير القرآن، بہ تصحیح محمدمہدی ناصح و محمدجعفر یاحقی، مشہد، اسلامی تحقیقاتی مرکز آستان قدس رضوی، 1371ہجری شمسی۔
- اشکوری، محمد بن علی، تفسير شريف لاہيجى، بہ تصحیح جلال الدین محدث، تہران، داد پبلشر، 1373ہجری شمسی۔
- بیضاوی، عبداللہ بن عمر، انوار التنزیل و اسرار التاویل، گردآوری محمد عبدالرحمن مرعشلی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1418ھ/ 1998ء۔
- جرجانی، حسین بن حسن، تفسیر گازر، گردآوری عزیزاللہ عطاردی قوچانی، بہ تصحیح جلال الدین محدث، بے جا، بے نا، 1337شمسی/ 1378ھ۔
- زرندی، محمد بن یوسف، نظم درر السمطين في فضائل المصطفی و المرتضی و البتول و السبطين، بہ تحقیق علی عاشور، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1425ھ، 2004ء۔
- زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف، بیروت، دار الکتاب العربی، 1407ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی ،الامالی، بہ ترجمہ محمدباقر کمرہ ای، تہران، کتابچی، 1376ہجری شمسی۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافۃ، 1414ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبيان فی تفسير القرآن، با مقدمہ محمدمحسن آقابزرگ تہرانی، بہ تصحیح احمد حبیب عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بے تا۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ على العباد، قم، المؤتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، 1413ھ۔
- صادقی تہرانی، محمد، البلاغ فی تفسیر القرآن بالقرآن، قم، مکتبۃ محمد الصادقی التہرانی، 1377ش/ 1419ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1350-1353ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البيان، بہ تصحیح ہاشم رسولی، فضل اللہ یزدی طباطبایی، بیروت، دار المعرفۃ، 1408ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الامم و الملوک، بیروت، روائع التراث العربی، 1346شمسی/ 1387ھ/ 1967ء۔
- طیب، عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، اسلام، 1378ہجری شمسی۔
- عبدہ، محمد، الاعمال الکاملۃ، بہ تحقیق محمد عمارہ، مصر، دار الشروق، 1427ھ/ 2006ء۔
- عیاشی، محمد بن مسعود، تفسير العيّاشی، بہ تصحیح ہاشم رسولی، تہران، مکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ، 1380ھ۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر (مفاتيح الغیب)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ/ 1999ء۔
- فیض کاشانی، محمد بن شاہ مرتضی، تفسير الصافی، بہ تصحیح حسین اعلمی، تہران، مکتبۃ الصدر، 1373شمسی/ 1415ھ۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسير القمی، بہ تصحیح طیب جزایری، قم، دار الکتاب، 1404ھ۔
- کاشانی، فتح اللہ بن شکر اللہ، تفسیر کبیر منہج الصادقين فی الزام المخالفين، تہران، محمد حسن علمی بک شاپ اینڈ لائبریری، 1336ہجری شمسی۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، بہ تصحیح علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1363ہجری شمسی۔
- کوفی، فرات بن ابراہیم، تفسير فرات الكوفی، بہ تصحیح محمد کاظم، تہران، مؤسسۂ طباعت و نشر، وزارتِ ثقافت و اسلامی ارشاد، 1410ھ/ 1990ء۔
- معرفت، محمدہادی، التفسیر الاثری الجامع، قم، ثقافتی و اشاعتی ادارہ التمہید، 1387شمسی/ 1429ھ/ 2008ء۔
- مغنیہ، محمدجواد، التفسير الکاشف، بے جا، دار الکتاب الاسلامی، 1428ھ/ 2003ء۔
- مقاتل بن سلیمان، تفسیر مقاتل بن سلیمان، بہ تحقیق عبداللہ محمود شحاتہ، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1423ھ/ 2002ء۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1371-1374ہجری شمسی۔