مسودہ:تفسیر قرآن
قرآن کی تفسیر، قرآنی آیات کے معانی کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے کے علم اور عمل کا نام ہے۔ تفسیر کا آغاز رسول خداؐ کے زمانے سے ہوا اور بعد کے ادوار میں اسلامی علوم کی ترقی کے ساتھ اس میں وسعت پیدا ہوئی۔ رسول خداؐ، امام علیؑ اور بعض صحابہ کو قرآن کے اولین مفسرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے بعد تابعین نے بھی قرآنی آیات کی تفسیر کی۔
بعد کے ادوار میں قرآن کی تفسیر کے مختلف طریقے اور رجحانات سامنے آئے۔ تفسیر قرآن بالقرآن، تفسیر بالمأثور اور تفسیر اجتہادی قرآن کی تفسیر کے اہم ترین طریقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح ادبی، سائنسی، فلسفیانہ، عرفانی، فقہی، تاریخی اور کلامی تفسیر قرآن کی تفسیر کے اہم رجحانات میں شامل ہیں۔ شیعہ تفاسیر میں تفسیر قمی، التبیان، مجمع البیان، تفسیر الصافی اور المیزان مشہور ترین تفاسیر میں شمار ہوتی ہیں۔
مفہوم شناسی
مفسرین کی اصطلاح میں قرآنی آیات کے ابہام کو دور کرنا اور ان کے معانی کو واضح کرنا «تفسیر» کہلاتا ہے۔[1] تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائی کے مطابق قرآن کی آیات کے معانی کو بیان کرنا اور ان کے اہداف و مقاصد سے پردہ اٹھانے کا نام تفسیر ہے۔[2] لغوی اعتبار سے تفسیر مادۂ «فسر» سے مشتق ہے اور اس کے معنی کسی پوشیدہ امر کو ظاہر کرنے یا کسی معقول مفہوم کو دریافت کرکے بیان کرنے کے ہیں۔[3]
جو شخص معتبر منابع اور قابل اعتماد قرائن و شواہد کی بنیاد پر قرآن کی آیات کے معنی اور مقصود کی وضاحت کرتا ہے، اسے مفسرِ قرآن کہا جاتا ہے۔[4] شیعہ نقطۂ نظر سے رسول خداؐ اور شیعہ ائمۂ معصومینؑ قرآن کے حقیقی مفسر اور راسخون فی العلم کے حقیقی مصادیق ہیں، جو قرآن کی محکم اور متشابہ آیات کا علم رکھتے ہیں۔[5]
تفسیر اور تاویل میں فرق
علومِ قرآن کے شیعہ محقق آیت اللہ معرفت کے مطابق ابتدائی ادوار میں تفسیر اور تاویل مترادف الفاظ کے طور پر استعمال ہوتے تھے، لیکن بعد کے ادوار میں ان کے درمیان فرق کیا جانے لگا۔ تفسیر اور تأویل تمائز کی بنا پر تفسیر سے مراد کسی مشکل یا غیر واضح لفظ کے ابہام کو دور کرنا ہے، جب کہ تاویل میں ابہام دور کرنے کے علاوہ ایسے الفاظ کے ظاہری مفہوم سے پیدا ہونے والے شبہات کو بھی رفع کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے متکلم کا مقصود اور اصل مراد پوشیدہ رہ سکتی ہے۔[6]
تفسیر قرآن کی ضرورت
قرآن نے سور محمد آیت نمبر 24 اور سورہ قمر آیت نمبر 17 میں انسانوں کو اپنی آیات میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت دی ہے۔[7] تاہم، قرآن کے تمام معانی یکساں طور پر واضح نہیں ہیں۔ بعض آیات، بالخصوص دقیق مفاہیم، احکام اور اجمالی طور پر بیان شدہ تعلیمات وضاحت اور تشریح کی محتاج ہیں۔ اسی وجہ سے رسول خداؐ کے زمانے میں قرآن کے بعض معانی اور تعلیمات کی تفصیلات کو آپؐ مسلمانوں کے لئے واضح فرماتے تھے۔ آپؐ کے بعد صحابہ اور پھر مسلمان علماء نے قرآن کی تفسیر کا کام انجام دیا۔[8]
تفسیر قرآن کی تاریخ
اسلام کے ابتدائی دور میں تفسیر قرآن کی تاریخ کا عموماً تین ادوار میں مطالعہ کیا جاتا ہے: عہدِ نبویؐ، عہدِ صحابہ اور عہدِ تابعین۔ مرتضیٰ مطہری کے مطابق علم تفسیر ان علوم میں سے ہے جو علم قرائت کے بعد مسلم معاشرے میں وجود میں آئی اور وسعت پائی۔[9]
عہدِ نبویؐ میں قرآن کی تفسیر
مفسرین رسول خداؐ کو قرآن کے پہلے مفسر قرار دیتے ہیں۔[10] ابن خلدون کے مطابق اگرچہ قرآن عربی زبان کے اسلوبِ بیان کے مطابق نازل ہوا تھا اور عربی جاننے والے اس کے بعض معانی سمجھ لیتے تھے، تاہم رسول خداؐ مشکل آیات کی وضاحت فرماتے اور قرآن کے احکام و معارف کی تشریح کرتے تھے۔
عہدِ صحابہ میں قرآن کی تفسیر
رسول خداؐ کی رحلت کے بعد صحابہ نے حضورؐ کی تعلیمات، عربی زبان کے قواعد و ضوابط نیز آیات کے نزول کے پس منظر سے واقفیت کی بنیاد پر قرآن کی تفسیر کرتے تھے۔[11] صحابہ میں سے علی بن ابی طالبؑ، عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب اور عبداللہ بن عباس قرآن کے مشہور مفسرین میں شمار ہوتے ہیں۔[12] زرکشی نے علی بن ابی طالبؑ اور ان کے بعد ابن عباس کو صحابہ کے ممتاز مفسرین میں شمار کیا ہے۔[13] علامہ طباطبائی کے مطابق حضرت علیؑ نے بعض اوقات آیات کے معانی کے بارے میں رسول خداؐ سے سنی ہوئی باتوں کو روایت کی صورت میں نقل کیا ہے۔[14]
عہدِ تابعین میں قرآن کی تفسیر
تابعین جنہوں نے مفسر صحابہ سے کسب فیض کئے تھے، قرآن کی تفسیر کا سلسلہ جاری رکھا۔[15] مجاہد بن جبر، عطاء بن ابی رباح، عکرمہ اور سعید بن جبیر اس دور کے مشہور مفسرین میں شمار ہوتے ہیں۔[16] یہ مفسرین مکہ کے تفسیری مکتب میں ابن عباس کے شاگرد تھے۔[17]
قرآن کی تفسیر کے طریقے
مفسرین نے قرآن کی آیات کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کے لئے مختلف طریقے وضع کئے ہیں، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
قرآن کا قرآن سے تفسیر
قرآن کا قرآن سے تفسیر وہ طریقہ ہے جس میں ایک آیت کو سمجھنے کے لئے دوسری آیات سے استفادہ کیا جاتا ہے جن کا اس آیت کے ساتھ معنوی ارتباط ہو۔[18] کہا گیا ہے کہ یہ طریقہ پیغمبر اسلامؐ کے زمانے سے رائج تھا اور آنحضرتؐ نے بھی بعض آیات کی تفسیر میں دوسری آیات سے استفادہ کیا۔[19] بعض مفسرین نے روایات سے استناد کرتے ہوئے[20] اس طریقے کو شیعہ ائمہ معصومینؑ کے تفسیری طریقوں میں شمار کیا ہے۔[21]
محمدجواد بلاغی کی تالیف آلاء الرحمن فی تفسیر القرآن، علامہ طباطبایی کی تحریر المیزان، محمد صادقی تہرانی کی تالیف الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن والسنہ اور آیت اللہ جوادی آملی کی تالیف تسنیم ان تفسیروں میں سے ہیں جو تفسر القرآن بالقرآن کے طریقے کے مطابق تحریر کی گئی ہیں۔[22]
تفسیر مأثور
تفسیر مأثور یا تفسیر روائی وہ طریقہ تفسیر ہے جس میں قرآن کی آیات کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کے لئے روایات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ شیعہ تفسیر روائی میں پیغمبر اسلامؐ اور شیعہ ائمہؑ کی روایات سے استفادہ کرتے ہیں۔[23] بعض شیعہ مفسرین نے ان روایات کو قرآن کی افہام و تفہیم کے اہم ترین منابع میں شمار کیا ہے؛[24] تاہم ان تفسیری روایات کے درمیان بعض جعلی روایات بھی پائے جانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[25]
تفسیر عیاشی،[26] تفسیر قمی،[27] تفسیر نورالثقلین[28] اور تفسیر البرہان[29] شیعہ روائی تفسیروں میں شمار ہوتی ہیں اور جلالالدین سیوطی کی تفسیر الدر المنثور[30] اہلسنت کی روائی تفسیروں میں شمار ہوتی ہے۔ آیت اللہ معرفت کے مطابق اسلامی دنیا میں سب سے اہم تفسیری آثار ابتدا میں تفسیری روایات سے استفادہ کرتے ہوئے تحریر کئے گئے ہیں۔[31]
اجتہادی تفسیر
اجتہادی تفسیر وہ طریقہ ہے جس میں مفسر استدلال کے ذریعے آیات کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور صرف روایات سے استناد کرنے پر اکتفاء نہیں کرتا۔[32] آیت اللہ معرفت کے بقول یہ طریقہ تابعین کے زمانے سے شروع ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشروں میں علوم و معارف کی ترقی کے ساتھ ان میں بھی وسعت آتی گئی۔[33] بعض علماء نے اس طریقے کی مخالفت کی ہے اور اسے ایک قسم کی تفسیر بالرائے قرار دیا ہے؛[34] اس کے مقابلے میں بعض علماء نے اسے قرآن کے معانی کی گہری فہم و ادراک کے لئے ایک معتبر طریقہ شمار کیا ہے۔
تفسیری رجحانات
ادبی تفسیر
تفسیر ادبی قرآن کی تفسیر کا ایک رجحان اور نقطہ نظر ہے جس میں آیات کو سمجھنے کے لئے عربی زبان کی ادبی علوم، مثلاً صرف، نحو، بلاغت اور لغتشناسی سے استفادہ کیا جاتا ہے۔[35] شیعہ مفسر طبرسی کی تالیف تفسیر مجمع البیان اور اہلسنت مفسر زمخشری کی تفسیر تفسیر الکشاف، جو دونوں چھٹی صدی ہجری میں لکھی گئیں، قرآن کی ادبی تفسیروں میں شمار ہوتی ہیں۔[36]
علمی تفسیر
تفسیر علمی قرآن کی تفسیر میں ایک رجحان ہے جس میں بعض آیات کی وضاحت کے لئے علمی نتائج اور نظریات سے استفادہ کیا جاتا ہے اور کبھی قرآن کے مفاہیم اور تجربی علوم کے نتائج کے درمیان رابطہ قائم کیا جاتا ہے۔[37] علم اور دین میں مطابقت کی نشاندہی چہ بسا اس تفسیری رجحان سے استفادہ کرنے والے بعض مفسرین کے اہداف میں شامل رہا ہے۔[38] یہ رجحان جدید سائنسی علوم میں نئی دریافتوں کے اثر سے وجود میں آیا ہے۔[39] اہلسنت مفسر طنطاوی جوہری (وفات: 1940ء) کی تالیف الجواہر فی تفسیر القرآن، قرآن کی مشہور ترین علمی تفسیروں میں شمار ہوتی ہے۔[40]
فلسفی تفسیر
فلسفی یا فلسفیانہ تفسیر قرآن کی تفسیر میں ایک رجحان ہے جس میں قرآن کی آیات کو سمجھنے اور ان کی وضاحت کے لئے فلسفی اصولوں، تعلیمات اور استدلالات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔[41]
عرفانی تفسیر
تفسیر عرفانی قرآن کی تفسیر میں ایک رجحان ہے جس میں آیات کے ظاہری معنی کے ساتھ ساتھ ان کے باطنی اور کنائی معانی پر[42] عرفانی اصولوں کے ساتھ تاکید کی جاتی ہے[43] اور تزکیہ اور عرفانی شہود کو ان معانی کو سمجھنے میں مؤثر سمجھا جاتا ہے۔[44] اس نقطہ نظر کے مطابق آیات کے باطنی معانی تک رسائی اندرونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ذریعے ممکن ہے۔[45] کشف الاسرار میبدی[46] اور لطائف الاشارات قشیری[47] مشہور ترین عرفانی تفسیروں میں شمار ہوتی ہیں۔
بعض عرفانی تفسیروں میں قرآن کی آیات اور تعبیرات کی رمزی طور پر تفسیر کی جاتی ہے اور ان کے لئے ظاہری معنی سے ماورا معانی تصور کئے جاتے ہیں، جسے تفسیر رمزی کہا جاتا ہے۔[48]
فقہی تفسیر
تفسیر فقہی قرآن کی تفسیر کی ایک روش ہے جس میں صرف شرعی احکام سے متعلق آیات پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔[49] قطب الدین راوندی کی تالیف فقہ القرآن[50] اور فاضل مقداد کی تالیف کنز العرفان فی فقہ القرآن[51] قرآن کی فقہی تفسیروں میں شمار ہوتی ہیں۔
تاریخی تفسیر
تفسیر تاریخی قرآن کی تفسیر میں ایک رجحان ہے جس میں قرآن کے معانی اور مقاصد کو سمجھنے میں تاریخ کے کردار پر توجہ دی جاتی ہے۔[52] سید محمدباقر صدر کی تحریر السنن التاریخیہ فی القرآن ان آثار میں شامل ہے جنہیں قرآن کی تاریخی تفسیروں میں شمار کیا گیا ہے۔[53]
کلامی تفسیر
تفسیر کلامی قرآن کی تفسیر اجتہادی اور عقلی تفسیر کے رجحانات میں سے ہے جس میں مفسر عقلی استدلالات اور کلامی مباحث سے استناد کرتے ہوئے اپنے عقائد کی وضاحت اور دفاع کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کلامی تعلیمات کو قرآن کی آیات سے استخراج کرے یا انہیں قرآن کی آیات کے ساتھ ثابت کرے۔[54]
تفسیر بالرائے
تفسیر بالرائے کی تعریف قرآن پر ذاتی یا گروہی عقائد مسلط کرنے سے کی گئی ہے۔[55] بعض اہلِ علم نے تفسیر بالرائے کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے: مقبول و ممدوح تفسیر بالرائے اور ممنوع تفسیر بالرائے۔ ان کے نزدیک تفسیر بالرائے کی مذمت میں وارد ہونے والی روایات اس کی ممنوع قسم سے متعلق ہیں۔[56]
مقبول و ممدوح تفسیر بالرائے سے مراد یہ ہے کہ مفسر عربی زبان اور اس میں دلالت کی مختلف اقسام سے واقف ہو، نیز تفسیر کے دوران اسبابِ نزول، آیات کے ناسخ و منسوخ اور قرآن کی تفسیر کے لئے درکار دیگر ذرائع اور علوم و معارف پر عبور رکھتا ہو اور پھر قرآن کی آیات کی تفسیر کرے۔[57]
تفسیر کی ترتیب و تدوین کے طریقے
قرآن کی تفاسیر کو مطالب کی ترتیب و تدوین کے طریقے کے اعتبار سے بھی مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
- تفسیر ترتیبی: اس طریقے میں قرآن کی آیات کی تفسیر سورتوں اور آیات کی ترتیب نزول کے مطابق کی جاتی ہے۔
- تفسیر موضوعی: اس طریقے میں کسی ایک موضوع سے متعلق آیات کو جمع کرکے ان کا باہمی ربط و تعلق ملحوظ رکھتے ہوئے مطالعہ اور تفسیر کی جاتی ہے۔
- تفسیر تقابلی: اس طریقے میں آیات یا تفسیری موضوعات کے بارے میں مختلف مفسرین کے مختلف آراء اور نظریات کا آپس میں موازنہ کیا جاتا ہے۔
مفسر کو درکار علوم
علوم قرآن اور علم تفسیر کے منابع میں لغت، صرف، نحو اور بلاغت کو مفسر کے لئے سب سے اہم اور ضروری علوم میں شمار کیا گیا ہے۔[58] اسی طرح علم حدیث، علم قرائت، علم کلام، فقہ اور اصول فقہ جیسے علوم سے واقفیت بھی ان دیگر علوم میں شامل ہے جنہیں قرآن کی تفسیر کے لئے اہم قرار دیا گیا ہے۔[59] اس کے علاوہ مفسر کے لئے ضروری ہے کہ علوم قرآن اور ان سے متعلق مباحث جیسے اسباب نزول، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ اور مکی و مدنی سورتوں سے بھی واققیت رکھتا ہو۔[60]
بعض شیعہ مشہور تفاسیر
بعض شیعہ مشہور تفاسیر درج ذیل ہیں:
| تفسیر | مفسر کا نام | صدی | تفسیری رجحان |
|---|---|---|---|
| تفسیر قمی | علی بن ابراہیم قمی | تیسری ہجری | روایی و مأثور |
| التبیان فی تفسیر القرآن | شیخ طوسی | پانچویں ہجری | ادبی و اجتہادی |
| فقہ القرآن | قطبالدین راوندی | چھٹی ہجری | فقہی |
| مجمع البیان | فضل بن حسن طبرسی | چھٹی ہجری | ادبی |
| کنز العرفان فی فقہ القرآن | فاضل مقداد | نویں ہجری | فقہی |
| تفسیر الصافی | فیض کاشانی | گیارہویں ہجری | روایی و مأثور |
| تفسیر القرآن الکریم | ملاصدرا | گیارہویں ہجری | فلسفی |
| البرہان فی تفسیر القرآن | سید ہاشم بحرانی | گیارہویں ہجری | روایی و مأثور |
| بیان السعادۃ فی مقامات العبادۃ | سلطان محمد گنابادی | تیرہویں اور چودہویں ہجری | عرفانی |
| آلاء الرحمن | محمدجواد بلاغی | چودہویں ہجری | کلامی و اجتہادی |
| المیزان فی تفسیر القرآن | سید محمدحسین طباطبایی | چودہویں ہجری | قرآن بالقرآن |
| تفسیر نمونہ | ناصر مکارم شیرازی | پندرہویں ہجری | اجتماعی و اجتہادی |
| تفسیر تسنیم | عبداللہ جوادی آملی | پندرہویں ہجری | قرآن بالقرآن |
حوالہ جات
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج1، ص17؛ کافیجی، التیسیر، ص21۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج1، ص4۔
- ↑ ابن منظور، لسان العرب، مادہ «فسر»۔
- ↑ رضایی اصفہانی، منطق تفسیر قرآن (1)، ص112۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج1، ص213۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج1، ص21–22۔
- ↑ جوادی آملی، تفسیر تسنیم، انتشارات اسراء، ج1، ص36۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج1، ص18۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج14، ص397۔
- ↑ آملی، تفسیر المحیط الاعظم، ج1، ص131۔
- ↑ جلالیان، تاریخ تفسیر قرآن کریم، ص46۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج1، ص111۔
- ↑ زرکشی، البرہان، ج2، ص157۔
- ↑ طباطبائی، قرآن در اسلام، ص70۔
- ↑ طباطبائی، قرآن در اسلام، ص71۔
- ↑ زرکشی، البرہان، ج2، ص158۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج1، ص146–165؛ جلالیان، تاریخ تفسیر قرآن کریم، ص70۔
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ج1، ص11؛ عمید زنجانی، مبانی و روشہای تفسير قرآن، ص361.
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ج1، ص14-12.
- ↑ نمونہ کے لئے ملاحظہ کیجئے: کلینی، الکافی، ج2، ص599.
- ↑ علامہ طباطبایی، المیزان، ج1، ص12؛ جوادی آملی، تسنیم، ج1، ص71-69.
- ↑ اسعدی، تفسیرشناسی، ص319-313.
- ↑ ایازی، المفسرون: حیاتہم و منہجہم، ص36.
- ↑ ابنعاشور، تفسیر التحریر والتنویر، ج6، ص47، ج14، ص163-164؛ ایازی، المفسرون: حیاتہم و منہجہم، ص36-37.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص24-25؛ ذہبی، التفسیر والمفسرون، دار الکتب الحدیثۃ، ج1، ص159-165.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص167-168.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص167-168.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص168-169.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص170-171.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص171.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص161.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص178.
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص178.
- ↑ سیوطی، الاتقان، ج2، ص445-446.
- ↑ طیبحسینی، «روش تفسیر ادبی»، ص806؛ احمد ناصح، «تفسیر لغوی و ادبی قرآن از منظر روایات معصومانؑ»، ص179۔
- ↑ حدیدی، تفاسیر ادبی قرآن کریم، ص1-2 و 29۔
- ↑ ذہبی، التفسیر و المفسرون، دار إحیاء التراث العربی، ج2، ص474۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص222۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص222۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص224۔
- ↑ اسعدی، «بررسی و تحلیل چیستی، امکان، شرایط و ضرورت فہم فلسفی قرآن»، ص141؛ بابایی، «پژوہشی در روایی یا ناروایی تفسیر فلسفی»، ص6۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص261۔
- ↑ اسدی نسب، «مشروعیت و ضرورت تفسیر عرفانی»، ص79۔
- ↑ علوی، «جریانشناسی تفسیر عرفانی در اندلس»، ص253۔
- ↑ علوی، «جریانشناسی تفسیر عرفانی در اندلس»، ص253۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص273۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص271۔
- ↑ دفتر تبلیغات اسلامی، فرہنگنامہ علوم قرآن، بیتا، ج1، ص1790۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص180۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص188۔
- ↑ معرفت، التفسیر و المفسرون، ج2، ص188۔
- ↑ نکونام، «تفسیر تاریخی قرآن کریم»، ص45۔
- ↑ صدر، السنن التاريخيۃ في القرآن، ص54۔
- ↑ مؤدب، روشہای تفسیر قرآن، ص245؛ جمعی از مؤلفان، تفسیر قرآن (تاریخچہ، اصول، روشہا)، ص69؛ کریمینیا، «روششناسى تفسير فقہى»، ص90۔
- ↑ جمعی از نویسندگان، فرہنگنامہ علوم قرآنی، ص365۔
- ↑ ذہبی، التفسیر و المفسرون، دار إحیاء تراث العربی، ج1، ص265 و 284 و 363۔
- ↑ معرفت، تفسیر و مفسران، ج1، ص83۔
- ↑ غروی نائینی، ایماندار، «پیشنیازہای علم تفسیر بر پایہ مقدمہ تفاسیر قرآن»، ص78-80۔
- ↑ عقیقی بخشایشی، طبقات مفسران شیعہ، ج1، ص127۔
- ↑ غروی نائینی، ایماندار، «پیشنیازہای علم تفسیر بر پایہ مقدمہ تفاسیر قرآن»، ص83۔
مآخذ
- ابنعاشور، محمدطاہر بن محمد، تفسیر التحریر والتنویر، تونس، 1984ء۔
- ابنمنظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار الصادر، 1414ھ۔
- احمد ناصح، علی، «تفسیر لغوی و ادبی قرآن از منظر روایات معصومان(ع)» (قرآن کی لغوی اور ادبی تفسیر معصومین کی احادیث کی روشنی میں)، فصلنامہ قرآن کی ادبی تحقیقات، سال1، دورہ1، مئی 2013ء۔
- اسدینسب، محمد علی، «مشروعیت و ضرورت تفسیر عرفانی» (عرفانی تفسیر کی مشروعیت اور ضرورت)، قبسات، شمارہ 102، 2022ء۔
- اسعدی، علیرضا «بررسی و تحلیل چیستی، امکان، شرایط و ضرورت فہم فلسفی قرآن» ( قرآن کے فلسفیانہ فہم کی ماہیت، امکان، شرائط اور ضرورت کا جائزہ و تجزیہ)، فصلنامہ علمی-تحقیقی نقد و نظر، شمارہ 106، 2023ء۔
- اسعدی، محمد، تفسیرشناسی: مبانی، منابع، قواعد، روشہا و گرایشہا، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، پہلی اشاعت، 1396ہجری شمسی۔
- ایازی، محمدعلی، المفسرون: حیاتہم و منہجہم، تہران، وزارت ثقافت و ارشاد اسلامی، 1414ھ/1373ہجری شمسی۔
- بابایی، علیاکبر، «پژوہشی در روایی یا ناروایی تفسیر فلسفی» (فلسفی تفسیر کا روائی یا غیر روائی ہونے کی تحقیق)، قرآنی تحقیقات، شمارہ3، شمارہ26، خزاں 14002022ء۔
- جلالیان، حبیباللہ، تاریخ تفسیر قرآن، تہران، انتشارات اسوہ، 1378ہجری شمسی۔
- جمعی از مؤلفان، تفسیر قرآن (تاریخچہ، اصول، روشہا)، تہران، کتاب مرجع، 1388ہجری شمسی۔
- جمعی از نویسندگان، فرہنگنامہ علوم قرآنی، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، 1394ہجری شمسی۔
- جوادی آملی، عبداللہ، تفسیر تسنیم، قم، انتشارات اسراء، 1398ہجری شمسی۔
- حدیدی، حسن، تفاسیر ادبی قرآن کریم، تہران، انتشارات دانشگاہ پیام نور، 1393ہجری شمسی۔
- دفتر تبلیغات اسلامی، فرہنگنامہ علوم قرآن، بیجا، بے نا، بے تا۔
- ذہبی، محمدحسین، التفسیر و المفسرون، بیروت، دار الکتب العربیۃ، بے تا۔
- رضایی اصفہانی، محمدعلی، منطق تفسیر قرآن، قم، جامعۃ المصطفی العالمیۃ، 1387ہجری شمسی۔
- زرکشی، بدرالدین محمد بن عبداللہ، البرہان فی علوم القرآن، بیروت، دار إحیاء الکتب العربیۃ، 1376ھ۔
- سیوطی، جلالالدین، الاتقان فی علوم القرآن، بیروت، دار الکتب العربی، 1421ھ۔
- صدر، سید محمدباقر، السنن التاريخيۃ في القرآن، دمشق، دار التعارف للمطبوعات، 1432ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، قرآن در اسلام، قم، انتشارات بوستان کتاب، 1388ہجری شمسی۔
- طیبحسینی، سید محمود، «روش تفسیر ادبی»، فہم قرآن اور منہج تفسیر میں پیش رفت پر منعقدہ قومی کانفرنس (قومی کانفرنسِ قرآن شناسی کے مقالات کا مجموعہ).
- عقیقی بخشایشی، عبدالرحیم، طبقات مفسران شیعہ، قم، دفتر نشر نوید اسلام، 1371ہجری شمسی۔
- علوی، سید محمد، «جریانشناسی تفسیر عرفانی در اندلس» (اندلس میں عرفانی تفسیر کے رجحانات کا مطالعہ)، نشریہ نسیم کوثر، شمارہ 11، سال سوم، سرما 2024ء۔
- عمید زنجانی، عباسعلی، مبانی و روشہای تفسير قرآن، تہران، وزارت ثقافت و ارشاد اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
- غروی نائینی، نہلہ و حمید ایماندار، «پیشنیازہای علم تفسیر بر پایہ مقدمہ تفاسیر قرآن» (قرآنی تفاسیر کے مقدمات کی روشنی میں علمِ تفسیر کے بنیادی لوازمات)، تحقیقات قرآن و حدیث، شمارہ 2، موسم خزاں اور سرما 2010ء۔
- کافیجی، محمد بن سلیمان، التیسیر فی قواعد علم التفسیر، قاہرہ، مکتبۃ القدسی، 1419ھ۔
- کریمینیا، محمدمہدی، «روششناسى تفسير فقہى»، مجلہ قرآن و علم، سال 6، شمارہ 11، موسم خزاں اور سرما 2012ء۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علیاکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب العلمیۃ، 1407ھ۔
- مؤدب، رضا، روشہای تفسیر قرآن، قم، دانشگاہ قم-انتشارات اشراق، 1380ہجری شمسی۔
- معرفت، محمدہادی، التفسیر و المفسرون، مشہد، الجامعۃ الرضويۃ للعلوم الإسلاميۃ، 1418ھ۔
- نکونام، جعفر، «تفسیر تاریخی قرآن کریم»، مجلہ دینی تحقیقات، شمارہ 19، 2009ء۔