محمد محسن فیض کاشانی

ویکی شیعہ سے
(محمدمحسن فیض کاشانی سے رجوع مکرر)
محمد محسن فیض کاشانی
کوائف
مکمل ناممحمد بن مرتضی بن محمود کاشانی
لقب/کنیتفیض
آبائی شہرکاشان
تاریخ وفات22 ربیع الثانی 1091ھ
مدفنکاشان
نامور اقرباءسسر: ملا صدرا، ماموں: ضیاء الدین محمد، بیٹا: محمد،
علمی معلومات
اساتذہملا صدرا، میر داماد، ملا محمد تقی مجلسی ...
شاگردعلم الہدی محمد، علامہ محمد باقر مجلسی
اجازہ روایت ازمحمد بن حسن عاملی
تالیفاتتفسیر صافی، الوافی، الشافی ...
خدمات
سماجیاقامۂ نماز جمعہ


ملا محمد بن مرتضی بن محمود کاشانی (1007۔1091 ھ)، ملا محسن و فیض کاشانی کے نام سے معروف، گیارہویں صدی کے شیعہ حکیم، محدث، مفسر قرآن کریم اور فقیہ تھے۔ انہوں نے ملا صدرا، شیخ بہائی، میر فندرسکی اور میر داماد جیسے علما کی شاگردی اختیار کی۔

فیض کاشانی نے مختلف موضوعات تفسیر، حدیث، فقہ، اخلاق و عرفان میں تفسیر صافی، الوافی، مفاتیح الشرائع، المحجۃ البیضاء اور الکلمات المکنونہ جیسے آثار چھوڑے ہیں۔

فیض کاشانی ان اخباریوں میں سے ہیں جنہوں نے معتدل روش اختیار کی۔ اس لحاظ سے پہلے فقہا کے برعکس بہت سے مقامات پر ان کے نظریات مختلف ہیں۔ ان کے اہم ترین نظریات میں مخصوص شرائط کے تحت غنا کا جواز، مختلف واجبات شرعی کی نسبت سن بلوغ کا مختلف ہونا اور نماز جمعہ کا واجب عینی ہونا، شامل ہیں۔

کاشان اور اصفہان میں اقامۂ نماز جمعہ ان کی سیاسی فعالیتوں میں سے ایک ہے۔

نسب، لقب، ولادت و وفات

فیض کاشانی کا خاندان علمی اور مشہور شیعہ خاندان تھا۔[1]

ان کے والد رضی الدین شاه مرتضی (950۔1009 ھ)[2] اور والدہ زہرا خاتون (متوفا 1071 ھ) ضیاء العرفا رازی کی بیٹی تھی۔[3] فیض کاشانی کے جد کا نام تاج الدین شاه محمود بن ملا علی كاشانی تھا اور وہ کاشان میں مدفون ہیں۔

لقب:

ان کا نام محمد تھا۔[4] لیکن محسن یا محمد محسن مشہور ہوئے۔[5] وہ مل اصدرا کے داماد تھے۔ ان کے سسر نے انہیں فیض کو اور دوسرے داماد عبد الرزاق لاہیجی کو فیاض سے لقب سے نوازا۔[6]

ولادت و وفات:

فیض 14 صفر 1007 ھ کو كاشان میں پیدا ہوئے۔[7] اور 22 ربیع الثانی 1091 ھ کو کاشان میں ہی فوت ہوئے اور جس قبرستان کی زمین اپنی زندگی میں وقف کی تھی اسی میں دفن ہوئے۔[8]

نومبر 2008 ء میں ان کی یاد منانے کیلئے ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔[9][10]

اولاد اور زوجہ

محمد محسن فیض کاشانی کی ملا صدرا[11] کی بیٹی سے شادی کے نتیجے میں پانچ بیٹے پیدا ہوئے۔ جن کے اسما درج ذیل ہیں:

  • محمد علم الہدی، مولف معادن الحکمہ
  • معین الدین احمد
  • علیہ بانو ان کی کنیت ام الخیر تھی۔
  • سکینہ ان کی کنیت ام البر تھی۔
  • سکینہ ان کی کنیت ام سلمہ تھی۔[12]

تعلیم

فیض کاشانی نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کاشان سے کیا۔ 20 سال کی عمر میں مزید تعلیم کیلئے اصفہان گئے۔ دو سال بعد شیراز سید ماجد بحرانی کی شاگردی اختیار کی۔ دوبارہ پھر اصفہان واپس آئے۔ شیخ بہائی کے درس میں شرکت کی۔ حج کے سفر کے دوران شہید ثانی کی نسل سے شیخ محمد سے اجازۂ روایت حاصل کیا۔ اس کے بعد قم میں ملا صدرا کی شاگردی اختیار کی اور ملا صدرا کی شیراز واپسی کے موقع پر ان ہی کے ہمراہ شیراز آئے اور تقریبا دو سال تک وہاں رہے۔ اگرچہ خوانساری اور دیگر علما معتقد ہیں کہ فیض نے پہلے سفر کے دوران شیراز میں ملا صدرا کی شاگردی اختیار کی لیکن یہ بات خود فیض کاشانی کے ذکر کردہ حالات کے مطابق سازگار نہیں ہے۔[13] آخر کار فیض کاشان واپس آئے اور درس و تدریس میں مشغول ہوئے۔[14] مدرسہ فیضیہ کی اسم گذاری میں فیض کے یہاں رہنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

بہت سے محققین جیسے افندی، حر عاملی، محدث نوری، شیخ عباس قمی، علامہ امینی و ... فلسفی، حکیم، متکلم، محدث، فقیہ، شاعر، ادیب، عالم، فاضل جیسے کلمات سے ان کی تعریف کرتے ہیں۔[15][16]

صفویوں کی دعوت

شاه صفی نے انہیں اپنے دربار میں مدعو کیا لیکن فیض کاشانی اس سے اجتناب کیا۔ اس کے بعد شاه عباس دوم نے فیض کو دعوت دی کہ اقامۂ نماز جمعہ کیلئے دار الحکومت میں آئیں لیکن فیض کاشانی نے اس سے کنارہ گیری کی زندگی کو ترجیح دینے میں اپنے قریبیوں سے صلاح و مشورہ کے بعد اسے قبول کر لیا۔[17]

استاتذہ

فیض کاشانی کے درج ذیل اساتذہ کے نام لئے جا سکتے ہیں:

بعض کتب میں ملا خلیل قزوینی، محمد طاہر قمی، ملا محمد صالح مازندرانی اور ان کے والد کا نام بھی بعنوان استاد آیا ہے۔[19]

شاگرد

  • علم الہدی (محمد)، ان کے بیٹے
  • معین الدین (احمد)، ان کے بیٹے
  • محمد مؤمن بن عبدالغفور، ان کے بھائی
  • شاه مرتضی دوم، ان کے بھتیجے
  • ضیاء الدین محمد بن حكیم نور الدین، ان کے ماموں
  • ملا شاه فضل الله و ملا علامی
  • علامہ محمد باقر مجلسی
  • سید نعمت الله جزائری
  • قاضی سعید قمی
  • ملا محمد صادق خضری
  • شمس الدین محمد قمی
  • محمد محسن عرفان شیرازی
  • و ... [20] [21]

آثار

مجموعہ آثار فیض کاشانی

فیض کے آثار کی فہرست 100 کتب پر مشتمل ہے۔[22] سید نعمت الله جزائری نے ان کے آثار کی تعداد تقریبا 200 کہی ہے۔[23] دیگر منابع میں 140 اثر ذکر ہوئے ہیں۔[24] بعض کے اسما درج ذیل ذکر کئے جاتے ہیں:

  • تفسیر صافی
  • تفسیر اصفی
  • الوافی
  • الشافی
  • نوادر الاخبار
  • المعارف تلخیص علم الیقین
  • معتصم الشیعہ فی احکام الشریعہ
  • المحجہ البیضاء فی تہذیب الاحیاء
  • مفاتیح الشرایع
  • اصول المعارف
  • الحقائق
  • قرة العیون
  • الکلمات المکنونہ
  • الکلمات المخزونہ
  • اللائی
  • جلاء العیون
  • تشریح العالم
  • بشارة الشیعہ
  • الاربعین فی مناقب امیرالمومنین
  • الاصول الاصلیہ
  • تسہیل السبیل
  • نقد الاصول الفقہیہ
  • النخبہ
  • الشہاب الثاقب
  • اصول العقائد
  • منہاج النجاة
  • خلاصۃ الاذکار
  • دیوان
  • رسالہ شرح صدر و...[25][26]

مرکز کمپیوٹر علوم اسلامی نور نے فیض کاشانی کے آثار کا سافٹ وئر بنام مجموعہ آثار علامہ فیض کاشانی تیار کیا ہے۔[27][28]

افکار و نظریات

محمد باقر خوانساری اور شیخ یوسف بحرانی ملا محسن کو اخباریوں میں سے گردانتے ہیں۔[29] [30] البتہ ان کی تحریرں بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔[31] اس کے باوجود منفرد نظریات کے بھی حامل تھے جیسے:

  • جواز غنا و موسیقی[32] حرمت غناء کی روایات کو صرف کسی دوسرے حرام جیسے آلات لہو، مردوں اور عورتوں کا اکٹھا ہونا یا کلام باطل کے ساتھ ہو تو اسے حرام جانتے ہیں ورنہ صرف غنا حرام نہیں ہے۔[33]
  • نجس شدہ چیز دوسری چیز کو نجس نہیں کرتی ہے۔[34]
  • قلیل پانی نجاست کے ملنے سے نجس نہیں ہوتا۔[35]
  • کافروں کا ہمیشہ دوزخ میں نہ رہنا۔
  • اہل‌ اجتہاد کی نجات ممکن نہیں اگر چہ بزرگ‌ ترین‌ دانشمندان‌ ہی کیوں نہ ہو۔
  • بلوغ کا سن مختلف شرعی واجبات کی نسبت مختلف ہے۔[36]
  • اگر حائل و رکاوٹ نہ ہو تو عادی طور پر آنکھیں جب خورشید کی ٹکیہ کے استتار کو پا لیتی ہیں تو مغرب شرعی ہو جاتی ہے۔[37]
  • وضو میں مقام مسح کا خشک ہونا شرط نہیں۔[38]
  • ہر غسل، وضو کی جگہ کافی ہے۔[39]
  • نماز جمعہ واجب عینی ہے۔[40] فیض کاشانی کاشان اور قمصر میں اقامہ نماز جمعہ کرتے تھے۔[41] شاه عباس ثانی کی دعوت پر اصفہان کی مسجد جامع عتیق میں نماز جمعہ کے اقامہ کیلئے گئے۔[42]

حوالہ جات

  1. افندی اصفہانی، ج۵، ص۱۸۰؛ قمی، ج۳، ص۳۹؛ فیض، الوافی، ج۱، ترجمہ مولف، ص۱۷
  2. خوانساری، ج۶، ص۷۹
  3. فیض کاشانی، دیوان، ج۱، مقدمہ مصحح، ص۶
  4. خوانساری، ج۵، ص۷۹؛ افندی اصفہانی، ج۵، ص۱۸۰؛ قمی، ج۳، ص۳۹؛ فیض، الوافی، ج۱، ترجمہ مولف، ص۱۷، فیض کاشانی نے مقدمہ وافی میں اپنے نام محمد کی تصریح کی ہے۔ الوافی، ج۱، مقدمہ مصنف، ص۴
  5. فیض، الوافی، ج۱، ترجمہ مولف، ص۱۷، مقدمہ مصنف، ص۴
  6. خوانساری، ج۶، ص۹۴،۱۰۰؛ قمی، ج۳، ص۴۱
  7. افندی اصفہانی، ج۵، ص۱۸۰؛ قمی، ج۳، ص۳۹؛ فیض، الوافی، ج۱، ترجمہ مولف، ص۱۷
  8. نک: افندی ، ج۵، ص۱۸۲؛ الکنی و الالقاب، ج۳، ص۴۰
  9. كنگره بین المللی ملا محسن فیض كاشانی
  10. گزارشی از ہمائش بزرگداشت فیض
  11. خوانساری، ج۶، ص۹۴،۱۰۰؛ قمی، ج۳، ص۴۱
  12. فیض، الوافی، مقدمہ مصحح، ج۱، ص۱۸-۳۰
  13. فیض، دیوان، ص۵۸، با حوالۂ رسالہ شرح صدر فیض
  14. خوانساری، ج۶، ص۹۳؛ فیض، دیوان، ص۵۸، با حوالۂ رسالہ شرح صدر فیض
  15. حر عاملی، ج۲، ص۳۰۵؛ افندی اصفہانی، ج۵، ص۱۸۰
  16. نک: فیض، المحجۃ البیضاء، ج۱، مقدمہ، ص۲۲-۲۴
  17. فیض کاشانی، شرح صدر، در مجموعہ رسائل فیض کاشانی، صص ۳۶-۴۴؛ فیض کاشانی، الاعتذار، ص۲۸۱.
  18. فیض، الوافی، مقدمہ مصحح، ص۳۳
  19. فیض، الوافی، ج۱، مقدمہ، ص۳۲
  20. قمی، ج۳، ص۴۱
  21. فیض، الوافی، مقدمہ مصحح، ص۳۳
  22. فیض، الوافی، مقدمہ مصحح، ص۵۱
  23. خوانساری، ج۵، ص۹۳
  24. فیض، دیوان، ج۱، مقدمہ مصحح، ص۸۲-۸۸؛ فیض، الوافی، مقدمہ مصحح، ص۳۳-۵۹
  25. خوانساری، ج۶، ص۹۱-۹۳؛ قمی، ج۳، ص۴۰
  26. افندی‌ اصفہانی، ج۵، ص۱۸۱-۱۸۲؛ فیض، الوافی، مقدمہ مصحح، ص۳۳-۵۹؛ نک، حر عاملی، ج۲، ۳۰-۳۰۶
  27. مرکز کامپیوتری نور
  28. كتابخانہ ڈیجیٹل مجموعہ آثار ملا محسن فیض كاشانی
  29. خوانساری، روضات الجنات، ج۶، ص۸۵
  30. فیض، المحجۃ البیضاء، ج۱، مقدمہ، ص۲۳، با حوالۂ لؤلؤة البحرین، ص۱۳۳
  31. فیض کاشانی، ده رسالہ، ص۱۹۶
  32. فیض، مفاتیح الشرایع، ج۲، ص۲۱
  33. فیض، مفاتیح الشرائع، ج۲، ص۲۱
  34. فیض، مفاتیح الشرایع، ج۱، ص۷۵.
  35. فیض، مفاتیح الشرایع، ج۱، ص۸۱.
  36. فیض، مفاتیح الشرایع، ج۱، ص۱۳.
  37. فیض، مفاتیح الشرائع، ج۱، ص۹۴.
  38. فیض، مفاتیح الشرایع، ج۱، ص۴۶.
  39. فیض، مفاتیح الشرائع، ج۱، ص۵۵.
  40. فیض، مفاتیح الشرایع، ج۱، ص۱۷.
  41. فیض، رسالۂ شرح صدر، ص۶۱،۶۲؛ گلشن ابرار، ج۱، ص۲۲۶
  42. فیض، دیوان، ص۵۸، ۶۴، حوالہ رسالہ شرح صدر فیض؛ فیض، مفاتیح الشرایع، ج۱، مقدمہ، ص۱۸

مآخذ

  • افندی اصفہانی، میرزا عبدالله، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، تحقیق: سید احمد حسینی، مطبعہ الخیام، قم، ۱۴۰۱ق.
  • خوانساری، محمد باقر، روضات الجنات فی احوال العلماء و السادات، تحقیق؛ اسدالله اسماعیلیان، مکتبہ الاسماعیلیان، قم، ۱۳۹۰ق.
  • قمی، شیخ عباس، الکنی و الالقاب، مکتبہ الصدر، تہران.
  • فیض کاشانی، ملا محمد محسن، کتاب الوافی، تصحیح و تعلیق: ضیاءالدین حسینی، مکتبہ الامام امیرالمومنین علی علیہ السلام، اصفہان، ۱۴۱۲ق/۱۳۷۰ش.
  • فیض کاشانی، ملا محمد محسن، دیوان، انتشارات اسوه، شرح و مقدمہ: مصطفی فیضی کاشانی، تہران، ۱۳۷۱ش.
  • فیض کاشانی، ملا محسن، ده رساله، به کوشش رسول جعفریان، اصفہان، ۱۳۷۱ش.
  • فیض کاشانی، ملا محمد محسن، مفاتیح الشرایع، تحقیق: سید مہدی رجائی، مجمع الذخائر الاسلامیہ، قم، ۱۴۰۱ق.
  • فیض کاشانی، ملا محمد محسن، المحجۃ البیضاء فی تہذیب الاحیاء، تصحیح و تعلیق: علی اکبر غفاری، دفتر انتشارات اسلامی، قم، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۳۸۳ش.
  • جمعی از پژوہشگران حوزه علمیہ قم؛ پژوہشکده باقرالعلوم، گلشن ابرار، نشر معروف، قم،۱۳۷۹ش.
  • فیض، رسالۂ شرح صدر، ضمیمۂ ده رسالۂ فیض کاشانی، مرکز تحقیقات علمی و دینی امیرالمومنین، اصفہان.
  • فیض کاشانی، الاعتذار، در ده رسالہ، اصفہان: مرکز تحقیقات علمی و دینی امام امیرالمؤمنین(ع)، ۱۳۷۱ش.
  • فیض کاشانی، شرح صدر، در مجموعہ رسائل فیض کاشانی، محقق: بہراد جعفری، تہران: مدرسہ عالی شہید مطہری، ۱۳۸۷ش.