مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:تعظیم شعائر

ویکی شیعہ سے

تعظیمِ شعائر،اسلام میں تعظیم شعائر سے مراد دینی اور مذہبی اقدار کا احترام، تکریم اور عظمت کا اظہار کرنا ہے۔[1] تفسیر نمونہ کے مطابق شعائرِ اللہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جو دینی تعلیمات اور عبادات کا حصہ ہو اور انسان کو یادِ خدا اور دینِ الٰہی کی عظمت کی طرف متوجہ کرے۔[2] تعظیمِ شعائر کا مطلب ان اقدار کی سماجی حیثیت کو نمایاں رکھنا، ان کا تحفظ کرنا اور ان کے ساتھ احترام آمیز رویہ اختیار کرنا ہے۔[3]

شعائرِ اللہ کے مصادیق میں حج کے مناسک، امام علیؑ کی ولایت،[4] اذان، نماز جماعت، نماز جمعہ، سلام کرنا، ختنہ، مذہبی اعیاد کا انعقاد، معصومینؑ کی قبور کی زیارت، انبیائے الٰہی اور اولیائے خدا کا احترام، خواتین کا حجاب، ریش تراشی اور نامحرم سے مصافحہ کرنے سے اجتناب، عزاداری، قرآن مجید کی تلاوت اور اولیائے الٰہی کی قبور پر عمارت تعمیر کرنا شامل ہیں۔[5]

آیت اللہ میرزا جواد تبریزی نے شعائر حسینی کو بھی شعائر اللہ کا مصداق قرار دیا ہے؛[6] اسی بنا پر محرم کی عزاداری،[7] امام حسینؑ پر گریہ کرنا[8] اور اربعین پیدل مارچ[9] بھی شعائر اللہ کے ذیل میں شمار کئے جاتے ہیں۔

سورہ حج آیت نمبر 32 اور سورہ مائدہ آیت نمبر 2 میں شعائر اللہ کی تعظیم کا ذکر آیا ہے، تاہم ان شعائر کے دقیق مصادیق کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔[10] مفسرین نے پورے دین اسلام[11] اور ان تمام نشانیوں کو جنہیں خدا نے عبادت کے لئے مقرر فرمائی ہیں،[12] شعائر اللہ قرار دیا ہے۔[13] قرآن مجید میں صفا و مروہ اور حج کی قربانی کے اونٹ کو شعائر اللہ میں شمار کیا گیا ہے۔[14] قربانی کے جانور کی تعظیم سے مراد اسے موٹا تازہ اور عیب سے پاک رکھنا بھی بیان کیا گیا ہے۔[15]

علامہ حلی نے نماز جماعت کو شعائرِ اللہ میں شمار کیا ہے[16] اور کہا گیا ہے کہ حج کے علاوہ دیگر موضوعات میں "شعائر" کے مفہوم کو پہلی مرتبہ انہوں نے استعمال کیا ہے۔[17] صاحب جواہر نے بھی بعض فقہی احکام کے وجوب یا جواز کے اثبات کے لئے اس مفہوم سے استدلال کیا ہے۔[18]

قرآنی آیات کی روشنی میں شعائر اللہ کی تعظیم کو واجب قرار دیا گیا ہے[19] اور اسے تقوائے قلب کی علامت[20] نیز خیر و برکت کا سبب قرار دیا گیا ہے۔[21] اسی طرح اسے دین میں ایک عقلی اور عقلائی ضرورت سمجھا گیا ہے[22] جبکہ شعائرِ اللہ کی توہین کو حرام قرار دیا جاتا ہے۔[23]

محقق حلی کے مطابق اگر سرزمین شرک میں اسلامی شعائر کے اظہار کا امکان نہ ہو تو استطاعت کی صورت میں وہاں سے ہجرت کرنا واجب ہے۔[24]

حوالہ جات

  1. ↑ کورانی عاملی، الانتصار، ج9، ص223۔
  2. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص96۔
  3. ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص97۔
  4. ↑ افتخار افضلی، «آثار تعظیم شعائر الہی»، ص158۔
  5. ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج4، ص120 و 227؛ محقق حلی، شرائع الاسلام، تعلیقات محقق، ج4، ص793؛ نراقی، رسائل و مسائل، ج2، ص51؛ رحیمی، «تعظیم و بزرگداشت شعائر الهی در آینة فقه اسلامی»، ص21 و 28؛ تبریزی، صراط النجاۃ، ج2، ص439؛ منتظری، رسالہ مفتوحہ (نامه‌ای سرگشاده)، ص71 و 72۔
  6. ↑ تبریزی، صراط النجاۃ، ج2، ص562۔
  7. ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج25، ص370۔
  8. ↑ تبریزی، صراط النجاۃ، ج2، ص442۔
  9. ↑ «بیانات در ابتدای درس خارج فقه درباره پیاده‌روی اربعین»، دفتر برائے تحفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ۔
  10. ↑ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص133۔
  11. ↑ قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، ج7، ص47۔
  12. ↑ قرائتی، تفسیر نور، ج1، ص243۔
  13. ↑ بیضاوی، أنوار التنزیل، ج4، ص71۔
  14. ↑ مدرسی، مناسک حج، ص62؛ قرائتی، تفسیر نور، ج6، ص41۔
  15. ↑ قرشی بنابی، تفسیر احسن الحدیث، ج7، ص47؛ مغنیہ، التفسیر الکاشف، ج5، ص327۔
  16. ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، ج4، ص120 و 227۔
  17. ↑ صرامی، «بازخوانی دلیل تعظیم شعائر؛ حکم، موضوع و متعلق»، ص7۔
  18. ↑ نجفی، جواہر الکلام، ج2، ص52۔
  19. ↑ سبحانی، التوحید والشرک فی القرآن الکریم، ص211۔
  20. ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ج13، ص325؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج14، ص96۔
  21. ↑ افتخار افضلی، «آثار تعظیم شعائر الہی»، ص156۔
  22. ↑ «ضرورت تعظیم شعائر»، سائٹ آیت اللہ علی دوست۔
  23. ↑ صرامی، «بازخوانی دلیل تعظیم شعائر؛ حکم، موضوع و متعلق»، ص11۔
  24. ↑ محقق حلی، شرائع الاسلام، ج4، ص793۔

مآخذ

  • ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مشہد، آستان قدس رضوی، اسلامی تحقیقاتی مرکز، 1408ھ۔
  • افتخار افضلی، سیدحسین، «آثار تعظیم شعائر الہی»، مکاتبہ و اندیشہ، شمارہ 46، بہار و گرما 2013ء۔
  • «بیانات در ابتدای درس خارج فقه درباره پیاده‌روی اربعین» (درس خارج کی ابتداء میں اربعین پیدل مارچ کے حوالے سے بیان) دفتر برائے تحفظ و نشر آثار حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ، اخذ: 20 جون 2026ء۔
  • بیضاوی، عبداللہ بن عمر، أنوار التنزیل و أسرار التأویل، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1418ھ۔
  • تبریزی، میرزا جواد، صراط النجاۃ، قم، مہر، 1417ھ۔
  • رحیمی، مرتضی، «تعظیم و بزرگداشت شعائر الهی در آینه فقه اسلامی»، فقہ مدنی کے مفاہیم، شمارہ 2، 1388ہجری شمسی۔
  • سبحانی، جعفر، التوحید والشرک فی القرآن الکریم، قم، مؤسسۃ الإمام الصادق علیہ السلام، 1384ہجری شمسی۔
  • صرامی، سیف اللہ، «بازخوانی دلیل تعظیم شعائر؛ حکم، موضوع و متعلق»، فقہ، شمارہ 3، سال بیست و ششم، پاییز 1398ہجری شمسی۔
  • «ضرورت تعظیم شعائر» (تعظیم شعائر کی ضرورت)، آیت اللہ علی دوست کی آفیشل ویب سائٹ، انتشار: 11 مہر 1400، اخذ: 20 جون 2026ء۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہاء، قم، مؤسسۃ آل البیت، 1414ھ،
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، قرآنی دروس کا ثقافتی مرکز، 1388ہجری شمسی۔
  • قرشی بنابی، علی اکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت، 1375ہجری شمسی۔
  • کورانی عاملی، علی، الانتصار: مناظرات الشیعہ فی شبکات الانترنت، بیروت، دار السیرۃ، پہلی اشاعت، 1422ھ۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الاسلام، تعلیقات سید صادق حسینی شیرازی، تہران، استقلال، 1409ھ۔
  • مدرسی، سید محمد تقی، مناسک حج، قم، محبان الحسین(ع) پبلشرز، 1380ہجری شمسی۔
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، تہران، صدرا، 1389ہجری شمسی۔
  • مغنیہ، محمدجواد، التفسیر الکاشف، قم، دار الکتاب الإسلامی، 1424ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1371شمسی،
  • منتظری، حسین علی، رسالہ مفتوحہ (نامه‌ای سرگشاده)، بے جا، نشر سایہ، 1385شمسی،
  • نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔
  • نراقی، احمد بن محمدمہدی، رسائل و مسائل، قم، بزرگداشت محققان ملا مہدی و ملا احمد نراقی ، 1380ہجری شمسی۔