مسودہ:تترس
تَتَرُّس سے مراد ایسے افراد کو، جنہیں قتل کرنا شرعاً جائز نہیں، مثلاً عورتوں، بچوں اور دیوانوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا ہے۔[1] یہ مسئلہ اسلامی فقہ میں بابِ جہاد کے تحت زیرِ بحث آیا ہے۔[2] بین الاقوامی قانون کی نظر میں بھی اس عمل کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، جہاں شہریوں کو فوجی اہداف کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔[3]
فقہاء کے مطابق، بنیادی طور پر تترس حرام ہے[4] اور اس سلسلے میں مسلمان اور کافر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔[5] تاہم اگر کفار اپنی عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کریں تو حملہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ اصل ہدف خود انسانی ڈھال نہ ہوں۔[6] لیکن اگر کفار مسلمان قیدیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کریں تو بحسب ضرورت حملہ کیا جا سکتا ہے،،[7] خواہ اس کے نتیجے میں قیدی کی جان چلی جائے، بشرطیکہ اصل مقصد دشمن کو تباہ کرنا ہو۔[8] ایسی صورت میں حملہ آور پر صرف کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا۔[9]

بعض مسلمان فقہاء نے انسانی ڈھالوں کے باوجود حملہ کرنے کو بعض شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے، مثلاً جنگ کی حالت موجود ہو؛[10] فوجی ضرورت موجود ہو یا فتح کا انحصار اس اقدام پر ہو؛[11] مقصد اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہو؛[12] اور حملہ کرنے کا ارادہ دشمن کو نشانہ بنانا ہو، نہ کہ انسانی ڈھالوں کو۔[13]
فقہاء نے ان حالات میں، جب کفار انسانی ڈھالوں کا استعمال کریں، جنگ جاری رکھنے کے جواز کے لیے درج ذیل دلائل پیش کیے ہیں:
- سیرت نبویؐ کی بنیاد پر غزوۂ طائف[14] میں جب قلعے میں عورتیں اور بچے موجود تھے، رسول خداؐ نے منجنیق کے ذریعے قلعے کو تباہ کرنے کا حکم دیا تھا۔[15]
- امام جعفر صادقؑ کی حفص بن غیاث[16] سے منقول روایت کی بنیاد پر، غیر جنگجو افراد کی موجودگی جہاد میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔[17]
- جہاد کے تعطل کو روکنے[18] اور دشمن کو اس جنگی حربے سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکنے کے لیے بھی اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔[19]
بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق، صہیونی حکومت نے سنہ 2024ء میں نابلس اور غزہ کی جنگ کے دوران فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور حتیٰ کہ اس اقدام کا انہوں نے اعتراف بھی کیا۔[20] اسی طرح داعش اور جبہۃ النصرہ جیسے تکفیری گروہوں[21] نے بھی شام میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔[22]
حوالہ جات
- ↑ فیض، مبادی فقہ و اصول، 1388شمسی، ص267؛ جمعی از نویسندگان، اصطلاحات نظامی در فقہ اسلامی، 1378شمسی، ص32۔
- ↑ مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1382شمسی، ج4، ص384: نمونہ کے لیے مراجعہ کیجیے: فضلاللہ، الجہاد، 1418ھ، ص272 - 275۔
- ↑ افشار، «استناد بہ دفاع ضرورت بہعنوان عامل رافع مسئولیت بینالمللی دولت در فقہ امامیہ و حقوق بینالملل با بررسی موردی سپر انسانی (تترس)»، ص140 - 141۔
- ↑ مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1382ش، ج4، ص384۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص70۔
- ↑ محقق حلی، شرائع الإسلام فی مسائل الحلال و الحرام، 1408ھ، ج1، ص283 ؛شیخ طوسی، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، 1387ھ، ج2، ص11 -12۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص71۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص71 -72؛ شیخ طوسی، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، 1387ھ، ج2، ص12۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، 1387ھ، ج2، ص12۔
- ↑ فضلاللہ، الجہاد، 1418ھ، ص274۔
- ↑ محقق حلی، معارج الاصول، 1423ھ، ص306۔
- ↑ کاشف الغطاء، النور الساطع فی الفقہ النافع، 1381ھ، ج1، ص218۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، 1387ھ، ج2، ص12۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج21، ص70۔
- ↑ موصلی الحنفی، الإختیار لتعلیل المختار، 1426ھ، ج4، ص127 ؛ جوادینیا، «حکم فقہی چگونگی برخورد با سپر انسانی دشمنان در جنگ از دیدگاہ مذاہب اسلامی»، ص3 -9۔
- ↑ شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، 1409ھ، ج15، ص62۔
- ↑ جوادینیا، «حکم فقہی چگونگی برخورد با سپر انسانی دشمنان در جنگ از دیدگاہ مذاہب اسلامی»، ص3 -9۔
- ↑ شیخ طوسی، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، 1387ھ، ج2، ص12؛ فضلاللہ، الجہاد، 1418ھ، ص274۔
- ↑ جوادینیا، «حکم فقہی چگونگی برخورد با سپر انسانی دشمنان در جنگ از دیدگاہ مذاہب اسلامی»، ص3 -9۔
- ↑ «استفادہ اسرائیل از فلسطینیہا بہعنوان سپر انسانی»، خبرگزاری مشرق۔
- ↑ «تروریستہا از غیرنظامیان بہ عنوان سپر انسانی استفادہ میکنند»، خبرگزاری مشرق۔
- ↑ «النصرہ از مردم بہ عنوان سپرانسانی استفادہ میکند»، خبرگزاری مشرق۔
مآخذ
- افشار، مجتبی، سیدقاسم زمانی و عباسعلی عظیمی شوشتری، «استناد بہ دفاع ضرورت بہعنوان عامل رافع مسئولیت بینالمللی دولت در فقہ امامیہ و حقوق بینالملل با بررسی موردی سپر انسانی (تترس)»(ضرورت دفاع کو امامیہ فقہ اور بین الاقوامی قانون میں ریاست کی بین الاقوامی ذمہ داری کو ختم کرنے والے عامل کے طور پر تسلیم کرنا، انسانی ڈھال (ہیومن شیلڈ) کے موردِ مطالعہ کے ساتھ۔)، شہری فقہ کی تعلیمات جریدہ، دورہ 14، شمارہ 25، خرداد 1401ہجری شمسی۔
- ابننجیم، سراج الدین عمر بن ابراہیم حنفی، النہر الفائق، بیجا، دار الکتب العلمیہ، 1422ھ۔
- جمعی از نویسندگان، اصطلاحات نظامی در فقہ اسلامی، تہران، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نمایندگی ولی فقیہ، 1378ہجری شمسی۔
- «استفادہ اسرائیل از فلسطینیہا بہعنوان سپر انسانی»(اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا) ، مشرق نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 24 اگست 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 8 ستمبر 2025ء۔
- https://www.mashreghnews.ir/news/962596 «النصرہ از مردم بہ عنوان سپرانسانی استفادہ میکند»(النصرہ عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے)، مشرق نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 29 مئی 2019ء، تاریخ مشاہدہ: 8 ستمبر 2025ء۔
- https://www.mashreghnews.ir/news/1010211«تروریستہا از غیرنظامیان بہ عنوان سپر انسانی استفادہ میکنند»(دہشت گرد غیر فوجی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں)، مشرق نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 15 نومبر 2019ء، تاریخ مشاہدہ: 8 ستمبر 2025ء۔
- جوادینیا، میثم، «حکم فقہی چگونگی برخورد با سپر انسانی دشمنان در جنگ از دیدگاہ مذاہب اسلامی»(جنگ میں دشمن کی طرف سے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے والے افراد سے نمٹنے کا فقہی حکم، اسلامی مذاہب کی نظر میں)، سہ ماہی علمی جریدہ ’’جدید فقہ و حقوق‘‘، دورہ 5، شمارہ 13، بہار 1402ہجری شمسی۔
- زبیدی، مرتضی، تاج العروس من جواہر القاموس، بیروت، دارالفکر، 1373شمسی/1414ھ۔
- سبحانی، جعفر، فروغ ابدیت، قم، بوستان کتاب، 1385ہجری شمسی۔
- شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام، 1409ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، تہران، مکتبۃ المرتضویۃ، 1387ھ۔
- فیض، علیرضا، مبادی فقہ و اصول، تہران، موسسہ فرہنگی ہنری دانشپذیر، نویں اشاعت، 1388ہجری شمسی۔
- فضلاللہ، محمدحسین، الجہاد، بیروت، دار الملاک للطباعۃ و النشر و التوزیع، 1418ھ/1998ء۔
- کاشفالغطاء، علی، النور الساطع فی الفقہ النافع، نجف، مطبعہ الآداب، 1381ق/1961م.
- محقق حلی، جعفر بن حسن، شرائع الإسلام فی مسائل الحلال و الحرام ، قم، انتشارات اسماعیلیان، 1408ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، بیروت، دار إحیاء التراث العربی،1362ہجری شمسی۔
- محقق حلی، جعفر بن حسن، معارج الأصول، لندن، موسسہ الأمام علی(ع)، 1423ھ/2003ء۔
- مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہلبیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، 1382ہجری شمسی۔
- موصلی الحنفی، عبداللہ بن محمود، الإختیار لتعلیل المختار، تحقیق: عبداللطیف محمد عبدالرحمن، بیروت، دار الکتب العلمیہ، تیسری اشاعت، 1426ھ۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1362ہجری شمسی۔