مسودہ:ارہاص
اِرہاص سے مراد وہ غیر معمولی اور خارق العادت واقعات ہیں جو انبیاء کی بعثت سے پہلے، مثلاً ان کی ولادت یا بچپن کے دور میں رونما ہوتے ہیں۔[1] ان واقعات کو انبیاء کی نبوت کے لئے تمہید[2] یا علامت قرار دیا جاتا ہے۔[3] شہید مطہری ارہاصات کو انبیاء کی نبوت کے لئے پیشگی علامات قرار دیتے ہیں اور سنہ عام الفیل میں ابرہہ کے لشکر کی شکست[4] کو پیغمبر اسلامؐ کی بعثت کی پیشگی علامات میں شمار کیا ہے۔[5]
ارہاصات کی مثالوں میں حضرت موسی کا دریائے نیل سے نجات پانا،[6] حضرت عیسیٰ کی بغیر والد ولادت[7] اور ان کا گہوارے میں کلام کرنا[8] شامل ہیں۔ اسی طرح پیغمبر اسلامؐ کی ولادت کے موقع پر آتشکدہ فارس کا بجھ جانا، ایوانِ کسریٰ کے ستونوں[9] اور بتوں کا منہ کے بل گر پڑنا[10] بھی ارہاصات میں شمار کئے گئے ہیں۔
ارہاص معجزہ اور کرامت سے مختلف ہے۔ ارہاص ایسا غیر معمولی واقعہ ہے جو انبیاء کی بعثت سے پہلے[11] کسی پیغمبر کی نبوت سے متعلق رونما ہوتا ہے۔[12] اس میں نبوت کا دعویٰ اور تحدی (مخالفین کو مقابلے کا چیلنج دینا) شامل نہیں ہوتا۔[13] اس کے برعکس، معجزہ ایسا خارق العادت امر ہے جسے متعلقہ پیغمبر اپنی نبوت کے اثبات کے لئے تحدی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔[14] جبکہ کرامت ایسا غیر معمولی واقعہ ہے جو کسی غیر نبی سے صادر ہوتا ہے، اس میں نہ تحدی ہوتی اور نہ ضرورتا اس کا تعلق کسی دین کی دعوت یا نبی کی نبوت کے اثبات سے ہوتا ہے۔[15]
بعض متکلمین نے ارہاص کو معجزے کی ایک قسم قرار دیا ہے۔[16] بعض منابع میں غیر انبیاء سے متعلق غیر معمولی واقعات کے لئے بھی ارہاص کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ ان واقعات میں امام علیؑ کا ولادت کے وقت سورہ مومنون کی تلاوت کرنا اور حضرت فاطمہ(س) کا شکمِ مادر میں کلام کرنا شامل ہیں۔[17]
حوالہ جات
- ↑ جعفری، تفسیر کوثر، ج3، ص300؛ طہرانی، «مہر تابان»، ویب سائٹ مکتب وحی، ص329-330۔
- ↑ فیاض لاہیجی، سرمایۂ ایمان در اصول اعتقادات، ص94۔
- ↑ تہانوی، موسوعۃ کشاف اصطلاحات، مکتبۃ لبنان، ج1، ص141۔
- ↑ مجلسی، لوامع صاحبقرانی، ج7، ص243۔
- ↑ مطہری، مجموعۂ آثار، ج28، ص786۔
- ↑ جعفری، تفسیر کوثر، ج3، ص300۔
- ↑ علوی عاملی، علاقۃ التجرید، ج2، ص926۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ج21، ص534۔
- ↑ فیاض لاہیجی، سرمایۂ ایمان در اصول اعتقادات، ص94۔
- ↑ رسولی محلاتی، تاریخ تحلیلی اسلام، ج1، ص145۔
- ↑ طوسی، تلخیص المحصل، ج1، ص350؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ج5، ص13۔
- ↑ فیاض لاہیجی، سرمایۂ ایمان در اصول اعتقادات، ص94۔
- ↑ تفتازانی، شرح المقاصد، ج5، ص11۔
- ↑ فیاض لاہیجی، سرمایۂ ایمان در اصول اعتقادات، ص94۔
- ↑ مکارم، تفسیر نمونہ، ج13، ص45۔
- ↑ تفتازانی، شرح المقاصد، ج5، ص13۔
- ↑ طہرانی، مہر تابان، باقرالعلوم، ص329-330۔
مآخذ
- تفتازانی، سعدالدین، شرح المقاصد، تحقیق: عبدالرحمن عمیرہ، قم، الشریف الرضی، پہلی اشاعت، 1409ھ۔
- تہانوی، محمدعلی بن علی، موسوعۃ کشاف اصطلاحات الفنون و العلوم، تحقیق: علی فرید دحروج، بیروت، مکتبۃ لبنان ناشرون، بے تا۔
- جعفری، یعقوب، تفسیر کوثر، قم، ہجرت پبلشرز، 1377ہجری شمسی۔
- رسولی محلاتی، سید ہاشم، درسہایی از تاریخ تحلیلی اسلام، قم، پاسدار اسلام، 1371ہجری شمسی۔
- طوسی، خواجہ نصیرالدین، تلخیص المحصل، بیروت،دار الاضواء، دوسری اشاعت، 1405ھ۔
- طہرانی، سید محمدحسین، «مہر تابان»، سایت مکتب وحی، تاریخ مشاہدہ: 13 اکتوبر 2026ء
- علوی عاملی، میر سید محمد، علاقۃ التجرید، تہران، نشر انجمن آثار و مفاخر فرہنگی، پہلی اشاعت، 1381ہجری شمسی۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، دار إحیاء التراث العربی، بیروت، الطبعۃ: الثالثۃ - 1420ھ۔
- فیاض لاہیجی، سرمایہ ایمان در اصول اعتقادات، تہران، الزہراء پبلشرز، تیسری اشاعت، 1372ہجری شمسی۔
- مجلسی، محمدتقی بن مقصودعلی، لوامع صاحبقرانی، قم، مؤسسہ اسماعیلیان، دوسری اشاعت، 1414ھ۔
- مکارم، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، بتیسویں اشاعت، 1374ہجری شمسی۔