مندرجات کا رخ کریں

"بداء" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
سطر 154: سطر 154:
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
== نوٹ ==
{{یادداشت‌ها}}


== مآخذ ==
== مآخذ ==

نسخہ بمطابق 13:45، 6 نومبر 2024ء

شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحیدتوحید ذاتیتوحید صفاتیتوحید افعالیتوحید عبادیصفات ذات و صفات فعل
فروعتوسلشفاعتتبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبحبداءامر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام اعجازعدم تحریف قرآن
امامت
اعتقاداتعصمت ولایت تكوینیعلم غیبخلیفۃ اللہ غیبتمہدویتانتظار فرجظہور رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخمعاد جسمانی حشرصراطتطایر کتبمیزان
اہم موضوعات
اہل بیت چودہ معصومینتقیہ مرجعیت


بَداء علم کلام کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی خدا کی طرف سے بندوں کے توقع کے برخلاف کسی چیز کا ظاہر اور آشکار ہونا ہے۔ امامیہ علماء کے مطابق تکوینی امور میں بداء تشریعی امور میں نسخ کی طرح ہے۔ بداء شیعہ اعتقادات میں خاص مقام کا حامل ہے؛ یہاں تک کہ شیعہ احادیث میں بداء پر عقیدہ رکھنے کو شیعوں کے اہم اعتقادات میں شمار کیا گیا ہے۔ بداء کو مذہب تشیع کے مخصوص اعتقادات بھی شمار کیا جاتا ہے۔

بعض اہل‌ سنت علماء کہتے ہیں کہ بداء پر عقیدہ رکھنے کا لازمہ خدا کی طرف جہل اور پشیمانی کی نسبت دینا ہے۔ ان کے مطابق بداء کا مطلب یہ ہے کہ خدا پہلے کسی چیز کے بارے میں ایک طرح علم رکھتا تھا پھر اسے اس کا برعکس ظاہر ہو جاتا ہے۔ ان کے مقابلے میں امامیہ علماء اپنے عقیدے میں بداء کے اس معنی کو مسترد اور شیعہ ائمہ کی احادیث سے استناد کرتے ہوئے اہل سنت کے مورد نظر معنی کو خدا کی طرف نسبت دینے کو کفر قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا کی طرف بداء کی نسبت دینے کا مطلب یہ ہے کہ خدا اپنی قدرت اور ارادے کے ساتھ متوقع چیز کو محو کر کے اس کی جگہ کسی نئی چیز کو ظاہر کرتا ہے اور خدا دونوں چیزوں سے آگاہ اور واقف ہیں۔

احادیث میں بداء پر اعتقاد رکھنے کے کچھ آثار ذکر کی گئی ہیں جن میں مؤمنین کے دلوں میں خدا پر امید پیدا ہونا، بعض اعمال جیسے دعا و توسل وغیرہ کا اہتمام کرنا نیز توبہ اور گناہوں کی بخشش پر ایمان لانا وغیرہ شامل ہیں۔

تعریف اور اہمیت

«بِداء» علم کلام کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی خدا کی طرف سے بندوں کے توقع کے برخلاف کسی چیز کا ظاہر ہونا ہے۔ بداء میں خدا پہلی چیز کو محو کر کے دوسری چیز کو تحقق بخشتا ہے جبکہ خدا دونوں چیزوں پر عمل رکھتا ہے۔[1] شیخ مفید کے مطابق خدا کی طرف سے عام طور پر لوگوں کی توقع کے برخلاف کسی چیز کے ظاہر ہونے کو بداء کہا جاتا ہے۔[2]

بداء کو شیعوں کے مخصوص عقائد میں شمار کیا جاتا ہے۔[3]

بداء اور نسخ

میرداماد اپنی کتاب نبراس الضّیاء میں کہتے ہیں کہ تکوینی امور میں بداء تشریعی امور میں نسخ کی طرح ہے۔[4] کتاب اصل الشیعہ و اصولہا میں محمد حسین کاشف‌ الغطاء کے مطابق جس طرح خدا بعض مصلحتوں کی بنا پر شرعی احکام میں سے کسی حکم کو نسخ کر کے اس کی جگہ کسی نئے حکم کو وضع کرتا ہے اسی طرح تکوینی اور خارجی امور میں بعض اوقات کسی تکوینی حقیقت کا ارادہ کرتا ہے اور چہ بسا اس کے بارے میں مقرب ملائکہ یا انبیاء میں سے کسی نبی کو اس چیز کے واقع ہونے کی خبر دی جاتی ہے اور وہ پیغمبر بھی اپنی امت کو اس چیز کی خبر دیتے ہیں؛ لیکن بعد میں بعض مصلحتوں اور علل و اسباب کی بنا پر جس سے خدا کے سوا کوئی واقف نہیں ہوتا، وہ واقعہ یا وہ چیز رونما نہیں ہوتی یا اس کی جگہ کوئی اور واقعہ یا چیز واقع ہو جاتی ہے اور یہ وہی بداء ہے۔[5]

اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ احادیث میں بداء کا مفہوم بہت وسیع ہے جس میں تکوینی امور بھی شامل ہیں جیسے صلہ رحم کی وجہ سے کسی کی موت کا مؤخر ہونا یا کسی گناہ کی وجہ سے اس کی موت جلدی واقع ہونا اسی طرح تشریعی امور کو بھی شامل کرتا ہے جیسے گذشتہ ادیان یا ان کے بعض احکام کا نسخ ہونا جیسے تغییر قبلہ۔[6]

شیعوں کے یہاں بداء کی اہمیت

بداء شیعہ اعتقادات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔[7]آیت الله جعفر سبحانی کے مطابق شیعوں کی کوئی کلامی یا فلسفی کتاب ایسی نہیں ملے گی جس میں بداء کے بارے میں بحث نہ ہوئی ہو اسی بنا پر اس موضع پر شیعہ علماء کی طرف سے متعدد کتابیں اور رسالہ جات تحریر کئے گئے ہیں۔[8] آقا بزرگ تہرانی الذریعہ میں تقریبا 25 مدوّن کتابوں یا رسالہ جات کا نام لیتے ہیں جنہیں بداء کے بارے میں تحریر کئے گئے ہیں۔[9]

شیعہ حدیثی منابع میں بداء سے مربوط احادیث کو مستقل ابواب میں ذکر کی گئی ہیں۔ مثلا کلینی نے کتاب الکافی میں «باب البداء» کے نام سے ایک مستقل باب متخص کر کے اس میں بدائ کے بارے میں موجود 16 احادیث کو ذکر کیا ہے۔[10] شیخ صدوقنے کتاب التوحید میں بداء کے بارے میں ایک مستقل باب معین کر کے اس سلسلے میں موجود 11 احادیث کو نقل کیا ہے۔[11] اسی طرح علامہ مجلسی نے کتاب بحار الانوار میں 70 احادیث کو اس باب میں ذکر کیا ہے جن میں لفظ بداء پر تصریح کی گئی ہے اس کے علاوہ اس باب میں ان احادیث کو بھی نقل کیا ہے جو استجابت دعا اور صدقہ کی اہمیت میں صادر ہونے والی احادیث کو بھی اس باب میں نقل کیا ہے اور بداء کے اثبات کے لئے ان سے بھی استناد کیا جاتا ہے۔[12]

بداء ان مسائل میں سے ہے جن کے بارے میں عقیدہ رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس کی سفارش کی گئی ہے۔ زرارہ کے توسط سے امام باقرؑ یا امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ : «مَا عُبِدَاللَّہُ بِشَيْ‌ءٍ مِثْلِ الْبَدَاءِ؛ بداء کی طرح کسی اور چیز کے ذریعے خدا کی عبادت نہیں کی گئی ہے۔»[13] اسی طرح ہِشام بن سنہم نے امام صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ: «مَا عُظِّمَ اللَّہُ بِمِثْلِ الْبدَاءِ؛ بداء کی طرح کسی چیز کے ذریعے خدا کی عظمت اور بزرگی بیان نہیں کی گئی ہے۔»[14]

عقیدۂ بداء پر ہونے والے اعترضات

مذہب معتزلہ کے متکلم اور مفسر عبد اللہ بن احمد کعبی بلخی[15] (متوفی: 319ھ) اور فخر رازی[16] نے بداء پر شیعہ عقیدے کو خدا کی طرف جہل کی نسبت دینے اور خدا کے علم اور ارادے میں تبدیلی آنے کا لازمہ قرار دیا ہے۔ اس بنا پر بعض وہابی علماء نے اسی عقیدے کی بنا پر شیعوں پر لعن طعن کیا ہے۔[17] ان کے مطابق شیعہ امامیہ کے یہاں بداء کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے نظریے کی بنیاد پر کوئی کام انجام دینا چاہتا ہے لیکن بعد میں اس کا نظریہ تبدیل ہوتا ہے جس کے سبب اس کام کو انجام دینے کا عزم و ارادہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے، یہ تبدیلی اس چیز کی مصلحت کے بارے میں متعلقہ شخص کی لا علمی یا اس کام کی انجام دہی سے متعلق اس کی پشیمانی اور منصرف ہونے کی بنا پر وجود میں آتی ہے۔[18]

شیعہ امامیہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ بداء کا یہ مفہوم انسان پر تو قابل صدق ہے لیکن خدا کی طرف اس کی نسبت‌ دینا کفر کا موجب بنے گا۔[19] شیعہ ائمہ سے منقول احادیث کے مطابق بداء کے اس مفہوم کو خدا کی طرف نسبت دینے سے منع کیا گیا ہے[20] مثلا امام صادقؑ سے منقول ہے کہ:

  • «جو شخص یہ گمان کرے کہ خدا کے یہاں کوئی چیز پشیمانی کی وجہ سے آشکار ہوا ہے، یہ شخص ہمارے نیزدیک سب سے بڑا کافر ہے۔»
  • «خدا کے لئے کوئی چیز آشکار نہیں ہوتی، مگر یہ کہ وہ چیز پہلے سے خدا کے علم میں موجود ہوتی ہے»۔[21]
  • «خدا کے لئے کوئی چیز اس کی بنسبت جہالت کی وجہ سے آشکار نہیں ہوتی۔»[22]

بداء پر اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف صرف لفظی ہے

شیخ مفید اس بات کے متعقد ہیں کہ «بداء» کے مسئلے میں امامیہ کے ساتھ دوسرے اسلامی مذاہب کا اختلاف صرف اور صرف لفظی اختلاف ہے؛ کیونکہ کوئی بھی اسلامی مذہب یا فرقہ اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ خدا نے مختلف ادیان اور احکام کی تشریع کے بعد انہیں نسخ کرتا ہے، اسی طرح خدا کسی زندہ شخص کو موت دے دیتا ہے یا یہ کہ خدا کسی امیر شخص کو جسے دولت سے نوازا گیا ہے فقیر اور نادار بنا دیتا ہے۔[23] شیخ مفید کہتے ہیں کہ یہ مذکورہ امور وہی بداء ہے جس کی طرف آیات اور احادیث میں اشارہ کیا گیا ہے جس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہے۔[24] علامہ طباطبائی بھی اس اختلاف کو صرف لفظی اختلاف قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر اس مسئلہ میں دقت اور غور و فکر کی جائے تو کوئی نزاع یا اختلاف باقی نہیں رہتا ہے۔[25]

اہل‌ سنت حدیثی منابع میں بعض احادیث بھی نقل ہوئی ہیں جن میں بداء کے مسئلے پر بھی تصریح کی گئی ہے[26] اور صلہ رحم اور استجابت دعا کے بارے میں بھی احادیث نقل ہوئی ہیں جو بداء کے مسئلے پر بھی دلالت کرتی ہیں۔[27]

بداء اور خدا کے علم میں تبدیلی کا شبہہ

امام صادقؑ:

إِنَّ لِلَّہِ عِلْمَیْنِ: عِلْمٌ مَکْنُونٌ مَخْزُونٌ لَا یَعْلَمُہُ إِلَّا ہُوَ، مِنْ ذَلِکَ یَکُونُ الْبَدَاءُ و عِلْمٌ عَلَّمَہُ مَلَائِکَتَہُ وَ رُسُلَہُ وَ أَنْبِیَاءَہُ فَنَحْنُ نَعْلَمُہُ؛ خدا کے لئے دو علم ہے: ایک علم مخزون جس سے خدا کے سوا کوئی واقف نہیں اور بداء علم کی اسی قسم سے مربوط ہے، دوسرا وہ علم جسے خدا ملائکہ اور انبیاء کو تعلیم دیتا ہے اور ہم انسان بھی اس سے آگاہ ہوتے ہیں۔

کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص147۔

امامیہ کے مطابق خدا کی طرف بداء کی نسبت دینا خدا کے علم میں تبدیلی آنے کا سبب نہیں بنتا ہے۔[28] بعض امامیہ علماء جیسے علامہ مجلسی اور علامہ طباطبائی سورہ رعد آیت نمبر 39[یادداشت 1] اسی طرح اس آیت کے ذیل میں ائمہ معصومینؑ سے نقل ہونے والی احادیث[29] سے استناد کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ خدا نے دو قسم کے لوح کو خلق کیا ہے اور کائنات میں رونما ہونے والی ہر چیز کو ان میں درج کرتا ہے: ان میں سے ایک لوح محفوظ ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی؛ اور دوسرا لوح محو و اثبات ہے جس میں خدا کوئی چیز درج کرتا ہے لیکن بعد میں مختلف مصلحتوں کی بنا پر اسے محو کر کے اس کی جگہ کوئی اور چیز ثبت کرتا ہے اور خدا ان تمام چیزوں سے آگاہ ہے۔ بطور مثال ممکن ہے خدا کسی مصلحت کی بنا پر جس کے بارے میں وہ خود جانتا ہے، کسی شخص کے لئے 50 سال عمر لکھ دیتا ہے اور جب یہ شخص صلہ رحم انجام دیتا ہے یا صدقہ دیتا ہے تو اس کے 50 سالہ عمر کو محو کر کے اس میں اضافہ کر دیتا ہے یا اس کے برعکس۔ امامیہ اس لوح میں آنے والی تبدیلی کو جس میں خدا پہلی اور بعد والی چیز دونوں سے آگاہ ہیں، بداء کہتے ہیں۔[30]

شیعہ مفسیر قرآن اور فلسفی آیت اللہ جوادی آملی کہتے ہیں کہ خدا کے ذاتی علم میں بداء واقع نہیں ہوتا؛ بلکہ بداء خدا کے فعلی علم میں واقع ہوتا ہے۔[31] ان کے مطابق علم ذاتی ازلی اور ابدی ہے جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی جبکہ علم فعلی فعل اور حادث اور قابل تبدیل ہے۔[32]

بداء خدا کی طرف جہل کی نسبت نہیں ہے

شیعہ عالم دین ملا صالح مازندرانی کہتے ہیں کہ خدا کا علم ازلی ہے اور شروع سے خدا کے علم میں تھا کہ فلان چیز ایک معینہ مدت میں اس کی مصلحت ختم ہونے کی بنا پر ختم ہوگی یا اگر اس کی مصلحت دوبارہ واپس آئے تو اس چیز بھی دوبارہ وجود میں لائی جائے گی، اور جو شخص اس مطلب کے خلاف عقیدہ رکھے مثلاً کہے کہ خدا آج کسی چیز کے بارے میں علم رکھتا ہے جس کے بارے میں پہلے علم نہیں رکھتا تھا، تو یہ شخص خدا کا منکر اور کافر شمار ہوگا۔[33]

آیت اللہ جوادی آملی کے مطابق خداوند عالم تمام اشیاء پر ازل سے ابد تک علم شہودی رکھتا ہے اور اس کائنات میں رونما ہونے والے تمام واقعات اور حوادث اور ان میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی خدا آگاہ ہیں اور خدا جانتا ہے کہ کس وقت کونسا واقعہ رونما ہونا ہے اور کونسا واقعہ ختم ہونا ہے۔ بنابراین خدا کے یہاں بداء نامی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہے؛ بلکہ خدا کے یہاں ابداء ہے؛ یعنی جو چیز انسانوں کے یہاں آشکار نہیں ہے خدا اسے آشکار اور ابداء کرتا ہے۔[34]

تاریخ میں بداء کے نمونے

تاریخ میں بداء کے کچھ نمونے جن کی طرف بعض قرآنی آیات اور احادیث میں اشارہ ہوا ہے درج ذیل ہیں:

  • سورہ یونس آیت نمبر 98 کے مطابق قوم یونس کی نافرمانی ان پر خدا کے عذاب کا سبب بنا اور حضرت یونس نے جب ان کو غیر قابل ہدایت اور عذاب کا مستحق پایا تو ان کو چھوڑ کر چلے گئے؛ لیکن جب ان کی قوم میں سے ایک دانشور نے خدا کے عذاب کے آثار کا مشاہدہ کیا تو ان کو جمع کر کے توبہ کرنے کی دعوت دی۔ قوم یونس نے بھی ان کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے توبہ کیا جس پر وہ عذاب جس کے آثار نمایاں ہو گئے تھے، برطرف ہوگیا۔[35]
  • سورہ صافات آیت نمبر 102 سے 107 کے مطابق جب حضرت ابراہیم کو ان کے بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم کی تعمیل کے لئے حضرت اسماعیل کو قربان گاہ پر لے گیا؛ لیکن جب حضرت ابراہیم نے بیٹے کی قرآنی دینے پر آمادگی کا اظہار کیا تو بداء حاصل ہوا اور آشکار ہوگیا کہ یہ خدا کی طرف سے ایک امتحان تھا تاکہ حضرت ابراہیم کی اطاعت اور حضرت اسماعلی کی فرمانبرداری کا امتحان لیا جائے۔[36]
  • سورہ اعراف آیت نمبر 142 کے مطابق حضرت موسی کو شروع میں 30 دن اپنی قوم کو ترک کرنے اور خدا سے الواح دریافت کرنے کے لئے وعدہ گاہ پر حاضر رہنے کا حکم دیا گیا تھا لیکن بعد میں 10 کا اضافہ کیا گیا اور بنی‌ اسرائیل کی آرامش کے لئے 30 دن سے زیادہ وعدہ گاہ پر باقی رہا۔[37]
  • تاریخ امامیہ میں بداء کے موضوع پر پیش آنے والے واقعات میں سے ایک امام صادقؑ کے بڑے بیٹے اسماعیل کی موت[38] اور دوسرا واقعہ امام ہادیؑ کے بڑے بیٹے محمد کی موت ہے[39] جن کے بارے میں یہ گمان تھا کہ امام صادقؑ کے بعد آپ کے بیٹے اسماعیل اور امام ہادیؑ کے بعد آپ کے بیٹے محمد شیعوں کے امام ہوںگے؛ لیکن ان کے والد ماجد کی زندگی میں ان کی موت سے بداء حاصل ہوا اور مشخص ہوگیا کہ مذکورہ ائمہ کے بعد ان کی دوسری اولاد امام ہیں۔[40]

بداء پر اعتقاد کے فوائد

بداء پر اعتقاد رکھنے کے کچھ فوائد ذکر کئے ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • بداء پر اعتقاد رکھنے کا سب سے اہم فائدہ یا اثر خدا کی قدرت مطلقہ کا اقرار اور اس عقیدے کی مضبوطی ہے۔ اس طرح کہ اگر کسی خاص وقت میں کوئی خاص واقعہ رونما ہونا خدا کی مشیت میں ہو تو پھر بھی خدا اس کو تغییر دے سکتا ہے، یہاں تک کہ وہ واقعہ یا اس معینہ وقت میں رونما ہی نہ ہو یا اس کی جگہ کوئی اور واقعہ رونما ہو۔ [41]
  • بداء پر اعتقاد رکھنے سے مؤمنین کے دلوں میں امید کی روشنی پھیلنے کا سبب بنتا ہے اور دعا کی قبولیت اور دوسری حاجتوں کے لئے صرف خدا پر امید رکھنے اور غیر خدا سے قطع امید کا سبب قرار پاتا ہے۔[42]
  • بداء سے انکار کا لازمہ تقدیر پر سو فیصد ایمان رکھنے اور جو کچھ تقدیر میں لکھا گیا ہے بغیر کسی استثناء کے واقع ہونے پر اعتقاد رکھنے کا موجب بنتا ہے جس سے یہ غلط تصور پیدا ہو سکتا ہے کہ جب جو کچھ تقدیر میں ہے رونما ہونا ہے تو پھر دعا، توسل، تضرع اور استغفار وغیرہ کا کیا فائدہ؟؛[43] حالانکہ کوئی بھی مسلمان ان امور کے بے فائدہ ہونے کا قائل نہیں ہے۔[44]
  • بداء پر اعتقاد رکھنا خدا کی طرف سے توبہ اور شفاعت کی قبولیت اور گناہان کبیرہ سے اجتناب کی صورت میں صغیرہ گناہوں سے عفو و درگزر کئے جانے کے عقیدے میں تقویت کا موجب بنتا ہے۔[45]

بداء کے بارے میں بعض شیعہ علماء کا متفاوت نظریہ

خواجہ نصیر طوسی فخر رازی کے جواب میں جو بداء کو شیعوں کے ابتکارات میں سے مانتا تھا،[46] کہتے ہیں کہ بداء شیعوں کے اعتقادات میں سے نہیں ہے اور اس کے بارے میں صرف ایک خبر واحد موجود ہے اور شیعوں کے یہاں اس طرح کی احادیث حجیت اور معتبر نہیں ہے۔[47] ملاصدرا اصول کافی پر اپنی شرح میں اور علامہ مجلسی اپنی کتاب مرآۃ العقول میں خواجہ نصیر الدین طوسی کے اس نظریے کو شیعہ احادیث کی نسبت ان کی معلومات میں کمی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔[48]

اس کے باوجود سید محمد صادق روحانی اس بات کے معتقد ہیں کہ خواجہ نصیر کا یہ نظریہ فخر رازی کی بداء کی تفسیر سے مربوط ہے جس سے خدا کی طرف جہل اور پشیمانی کی نسبت دینا لازم آتا ہے، اور خواجہ نصیر بداء کے اس معنی کو شیعوں کی طرف سے انکار کرتا ہے۔[49] البتہ شیعہ فقیہ اور متکلم فاضل مقداد (متوفی: 826ھ) بھی بداء کے منشاء کو خبر واحد قرار دیتے ہیں اگر اسے مان بھی لیا جائے تو یہ نسخ پر حمل ہوگا۔[50] وہ بداء پر عقیدہ رکھنے کو زیدیہ کی طرف نسبت دیتے ہیں۔[51]

کتابیات

«آموزہ بداء و کتابشناسی آن» نامی مقالے میں «بداء» کے موضوع پر علماء اور محققین کی جانب سے 60 سے زیادہ کتابیں معرفی کی گئی ہے۔[52] ان میں سے بعض آثار درج ذیل ہیں:

  • رسالہ «اِجابۃُ الدّعاء فی مسألۃِ الْبَداء»، تحریر، سید محمد کاظم عصار: یہ رسالہ جو کہ استجابت دعا اور اس سے مربطو موضوعات یعنی بداء کے بارے میں فلسفی مباحث پر مشتمل ہے، دو اور رسالوں کے ساتھ «ثلاثُ رسائل فی الْحکمۃِ الْالہیہ» کے نام سے ایک مجموعے کی صورت میں تدوین اور شایع ہوا ہے۔[53]
  • کتاب «البداءُ عِندِ الشَیعۃ»، تحریر، سید علی علامہ فانی اصفہانی (1333-1409ھ)، شیعہ فقیہ اور سید ابو الحسن اصفہانی کے شاگردوں میں سے: اس کتاب کا «بداء از نظر شیعہ» کے عنوان سے فارسی بھی ترجمہ ہوا ہے۔
  • کتاب «رسنہتانِ فی البداء»: این کتاب مشتمل بر دو رسنہہ مختصر دربارہ مسئلہ بداء از دو فقیہ و قرآن‌پژوہ شیعہ، محمدجواد بلاغی و سید ابوالقاسم خوئی است۔
  • کتاب «البداءُ عِندَ الشّیعۃِ الْامامیہ»، تألیف، سید محمد کلانتر: یہ کتاب سنہ 1975ء میں انتشارات جامعۃُ النَّجفِ الدَینیہ سے نجف اشرف میں شایع ہوئی ہے۔
  • کتاب البداءُ علیٰ ضَوءِ الْکتابِ و السُّنہ، تألیف جعفر سبحانی۔

متعلقہ مضامین

تاریخ کے آئینے میں

فخر رازی اور سلیمان بن جریر زیدی جیسی شخصیات بداء کو شیعوں کی ایجادات قرار دیتے ہیں۔[54][55]؛ شہرستانی بھی اپنی کتاب "الملل و النحل" میں بَداء کے عقیدے کی ابتداء کو کیسانیہ مذہب کا مختار ثقفی کی مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد جس میں انکی کامیابی کا وعدہ دیا تھا، قرآن کی آیت یمْحُوا اللَّہ ما یشاءُ وَ یثْبِتُ، ترجمہ: خدا ہر چیز کو جو وہ جاہے ختم کردیتا ہے اور ہر اس چیز کو جو وہ چاہے ثابت کرتا ہے۔ [56] سے استناد کرنا قرار دیتا ہے۔ [57]

شیعوں کی تاریخ میں بداء کے حوالے سے جو اہم تاریخی بات ذکر ہوتی ہے وہ امام صادق(ع) کے بڑے بیٹے اسماعیل جو امام کی زندگی ہی میں فوت ہو چکے تھے کا امام کا جانشین ہونے کے حوالے سے ہے۔ اس حوالے سے امام صادق(ع) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ما بدا لله بداء کما بدا له فی إسماعیل ابنی، یقول : ما ظهر لله أمر کما ظهر له فی إسماعیل ابنی إذ اخترمه قبلی لیعلم بذلک أنه لیس بإمام بعدی [58] ، ترجمہ: خدا کیلئے میرے بیٹے اسماعیل کے بارے میں حاصل ہونے والے بداء کی طرح کوئی بداء حاصل نہیں ہوا ہے یعنی خدا کیلئے میرے بیٹے اسماعیل کے بارے میں ظاہر ہونے والی چیز کی طرح کوئی چیز ظاہر نہیں ہوا چونکہ اسے مجھ سے پہلے موت دی گئی تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ وہ میرے بعد امام نہیں ہے۔

بہر حال قرآن کریم کا بداء کے بارے میں بیان اور اہل سنت کے احادیث میں اس موضوع پر احادیث کا پایا جانا جیسے صحیح بخاری میں پیغمبر اکرم سے احادیث نقل کی گئی ہے،[59] اس عقیدے کو شیعوں کی ایجادات میں سے قرار دینے کے دعوے کو باطل کردیتا ہے۔

قرآن میں

قرآن کریم میں مختلف آیات سے بداء کا مفہوم استفادہ ہوتا ہے جنہیں یوں تقسیم کر سکتے ہیں:

  • وہ آیات جو قضا و قدر کی دو، حتمی اور غیرحتمی نوعیت بیان کرتی ہیں اور اس طرح بعض مقدرات میں تبدیلی کو جائز قرار دیتی ہیں۔جیسے سورہ رعد کی آیت نمبر ۳۹ ۔ یا وہ آیات جو انسان‌ کی موت کو حتمی اور غیرحتمی میں تقسیم کرتی ہیں۔[60] [61]
  • وہ آیات جو انسانوں کی تقدیر میں تبدیلی کو ان کے اختیاری افعال کا نتیجہ قرار دیتی ہیں:
  1. لَه مُعَقِّباتٌ مِنْ بَینِ یدَیه وَ مِنْ خَلْفِه یحْفَظُونَه مِنْ أَمْرِ الله إِنَّ اللَّه لا یغَیرُ ما بِقَوْمٍ حَتَّی یغَیرُوا ما بِأَنْفُسِهمْ وَ إِذا أَرادَ اللَّه بِقَوْمٍ سُوْءاً فَلا مَرَدَّ لَه وَ ما لَهمْ مِنْ دُونِه مِنْ والٍ۔ ترجمہ: اس کے لئے سامنے اور پیچھے سے محافظ طاقتیں ہیں جو حکم هخدا سے اس کی حفاظت کرتی ہیں اور خدا کسی قوم کے حالات کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے کو تبدیل نہ کرلے اور جب خدا کسی قوم پر عذاب کا ارادہ کرلیتا ہے تو کوئی ٹال نہیں سکتا ہے اور نہ اس کے علاوہ کوئی کسی کا والی و سرپرست ہے [62]
  2. ذلِکَ بِأَنَّ اللَّه لَمْ یکُ مُغَیراً نِعْمَة أَنْعَمَها عَلی قَوْمٍ حَتَّی یغَیرُوا ما بِأَنْفُسِهمْ وَ أَنَّ اللَّه سَمیعٌ عَلیمٌ۔ ترجمہ:یہ اس لئے کہ خدا کسی قوم کو دی ہوئی نعمت کو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے تئیں تغیر نہ پیدا کردیں کہ خدا سننے والا بھی ہے اور جاننے والا بھی ہے [63]
  • وہ آیات جو بداء کے عینی مصادیق کی طرف بطور خاص اشارہ کرتی ہیں:
  1. حضرت یونس کی قوم سے عذاب کا ٹل جانا انکی دعا اور مناجات کی وجہ سے، فَلَوْ لا کانَتْ قَرْیة آمَنَتْ فَنَفَعَها إیمانُها إِلاَّ قَوْمَ یونُسَ لَمَّا آمَنُوا کَشَفْنا عَنْهمْ عَذابَ الْخِزْی فِی الْحَیاة الدُّنْیا وَ مَتَّعْناهمْ إِلی حینٍ ترجمہ: پس کوئی بستی ایسی کیوں نہیں ہے جو ایمان لے آئے اور اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچائے علاوہ قوم یونس کے کہ جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے زندگانی دنیا میں رسوائی کا عذاب دفع کردیا اور انہیں ایک مّدت تک چین سے رہنے دیا[64]
  2. حضرت اسماعیل کے ذبح سے متعلق حضرت ابراہیم کو دی گئی حکم میں تبدیلی، فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہ السَّعْی قالَ یا بُنَی إِنِّی أَری فِی الْمَنامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ ما ذا تَری قالَ یا أَبَتِ افْعَلْ ما تُؤْمَرُ سَتَجِدُنی إِنْ شاءَ اللَّہ مِنَ الصَّابِرینَ *... *وَ فَدَیناہ بِذِبْحٍ عَظیمٍ۔ ترجمہ: پھر جب وہ فرزند ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کررہا ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارا کیا خیال ہے فرزند نے جواب دیا کہ بابا جو آپ کو حکم دیا جارہا ہے اس پر عمل کریں انشائ اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ اور ہم نے اس کا بدلہ ایک عظیم قربانی کو قرار دے دیا ہے۔ [65]
  3. بنی اسرائیل پر خدا کی نافرمانی کی وجہ سے 40 سال سرزمین مقدس میں داخل ہونا حرام قرار دینا : یا قَومِ ادخُلوا الاَرضَ المُقَدَّسَة... قالَ فَاِنَّہا مُحَرَّمَةٌ عَلَیہم اَربَعینَ سَنَةً ترجمہ: اور اے قوم اس ارعَ مقدس میں داخل ہوجاؤ ...ارشاد ہوا کہ اب ان پر چالیس سال حرام کردئیے گئے ۔ [66]
  4. حضرت موسی کا 30 رات کی مقررہ مدت میں 10 رات کا اضافہ اور 40 رات کا ہونا: و واعَدنا موسی ثَلاثینَ لَیلَةً واَتمَمناہا بِعَشر... ترجمہ: اور ہم نے موسٰی علیھ السّلام سے تیس راتوں کا وعدہ لیا اور اسے دس مزید راتوں سے مکمل کردیا کہ اس طرح ان کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا وعدہ ہوگیا۔ [67]

احادیث کی روشنی میں

ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول احادیث میں خدا کیلئے بداء حاصل ہونے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اور ان احادیث میں شیعوں کے ہاں اس کے صحیح عقیدے کے بارے میں بھی وضاحت دی گئی ہے۔

امام صادق(ع) سے منقول ہے: ما تنبأ نبی قط حتی یقر للہ عزوجل بخمس : بالبداء والمشیة والسجود والعبودیة والطاعة؛ [68] انبیاء علیہم السلام میں سے کوئی ایک بھی نبوت پر فائز نہیں ہوئے مگر یہ کہ خدا کیلئے 5 خصلتوں کا اعتراف کریں جو یہ ہیں: بداء ، مشیت ، سجود ، عبودیت اور اطاعت۔

ایک اور حدیث میں چھٹے امام سے منقول ہے: ما بدا للہ فی شئ إلا کان فی علمہ قبل أن یبدو لہ۔[69] خداوند عالم کیلئے بداء حاصل نہیں ہوتا مگر یہ کہ پہلے سے اس نئے موضوع کا خدا کو علم ہوتا ہے۔

اسی طرح بداء سے مربوط احادیث میں ائمہ کے نزدیک اس عقیدے کی اہمیت بھی بیان ہوئی ہے یہاں تک کہ یہ عقیدہ حقیقی توحید کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے۔

حدیث میں آیا ہے: ما عبد اللہ بشئ مثل البداء۔ [70] جس قدر بداء کے ذریعے خدا کی عبادت کی گئی ہے کسی اور چیز کے ذریعے خدا اطاعت نہیں ہوئی ہے۔ امام صادق(ع) نے فرمایا: لَوْ عَلِمَ النَّاسُ مَا فِی الْقَوْلِ بِالْبَدَاءِ مِنَ الْأَجْرِ مَا فَتَرُوا عَنِ الْکلَامِ فِیہ۔ [71]؛ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ بداء میں کیا جزاء رکھی گئی ہے تو کبھی بھی اس سے متعلق گفتگو سے نہیں تھکتے۔

بداء کے مسئلے میں کشمکش

بداء پر عقیدہ رکھنا اور اسے خدا کی طرف نسبت دینا علم کلام اور تفسیر میں وسیع پیمانے پر مورد بحث و تحقیق قرار پایا ہے اور اہل تشیع کا دیگر مذاہب کے ساتھ اس حوالے سے بہت زیادہ کشمکش اور نزاع پایا جاتا ہے اور دوسرے مذاہب اہل تشیع کو متہم کرتے ہوئے اسے بدعت قرار دیتے ہیں۔

بداء اور علم خداوند

علم خدا کا تغییر ناپذیر ہونا، اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان بداء کے مسئلے میں کشمکش ایجاد ہونے کا سبب بنا ہے۔ کیونکہ ظاہری طور پر یہ دونوں ایک دوسرے سے سازگار نہیں ہیں۔ بعض شیعہ علماء علم خداوندی کو علم ذاتی جو کہ ازلی، ابدی اور تغیر ناپذیر ہے، اور علم افعالی جو کہ عین فعل ہے نہ ذات اور حادث اور قابل تغییر ہے، میں تقسیم کرتے ہوئے [72]؛ تاکید کرتے ہیں کہ: بَداء خدا کے ذاتی علم میں نہیں ہوتا بلکہ یہ خدا کے افعالی علم میں ہوتا ہے۔ حقیقت میں نہ فقط خدا کے ذاتی علم میں بداء نہیں ہوتا بلکہ خدا کو بداء کے بارے میں بھی علم ہوتا ہے یعنی بداء خود علم الہی کا متعلق ہے۔ اس بنا پر بداء خدا کی ذات میں تغییر کا سبب نہیں ہوتا چونکہ تغییر کا علم ہونا اور ہوتا ہے اور علم میں تغییر آنا اور۔ [73]

اس کے علاوہ امام صادق(ع) فرماتے ہیں: "... خدا کیلئے کوئی بداء حاصل نہیں ہوتا مگر یہ کہ یہ خدا کے علم میں ہوتا ہے۔ خدا کیلئے جہالت کی وجہ سے کوئی بداء نہیں ہوتا"۔ [74]

بداء اور قضا و قدر

خدا کے بارے میں بداء کے اثبات میں ایک اور اختلافی نکتہ قضا اور قدر کا مسئلہ ہے۔ چونکہ بعض ان دو مسئلوں کو ایک دوسرے کا ضد اور مخالف قرار دیتے ہیں ۔ [75] جبکہ شیعہ علماء ان دو مسئلوں کا آپس میں توافق اور سازگاری کے قائل ہیں۔ اس حوالے سے قضا و قدر کو تین قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں:

  1. حتمی اور یقینی قضا و قدر جس سے فقط خدا آگاہ ہیں یہاں بَداء کا امکان نہیں ہے کیونکہ اس میں بداء کا ہونا علم خداوندی میں تغیر اور تبدیلی کا سبب بنتا ہے جو کہ محال ہے۔
  2. ایسا حتمی اور یقینی قضا و قدر جس سے خدا کے علاوہ ملائکہ، انبیا اور اولیا الہی بھی آگاہ ہیں اور چونکہ خدا خود، ملائکہ اور اپنے انبیائ اور اولیائ کو نہیں جٹلاتا، اس قسم میں بداء کا ظاہر ہونا انہیں جتلانے کا سبب بنتا ہے اسلئے اس قسم میں بھی بدائ قابل تصور نہیں ہے۔
  3. غیر حتمی اور غیر یقینی قضا و قدر جس میں خداوند عالم کسی چیز کے واقع ہونے یا نہ ہونے کو مقدر فرماتا ہے لیکن اس کے محقق ہونے کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کرتے ہیں اور یہ وہی قسم ہے جس میں بداء قابل تصور ہے۔ [76]

موارد وقوع بداء شیعہ نکتہ نگاہ سے

خداوند متعال کا علم اور حتمی مقدرات جنہیں لوح محفوظ، علم مخزون اور ام الکتاب کا نام دیا جاتا ہے، تغییر پذیر نہیں ہے اس لئے یہاں بداء وقوع پذیر نہیں ہے۔ خدا ازل سے ہی تمام اشیاء اور امور اور ان کے درمیان موجود روابط سے آگاہ ہے اور اس کے علم کے دائرے سے ایک ذرہ بھی باہر نہیں ہے۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کے فرامین سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اور آیہ مجیدہ: یمْحُو اللَّہ ما یشاء و وَ یثْبتُ وَ وَ عِنْدَہ‌ام الْکِتابِ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کے امور کے حوالے سے خدا کے دو کتاب ہیں: ایک وہ کتاب جس کے مطالب خدا کے اذن سے تغییر پذیر ہیں جسے کتاب "محو اور اثبات" سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ دعا، صدقہ اور دوسرے نیک اعمال کے ذریعے قضا کا برطرف ہونا اور قسمت میں تغیر اور تبدیلی کا آنا اسی کتاب سے متعلق ہے۔ جبکہ دوسری کتاب کا نام لوح محفوظ یا ام الکتاب ہے جو ثابت اور تغییر ناپذیر ہے اور اس کے متعلق دعا، مناجات، صدقات اور دوسرے نیک اعمال کوئی اثر نہیں دکھا سکتے یعنی جب تقدیر اور مقدرات پہلی کتاب سے عبور کرکے دوسری کتاب تک پہنچ کر مستحکم اور مضبوط ہوجاتا ہے تو پھر یہ تغییر پذیر نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے ہمارے ائمہ سے منقول ہے کہ فرماتے تھے کہ آیہ مجیدہ "محو" کے ہوتے ہوئے ہم آئندہ کے بارے میں کیسے حتمی اور یقینی طور پر خبر دے سکتے ہیں؟[77]

اہل سنت مآخذ میں

اہل سنت کی بعض علماء جیسے فخر رازی، خیاط معتزلی، علی بن اسماعیل اشعری بداء کے عقیدے کے مخالف ہیں یہاں تک کہ اسے شیعوں کی بدعت شمار کرتے ہیں یا شیعوں کو بداء کے قائل ہونے کی وجہ سے مورد انتقاد قرار دیتے ہیں۔ در حالیکہ خود اہل سنت کے حدیثی مآخذ میں بھی بداء کے بارے میں احادیث موجود ہیں۔

  • بخاری اپنی کتاب صحیح بخاری میں ابوہریرہ کے توسط سے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت کرتا ہے کہ آنحضرت فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں تین شخص مشخص بیماری یعنی پیسی و بہراپنی اور اندھاپنی میں مبتلاء ہوئے۔ خداوندعالم کیلئے ان سے آزمائش اور امتحان لینے کے حوالے سے بداء حاصل ہوا۔

إِنَّ ثَلاَثَہ فِی بَنِی إِسْرَائِیلَ أَبْرَصَ وَ أَقْرَعَ وَ أَعْمَی بَدَا لِلَّہ أَنْ یبْتَلِیہم [78]ابن حجر اس روایت کس تفسیر میں کہتے ہیں: "یہ جو روایت میں آیا ہے "بَدَا لِلَّہ" اس کے معنی یہ ہے کہ خداوندعالم پہلے سے جانتا تھا پھر اسے اظہار کیا ہے نہ یہ کہ خدا پر کوئی چیز مخفی تھی پھر وہ ظاہر اور آشکار ہو گئی ہو۔ یہ چیز خدا کے حوالے سے محال ہے۔قولہ: (بدا للہ) بتخفیف الدال المہملہ بغیر ہمز،‌ای سبق فی علم اللہ فأراد إظہارہ، و لیس المراد أنہ ظہر لہ بعد أن کان خافیاً؛ لأن ذلک محال فی حق اللہ تعالی.[79]

  • ابن ابی حاتم سورہ زمر کی آیت نمبر ۴۲ اللَّہ یتَوَفَّی الْأَنْفُسَ حینَ مَوْتِہا وَ الَّتی لَمْ تَمُتْ فی مَنامِہا فَیمْسِکُ الَّتی قَضی عَلَیہا الْمَوْتَ وَ یرْسِلُ الْأُخْری إِلی أَجَلٍ مُسَمًّی إِنَّ فی ذلِکَ لَآیاتٍ لِقَوْمٍ یتَفَکَّرُونَ ابن عباس سے ایک روایت اس مضمون کے ساتھ نقل کیا ہے: "خداوند عالم لوگوں کو موت دیتا ہے: اگر خدا روح قبض کرنے کے حوالے بداء حاصل ہوجائے تو ان کی روح قبض کرتا ہے اور وہ مرجاتے ہیں یا انہیں ایک معین مدت تک مہلت دی جاتی ہے اس وقت ان کی روح کو دوبارہ لوٹا دی جاتی ہے۔فإن بدا للہ أن یقبضہ قبض الروح، فمات، أو اُخر أجلہ رد النفس إلی مکانہا من جوفہ.[80]
  • ہیثمی نے بھی مجمع الزوائد کے"طلوع الشمس من مغربہا" کے باب میں ایک روایت بداء کے حوالے سے لایا ہے۔ [81]

حوالہ جات

  1. طباطبایی، المیزان، 1363ہجری شمسی، ج11، ص381۔
  2. شیخ مفید، تصحیح الاعتقاد، 1413ھ، ص65-67۔
  3. روحانی، الجبر و الاختیار، 1426ھ، ص169۔
  4. میرداماد، نبراس الضیاء، 1374ہجری شمسی، ص55-56۔
  5. کاشف‌الغطاء، اصل الشیعہ و اصولہا، 1413ھ، ص152۔
  6. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: شیخ صدوھ، التوحید، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ص335-336؛ شیخ صدوھ، الاعتقادات، 1414ھ، ص41۔
  7. سبحانی، البداء على ضوء الكتاب و السنّۃ، 1392ہجری شمسی، ص9۔
  8. سبحانی، البداء على ضوء الكتاب و السنّۃ، 1392ہجری شمسی، ص9۔
  9. آقابزرگ تہرانی، الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ، 1408ھ، ج3، ص53-57۔
  10. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص146-149۔
  11. شیخ صدوھ، التوحید، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ص331-336۔
  12. علامہ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج4، ص94-122؛ زادہوہجری شمسی، «آموزہ بداء و کتابشناسی آن»، ص68۔
  13. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص146۔
  14. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص146۔
  15. کعبی بلخی، تفسیر ابی‌القاسم الکعبی البلخی، 1428ھ، ج2، ص40۔
  16. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج19، ص52۔
  17. ملاحظہ کریں: الہی‌ظہیر، الشیعۃ و السنۃ، 1396ھ، ص63۔
  18. کاشف الغطاء، اصل الشیعہ و اصولہا، 1413ھ، ص151؛ مظفر، عقائد الامامیۃ، 1429ھ، ص48۔
  19. مظفر، عقائد الامامیۃ، 1429ھ، ص48۔
  20. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص148۔
  21. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص148۔
  22. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج1، ص148۔
  23. شیخ مفید، أوائل المقالات في المذاہب و المختارات‏، 1413ھ، ص80۔
  24. شیخ مفید، أوائل المقالات في المذاہب و المختارات‏، 1413ھ، ص80۔
  25. طباطبایی، المیزان، 1363ہجری شمسی، ج11، ص381-382۔
  26. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج4، ص171؛ احمد، مسند احمد، 1421ھ، ج32، ص423۔
  27. برای نمونہ ملاحظہ کریں: بخاری، صحیح البخاری، 1422ھ، ج8، ص5 و 73۔
  28. طباطبایی، المیزان، 1363ہجری شمسی، ج11، ص381۔
  29. برای نمونہ ملاحظہ کریں: بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، 1415ھ، ج3، ص270۔
  30. علامہ مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج2، ص132؛ طباطبایی، المیزان، 1363ہجری شمسی، ج11، ص381۔
  31. جوادی‌آملی، تفسیر تسنیم، 1389ہجری شمسی، ج6، ص110۔
  32. جوادی آملی، تفسیر تسنیم، 1388ہجری شمسی، ج7، ص358-361۔
  33. مازندرانی، شرح اصول الکافی، 1429ھ، ج4، ص246۔
  34. جوادی‌آملی، تفسیر تسنیم، 1389ہجری شمسی، ج6، ص109-110۔
  35. طباطبایی، المیزان، 1363ہجری شمسی، ج17، ص166؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ہجری شمسی، ج10، ص247۔
  36. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ہجری شمسی، ج10، ص248؛ سبحانی، البداء علی ضوء الکتاب و السنۃ، 1392ہجری شمسی، ص134۔
  37. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ہجری شمسی، ج10، ص248؛ سبحانی، البداء علی ضوء الکتاب و السنۃ، 1392ہجری شمسی، ص134۔
  38. صدوق، کتاب التوحید، النشر الاسلامی، ص336۔
  39. مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج50، ص240۔
  40. فانی اصفہانی، بداء از نظر شیعہ، 1394ہجری شمسی، ص140-141۔
  41. علامہ مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج2، ص127 و 131-132۔
  42. سبحانی، البداء على ضوء الكتاب و السنۃ، 1392ہجری شمسی، ص59۔
  43. سبحانی، البداء على ضوء الكتاب و السنۃ، 1392ہجری شمسی، ص59۔
  44. سبحانی، البداء على ضوء الكتاب و السنۃ، 1392ہجری شمسی، ص60۔
  45. سبحانی، البداء على ضوء الكتاب و السنۃ، 1392ہجری شمسی، ص59۔
  46. فخر رازی، المحصل، 1411ھ، ص602۔
  47. خواجہ نصیرالدین طوسی، تلخیص المحصل، 1405ھ، ص421۔
  48. ملاصدرا، شرح اصول الکافی، ج3، ص179؛ علامہ مجلسی، مرآۃ العقول، 1404ھ، ج2، ص123-124۔
  49. روحانی، الجبر و الاختیار، 1426ھ، ص169۔
  50. فاضل مقداد، اللوامع اللہیۃ، 1422ھ، ص377۔
  51. فاضل مقداد، اللوامع اللہیۃ، 1422ھ، ص377۔
  52. زادہوہجری شمسی، «آموزہ بداء و کتابشناسی آن»،‌ ص76-78۔
  53. عصار، ثلاث رسائل فی الحکمۃ اللہیۃ، ص48-49۔
  54. رازی، محصل افکار المتقدمین و المتأخرین، ص۶۰۲.
  55. رازی، تفسیر الرازی، ج ۱۹، ص۶۶.
  56. سورہ رعد، آیت نمبر ۳۹.
  57. شہرستانی، ملل و نحل، ج ۱، ص۱۷۱.
  58. صدوق، کتاب التوحید، ص۳۳۶.
  59. بخاری، صحیح، حدیث ۳۴۶۴، ج ۴، ص۱۷۶۱.
  60. انعام، آیہ ۲.
  61. کلینی، الکافی، ج ۱، ص۱۹۷.
  62. رعد،آیت نمبر ۱۱۔
  63. انفال، آیت نمبر ۵۳۔
  64. یونس، آیت نمبر ۹۸۔
  65. صافّات، آیات ۱۰۲ اور ۱۰۷۔
  66. مائدہ، آیات ۲۱ اور ۲۶۔
  67. اعراف، آیت نمبر ۱۴۲۔
  68. صدوق، التوحید، ص۳۳۳.
  69. کلینی، الکافی، ج ۱، ص۱۹۸.
  70. کلینی، الکافی، ج ۱، ص۱۹۷.
  71. صدوق، التوحید، ص۳۳۴.
  72. جوادی آملی،تفسیر تسنیم، ج ۷، ص۳۵۸- ۳۶۱.
  73. طباطبایی، المیزان، ج۱۱، ص۳۸۱.
  74. عیاشی، التفسیر، ج ۲، ص۲۱۸.
  75. اشعری، ص۱۱، ۵۵ و ۱۲۰؛ ایجی، ص۳۸۸ و ۴۱۲
  76. خویی، البیان، ص۳۸۸-۳۸۷.
  77. طباطبایی، المیزان، ج۱۱، ص۳۷۹-۳۸۲.
  78. بخاری، صحیح، حدیث ۳۴۶۴، ج ۴، ص۱۷۶۱.
  79. ابن حجر، فتح الباری، ج ۶، ص۵۰۲.
  80. ابن ابی حاتم، تفسیر، ج ۱۰، ص۳۲۵۲.
  81. ہیثمی، مجمع الزوائد، ج ۸، ص۸.

نوٹ

  1. «یَمْحُو اللَّہُ مَا یَشَاءُ وَیُثْبِتُ وَعِنْدَہُ أُمُّ الْکِتَابِ؛ اللہ جو چاہتا ہے وہ (لکھا ہوا) مٹا دیتا ہے اور (جو چاہتا ہے) برقرار رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب (اصل کتاب یعنی لوح محفوظ) ہے۔» (محمد حسین نجفی، اردو ترجمہ قرآن، ص254۔)

مآخذ

  • قرآن کریم.
  • اشعری، علی، مقالات الاسلامیین ، بہ کوشش محمد محیی الدین عبدالحمید، بیروت، ۱۴۰۵ق.
  • إیجی، عضدالدین، المواقف، بیروت، دار الجیل، ۱۹۹۷م.
  • بخاری، صحیح البخاری فی نظم الجدید، موسی شاہین لاشین، دارالمدار الاسلامی، بیروت، لبنان، ۲۰۰۶ م.
  • حسینی شیراز، سیدمحمد، تبیین القرآن، مؤسسة المجتبی للتحقیق والنشر.
  • رازی، فخر الدین محمّد، تفسیر الکبیر، داراحیاء التراث العربی، بیروت.
  • رازی، فخر الدین محمّد، محصل افکار المتقدمین و المتأخرین، مکتبہ‌دار التراث‌، قاہرہ‌،۱۴۱۱ ق.‌
  • شہرستانی‌، محمد بن عبد الکریم،تحقیق محمد بدران‌، الشریف الرضی‌، قم‌، ۱۳۶۴ ش.‌
  • طوسی، خواجہ نصیرالدین، تلخیص المحصل ، بہ کوشش عبداللہ نورانی، تہران، ۱۳۵۹ش.
  • شیرازی، صدرالدین، شرح الاصول الکافی ، تہران، ۱۳۹۱ق.
  • طوسی، الغیبہ، بہ کوشش عباداللہ تہرانی و علی احمد ناصح، قم، ۱۴۱۱ق.
  • کلینی، الکافی ، بہ کوشش علی اکبر غفاری، بیروت، ۱۴۰۱ق.
  • مفید، اوائل المقالات ، بہ کوشش ابراہیم انصاری، قم، ۱۴۱۳ق.
  • مفید، تصحیح الاعتقاد و الامامیہ، بہ کوشش حسین درگاہی، قم، ۱۴۱۳ق.
  • طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تہران، کتابفروشی مرتضوی، ۱۳۷۵ش.
  • عسگری، سیدمرتضی، البداء.
  • عصار، محمدکاظم، مجموعہ آثار، بہ کوشش جلال الدین آشتیانی، تہران، ۱۳۷۶ش.
  • کراجکی، محمد، کنزالفواید، نجف، ۱۳۲۲ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، ۱۴۰۳ق.