کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب (کتاب)

ویکی شیعہ سے
کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی طالبؑ
مشخصات
مصنفگنجی شافعی (متوفیٰ: 658ھ)
موضوعفضائل و مناقب علی بن ابی طالبؑ
زبانعربی
مذہبسنی
طباعت اور اشاعت
ناشردار إحیاء تراث أہل البیت
مقام اشاعتتہران (ایران)
سنہ اشاعت1404ھ


کِفایَۃُ الطّالب فی مَناقِب عَلیّ بْن اَبی‌ طالبؑ عربی زبان میں تحریر کردہ ایک کتاب ہے جس میں شافعی مذہب کے عالم دین محمد بن یوسف گنجی (متوفی: 658ھ) نے فضائل امام علیؑ بیان کیے ہیں۔ اس کتاب میں امام علیؑ کے بیٹوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ کتاب کفایۃ الطالب 100 ابواب پر مشتمل ہے۔ چونکہ مولف نے امام علیؑ کے فضائل بیان کرنے کے نقطہ نظر سے یہ کتاب تحریر کی ہے اس لیے یہ کتاب شیعہ مصنفین کی توجہ کا مرکز قرار پائی ہے۔

مؤلف کی سوانح حیات

حافظ فخرالدین ابوعبد اللّه محمد بن یوسف بن محمد گنجی شافعی ساتویں صدی ہجری کے شافعی مذہب کے بزرگ علما میں سے تھے۔ کتب حدیث کے مولفین نے انہیں محدث مفید، امام حافظ، ثقہ عدل، دیندار،[1]حافظ قرآن و سنت جیسے القاب سے یاد کیا ہے۔[2] گنجی شافعی علی بن ابی طالب کے ساتھ اپنے تعلق کے اظہار کی وجہ سے ایک حقیر سے گروہ کی نفرت اور تحقیر کا شکار ہوئے۔ گنجی شافعی کی جانب سے احادیث نقل کرنے میں شجاعت، امانت داری اور احتیاط برتنے کے باوجود، ابن تغری اور ابن کثیر جیسے بعض افراد نے انہیں خبیث رافضی کہا ہے۔[3] آخر کار اس گروہ کے دباؤ کی وجہ سے گنجی کو موصل سے شہر بدر کر دیا گیا۔ وہ علوم حدیث کے حصول کے لیے دمشق روانہ ہوا اور سنہ 658 ھ میں جامع مسجد دمشق میں انہیں قتل کر دیا گیا۔[4]

انہوں نے امام مہدی(عج) کے بارے میں بھی ایک کتاب تحریر کی ہے جس کا نام "البیان فی اخبار صاحب الزمان" ہے۔[5]

تالیف کتاب کا محرک

مؤلف نے اپنی کتاب کے دیباچے میں اس کتاب کی تالیف کا محرک کچھ یوں بیان کیا ہے:

"شہر موصل کے حصباء نامی مقام پر ایک نشست کے اختتام پر واقعہ غدیر خم کے بارے میں زید بن ارقم کی حدیث نیز عمار یاسر کی ایک حدیث بیان کی۔ جس میں رسول خداؐ نے فرمایا: (طوبی لمن احبک و صدّق فیک)[یادداشت 1] مجلس میں موجود بعض لوگوں کی طرف سے مجھ پر طنز کیا گیا اور میرا تمسخر اڑایا گیا۔ وہ لوگ نقل حدیث کے سلسلے میں بحد کافی علم نہیں رکھتے تھے۔ پھر میں نے خاندان امامت و طہارت سے محبت اور ان کی نسبت میرے تعصب کی وجہ سے وہ احادیث نقل کرنا شروع کیں جو میں نے مختلف شہروں کے محدثین سے اہل بیت اطہارؑ کے مناقب میں سنی تھیں اور میں نے اس کا نام "کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی" رکھا۔"[6]

کتاب کا طرز تالیف اور ساخت

کفایۃ الطالب احادیث کا ایسا مجموعہ ہے جو رسول خداؐ نے امام علیؑ کی عظمت و شان بیان کرنے کے لیے بیان کیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں تمام احادیث کو سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور پھر جملہ "میں نے کہا" کے ساتھ ہر حدیث اور اس کی سند کے بارے میں مختصر وضاحت کرتے ہوئے اہل سنت کے درمیان معتبر ایک یا ایک سے زیادہ ذرائع کا تعارف بھی کرایا ہے۔[7]

علما کے درمیان اس کی اہمیت

کفایۃ الطالب ابن طاووس، اربلی، علامہ حلی، نیلی، بیاضی اور محمد باقر مجلسی جیسے مصنفین کے لیے ایک اہم سند اور حوالہ کی حیثیت کی حامل رہی ہے۔ کیونکہ امام علیؑ کے بارے میں مصنف کی رائے شیعوں کے ہاں قابل قبول ہے۔[حوالہ درکار] گنجی کی یہ تصنیف اہل سنت کے ہاں زیادہ مقبول نہیں ہے اور صرف ابن صباغ مالکی نے اپنی کتاب "الفصول المہمہ" میں اس کتاب سے کچھ مطالب نقل کیے ہیں۔[8]

مندرجات

یہ کتاب 100 ابواب پر مشتمل ہے جن میں امام علیؑ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں کچھ مباحث یوں بیان ہوئے ہیں: خطبہ غدیر کا صحیح السند ہونا، محبت و مودت علیؑ اور اس کی فضیلت، خدا و رسولؐ کی طرف سے کثرت محبت علیؑ کا بیان، علی کو سب و شتم کرنا کفر کا باعث ہونا اور امام علیؑ کی منفرد خصوصیات وغیرہ۔[حوالہ درکار]

گنجی نے کتاب کے مختلف ابواب میں امام علیؑ کے فضائل و مناقب کے ضمن میں امامؑ کی شریک حیات یعنی حضرت فاطمہ زہراء(س)، نیز آپؑ کے دونوں بیٹے حضرات حسنینؑ کے شان و منزلت بھی بیان کی ہے۔[9] اسی طرح کچھ روایات واقعہ کربلا، امام حسینؑ کی شہادت اور شہدائے کربلا کے بارے میں بھی بیان کی ہیں۔[10]

کتاب کی پہلی روایت غدیر خم کے بارے میں زید ابن ارقم سے منقول ایک روایت ہے جس میں رسول خداؐ نے غدیر خم لوگوں کو اہل بیت اطہارؑ کے حق کی رعایت کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس روایت میں زید بن ارقم نے اہل بیت رسول کی یوں تفسیر کی کہ جن پر صدقہ حرام ہے زید بن ارقم نے آل علی، آل عقیل، آل جعفر اور آل عباس کو اہل بیت کے مصادیق قرار دیے؛ لیکن کتاب کے مصنف گنجی شافعی نے زید بن ارقم کی تفسیر کو ناقابل قبول سمجھا اور بیان کیا کہ رسول اللہؐ کے کلام میں اہل بیتؑ سے مراد وہ افراد ہیں جن کا ذکر صحیح مسلم میں عائشہ کی ایک روایت میں آیا ہے۔ یعنی جن کے بارے میں آیت تطہیر [یادداشت 2] نازل ہوئی ہے اور وہ علیؑ، فاطمہ(س)، حسنؑ اور حسینؑ ہیں، پیغمبرؐ نے انہیں اپنے عبا کے نیچے جگہ دی۔[11] مناقب گنجی شافعی کی کتاب کی آخری روایت ہارون الرشید کے زمانے میں قبرِ امیر المومنینؑ کی دریافت کے بارے میں ہے جس کا مختصراً بیان حال یہ ہے کہ ہارون رشید کے دور خلافت میں ہارون ایک دن کوفہ کے گرد و نواح (نجف یا غیربیین) میں شکار کے لیے گیا۔ اس نے دیکھا کہ کچھ شکاری کتے ایک ہرن کا پیچھا کررہے ہیں لیکن جب ہرن کسی مخصوص مقام پر جانے کے بعد کتے ہرن کا پیچھا کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ہارون کو اس واقعے کا علم ہوا تو اس نے ایک بوڑھے شخص کو بلایا اور اس ماجرا کے بارے میں پوچھا۔ بوڑھے شخص نے ہارون سے جان کا امان لینے کے بعد تفصیل واقعہ یوں بیان کی کہ ہمارے باپ دادا نے ہمیں خبر دی ہے کہ یہاں امیر المومنین کی قبر ہے۔ ہارون رشید نے اس کی تصدیق کرانے کے بعد امام علیؑ کی قبر پر ایک دیوار بنوائی اور وہ جب تک زندہ رہا ہر سال امیر المومنینؑ کی قبر کی زیارت کرتا رہا۔[12]

نسخے

اس کتاب کے خطی نسخے کی بابت معلومات نہیں ہیں۔ لیکن اسے پہلی بار مصر میں احادیث کے سلسلہ اسناد کو حذف کر کے شائع کی گئی پھر سنہ 1937ء مطابق 1356ھ کو وزیری سائز میں بصورت مسند نجف اشرف سے شائع ہوئی۔[13] ایک عرصہ بعد یہ نسخہ علامہ امینی کے بیٹے محمد ہادی امینی کی تحقیق کے ساتھ تہران سے شائع ہوا۔

حوالہ جات

  1. تعريف بالكاتب، الغدير ویب سائٹ
  2. الگنجي حافظ للقرآن و السنۃ، شبكۃ موعود.
  3. گنجی شافعی، کفایة الطالب، 1362ہجری شمسی، ص14و15۔
  4. گنجی شافعی، کفایة الطالب، 1362ہجری شمسی، ص14و15۔
  5. گنجی شافعی، کفایة الطالب، 1362ہجری شمسی، ص32۔
  6. گنجی شافعی، کفایة الطالب، 1362 ہجری شمسی، ص 12 و 37۔
  7. داداش‌نژاد، سیمای دوازده امام در میراث مکتوب اهل‎سنت، 1395ہجری شمسی، ج1، ص203۔
  8. داداش‌نژاد، سیمای دوازده امام در میراث مکتوب اہل‎سنت، 1395ہجری شمسی، ج1، ص208۔
  9. گنجی شافعی، کفایة الطالب، 1362 ہجری شمسی، فهرست کتاب۔
  10. گنجی شافعی، کفایة الطالب، 1362ہجری شمسی، فهرست کتاب۔
  11. گنجی شافعی، كفاية الطالب في مناقب علي بن أبي طالب، ناشر دار إحياء تراث أهل البيت عليهم السلام، ج1، 53-54۔
  12. گنجی شافعی، كفاية الطالب في مناقب علي بن أبي طالب، ناشر دار إحياء تراث أهل البيت عليهم السلام، ج1، ص471-472۔
  13. گنجی شافعی، کفایة الطالب، 1362 ہجری شمسی، ص34۔

نوٹ

  1. یعنی (اے علیؑ!) خوش قسمت ہے وہ شخص جو تجھ سے محبت اور تیری تصدیق کرتا ہے۔ محمد هادی امینی نے کتاب کفایۃ الطالب گنجی شافی، ج1، ص37 کے حاشیے میں اس روایت کو منابع اہل سنت کی نسبت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ مستدرك الصحيحين، ج3، ص135، تاريخ بغداد، ج9، ص71، مجمع الزوائد، ج9، ص132، الرياض النضرة، ج2، ص215، ذخائر العقبى، ص92۔ روایت کا مضمون یہ ہے:"عن عمار بن ياسر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه و آله يقول لعلي: يا علي طوبى لمن احبّك و صدّق فيك، و ويل لمن ابغضك و كذّب فيك۔» عمار سے روایت ہے کہ میں نے رسول خداؐ سے علیؑ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اے علیؑ! خوش قسمت ہے وہ شخص جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور تیری تصدیق کرتا ہے اور افسوس ہے اس پر جو تم سے دشمنی کرتا ہے اور تجھے جھٹلاتا ہے۔
  2. إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا؛ (ترجمہ: اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کے رجس (آلودگی) کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔)[؟–33]

مآخذ

  • گنجی شافعی، محمد بن یوسف، کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن أبی طالب، تهران،‌ دار إحیاء تراث أہل البیت علیہم السلام، 1404ھ- 1362 ہجری شمسی۔
  • داداش‌نژاد، منصور، سیمای دوازده امام در میراث مکتوب اهل‎سنت، قم، بوستان کتاب، 1395ہجری شمسی۔