مسودہ:غلات اربعہ
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
غلّات اربعہ، شیعہ فقہ میں رزعی اجناس میں سے گندم، جو، کھجور اور کشمش (یا انگور) کو کہا جاتا ہے جن پر زکات واجب ہوتی ہے۔ ان غلّات پر زکات واجب ہونا نصاب کی حد تک پہنچنے (تقریباً 847 سے 885 کلوگرام) اور زکات کے وقت مالک کی مالکیت میں باقی رہنے سے مشروط ہے۔ ان غلّات میں زکات واجب ہونے کا وقت، اس کی مقدار اور اس کے حساب کتاب کا طریقہ مختلف عوامل جیسے آبپاشی کے طریقے اور پیداواری اخراجات میں کٹوتی وغیرہ کے مطابق معین ہوتا ہے۔
زکات کی مقدار آبپاشی کے طریقے کے لحاظ سے دسواں حصہ (قدرتی آبپاشی) یا بیسواں حصہ (لاگت والی آبپاشی) ہے اور مخلوط آبپاشی صورت میں تناسب کے مطابق حساب کیا جاتا ہے۔
زکات واجب ہونے کی شرط
غلّات اربعہ سے مراد چار زرعی اجناس یعنی گندم، جو، کھجور اور کشمش ہیں جن پر زکات واجب ہوتی ہے۔ یہ چار چیزیں ان نو چیزوں میں سے ہیں جن پر زکات واجب ہے۔
غلّات اربعہ پر زکات کے واجب ہونے کے لئے، زکات کی عمومی شرائط کے علاوہ، متعلقہ فصل کا نصاب تک پہنچنا اور زکات واجب ہوتے وقت مالک کی ملکیت میں باقی رہنا شرط ہے۔[1] غلّات کا نصاب پانچ وسق ہے، اور ہر وسق ساٹھ صاع کے برابر ہے۔ یہ مقدار صاع کے معیار میں اختلاف کی وجہ سے تقریباً 847 سے 885 کلوگرام تک بتائی گئی ہے۔[2]
زکات واجب ہونے کا وقت
شیعہ فقہ میں غلّات اربعہ پر زکات کے واجب ہونے کے وقت کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ مشہور قول کے مطابق گندم اور جَو میں دانہ تیار ہونے کے وقت، کھجور میں فصل پکنے سے پہلے زرد یا سرخ ہونے کے وقت، اور انگور میں غورہ (کچا انگور) تیار ہونے کے وقت زکات واجب ہوتی ہے۔[3] اس کے مقابلے میں بعض کا کہنا ہے کہ زکات اس وقت واجب ہوتی ہے جب فصل پر حتمی عنوان (گندم، جو، کھجور یا انگور) صادق آجائے۔[4]
زکات ادا کرنے کا وقت
غلّات اربعہ کی زکات ادا کرنے کا وقت وہ مرحلہ ہے جب فصل قابل کاشت اور تحویل لینے کے قابل ہو جائے۔ لہٰذا، گندم اور جَو میں فصل کی کٹائی اور دانے کو بھوسے سے الگ کرنے کے بعد جبکہ کھجور اور کشمش میں فصل توڑ کر خشک کرنے کے بعد زکات ادا کی جاتی ہے۔[5] اگر زکات واحب ہونے اور زکات ادا کرنے کا موقع ملنے کے بعد مالک زکات ادا نہ کرے تو وہ زکات کا ضامن ہوگا۔[6]
زکات کی مقدار
زکات کی مقدار آبپاشی کے طریقے کے لحاظ سے مختلف ہے: قدرتی آبپاشی (جیسے بارش یا نہر کا پانی) میں محصول کا دسواں حصہ اور لاگت والی آبپاشی (جیسے آلات اور مشینری کا استعمال) میں بیسواں حصہ بطور زکات ادا کرنا واجب ہے۔ اگر دونوں طریقے سے آبپاشی ہوئی ہو تو غالب طریقے کو معیار بنایا جائے گا اور اگر دونوں طریقے برابر ہوں تو مخلوط طور پر زکات کا حساب کیا جائے گا۔[7]
زکات کے حساب میں استثنائی موارد
مشہور فقہا کے مطابق زکات بعض اخراجات کی کٹوتی کے بعد واجب ہوتی ہے، جن میں زمین کا ٹیکس (جسے خراج یا مقاسمہ کہا جاتا) اور پیداواری اخراجات (مئونہ) شامل ہیں۔[8] البتہ ان موارد کی تفصیلات میں قدرے اختلاف ہے، مثلاً خراج (زمین کا ٹیکس) منتثنی میں شامل ہونے اور نہ ہونے میں اسی طرح نصاب کا حساب اخراجات نکالنے سے پہلے کیا جائے گا یا بعد میں۔ اسی طرح آیا خراج یعنی ٹیکس کا حکم مقاسمہ جیسا ہے یا نہیں، اس بارے میں بھی مختلف آراء پائے جاتے ہیں۔ البتہ ٹیکس کو مقاسمہ کے ساتھ ملحق کرنے کا قول مشہور فقہا سے منسوب کیا گیا ہے۔[9] مشہور فقہا کا ماننا ہے کہ زکات کا نصاب اخراجات (مئونہ) نکالنے کے بعد حساب کیا جائے گا۔[10]
حوالہ جات
- ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ج4، ص64؛ حکیم، مستمسک العروۃ، ج9، ص137-138۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام 1404ھ، ج15، ص207-209و222؛ بنی ہاشمی خمینی، توضیح المسائل مراجع، 1424ھ، ج2، ص113۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص213-214؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ج4، ص64۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص213-214؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی، ج4، ص64۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص220۔
- ↑ مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1382شمسی، ج4، ص243۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص236-238۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص223 اور 233۔
- ↑ خویی، موسوعۃ الخوئی، 1418ھ، ج23، ص347۔
- ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1404ھ، ج15، ص233۔
مآخذ
- بنی ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1424ھ۔
- حکیم، سید محسن، مستمسک العروۃ الوثقی، قم، مکتبۃ آیۃ اللّہ المرعشی النجفی، 1388-1391ھ۔
- خویی، سید ابوالقاسم، موسوعۃ الامام الخویی، قم، مؤسسۃ احیاء آثار الامام الخویی،پہلی اشاعت، 1418ھ۔
- طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی فیما تعم بہ البلوی(المحشّی)، تحقیق: احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، پہلی اشاعت، 1419ھ۔
- طباطبایی یزدی، سیدمحمدکاظم، العروۃ الوثقی، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، دوسری اشاعت، 1409ھ۔
- مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، 1382ہجری شمسی۔
- نجفی، محمدحسن، جَواہر الکلام فی شرحِ شرائعِ الاسلام، تصحیح عباس قوچانی و علی آخوندی، بیروت، دارُ اِحیاء التُّراثِ العربی، ساتویں اشاعت، 1404ھ۔