مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سورہ فاطر آیت نمبر 11

ویکی شیعہ سے

سورہ فاطر آیت نمبر 11، میں انسان کی تخلیق کے مراحل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کی انجام دہی کو اللہ تعالیٰ کے لئے آسان قرار دیا گیا ہے۔ یہ مراحل مٹی سے انسان کی تخلیق، نطفہ، زوجیت، حمل، پیدائش، دنیوی زندگی اور موت پر مشتمل ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں حمل اور وضعِ حمل کے بارے میں اللہ کے کامل علم اور لوح محفوظ میں انسانوں کی عمر درج ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ اس آیت سے مختلف کلامی موضوعات جیسے تقدیر میں تبدیلی کے امکان، بداء اور قرآن کے علمی اعجاز وغیرہ پر استدلال کیا گیا ہے۔

یہ آیت معاد کے امکان پذیر ہونے کی دلائل میں سے ایک دلیل بھی سمجھی جاتی ہے اور کہا گیا ہے کہ انسان کی تخلیق کے مراحل پر غور کرنا اسے غفلت اور تکبر سے دور کرتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں اس کا مقام

سورہ فاطر کی آیت نمبر 11 انسان کی تخلیق کے مراحل کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ان سب کو اللہ تعالیٰ کے لئے آسان قرار دیتی ہے۔[1] اس سورت کی سابقہ آیات کے تناظر میں جو توحید، معاد اور اسماء و صفات خدا کے بارے میں ہیں، مذکورہ آیت میں آیات اَنفُسی (انسان کے وجود میں خدا کی نشانیاں) کی طرف اشارہ، جہاں انسان کو مبدأِ عالم (توحید) سے جوڑتا ہے وہاں یہ آیت معاد کے امکان پذیر ہونے پر دلیل بھی سمجھی جاتی ہے۔[2] مزید کہا گیا ہے کہ انسانی تخلیق کے مراحل پر غور و فکر انسان کو غفلت اور تکبر سے محفوظ رہنے میں مدد دیتا ہے۔[3]

وَاللَّہُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِہِ وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّہِ يَسِيرٌ
اور اللہ ہی نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ہے پھر نطفے سے پھر تمہیں جوڑا جوڑا (نر و مادہ) بنا دیا اور کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور بچہ نہیں جنتی مگر اس (اللہ) کے علم سے اور نہ کسی شخص کی عمر میں زیادتی ہوتی ہے اور نہ کمی ہوتی ہے مگر یہ کہ وہ ایک کتاب (لوحِ محفوظ) میں موجود ہے اور یقیناً یہ بات اللہ کیلئے آسان ہے۔

اس آیت سے علمِ کلام کے مختلف مباحث میں استدلال کیا گیا ہے،[4] جن میں تقدیر میں تبدیلی کا امکان، بداء،[5] امام مہدی(عج) کی طویل عمر[6] اور قرآن کا علمی اعجاز شامل ہیں۔[7]

انسان کی تخلیق کے مراحل

اس آیت میں انسان کی تخلیق کے سات مراحل بیان کئے گئے ہیں: مٹی، نطفہ، زوجیت (نرو و مادہ)، حمل، وضع حمل (پیدائش)، دنیوی زندگی (عمر میں کمی بیشی) اور موت۔[8]

مفسرین نے اس آیت میں مذکور لفظ "زوجیت" کے بارے میں چند احتمالات پیش کئے ہیں، مثلاً انسان کا مرد اور عورت سے پیدا ہونا،[9] انسانوں کے لئے شادی بیاہ کا مقدر ہونا،[10] مختلف انسانی اقوام اور قبائل میں موجود تنوع اور اختلاف۔[11]

اسی آیت میں حمل اور وضع حمل کے بارے میں اللہ کے کامل علم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،[12] نیز لوحِ محفوظ میں انسانوں کی عمروں کے درج ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔[13]

اس آیت کے ذیل میں نقل ہونے والی تفسیری روایات[14] کے مطابق بعض اعمال جیسے صلۂ رحم اور صدقہ عمر میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں، جبکہ بعض امور مثلاً قطع رحم اور والدین کی نافرمانی عمر میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔[15]

آیت کے اختتام پر تاکید کی گئی ہے کہ یہ تمام مراحل اس خدا کے لئے آسان ہیں جو لامحدود علم اور قدرت کا مالک ہے۔ محمدحسین طباطبائی، مؤلف المیزان، کے نزدیک ان امور کا اللہ کے لئے آسان ہونا، ایک طرف سابقہ مطالب کی دلیل ہے اور دوسری طرف آیت کے مرکزی مضمون کو بیان کرتا ہے، جو کلی و جزئی تمام حوادث پر خدا کے تسلط اور ان کی تدبیر کو ظاہر کرتا ہے۔[16]

مٹی سے انسان کی تخلیق کی کیفیت

مٹی سے انسان کی تخلیق کی کیفیت کے بارے میں چند احتمالات بیان کئے گئے ہیں:

  • انسان کی تخلیق متعدد واسطوں کے ذریعے آخر کار مٹی تک پہنچتی ہے۔[17]
  • حضرت آدم پہلے انسان اور تمام انسانوں کے جدِّ امجد ہونے کے ناطے، مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں۔[18]
  • اس آیت میں صرف حضرت آدمؑ کی تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔[19]
  • انسانوں کی اجمالی تخلیق مٹی سے اور تفصیلی تخلیق نطفے سے ہے۔[20]
  • انسانی جسم کے اجزاء یا نطفہ یا وہ غذائیں جن سے انسان پرورش پاتا ہے، سب مٹی سے ماخوذ ہیں۔[21]

اسی طرح قرآن کی دیگر آیات میں بھی انسان کی تخلیق کا ذکر ملتا ہے، جن میں سورہ غافر آیت نمبر 67، سورہ حج آیت نمبر 5، سورہ الرحمن آیت نمبر 14، سورہ سجدہ آیت نمبر 7 اور 8، نیز 12 اور 13 سورہ مؤمنون شامل ہیں۔[22]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج18، ص200-203۔
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج18، ص203-204۔
  3. قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج9، ص482۔
  4. سبحانی، الانصاف، 1423ھ، ج3، ص373-374۔
  5. طبرسی، الاحتجاج، 1403ھ، ج2، ص401۔
  6. جہان مہین، «امام مہدی(ع) کی طویل عمر قرآن، احادیث، تاریخ اور سائنس کی روشنی میں»، مکتبِ اسلام سے حاصل ہونے والے اسباق۔
  7. نجار، اعجاز علمی قرآن کریم، 1388شمسی، ص192-197؛ رضایی اصفہانی، قرآن کے علمی اعجاز کے بارے میں ایک تحقیق، 1383شمسی، ج2، ص260-285۔
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج18، ص200-203۔
  9. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص25۔
  10. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص630؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج18، ص201۔
  11. آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج11، ص349۔
  12. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص25-26۔
  13. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص631؛ طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص25-26۔
  14. حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج4، ص354-356۔
  15. قرائتی، تفسیر نور، 1383شمسی، ج9، ص482۔
  16. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص25-26۔
  17. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص25۔
  18. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص630۔
  19. طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج8، ص630۔
  20. آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج11، ص349؛ کاشانی، منہج الصادقین، 1336شمسی، ج7، ص396۔
  21. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج18، ص200۔
  22. طباطبائی، المیزان، 1417ھ، ج17، ص25۔

مآخذ

  • آلوسی، سید محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1415ھ۔
  • جہان مہین، شکراللہ، «امام مہدی(ع) کی طویل عمر قرآن، احادیث، تاریخ اور سائنس کی روشنی میں»، مکتبِ اسلام سے حاصل ہونے والے اسباق، نمبر شمار 661، مئی 2016ء۔
  • حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، انتشارات اسماعیلیان، 1415ھ۔
  • رضایی اصفہانی، محمدعلی، قرآن کے علمی اعجاز کے بارے میں ایک تحقیق، رشت، کتاب مبین، 1383ہجری شمسی۔
  • سبحانی، جعفر، الانصاف فی مسائل دام فیہا الخلاف، قم، مؤسسہ امام صادق(ع)، 1423ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1417ھ۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، مشہد، نشر مرتضی، 1403ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بےتا۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، قرآن کے اسباق کا ثقافی مرکز، 1383ہجری شمسی۔
  • کاشانی، ملا فتح اللہ، منہج الصادقین فی الزام المخالفین، تہران، کتابفروشی محمد حسن علمی، 1336ہجری شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
  • نجار، زعلول، اعجاز علمی قرآن کریم، مترجمین: علی عباسی و آیت خزائی، قم، نشر معارف، 1388ہجری شمسی۔