مسودہ:ابوبردہ بن عوف ازدی
| کوائف | |
|---|---|
| نسب | اَزُد |
| جائے پیدائش | یمن |
| مقام سکونت | کوفہ |
| اصحاب | امام علیؑ |
ابوبُردہ بن عَوف اَزُدی کو امام علیؑ کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے،[1] تاہم بعض محققین نے انہیں امام علیؑ کے منحرف اور منافق اصحاب میں سے قرار دیا ہے۔[2] کتاب وقعۃ صفین کی ایک روایت کے مطابق، ابوبردہ کوفہ کے سرکردہ افراد میں شامل تھے جن کی امام علیؑ نے بصیرت کی کمزوری کی بنا پر ملامت کی تھی۔[3] ایک دوسری روایت میں جنگ میں شرکت کے لیے اس کی بہانہ بازی کا ذکر ملتا ہے اور ان کی باتوں پر امام علیؑ کی ناراضگی بھی نقل کی گئی ہے۔[4]
بعض روایات کے مطابق، امام علیؑ کی شہادت کے بعد ابوبردہ نے آپؑ کے بعض ساتھیوں کو معاویہ کے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔[5] شیخ مفید نے اپنی کتاب ارشاد میں بھی ان کا نام اُن افراد میں ذکر کیا ہے جنہوں نے ابنِ زیاد کے حکم سے کربلا کے شہدا کے سروں کو کوفہ سے دمشق منتقل کیے۔[6]
ابوبردہ قبیلہ اَزُد سے تعلق رکھتا تھا اور یمن کا رہنے والا تھا۔[7] کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں وہ عثمان کا حامی تھا[8] اور جنگ جمل میں امام علیؑ کے خلاف جنگ کی، لیکن امام علیؑ کے دلائل سننے کے بعد وہ امامؑ کے لشکر میں شامل ہوگئے۔[9] اسی طرح انہیں جنگ صفین میں بھی امام علیؑ کے لشکریوں میں شمار کیا گیا ہے۔[10]
حوالہ جات
- ↑ طوسی، رجال طوسی، 1427ھ، ص87؛ برقی، رجال البرقی، 1383ھ، ص6۔
- ↑ ثقفی، الغارات، 1410ھ، ج2، ص429، پاورقی 4؛ بختیاری و دیگران، «سنخشناسی رفتار سیاسی مخالفان امام علی(ع) در دورہ خلافت»، پژوہشنامہ انجمن ایرانی تاریخ؛ احمدی، «حکومت علوی و جریانہای اجتماعی»، مجلہ حکومت اسلامی۔
- ↑ ابنمزاحم، وقعۃ صفین، 1404ھ، ص4-5۔
- ↑ ثقفی، الغارات، 1410ھ، ج2، ص429-430۔
- ↑ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، 1417ھ، ج5، ص98۔
- ↑ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص118۔
- ↑ برقی، رجال البرقی، 1383ھ، ص6۔
- ↑ مفید، الامالی، 1413ھ، ص129۔
- ↑ ابنمزاحم، وقعۃ صفین، 1404ھ، ص4-5؛ ناظمزادہ قمی، اصحاب امام علی(ع)، 1387ھ، ج1، ص57۔
- ↑ ابنمزاحم، وقعۃ صفین، 1404ھ، ص4-5۔
مآخذ
- ابنمزاحم، نصر، وقعۃ صفین، قم، کتابخانہ آیتاللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
- احمدی، حبیباللہ، «حکومت علوی و جریانہای اجتماعی»، مجلہ حکومت اسلامی، شمارہ 17، پاییز 1379ہجری شمسی۔
- بختیاری، شہلا؛ جمیلی، فاطمہ؛ بیات اصغری، قاسم، «سنخشناسی رفتار سیاسی مخالفان امام علی(ع) در دورہ خلافت»، پژوہشنامہ انجمن ایرانی تاریخ.
- برقی، احمد بن محمد بن خالد، رجال البرقی، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1383ھ۔
- ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، (تصحیح: عبدالزہراء حسینی)، قم، دار الکتاب الاسلامی، 1410ھ۔
- ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام النبلاء، بیروت، دار الفکر، 1417ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، رجال طوسی، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم، 1427ھ۔
- ناظمزادہ قمی، سید اصغر، اصحاب امام علی(ع)، قم، مؤسسہ بوستان کتاب (مرکز چاپ و نشر دفتر تبليغات اسلامی حوزہ علميہ قم)، 1387ھ۔
- مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- مفید، محمد بن محمد، الامالی، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔