غیبی امداد

غیبی امداد سے مراد ایسی مدد اور نصرت ہے جو پوشیدہ عوامل اور مادی اسباب سے ماورا ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔[1] اس مفہوم میں خدا کی تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں شامل ہیں؛[2] شیعہ مفکر شہید مطہری غیبی امداد کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: عام غیبی امداد؛ خدا کی ان نعمات اور عنایات پر مشتمل ہیں جس سے تمام مخلوقات یکساں طور پر بہرہ مند ہوتے ہیں۔ خاص غیبی امداد؛ جو مخصوص حالات اور خاص شرائط کے تحت صرف مؤمنین اور اللہ کے خاص بندوں کے لئے میسر ہوتی ہے۔[3] تاہم عام استعمال میں غیبی امداد سے مراد زیادہ تر وہ غیر معمولی اور خصوصی مدد ہوتی ہے جو مؤمنین اور خدا کے خاص بندوں کو دشوار اور استثنائی حالات میں اللہ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔[4] قرآن میں غیبی امداد کی تعبیر ان امدادوں کے لئے استعمال کی کئی ہے جو عالم غیب سے متصل ہوں؛ سورہ اسراء آیت نمبر 6 کے مطابق مال و دولت اور اولاد بھی غیبی امداد کی مصادیق میں شمار ہوتی ہیں۔[5]
غیبی امداد اور معجزہ دونوں عموماً پوشیدہ اور غیر معمولی عوامل کے ذریعے رونما ہوتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ غیبی امداد میں تحدی (مقابلے کی چیلنج) اور دعوی نبوت نہیں ہوتی اور نہ ہی ضروری ہے کہ وہ کسی نبی کے ذریعے ظاہر ہو؛ جبکہ معجزہ نبی کی نبوت کے اثبات کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور تحدّی اور مقابلے کی چیلنج کے ساتھ ہوتا ہے۔[6]
اگر انسان کی زندگی حق کی جستجو، حقیقت پسندی، اخلاص، عمل اور مسلسل جدوجہد سے عبارت ہو تو خود حقیقت اس کی پشت پناہی کرتی ہے اور ایسے ذرائع سے، جن کا ہمیں علم نہیں، ہمیں مورد لطف و مہربانی قرار دیتے ہیں۔ یہ حقیقت اگرچہ ایک ایمانی امر ہے اور انبیاء کی تعلیمات پر ایمان کے لازمی تقاضوں میں شامل ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک تجرباتی اور قابلِ مشاہدہ حقیقت بھی ہے؛ البتہ اس کا تجربہ ہر شخص کو اپنی ذات اور اپنی زندگی میں کرنا ہوتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں اس حقیقت کو آزمائے، تاکہ وہ خود اپنی آنکھوں سے پروردگار کے لطف و عنایت کے آثار دیکھ سکے۔ خدا کے ساتھ معاملہ کرنا اور اپنی زندگی میں اس کے لطف و کرم کے آثار کا مشاہدہ کرنا واقعی کس قدر لذت بخش ہے![7]
انبیاء الہی اور صدر اسلام کی تاریخ میں غیبی امداد کی متعدد مثالیں ملتی ہیں:
- حضرت یوسفؑ کا گناہ سے محفوظ رہنا؛[8]
- حضرت موسیٰ کو فرعون کے خطرے سے بچانے کے لئے ان کی والدہ پر الہام ہونا؛[9]
- اصحابِ فیل اور ابرہہ کے لشکر کی ابابیل کے ذریعے ہلاکت؛[10]
- لیلۃ المبیت میں رسول اللہؐ کی حفاظت؛[11]
- جنگِ بدر میں فرشتوں کی مدد؛[12]
- جنگِ اُحد کے بعد دشمن کو حملے سے باز رکھنا؛[13]
- جنگِ احزاب میں تیز آندھی اور غیبی لشکروں کے ذریعے مسلمانوں کی نصرت؛[14]
- جنگِ حنین میں سکون اور اطمینانِ قلب کا نزول۔[15]
اسی طرح مجاہدین کی ہدایت،[16] دین الہی کی نصرت،[17] اور متقی افراد کو مصائب سے نجات دلانا[18] بھی غیبی امداد کے مصادیق میں شمار کئے جاتے ہیں۔[19] شہید مطہری وحی[20] حتیٰ کہ علمی الہامات اور فکری اشراقات کو بھی غیبی امداد کے مظاہر میں شمار کرتے ہیں۔[21] اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی امام خمینی نے طبس کے واقعے (امریکی فوجیوں کی جانب سے تہران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالیوں کو آزاد کرانے کی ناکام کوشش، جو ریت کے طوفان، فنی خرابی اور طیاروں کے آپس میں تصادم کے باعث ناکام ہوئی) کو بھی غیبی امداد کی ایک مثال قرار دیا ہے۔[22]
غیبی امداد کے حصول کو کچھ شرائط اور اسباب پر موقوف قرار دئے گئے ہیں، جن میں سے اہم یہ ہیں:
- ایمان: اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو دنیا اور آخرت میں اپنی نصرت کا وعدہ دیا ہے۔[23]
- توکل: جیسا کہ جنگِ اُحد کے بعد غزوہ حمراء الاسد میں مسلمانوں کو اللہ کی مدد حاصل ہوئی۔[24]
- تقویٰ: جو بصیرت، مغفرت اور مشکلات میں آسانی کا سبب بنتا ہے۔[25]
- استقامت: جس کے نتیجے میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور خوف و غم دور ہو جاتا ہے۔[26]
- جہاد[27] اور دینِ خدا کی نصرت[28]: جن کے ساتھ خصوصی ہدایت اور نصرتِ الٰہی کا وعدہ وابستہ ہے۔[29]
- صبر: جو اللہ کی مدد[30] اور فرشتوں کی معنوی حمایت کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے۔[31]
- اخلاص: جیسا کہ حضرت یوسف کے واقعے میں اخلاص، گناہ سے نجات کا سبب بنا۔[32]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ ناصحی، امدادہای غیبی از نگاہ قرآن، ص17۔
- ↑ ناصحی، امدادہای غیبی از نگاہ قرآن، ص17۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار: امدادہای غیبی، ج3، ص344-345۔
- ↑ ناصحی، امدادہای غیبی از نگاہ قرآن، ص17۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج3، ص344۔
- ↑ طباطبائی، المیزان، ج1، ص82؛ مکارم و دیگران، پیام قرآن، ج7، ص277؛ ناصحی، امدادہای غیبی از نگاہ قرآن، ص19-20۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج3، ص348۔
- ↑ سورہ یوسف، آیہ24؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج9، ص370-374؛ طباطبائی، المیزان، ج11، صص126-130۔
- ↑ سورہ طہ، آیہ39؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج13، ص198-202؛ طبرسی، مجمع البیان، ج7، ص18۔
- ↑ سورہ فیل، آیات1-5؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج27، ص336-337؛ طبرسی، مجمع البیان، ج10، ص825۔
- ↑ سورہ توبہ، آیہ40؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج7، ص418-419۔
- ↑ سورہ انفال، آیہ9-12؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج7، ص103-107۔
- ↑ سورہ آل عمران، آیہ151؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج3، ص125-126، طباطبائی، المیزان، ج4، ص43۔
- ↑ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج14، ص143-144۔
- ↑ سورہ توبہ، آیہ26؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج7، ص338 و 341۔
- ↑ سورہ عنکبوت، آیہ69۔
- ↑ سورہ محمد، آیہ7۔
- ↑ سورہ طلاق، آیہ2۔
- ↑ مزید مطالعہ کے لئے ملاحظہ کریں: ناصحی، امدادہای غیبی از نگاہ قرآن؛ درگاہ زادہ، محمد، امدادہای غیبی۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج23، ص647۔
- ↑ مطہری، مجموعہ آثار، ج3، ص351۔
- ↑ خمینی، صحیفہ امام، ج12، ص380۔
- ↑ سورہ غافر، آیہ51؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج20، ص127؛ مطہری، مجموعہ آثار، ج23، ص646۔
- ↑ سورہ آل عمران، آیات 173-174؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج3، ص175-178۔
- ↑ سورہ انفال، آیہ29؛ سورہ طلاھ، آیات2-4؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج7، ص140-141 و ج24، ص232-244۔
- ↑ سورہ فصلت، آیہ30؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج20، ص269-271۔
- ↑ سورہ عنکبوت، آیہ69۔
- ↑ سورہ محمد، آیہ7۔
- ↑ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج16، ص348-350 و ج21، ص425-426۔
- ↑ سورہ انعام، آیہ34؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج5، ص212۔
- ↑ سورہ آل عمران، آیہ125؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج3، ص79-80۔
- ↑ سورہ یوسف، آیہ24؛ مکارم و دیگران، تفسیر نمونہ، ج9، ص370-374؛ طباطبائی، المیزان، ج11، صص126-130۔
مآخذ
- خمينى، سید روح اللہ، صحیفہ امام، تہران، مؤسسہ تنظيم و نشر آثار امام خمينى، 1389ہجری شمسی۔
- مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، صدرا، بی جا، 1389ہجری شمسی۔
- درگاہ زادہ، محمد، امدادہای غیبی، مرکز پژوہش ہای اسلامی صدا و سیما، 1381ہجری شمسی۔
- طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، دفتر انتشارات اسلامی، 1417ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، انتشارات ناصر خسرو، 1372ہجری شمسی۔
- قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، دار الکتب العلمیہ، 1417ھ۔
- مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار: امدادہای غیبی، انتشارات صدرا، [بے تا]۔
- مکارم شیرازی، ناصر و دیگران، پیام قرآن، انتشارات مدرسہ امام علی بی ابی طالب(ع)، 1374ہجری شمسی۔
- مکارم شیرازی، ناصر و دیگران، تفسیر نمونہ، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ہجری شمسی۔
- ناصحی، محمدحسن، امدادہای غیبی از نگاہ قرآن، بوستان کتاب، 1387ہجری شمسی۔