ابرہہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابرہہ
کوائف
نام: ابرہہ اشرم
وجہ شہرت: اصحاب فیل کی قیادت اور خانہ کعبہ پر حملہ
محل زندگی: یمن - حبشہ
وفات: چھٹی صدی عیسوی
مذہب: مسیحیت
سماجی خدمات: یمن کی پادشاہی

اَبْرَہہ یا ابرہہ اَشرَم یمن کا بادشاہ اور اصحاب فیل کا سپہ سالار تھا جس نے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کے لئے مکہ پر لشکر کشی کی لیکن ابابیل پرندوں کے حملے کا نشانہ بنا اور شکست سے دوچار ہوا۔ اس واقعے میں پرندوں نے اصحاب فیل پر کنکریوں سے حملہ کیا جسے قرآن میں سجّیل کا نام دیا گیا ہے۔ ابرہہ اس واقعے میں زخمی ہوا اور یمن میں فوت ہوا۔

ابرہہ مسیحیت کا پیروکار اور یمن کا بادشاہ تھا۔ خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کا مقصد ایک یمنی شخص کی طرف سے کلیسا کی بے حرمتی کا انتقام تھا جو لوگوں کو مکہ جانے سے روکنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ مسیحیت کا پرچار اور روم اور حبشہ کے منافع بھی اس حملے کے اہداف میں شمار کیا جاتا ہے۔

اجمالی تعارف

ابرہہ حبشہ کا رہنے والا تھا۔[1] وہ چھٹی صدی عیسوی میں یعنی پیغمبر اسلامؐ کی ولادت کے سالوں میں زندگی گزارتے تھے۔[2] ابرہہ یمنیوں کو شکست دے کر وہاں کا بادشاہ بنا تھا۔[3]

جنگ کے دوران ابرہہ کے چہرے پر زخم لگنے کی وجہ سے اَشرم(یعنی شکافتہ ناک اور منہ) کے نام سے جانا جاتا تھا۔[4] لیکن دلایل النبوۃ میں ان کا نام "ابرہہ بن اشرم" ذکر ہوا ہے۔[5] کہا جاتا ہے اشرم ان کے والد کا نام نہیں تھا[6] چنانچہ معجم البلدان میں ان کے والد کا نام صباح ذکر ہوا ہے۔[7]

اسی طرح ابرہہ کو ابو یكسوم‌،[8] صاحب الفیل[9] اور ابرہہ حبشی[1] بھی کہا جاتا ہے۔

مکہ پر لشکر کشی

تفصیلی مضمون: اصحاب فیل

ابرہہ نے ہاتھیوں پر مشتمل سپاہیوں کے ساتھ مکہ پر لشکر کشی کیا[10] تاکہ خانہ کعبہ کو مسمار کیا جائے۔‏[11] قرآنی آیات کے مطابق آسمان پر ہر طرف سے پرندے ظاہر ہو گئے اور انہوں نے اصحاب فیل پر کنکریاں برسائیں۔[12] ابرہہ کے سپاہی شکست سے دوچار ہو کر یمن واپس چلے گئے۔[11] ابرہہ بھی اس واقعے میں زخمی ہوا تھا اور بعد میں یمن پہنچ کر فوت ہوا۔[13]

سورہ فیل میں اصحاب فیل کا واقعہ اور ابابیل (پرندوں) کی طرف سے ان پر سجّیل (کنکریوں) کے حملے کا تذکرہ آیا ہے۔[14]

خانہ کعبہ کی مسماری کا مقصد

ابرہہ عیسائی تھا۔[15] اس نے یمن کے عربوں کو مکہ جانے سے روکنے کے لئے یمن صنعا میں ایک کلیسا بنایا اور اسے سونے اور زیورات سے مزین کیا اور یمنی عربوں کو اس کی زیارت پر وادار کیا۔[16] مذکورہ کلیسا کو "قلیس" کہا جاتا تھا،[17] اور عربوں کو مکہ جانے سے روکنے کے لئے بنایا گیا تھا۔[18] لیکن ایک یمنی‌ نے اس کلیسا کی بے حرمتی کی اس نبا پر ابرہہ نے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی قسم کھائی۔[19] اس کے علاوہ جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی حصے میں عیسائیت کی ترویج اور روم اور حبشہ کے سیاسی اور اقتصادی منافع اس حملے کے دیگر اہداف میں سے بتایا جاتا ہے۔[20]

یمن پر حکومت

ابرہہ حاکم حبشہ کی طرف سے یمن پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجے گئے لشکر میں سے ایک دستے کا سپہ سالار تھا۔[21] جبکہ دوسرے دستے کا سپہ سالار اریاط نامی شخص تھا۔[21] البتہ بعض تاریخی شواہد کی بنا پر یمن کی طرف صرف ایک ہی فوجی دستہ بھیجا گیا تھا جس کا سپہ سالار اریاط تھا اور ابرہہ اریاط کے ماتحت اسی دستے میں شامل تھا۔[22]

حبشہ کی فوجیوں کے ہاتھوں یمن کی فتح کے بعد[23]اریاط اور ابرہہ کے درمیان جھگڑا ہوا[23] یوں ابرہہ اریاط کو قتل کر کے یمن کا حاکم بنا۔[24]

مسعودی کے مطابق اریاط کے مارے جانے پر حبشہ کے بادشاہ کو غصہ آیا اور اس نے ابرہہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا۔[25] لیکن اس سے پہلے کہ حبشہ کا بادشاہ حملہ کرتا، ابرہہ نے اس کی طرف تحفے تحائف کے ساتھ ایک خط بھیجا جس میں اریاط کے مارے جانے پر معذرت کے ساتھ بادشاہ کے ساتھ وفاداری اور اطاعت کا اعلان کیا۔‏[3] جس پر حبشہ کے بادشاہ نے اسے معاف کیا۔[26]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. 1.0 1.1 مقریزی، إمتاع‏ الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۴، ص۶۸۔
  2. برگ‌نیسی، «ابرہہ»، ج۲، ص۵۶۳۔
  3. 3.0 3.1 مقدسی، البدء و التاریخ، بورسعید، ج۳، ص۱۸۵۔
  4. طبری، تاریخ ‏الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۱۲۹۔
  5. بیہقی، دلائل ‏النبوۃ، ۱۴۰۵ق، ج۱، ص۱۱۷۔
  6. برگ‌نیسی، «ابرہہ»، ج۲، ص۵۶۳۔
  7. یاقوت حموی، معجم ‏البلدان، ۱۹۹۵م، ج۳، ص۵۳۔
  8. ذہبی، تاریخ ‏الإسلام، ۱۴۰۹ق،‌ ج۱، ص۱۶۴۔
  9. سمعانی‏، الأنساب، ۱۳۸۲ق، ج۵، ص۲۰۰۔
  10. بلاذری، أنساب ‏الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۶۷۔
  11. 11.0 11.1 مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۷، ص۳۳۵۔
  12. ملاحظہ کریں: سورہ فیل۔
  13. ابن‌قتیبۃ، المعارف، ۱۹۹۲م، ص۶۳۸۔
  14. سورہ فیل، آیہ ۱-۵۔
  15. جوادعلی، المفصل فى تاریخ العرب قبل الإسلام،‌ ج۶، ص۱۸۴۔
  16. بلاذری، أنساب ‏الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۶۷۔
  17. ابن‌الكلبى‏، الأصنام، ۱۳۶۴ش، ص۴۶-۴۷۔
  18. ابن‌کثیر دمشقی‏، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۱۷۰۔
  19. بلاذری، أنساب ‏الأشراف، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۶۷۔
  20. برگ‌نیسی، «ابرہہ»، ج۲، ص۵۶۹۔
  21. 21.0 21.1 ابن‌کثیر دمشقی‏، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۳۰۶۔
  22. طبری، تاریخ ‏الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۱۲۵۔
  23. 23.0 23.1 یعقوبی، تاریخ ‏الیعقوبى، بیروت، ج۱، ص۲۰۰۔
  24. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، بیروت، ج۱، ص۴۱۔
  25. مسعودی، مروج ‏الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۵۲۔
  26. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، بیروت، ج۱، ص۴۲۔


مآخذ

  • ابن ‌كلبى‏، ہشام بن محمد، الأصنام‏، تہران، نشر نو، ۱۳۶۴ش۔
  • ابن‌ قتیبۃ، عبداللہ بن مسلم، المعارف، تحقیق ثروت عكاشۃ، قاہرۃ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للكتاب، ۱۹۹۲م۔
  • ابن‌ کثیر دمشقی‏، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۷ق۔
  • ابن‌ ہشام، عبدالملک، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقا، ابراہیم الأبیاری، عبدالحفیظ شلبی، دارالمعرفۃ، بیروت، چاپ اول، بی‌تا۔
  • برگ‌نیسی، «ابرہہ»، دایرہ المعارف بزرگ اسلامی، ج۲، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ۱۳۶۸ش۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: سہیل زکار، ریاض زرکلی، بیروت، دارالفکر، چاپ اول، ۱۴۱۷ق۔
  • بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوۃ و معرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ، تحقیق عبدالمعطی قلعجی، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، چاپ اول، ۱۴۰۵ق۔
  • جواد علی، المفصل فى تاریخ العرب قبل الإسلام،‌ بی‌جا، دارالساقی، ۲۰۰۱م۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دارالکتاب العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق۔
  • سمعانی‏، عبدالکریم بن محمد، الانساب، تحقیق عبدالرحمن بن یحیی معلمی یمانی، حیدرآباد، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ، چاپ اول، ۱۳۸۲ق۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق محمد أبوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ق۔
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دارالہجرۃ، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق۔
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، بور سعید، بی‌تا۔
  • مقریزی، تقی‌الدین‏، امتاع الأسماع، تحقیق محمد عبدالحمید نمیسی، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۲۰ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش۔
  • یاقوت حموی، شہاب الدین ابو عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵م۔
  • یعقوبی، احمد بن أبی‌یعقوب‏، تاریخ الیعقوبی، دارصادر، بیروت، چاپ اول، بی‌تا۔