نمر باقر النمر

ویکی شیعہ سے
(شیخ نمر سے رجوع مکرر)
نمر باقر النمر
کوائف
مکمل نامباقر نمر
لقب/کنیتالنمر
آبائی شہرقطیف عوامیہ
تاریخ شہادت2 جنوری 2016 ء
کیفیت شہادتپھانسی
اولاد4 فرزند
علمی معلومات
خدمات


نمر باقر النمر، شیخ نمر کے نام سے معروف ایک شیعہ عالم دین ہیں جن کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ انہیں آل سعود کی حکومت پر تنقید کرنے کے الزام میں پھانسی دی گئی۔ انہوں نے اپنی دینی تعلیم کو ایران و شام میں رہ کر مکمل کیا۔ اپنے وطن واپسی پر دینی و سماجی امور نماز جمعہ برپا کرنے، سعودیہ کے شیعوں کے حقوق سے دفاع کرنے اور سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں موجود بقیع کے نام سے معروف قبرستان کو خراب کرنے والے دن کی مناسبت سے احتجاجی پروگراموں کو تشکیل دینے جیسے امور میں مصروف رہے۔ شیخ نمر آزاد انتخابات کی حمایت اور شیعوں کی نسبت جانبدارانہ سیاست کی مخالفت کرنے کی وجہ سے کئی دفعہ جیل بھیجے گئے۔

بالآخر 12 جنوری 2016ء ہفتہ کے دن عد‮الت کی جانب سے انہیں غلط اسلامی اعتقادات رکھنے، ملک میں جنگی حالات کو فروغ دینے، آل سعود کی حکومت کی پیروی نہ کرنے، لوگوں کو سعودی عرب میں موجود سیاسی نظام کے خاتمے پر ابھارنے اور غیر ملکی باشندوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے پر ابھارنے کے الزام میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔

بین الاقوامی حقوق بشر کی تنظیموں اور جہان تشیع کی مخالفت کے باوجود شیخ نمر کو 2 جنوری 2016ء کو پھانسی دی گئی۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے کئی ممالک میں اس پھانسی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ شیعہ مراجع تقلید نے اپنے پیغامات میں اس پھانسی کے نتیجے میں خراب ہونے والے حالات کا ذمہ دار سعودی حکومت کو ٹھہرایا۔

تعارف

شیخ نمر 1379 ہجری میں سعودی عرب کے مشرقی صوبے قطیف کے عوامیہ نام کے علاقے میں پیدا ہوئے۔[1] ان کے والد علی بن ناصر آل نمر وہاں کے معروف خطیب تھے۔ اس خاندان کے دیگر معروف علما میں سے آیت اللہ محمد بن ناصر آل نمر کا نام لیا جا سکتا ہے۔[2]

ازدواج اور اولاد

ایک بیٹا اور تین بیٹیاں آپ کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کی بیوی منی جابر شریاوی[3] 10 رمضان 1433 کو طویل مدت تک سرطان کی بیماری کا مقابلہ کرنے کے بعد فوت ہوئیں ان دنوں میں شیخ نمر جیل کی زندگی گزار رہے تھے۔

تعلیم

شیخ نمر نے ایف اے تک عوامیہ کے مقامی سکول میں تعلیم حاصل کی۔ پھر 1400 ہجری میں علوم دینیہ کے حصول کیلئے تہران میں آیت اللہ سید محمد تقی کے تاسیس کردہ مدرسہ قائم میں تعلیم کا سلسلہ جاری کیا۔ 10 دس سال ایران میں رہ کر علم حاصل کرنے کے بعد شام کے مدرسۂ زینبیہ کا سفر کیا۔[4]

اساتید

شیخ وحید افغانی، شیخ صادق، آیت اللہ خاقانی، سید محمد تقی مدرسی، سید عباسی مدرسی اور سید صادق شیرازی لمعہ، رسائل، مکاسب، اخلاق کے اساتذہ ہیں نیز قم، تہران اور دمشق میں رہ کر درس خارج میں بھی شرکت کی۔[5]

ایران اور شام پھر سعودی عرب میں حوزوی دروس کی تدریس کی جن میں سے مکاسب، رسائل اور کفایہ کی تدریس شامل ہے۔

سماجی سرگرمیاں

شیخ نمر نے 2003 ء میں عوامیہ میں نماز جمعہ قائم کی۔ اس سے پہلے انہوں نے عوامیہ میں الامام القائم (عج) کے نام سے ایک مذہبی ادارے کی بنیاد رکھی۔ 2011 ء میں اس ادارے کو مرکز اسلامی کی قیام کی بنیاد قرار دیا۔[6]

اسی طرح مساجد کی آباد کاری، اقامۂ نماز جمعہ، فکری اور نظری ابحاث میں وسعت، کتب، مقالات اور متعدد تصنیفی کام، جوانوں کی شادیوں کیلئے مناسب حالات کی فراہمی، معاشرے میں عورتوں کے کردار کو پُر رنگ کرنے، جوانوں اور نوجوانوں میں دینی تعلیمات کی تعلیم و تربیت اور معاشرت برائیوں کے خلاف اقدام کرنے جیسے بے نظیر معاشرتی نیک کاموں کا مسلسل اہتمام کرتے رہے۔[7]

مزاراتِ بقیع کی دوبارہ تعمیر کی کوشش

شیخ نمر بقیع میں مدفون آئمہ کے مزارات کی دوبارہ تعمیر کیلئے نہایت سنجیدگی سے کوشش کرتے رہے۔ وہ 2004 ء سے لے کر 2007 ء تک ہر سال روزِ انہدام بقیع کا دن منانے کی کوشش میں رہے لیکن سعودی حکومت ہر سال ان کے اس اقدام کی مخالفت کرتی رہی۔ لیکن سعودی حکومت کی جانب سے اس ممنوعیت کے باوجود 2007 ء میں یہ احتجاجی پروگرام منعقد ہوئے۔ اس کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں قبور آئمہ کے مسمار کرنے کے خلاف اعتراض اور ان مزارات کی دوبارہ تعمیر کی حمایت میں جلوس نکالے گئے۔[8]

سیاسی افکار اور سرگرمیاں

  • 2009 نمر باقر نے سعودی حکومت کو تنبیہ کی کہ اگر ہماری حیثیت اور مرتبے کو واپس نہ کیا گیا تو میں یہاں کے شیعوں کو سعودیہ سے جدا ایک علیحدہ ملک بنانے کی دعوت دوں گا۔ ہماری عزت ملکی سالمیت سے زیادہ اہم ہے۔ نیز ملک میں آزاد انتخابات کی برقراری کا مطالبہ کیا۔[9]
  • وہ اپنی تقریروں میں مسلسل سعودی حکومت کی مرتب شدہ جانبدارانہ گروہی سیاستوں کے اجرا اور خاص طور پر سعودیہ کے مشرقی علاقوں نیز احساء اور قطیف کے سلسلے میں اس حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے رہے۔[10]
  • شیخ نمر نے اپنے ایک خطبہ میں اپنے سخت نظریات کی وجہ سے سعودی حکومت سے کہا: میں جانتا ہوں کل مجھے اسیر کرنے کیلئے آئیں گے۔ گرفتار کرنا، جیل میں اذیتیں دینا اور قتل کرنا یہی انکی منطق اور راہ ہے لیکن ہم قتل و غارت سے نہیں ڈرتے بلکہ ہم کسی چیز سے ہراساں ہونے والے نہیں ہیں۔
  • عربی ممالک میں بادشاہت میں ارث پانے کو غیر شرعی کہا نیز باہم مل کر بادشاہت کو شرعی طور پر جائز قرار دینے پر اعتراض کیا۔
  • شیخ نمر آل سعود اور آل خلیفہ کو برطانیہ کا پیروکار سمجھتے تھے۔
  • وہ واضح طور پر آل سعود کے ڈکٹیٹرانہ سیاسی نظام اور ظلم و فساد پر تنقید کرتے۔
  • سعودی شہری اور بالخصوص شیعہ شہریوں کی توہین کی نسبت بہت زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرتے۔ انکی نگاہ میں سعودی حکومت شیعوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے اور اس حکومت نے انہیں ہر قسم کے حقوق سے محروم رکھا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ وی سعودیہ کے شیعہ عوام کی عزت اور حقوق کی حمایت کریں گے۔[11]
  • خلیج فارس کے دوسرے عرب حاکموں پر بھی تنقید کرتے۔
  • وہ مسلسل اپنی تقریروں میں خود خواہانہ سیاسی تبدیلیوں، حکومتی سطح پر عوامی آزادی اوراقلیتوں کے حقوق کو قانونی طور پر قبول کرنے اور سعودیہ میں بعض گروہوں کو ایک جانب لگانے کی مخالفت کرتے رہے۔[12]
  • وہ عرب اور اسلامی دنیا میں حقیقی اصلاح کو خلیج فارس میں کی عرب حکومتوں کے خاتمے میں منحصر سمجھتے تھے۔ آل خلیفہ اور دیگر خلیج فارس کے حکام کو امریکہ کے آلۂ کار سمجھتے اور کہتے: خلیج فارس کے کسی استثنا کے بغیر تمام عرب ممالک متحدہ امریکہ کی ریاستوں کے سائے تلے زندگی گزارتے ہیں اور امریکہ کا سمندری پانچواں بحری بیڑہ بحرین اور دیگر عرب ممالک کے تیل کے کنوؤں پر قبضے کی غرض سے اس علاقے میں موجود ہے۔[13]

تدریس اور تقریروں کا حکمِ امتناع

شیخ نمر نے سن 2011 ء میں تیونس اور مصر کی آمرانہ حکومتوں کے خاتمے اور بحرین میں عوامی تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی 2008 ء سے لاگو تدریس اور تقریر کے حکمِ امتناعی پر توجہ نہ دیتے ہوئے سیاسی آزادی کے متعلق سیاسی تبدیلی کے عنوان سے دوبارہ تقاریر کا سلسلہ شروع کیا۔[14]

گرفتاری

سعودی حکومت نے 2003 ء سے لے کر پھانسی تک شیخ نمر کو 6 مرتبہ گرفتار کر کے جیل میں ڈالا۔ آخری مرتبہ طویل مدت کیلئے انہیں جیل میں رکھا گیا جس کا انجام عدالتی محاکمے پر ہوا۔

  1. 2003 بمطابق 1424 ھ میں سعودی حکومت کی نماز جمعہ کے قائم نہ کرنے اور اس جگہ کے گرانے کے مطالبے پر گرفتار ہوئے۔
  2. 2004 1425 ہجری میں روز انہدام بقیع منانے کی کوشش کا آغاز کرنے کے جرم میں گرفتار ہوئے۔
  3. 2005 (1426 ھ) میں قبور آئمہ کے انہدام کا دن منانے کی درخواست کی وجہ سے اسیر ہوئے۔
  4. 2006 یعنی 1427 ھ میں آیت اللہ سید محمد تقی حسینی کی جانب سے قرآن کریم کی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تقریر کرتے ہوئے شیخ نمر نے سعودی شیعوں کے حقوق کی تاکید کی حکومتی اسکولوں میں شیعہ مذہب کی تعلیمات پڑھائے جانے کے بعض موارد، آئمۂ بقیع کے مزارات کی دوبارہ تعمیرات، ... کو بیان کیا۔ سعودیہ واپس پہنچنے پر انہیں چوتھی مرتبہ گرفتار کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں عوامیہ کی عوام نے انکی حمایت احتجاجی جلوس نکالے۔
  5. 2008 بمطابق 1429 ھ میں سعودی حکومت کے قطیف جانے کا حکم آیا لیکن انہوں نے مخالفت کی جس کے نتیجے میں دمام لے جایا گیا۔ نیز ان سے تقاضا کیا گیا کہ وہ تحریری طور پر نماز جمعہ کے لغو کا تحریری بیان دیں لیکن انہوں نے مخالفت کی۔ اس کے بعد حکومتی وزیر کے حکم سے شخصی زندان میں لے جایا گیا۔ پانچویں مرتبہ کی اسیری 2 گھنٹے سے زیادہ طولانی نہیں تھی۔[15]
  6. آخری اور چھٹی مرتبہ نمر باقر کو 8 جولائی 2012 ء کو گرفتار کیا گیا۔[16] سعودیہ کی پولیس نے قطیف کے علاقے میں مین روڈ پر کمین لگانے کے بعد شیخ نمر کی طرف گولیاں چلائیں اور انہیں اس حال میں گرفتار کیا گیا کہ ان کی ٹانگ میں چار گولیاں پیوست تھیں۔ شیخ نمر 8 جولائی سے مسلسل قید خانے میں تھے اور بعض اطلاعات کے مطابق انہیں ایک طویل مدت تک انفرادی سیل میں رکھا گیا۔[17]

اذیت

حکومتی کارندوں کی فائرنگ سے ان کی دائیں ٹانگ میں چار گولیاں لگیں۔ انہیں گرفتار کرنے کے بعد الظہران نامی ہسپتال میں دو ہفتے تک رکھا گیا پھر ریاض کے پولیس ہاسپٹل میں منتقل کیا گیا۔ 3 ستمبر 2014 ء کو انہیں حائر کے قید خانے کے انفرادی سیل میں منتقل کر دیا گیا جبکہ ابھی ان کی دائیں ران میں ایک گولی موجود تھی۔ 20 فروری 2015 کو چوتھی گولی ڈھائی سال کے بعد آپریشن کے ذریعے نکالی گئی۔[18]

احتجاجات

  1. شیخ نمر کی گرفتاری کی وجہ سے قطیف صوبے کے عوامیہ شہر میں، صوبۂ احساء[19] اور اسی طرح قطیف صوبے کے باب الشمال میں وسیع پیمانے پر احتجاجات کا سلسلہ شروع ہو گیا[20] جس میں انتظامیہ کے ساتھ در گیری میں بہت سے لوگ مارے گئے اور زخمی ہوئے۔
  2. شیخ نمر کی گرفتاری کے دن قطیف کے لوگ حکومت کے خلاف احتجاجی جلوس اور مظاہرے کرتے رہے۔[21]
  3. ہندوستان میں نوگانواں سادات میں بھی عوام نے شیخ نمر کی گرفتاری کے خلاف احتجاجات کئے جس میں انکی آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔[22]

عدالتی کاروائی

  1. گرفتاری کے 260 دنوں کے بعد 25 مارچ 2012 ء میں انہیں پہلی مرتبہ عدالت لے جایا گیا۔ فرقہ بندی کو ہوا دینے، عوام کو دہشت گردی پر اکسانے، پولیس کے افراد کے قتل کرنے، ملکی یک جہتی میں خلل ڈالنے، فسادات برپا کرنے، غیر ملکی طاقتوں سے استفادے کی دھمکی دینے، وطن سے وفا داری نہ کرنے، خلیج فارس کے عرب حکمرانوں اور علما کی توہین کرنے سمیت 33 الزامات لگائے گئے۔ عدالت نے ان اتہامات کے بدلے میں انہی پھانسی دینے کا اعلان کیا ۔
  2. 35 دن کے بعد 29 اپریل 2013 ء کو عدالت کا دوسرا جلسہ ہوا لیکن شیخ نمر کیلئے عدالت کی طرف سے لگائے گئے اتہامات کی فائل تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے اپنا دفاع کرنا ممکن نہیں تھا۔
  3. 233دنوں کے بعد 23 دسمبر 2014 ء کو تیسری مرتبہ عدالت لگائی گئی۔ شیخ نمر کو کسی قسم کی سہولت مہیا کئے بغیر حتا کہ قلم و کاغذ کے بغیر اپنے دفاع کیلئے صرف 5 منٹ کا وقت دیا گیا۔
  4. 113دن بعد چوتھی مرتبہ 15 اپریل 2014 ء کو عدالت برقرار ہوئی۔ اس تاریخ کی اطلاع انکے وکیل ڈاکٹر صادق الجبران کو صرف ایک دن پہلے اُس وقت دی گئی جب وہ اپنے ایک مؤکل کے دفاع کیلئے اتفاقی طور پر عدالت میں آئے تو انہیں اچانک اگلے روز شیخ نمر کے کیس کی عدالت لگائے جانے کا بتایا گیا۔
  5. 7 دن بعد 22 اپریل 2014 ء پانچویں مرتبہ شیخ نمر کیس کیلئے عدالت قائم ہوئی جس میں انکے وکیل اور انکے خاندان کے کسی فرد کو بتائے بغیر صرف شیخ نمر کی موجودگی میں عدالت کی کاروائی ہوئی۔
  6. 36 دن کے بعد 28 مئی 2014 ء کو چھٹی مرتبہ شیخ نمر کے کیس کیلئے عدالت لگی جس میں آئندہ کی کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
  7. 19 دن کے بعد 2014 ء کو عدالات کا ساتواں جلسہ جدہ میں برقرار ہوا جس میں پہلی بار شیخ نمر کیلئے اپنا دفاع کرنا ممکن تھا اس میں شییخ نمر نے 100 صفحوں پر مشتمل اپنے دفاع میں بیانات لکھ کر عدالت کو دیئے۔
  8. 10 دنوں کے بعد آٹھویں مرتبہ جدہ میں ہی عدالت لگی جس میں شیخ نمر کے دفاعی بیانات کا جواب مدعی نے دیا اور دوبارہ ان اتہامات کو دہرایا۔
  9. 47 دن کے بعد 12 اگست 2014 ء دوبارہ ریاض میں عدالت نویں مرتبہ لگائی گئی۔
  10. 12 دن کے بعد 24 اگست 2014 ء کو دسویں مرتبہ عدالت لگائی گئی تو شیخ نمر کی جانب سے حکومتی کارندوں پر گولی چلانے میں پہل کرنے کے متعلق عدالت میں جج کے سامنے حکومتی کارندوں نے گواہی دینے سے انکار کیا اور اپنا بیان صرف لکھنے پر اکتفا کیا۔ پھر شیخ نمر سے اس کی گفتگو کے بعض حصے سنائے گئے اور ان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا جو تم نے کہا تم ابھی بھی اسی پر مصر ہو یا نہیں تو شیخ نمر نے مثبت جواب دیا۔
  11. 7 دن کے بعد 31 اگست 2014 ء کو گیارہویں مرتبہ عدالت لگی جس میں شیخ نمر کی تقریروں کے بعض حصے سنائے گئے۔ یہ آخری عدالت کی کاروائی تھی۔ اس میں شیخ نمر کے اہل خانہ نے انہیں دیکھا اور ان کے وکیل نے ان سے ملاقات کی۔ 1 ستمبر 2014 ء سے شیخ نمر سے ملاقات کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔

پھانسی کا حکم اور شہادت

25 اکتوبر 2015 ء کو شیخ نمر کے بھائی نے بتایا کہ عدالت عالیہ نے شیخ نمر کے پھانسی کے حکم کی تائید کر دی ہے اور اب یہ حکم نافذ العمل اور نہائی تائید کیلئے بادشاہ کے پاس بھیج دیا گیا۔[23]

شہادت

شیخ نمر کی پھانسی کے حکم کی بہت زیادہ مخالفت کے باوجود انہیں پھانسی دے دی گئی اگرچہ اس حکم کو جاری کرنے میں کئی دفعہ تاخیر سے کام لیا گیا۔عالمی سطح پر اس روحانی سعودی عالم دین کی حمایت میں بہت زیادہ کوششیں کی گئیں لیکن 12 جنوری 2016 ء بروز ہفتہ شیخ نمر کو 46 افراد کے ساتھ پھانسی دے دیا گیا۔[24]

رد عمل

شیخ نمر کی شہادت کے ساتھ ہی قطیف کے کئی علاقوں میں مظاہرے کئے گئے اور سعودی عرب حکومت کے اس اقدام کی کھل کر مخالفت کی گئی۔ کشمیر اور بحرین کے شیعوں نے بھی اس اقدام کی مخالفت میں مظاہرے کئے۔ عراق سے مقتدا صدر نے عراقی حکومت سے تقاضا کیا کہ دوبارہ سعودی حکومت سے سفارتی تعلقات ختم کر دینے چاہئیں۔ یمن کی انصار اللہ نے بھی اس اقدام کی مخالفت میں بیانیہ صادر کیا۔[25] نیز لبنان کی حزب اللہ نے شیخ نمر کی کوششوں کو صلح آمیز کہا اور سعودیہ کے اس اقدام کی مخالفت کی [26] ایران سے مراجع تقلید، سیاسی اور فرہنگی کارکنوں، حوزۂ علمیہ قم اور ایرانی وزارت خارجہ نے آل سعود کے اس اقدام کی مخالفت کی۔[27] حوزۂ علمیہ قم میں اس عالم بزرگوار کی شہادت کی مناسبت سے ایک دن چھٹی کا اعلان کیا گیا اور طلاب قم نے قم کی مسجد اعظم میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔[28]

حوالہ جات