مندرجات کا رخ کریں

تمباکو نوشی

ویکی شیعہ سے

تمباکو نوشی یا شربِ توتون سے مراد سگریٹ، حقہ، چلم یا پائپ جیسے آلات کے ذریعے تمباکو کو جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں میں سانس لینا ہے۔ مسلمان فقہاء اس کے شرعی حکم کے بارے میں مختلف نظریات پیش کرتے ہیں۔ شیعہ فقہاء میں سے شیخ حر عاملی اور ناصر مکارم شیرازی سگریٹ کےمضر اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمباکو نوشی کو حرام قرار دیتے ہیں، جبکہ فقہاء کا ایک گروہ اصل برائت اور قاعدہ حلیت جیسے فقہی قواعد کی بنیاد پر تمباکو نوشی کو جائز سمجھتے ہیں۔

فقہاء کے فتوے کے مطابق، احتیاط واجب کی بنیاد پر روزہ دار کو تمباکو نوشی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ بعض فقہاء جیسے سید موسی شبیری زنجانی رمضان کے مہینے میں سگریٹ نوشی کو اگر یہ روزہ کی بے احترامی شمار ہو تو جائز نہیں سمجھتے۔ اسی طرح سید علی حسینی سیستانی عوامی مقامات یا دوسروں کی ملکیت والے مقامات پر ان کی رضامندی کے بغیر تمباکو نوشی کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ایران میں بھی سر بستہ عوامی مقامات پر تمباکو نوشی ممنوع ہے۔

مفہوم اور محل بحث

سگریٹ، حقہ، چلم یا پائپ جیسے آلات کے ذریعے تمباکو کو جلانے سے پیدا ہونے والے دھوئیں میں سانس لینے کو تمباکو نوشی یا شُرب توتون کہتے ہیں۔[1] تمباکو کی ہر قسم کا استعمال، خواہ وہ سگریٹ کے ذریعے ہو یا دیگر طریقوں سے، دخانیات (تمباکو نوشی) کہلاتا ہے۔[2]

تمباکو نوشی کا موضوع فقہی ابوابِ نماز، روزہ اور جدید فقہی مسائل میں زیر بحث آیا ہے [3]اور فقہاء نے اس کے استعمال کے شرعی حکم اور اس کے خرید و فروخت پر فقہی حوالے سے بحث کی ہے۔[4] مشہور قاعدہ اصولی اصل برائت کی ایک مثال شربِ توتون یا تمباکو نوشی بھی بیان کی جاتی ہے۔[5]

اسلامی ممالک میں تمباکو نوشی کے داخل ہونے کی تاریخ

کہا جاتا ہے کہ تمباکو کا استعمال پہلی بار دسویں صدی ہجری کے اواخر میں مغربی ممالک سے اسلامی دنیا میں داخل ہوا۔[6] توتون اور تمباکو بالترتیب پہلے ترکی (1605ء)، پھر دمشق (1606ء) اور اس کے بعد حجاز اور مصر (1601ء) پہنچے۔[7] تاریخی نقل کے مطابق ایران میں ان کا داخلہ بھی گیارہویں صدی ہجری کے اوائل سے ہوا۔[8] جب مسلمانوں کے درمیان دخانیات کا استعمال عام ہوا تو فقہا نے اس کے شرعی حکم پر غور و تحقیق کرنا شروع کیا۔[9]

توتون و تنباکو کے استعمال کی حرمت کا فتویٰ

سنہ 1309ھ میں مرزائے شیرازی کا مشہور فتویٰ اس وقت جاری ہوا جب توتون و تمباکو کی اجارہ داری ریجی نامی ایک انگریز کمپنی کو دے دی گئی۔ اس فتویٰ کے نتیجے میں وہ معاہدہ منسوخ کر دیا گیا۔[10] فتویٰ کا متن یہ تھا: "آج کے دن توتون اور تنباکو کا کسی بھی شکل میں استعمال، امام زمانہ (عج) سے جنگ کے مترادف ہے"۔[11]

سگریٹ نوشی کا شرعی حکم

فقہا کے درمیان دخانیات کے استعمال کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے:

تمباکو کے استعمال کی حرمت

بعض فقہا دخانیات کے استعمال کو حرام قرار دیتے ہیں؛ مثال کے طور پر سید علی حسینی سیستانی کے فتوے کے مطابق، اگر نشہ آور اشیاء، سگریٹ یا حقہ کا استعمال انسان کے لیے سنگین نقصان کا باعث ہو تو وہ حرام ہے۔[12] بعض دیگر شیعہ فقہا، جیسے شیخ حر عاملی اور ناصر مکارم شیرازی مطلق طور پر دخانیات کے استعمال کی حرام سمجھتے ہیں۔[13] حر عاملی نے اپنی کتاب الفوائد الطوسیۃ میں دخانیات کی حرمت پر بارہ دلائل پیش کیے ہیں،[14] جن میں امام جعفر صادقؑ سے منقول وہ روایت بھی شامل ہے[15] جس میں کسی چیز کے نقصان دہ ہونے کو اس کی حرمت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔[16] ناصر مکارم شیرازی بھی سگریٹ اور دخانیات کے مضر اثرات کی بنا پر انہیں "قاعدہ لا ضرر" کے تحت حرام سمجھتے ہیں۔[17] اسی طرح فقہائے احناف، مالکیہ، شافعیہ، حنابلہ اور سعودی عرب کے بعض وہابی مفتیوں کے ایک گروہ نے بھی استعمال دخانیات کی حرمت کا فتویٰ دیا ہے۔[18]

بعض فقہا کا کہنا ہے کہ قرآنی آیت "يُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَبَائِثَ(وہ پاک و پسندیدہ چیزوں کو حلال اور گندی و ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے)،[19] کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اور دخانیات بھی انہی میں سے ہیں۔[20] نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمباکو کا استعمال مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے، جو خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے اور قرآن نے آیتِ تہلکہ میں اس سے منع فرمایا ہے۔[21]

تمباکو کے استعمال کا جائز ہونا

بعض فقہا نے تمباکو کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں مختلف دلائل پیش کیے ہیں؛ مثلاً یہ کہ تمباکو کا نقصان ہر حال میں یکساں نہیں ہوتا، بلکہ افراد، مزاج اور زمانے کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے مطلق طور پر اسے حرام قرار نہیں دیا جا سکتا۔[22] نیز قرآنِ مجید کی آیات جیسے: كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا[23] (زمین میں جو پاکیزہ اور حلال چیزیں ہیں وہ کھاؤ)؛ سے استدلال کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جو چیز زمین سے اُگتی ہے وہ اصولاً حلال اور پاکیزہ ہے، جب تک اس کی حرمت پر کوئی صریح نص یا خاص دلیل موجود نہ ہو؛ لہٰذا توتون اور تمباکو کو حلال سمجھا جاتا ہے۔[24] اس کے علاوہ تمباکو کے استعمال کی حرمت پر کوئی صریح نص وارد نہیں ہوئی اور قاعدہ حلیت کے تناظر میں فقہا کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس چیز کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو وہ حلال ہے۔[25] فرقہ زیدیہ کے عالم دین محمد بن علی شوکانی اور بعض اہل سنت فقہا نے بھی تمباکو نوشی کے جائز ہونے کے اثبات کے لیے اسی قاعدے سے استدلال کیا ہے۔[26] بعض اہل سنت فقہا نے اس کے مکروہ ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔[27]

روزہ دار کے لیے دخانیات کے استعمال کا حکم

فقہا کے نزدیک احتیاطِ واجب یہ ہے کہ روزہ دار دخانیات اور نشہ آور اشیا کے دھوئیں سے پرہیز کرے، خصوصاً وہ دھواں جو ناک یا زبان کے نیچے کے راستے جذب ہوتا ہو۔[28] سید موسی شبیر زنجانی کے فتوے کے مطابق، ماہِ رمضان میں تمباکو کا علانیہ استعمال، اس طرح کہ روزے کی بے حرمتی ہو، جائز نہیں ہے اور اگر ایسا کیا جائے تو روزے کی قضا لازم ہوگی۔[29]

عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کا حکم

بعض فقہا، جیسے سید علی حسینی سیستانی، کے مطابق عوامی مقامات یا دوسروں کی ملکیت میں مالک کی اجازت کے بغیر سگریٹ یا حقہ استعمال کرنا جائز نہیں ہے، خاص طور پر جب اس سے دوسروں کو نقصان پہنچتا ہو۔[30]

ایران میں سنہ 1997ء میں منظور شدہ ضابطے "عوامی مقامات پر سگریٹ اور اس جیسی اشیا کے استعمال اور فروخت کی ممانعت" کے مطابق، تمام بند (covered) عوامی مقامات پر ہر قسم کی سگریٹ نوشی کا استعمال ممنوع ہے۔[31]

مونوگراف

فارسی زبان میں لکھی گئی کتاب "سیگار، پدیدہ مرگبار عصر ما" (سگریٹ، ہمارے دور کا جان لیوا رجحان) میں سگریٹ نوشی کے استعمال کی حرمت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کتاب میں ناصر مکارم شیرازی کے فقہی دروسِ خارج (سنہ 2005ء) کے مباحث کو مرتب شکل میں پیش کیا گیا ہے۔[32]

حوالہ جات

  1. الطیار و دیگران، الفقہ المیسر، 1433ھ، ج13، ص44؛ عقیق، الاحكام الفقہیۃ المتعلقۃ بالتدخین، دار المیمان، ص19۔
  2. مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص586۔
  3. مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، 1387شمسی، ج3، ص586۔
  4. ملاحظہ کیجیے: حر عاملی، الفوائد الطوسیۃ، 1423ھ، ص224؛ الطیار و دیگران، الفقہ المیسر، 1433ھ، ج13، ص44؛ عقیق، الاحكام الفقہیۃ المتعلقۃ بالتدخین، دار المیمان، ص19؛ جمعی از نویسندگان، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، 1414ھ، ج10، ص109-110۔
  5. ملاحظہ کیجیے: شیخ انصاری، فرائد الاصول، 1419ھ، ج2، ص11-12؛ سبحانی، الموجز فی اصول الفقہ، 1429ق، ص180۔
  6. عبد السلام الطویلۃ، فقہ الاشربۃ و حدہا، 1406ھ، ص436۔
  7. عتیق، الاحکام الفقہیۃ المتعلقۃ بالتدخین، دار المیمان، ص24-25۔
  8. فتح‌اللہ‌پور، «دخانیات»، ص389۔
  9. رحیمی، «بررسی آیات فقہی در حلیت یا حرمت استعمال دخانیات در نگاہ فریقین»، ص70۔
  10. اصفہانی کربلایی، تاریخ دخانیہ، 1377شمسی، ص117-118۔
  11. اصفہانی کربلایی، تاریخ دخانیہ، 1377شمسی، ص118۔
  12. سیستانی، «توضیح المسائل جامع»، سایت دفتر رسمی مرجع عالیقدر آقای سیدعلی حسینی سیستانی۔
  13. حر عاملی، الفوائد الطوسیۃ، ص224؛ علیان‌نژادی، سیگار پدیدہ مرگبار عصر ما، مدرسۃ الامام علی ابن ابی الطالب، ص6۔
  14. حر عاملی، فوائد الطوسیۃ، 1423ھ، ص224-226۔
  15. کلینی، الکافی، 1407ھ، ج6، ص242۔
  16. حر عاملی، الفوائد الطوسیۃ، 1423ھ، ص224۔
  17. علیان نژادی، سیگار پدیدہ مرگبار عصر ما، 1386شمسی، ص13۔
  18. جمعی از نویسندگان، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، 1414ھ، ج10، ص102؛ الموسوعۃ الفقہیۃ، «حكمُ شرب التبغِ (الدخان)»، سایت الدرر السنیۃ۔
  19. سورہ اعراف، آیہ 157۔
  20. حر عاملی، الفوائد الطوسیۃ، 1423ھ، ص224؛ طیار و دیگران، الفقہ المیسر، 1433ھ، ج13، ص44؛ عتیق، الاحکام الفقہیۃ المتعلقۃ بالتدخین، دار المیمان، ص55۔
  21. طیار و دیگران، الفقہ المیسر، 1433ھ، ج13، ص44؛ عتیق، الاحکام الفقہیۃ المتعلقۃ بالتدخین، دار المیمان، ص54۔
  22. جزایری، الانوار النعمانیۃ، 1429ھ، ج4، ص44؛ جمعی از نویسندگان، الموسوعۃ الفقہیۃ، الکویتیۃ، 1414ھ، ج10، ص106۔
  23. سورہ بقرہ، آیہ 168۔
  24. شوکانی، ارشاد السائل، 1348ھ، ص51؛ جزایری، الانوار النعمانیۃ، 1414ھ، ج4، ص44۔
  25. جزایری، الانوار النعمانیۃ، 1429ھ، ج4، ص44۔
  26. شوکانی، رسالۃ ارشاد السائل، 1348ھ، ص50-51؛ کرمی حنبلی، تحقيق البرہان في شان الدخان، 1421ھ، ص59۔
  27. ملاحظہ کیجیے: موسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، 1414ھ، ج10، ص107۔
  28. ملاحظہ کیجیے: خویی، توضیح المسائل، 1413ھ، ص276؛ سیستانی، توضیح المسائل، 1415ھ، ص335؛ اصولی و بنی‌ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل (مراجع)، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ج1، ص974۔
  29. شبیری زنجانی، توضیح المسائل، 1388شمسی، ص334۔
  30. سیستانی، «توضیح المسائل جامع»، سایت دفتر رسمی مرجع عالیقدر آقای سیدعلی حسینی سیستانی۔
  31. «آیین نامہ ممنوعیت استعمال و عرضہ سیگار و سایر مواد دخانی در اماکن عمومی»، مرکز پژوہش‌ہای مجلس شورای اسلامی۔
  32. علیان‌نژادی، سیگار، پدیدہ مرگبار عصر ما، 1386شمسی، ص7۔

مآخذ

  • «آیین‌نامہ ممنوعیت استعمال و عرضہ سیگار و سایر مواد دخانی در اماکن عمومی»، مرکز پژوہش‌ہای مجلس شورای اسلامی، تاریخ مشاہدہ: 21 اکتوبر، 2024ء۔
  • اصولی، احسان و محمدحسن بنی ہاشمی خمینی، رسالہ توضیح المسائل (مراجع)، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، بی‌تا.
  • الموسوعۃ الفقہیۃ، «حكمُ شرب التبغِ (الدخان)»، سایت الدرر السنیۃ، تاریخ مشاہدہ: 18 اکتوبر، 2024ء۔
  • جزایری، سید نعمت‌اللہ، الانوار النعمانیۃ، بیروت، دار القارئ، 1429ھ۔
  • جمعی از نویسندگان، الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، کویت، وزارۃ الأوقاف و الشؤون الاسلامیۃ، 1414ھ۔
  • مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل‌بیت(ع)، زیرنظر: سید محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرۃالمعارف فقہ اسلامی، 1387ہجری شمسی۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، الفوائد الطوسیۃ، قم، انتشارات محلاتی، 1423ھ۔
  • رحیمی، مرتضی، «بررسی آیات فقہی در حلیت یا حرمت استعمال دخانیات در نگاہ فریقین»، پژوہشنامہ حلال، شمارہ 1، اسفند 1397ہجری شمسی۔
  • سیستانی، سیدعلی، «توضیح المسائل جامع»، سایت دفتر رسمی مرجع عالیقدر آقای سیدعلی حسینی سیستانی، تاریخ بازدید: 28 مہر 1403ہجری شمسی۔
  • شوکانی، محمد، ارشاد السائل الی دلائل المسائل، بی‌جا، بی‌نا، 1348ھ۔
  • شیخ انصاری، مرتضی، فرائد الاصول، قم، مجمع الفكر الإسلامی، چاپ اول، 1419ھ۔
  • طیار، عبداللہ بن محمد و دیگران، الفقہ المیسر، ریاض، بی‌نا، 1433ھ۔
  • عبد السلام الطویلۃ، عبدالوہاب، فقہ الاشربۃ و حدہا، قاہرہ، دار السلام، 1406ھ۔
  • عقیق، احمد بن محمد، الاحكام الفقہیۃ المتعلقۃ بالتدخین، ریاض، دار المیمان، بی‌تا۔
  • علیان‌نژادی، ابوالقاسم، سیگار پدیدہ مرگبار عصر ما، قم، مدرسۃ الإمام علی بن أبی طالب(ع)، 1386ہجری شمسی۔
  • فتح‌اللہ‌پور، پرویز، «دخانیات؛ گیاہ‌شناسی، تاریخ و کاربرد»، در دانشنامہ جہان اسلام، جلد 17، تہران، بنیاد دائرۃ المعارف اسلامی، 1391ہجری شمسی۔
  • کرمی حنبلی، مرعی بن یوسف، تحقيق البرہان في شان الدخان الذي يشربہ الناس الآن، بیروت، دار ابن‌حزم، 1421ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح محمد آخوندی و علی‌اکبر غفاری، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1407ھ۔