مغیرة بن اخنس ثقفی

ویکی شیعہ سے
(ابن اخنس ثقفی سے رجوع مکرر)
مُغیرۃ بن اخنَس
کوائف
مکمل ناممغیرۃ بن اخنس بن شریق ثقفی
محل زندگیمدینہ
نسب/قبیلہبنی ثقیف
اقاربعثمان (مامو زاد بھائی)، اخنس بن شریق (باپ)، ابوالحکم (بھائی)، عبد اللہ (بیٹا)
وفاتسنہ 35ھ، مدینہ
سبب وفاتواقعہ قتل عثمان میں عبد اللہ بن بدیل کے ہاتھوں قتل ہوا
دینی معلومات
وجہ شہرتنہج البلاغہ میں موجود کلام امام علیؑ کا مخاطب قرار پانا


مُغَیرَۃ بن اَخْنس ثَقَفِی (متوفیٰ: 35ھ) عثمان بن عفان کا پھوپھی زاد بھائی تھا۔ جب امام علیؑ نے عثمان کے طرز حکمرانی پر تنقید کی تو انہوں نے عثمان کا دفاع کیا اور امام علیؑ کی سرزنش کا نشانہ بنا۔ بعض تاریخی ذرائع کے مطابق وہ شاعر تھا اور بحرین میں عثمان کا حکومتی نمائندہ رہ چکا تھا۔ مغیرہ واقعہ قتل عثمان میں عثمان کے ساتھ تھا اور اسی واقعے میں اسے بھی قتل کر دیا گیا۔ ان کے والد اخنَس بن شَریق مشرکین کا سرکردہ تھا اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوا تھا۔ مغیرہ کا بھائی ابوالحکم جنگ احد میں امام علیؑ کے ہاتھوں مارا گیا۔ مغیرہ کے بیٹے اور بھتیجے نے جنگ جمل میں امام علیؑ کے خلاف جنگ لڑی اور دونوں اسی جنگ میں مارے گئے۔ مغیرہ کے دو پوتے یعقوب بن عتبہ اور عثمان بن محمد دوسری صدی ہجری میں مدینہ کے فقہاء میں سے تھے۔

تعارف

مُغیرۃ بن اَخنَس بن شریق ثقفی نہج البلاغہ کے خطبہ 135 میں امام علیؑ کے کلام کا مخاطب قرار پایا ہے۔[1] وہ عثمان بن عَفّان کا چچا زاد بھائی اور ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھا۔[2] بعض تاریخی منابع کے مطابق عثمان کے حکومتی عامل مروان بن حکم(-65ھ) نے مغیرہ کو بحرین[یادداشت 1] کا حکومتی عامل مقرر کیا۔[3] مصری سوانح حیات نویس خیرالدین زِرِکْلی نے انہیں اصحاب پیغمبرؐ اور عصر آنحضرتؐ کے شعرا میں سے شمار کیا ہے۔[4]

قریبی رشتہ دار

مغیرہ کا تعلق قبیلہ ثقیف سے تھا۔[5] ان کا والد اخنَس بن شَریق (متوفیٰ: 13ھ) تھا اور وہ مشرکین کا سرکردہ تھا۔ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد اعلان کیا گیا کہ اس نے اسلام قبول کیا ہے اور رسول خداؐ نے مال غنیمت میں سے کچھ اسے عطا کیا۔[6] تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ اخنس قبیلہ بنی‌ زہرہ کا حلیف تھا اور انہیں جنگ بدر میں مسلمانوں کے ساتھ بر سر پیکار ہونے سے روک لیا۔[7] بعض مفسرین کے مطابق سورہ بقرہ کی آیت نمبر 205 اخنس کی مذمت میں نازل ہوئی ہے۔[8] کتاب الطبقات الکبری میں مغیرہ کے دونوں پوتے یعقوب بن عتبۃ بن مغیرہ (متوفی: 128ھ) اور عثمان بن محمد بن مغیرہ (متوفی: 130ھ) مدینہ میں دوسری صدی ہجری کے فقیہ کے عنوان سے تذکرہ ملتا ہے۔[9]

امام علیؑ کے ساتھ جنگ میں مغیرہ کے رشتہ داروں کا قتل

مغیرہ کا بیٹا عبد اللہ اور بھتیجا عبد اللہ بن ابی عثمان جنگ جمل میں امام علیؑ کے مقابلے میں آئے اور اسی جنگ میں مارے گئے۔[10] مورخین کے مطابق مغیرہ کا بھائی ابوالحکم بھی جنگ احد میں امام علیؑ کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔[11]

امام علیؑ کے ساتھ تلخ کلامی

کتاب "الفتوح" کی گزارش کے مطابق عثمان کے دور حکومت میں امام علیؑ اور مغیرۃ ابن اخنس کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اس گزارش کے مطابق امام علیؑ کی عثمانی طرز حکومت پر تنقید کی وجہ سے عثمان ناراض تھا۔ مغیرہ اور زید بن ثابت دونوں امام علیؑ کے پاس آئے۔ زید نے امام علیؑ کی تعریف و تمجید اور رسول خداؐ کے پاس آپؑ کے مقام و مرتبے کو بیان کرنے کے ضمن میں کہا کہ آپ عثمان کو تنقید کا نشانہ بنانے سے باز آجائیں۔ امام علیؑ نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں نہ اس (عثمان) پر اعتراض کرنے کو پسند کرتا ہوں اور نہ ہی اس کی حالت کو رد کرتا ہوں، مگر یہ کہ جب وہ حق الہی کا ادا کرنے سے باز آجائے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ میں اس کے بارے میں حقیقت کے سوا کچھ اور بولوں۔ خدا کی قسم! اس کی تنقید کرنے سے حتی الامکان پرہیز کروں گا۔" مغیرۃ نے جواباً کہا: "اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپؑ عثمان کے بارے میں کچھ کہنے سے باز آجائیں، بصورت دیگر آپ کو باز آنے پر مجبور کیا جائے گا۔ کیونکہ اس (عثمان) کے پاس آپ سے زیادہ طاقت ہے، عثمان نے آپ کے احترام کا پاس رکھتے ہوئے یہ گروہ بھیجا تاکہ ان کو آپ پر گواہ رکھا جائے۔ امام علیؑ مغیرۃ کی باتیں سن کر جلال میں آئے اور کہا: "اے ملعون کے بیٹے! اے بے اولاد اور ابتر آدمی! تم مجھے جواب دینا چاہتے ہو (یعنی مجھے عثمان کے بارے میں بات کرنے سے روکو گے؟) خدا کی قسم! خدا اس شخص کو عزت نہیں دے گا جس کے تم جیسا شخص مددگار ہو اور جس کا تم ہاتھ پکڑو گے وہ کھڑا نہیں ہوپائے گا۔ یہاں سے باہر نکل جاو! خدا تم سے خیر کو دور رکھے۔ تو جو چاہو کوشش کرو۔ تم خدا کی گرفت سے نہیں بچ پاؤگے، اگر تم جو کچھ کر سکتے ہو اس سے دستبردار ہوجاؤ"۔ مغیرہ یہ باتیں سن کر خاموش ہو گیا؛ لیکن زید بن ثابت نے کہا: خدا کی قسم! ہم آپ کے پاس آپ کے خلاف گواہی دینے کے لیے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی آپ پر کٹ حجتی کے لیے؛ بلکہ اجر الہی کی نیت سے ہم آپ کے تعلقات کو بہتر بنانے اور اپنے مابین اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرنے آئے ہیں۔" امام علیؑ نے زید اور اس کی قوم کے حق میں دعا کی۔ بعد از آں؛ وہ لوگ اٹھے اور عثمان کے پاس جاکر اپنی ملاقات کی خبر اسے دی۔[12]

نہج‌ البلاغہ میں اس ماجرا کا بیان

نہج البلاغہ میں یہ ماجرا اس طرح نقل ہوا ہے کہ امام علیؑ اور عثمان کے مابین کسی بات پر بحث ہوئی۔ مغیرۃ نے عثمان سے کہا: میں علی کو جواب دیتا ہوں، اس طرح ان کے درمیان الفاظ کا تبادلہ ہوا۔[13] [یادداشت 2] اس کے باوجود ابن‌ ابی‌ الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اس خطبے کو "الفتوح" والی نقل کو صحیح تر جانا ہے۔ ابن‌ابی‌الحدید یہ وضاحت بھی بیان کرتے ہیں کہ امام علیؑ کے کلام میں یہ جملہ "ملعون کے بیٹے" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مغیرۃ کا باپ منافق تھا اور لفظ "الابتر" اس کے بیٹوں کی گمراہی پر دلالت کرتا ہے؛ کیونکہ مغیرۃ بے اولاد نہیں تھا۔[14] نیز جملہ "بے ریشہ و شاخہ درخت" سورہ ابراہیم آیت 26 کی طرف اشارہ ہے۔[15]

واقعہ قتل عثمان میں مغیرہ کی موت

کہتے ہیں کہ مغیرۃ بن اخنس 35ھ میں قتل عثمان کے واقعے میں مارے جانے والے افراد میں سے ہے۔[16] اسی سال جن مسلمانوں نے عثمان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا؛ اس کے گھر کو محاصرے میں لیا۔[17] مورخین کے مطابق جس وقت عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تھا مغیرۃ مکہ میں مناسک حج انجام دینے میں مشغول تھا۔ وہ حج کے بعد فورا مدینہ پہنچا تاکہ خلیفہ کا دفاع کیا جاسکے۔[18] مغیرۃ نے رجز پڑھتے ہوئے جنگ شروع کی۔[19] بعض تاریخی نقل کے مطابق مغیرۃ عبداللہ بن بُدَیل کے ہاتھوں قتل ہوا۔[20] نیز منقول ہے کہ مغیرۃ کا قاتل مدینہ کی گلی کوچوں میں اپنے کیے پر فخر کرتا ہوا پھرتا تھا۔[21]

حوالہ جات

  1. نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبۀ 135، ص193۔
  2. ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج4، ص1444۔
  3. بلاذری، جمل من انساب الاشراف، 1417ھ، ج13، ص437۔
  4. زرکلی، الاعلام، 1989ء، ج7، ص276۔
  5. شیخ صدوق، الخصال، 1416ھ، ج1، ص227-228۔
  6. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، 1404ھ، ج8، ص301-302۔
  7. بلاذری، جمل من انساب الاشراف، 1417ھ، ج13، ص437۔
  8. قمی مشہدی، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، 1367ہجری شمسی، ج2، ص303۔
  9. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج5، ص394-395۔
  10. شیخ مفید، الإرشاد، 1413ھ، ج1، ص255-256۔
  11. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج 2، ص 33۔
  12. ابن‌اعثم کوفی، الفتوح، ج2، 1411ھ، ص380۔
  13. نہج‌البلاغہ، تصحیح صبحی صالح، خطبۀ 135، ص193۔
  14. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، 1404ھ، ج8، ص302-303۔
  15. مکارم شیرازی، پیام امام امیرالمومنین(ع)، 1386ہجری شمسی، ج5، ص496۔
  16. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج4، ص382۔
  17. ابن‌اثیر، الکامل فی التاریخ، دار صادر، ج3، ص172-179۔
  18. ابن‌اثیر، الکامل فی التاریخ‏، دار صادر، ج3، ص 175۔
  19. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج 4، ص 389؛ ابن‌اثیر، الکامل فی التاریخ‏، دار صادر، ج3، ص 175۔
  20. طبری، تاریخ الطبری، بیروت، ج4، ص382۔
  21. بلاذری، جمل من انساب الاشراف، 1417ھ، ج13، ص437۔

نوٹ

  1. بحرین خلیج فارس کے جنوب مغرب میں ایک علاقہ ہے جو ملک بحرین سے بڑے علاقے کو شامل تھا۔(خسروی، «بحرین»، ص132۔)
  2. یہ ماجرا تصحیح صبحی صالح میں خطبہ نمبر135، شرح ابن‌ میثم میں خطبہ نمبر 134، تنبیہ الغافلین و تذکرہ العارفین میں خطبہ نمبر 159 اور فی ضلال نہج البلاغۃ میں خطبہ نمبر 133 میں آیا ہے۔(ابن‌میثم، شرح نہج البلاغہ، 1404ھ، ج3، ص163؛ نہج البلاغہ، تصحیح فتح‌اللہ کاشانی، خطبۀ 43، ج1، ص636؛ مغنیہ، فی ظلال نہج‌البلاغہ، 1979ء، ج2، ص285۔)

مآخذ

  • نہج البلاغۃ، تصحیح صبحی صالح، قم، مؤسسۃ دارالہجرۃ، 1414ھ۔
  • نہج البلاغہ، تصحیح فتح‌اللہ کاشانی (تنبیہ الغافیلن و تذکرۃ العارفین)، تہران، پیام حق، 1378ہجری شمسی۔
  • ابن‌اثیر، علی بن محمد، الکامل فی‌التاریخ، بیروت، دار صادر، 1385-1386ھ/1965-1966ہجری شمسی۔
  • ابن‌اعثم کوفی، محمد بن علی، الفتوح،بیروت، دار الأضواء، 1411ھ۔
  • ابن‌سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1410ھ۔
  • ابن‌عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الإستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، بیروت، دار الجیل، 1412ھ/1992ء۔
  • ابن‌میثم، میثم بن علی، شرح نہج البلاغۃ، تہران، دفتر نشر الکتاب، 1404ھ۔
  • بَلَاذُری، احمد بن یحیی، انساب الأشراف بیروت، دار الفکر، 1417ھ/1996ء۔
  • خسروی، خسرو، «بحرین»، در دانشنامہ جہان اسلام، ج2، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، 1393ہجری شمسی۔
  • زرکلی، خیرالدین، الأعلام، دارالعلم للملایین، بیروت، 1989ء۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الخصال، قم، جماعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، 1416ھ۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، چاپ اول، 1413ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری (تاریخ الأمم و الملوک)، بیروت، بی‌نا، بی‌تا۔
  • قمی مشہدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، 1367ہجری شمسی/1990ء۔
  • مغنیہ، محمدجواد، فی ظلال نہج البلاغۃ، بیروت، دار العلم للملایین، 1979ء۔
  • مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، مؤسسۃ آل البیت(ع)، 1413ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام امیرالمومنین(ع)، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1386ہجری شمسی۔